تازہ ترین

نعتِ رسولﷺ

خوشبوؤں میں بسو دوستو نعتِ آقا پڑھو دوستو سنّتوں کے مطابق ہووہ کام جو بھی کرو دوستو بھرلو سینوں میں دردِ نبی اور ہنستے رہو دوستو رکھ کے وردِ زباں یاعلی آفتوں سے بچو دوستو آج دل مضطرب ہے بہت ذکرِ طیبہ کرو دوستو کامیابی اگر چاہئے سنتوں میں ڈھلو دوستو بھر چکا ہے زمانے سے دل اب مدینے چلو دوستو عشقِ احمد میں ہوکر فنا پھول بن کر کِھلو دوستو   محمد زاہد رضابنارسی دارالعلوم حبیبہ رضویہ گوپی گنج،  بھدوہی۔یوپی۔بھارت  

نظمیں

چار دن بے سبب میرا مر جانا چار دن بے سبب ہے اُبھر آنا  چار دن   سن لیا اک ہا اور ہو خاموشیوں سے گفتگو پھر زندگی کا دستِ رفو  ہر اک شئے سے مکر جانا چار دن   خود سے بھی ڈر کے دیکھ لیا اور مر جانا مر کے دیکھ لیا کیا کیا نہ کر کے دیکھ لیا بے سبب ہی سدھر جانا چار دن   کچھ تو اے منزلِ بے نشاں مجھ پہ بھی کرم کا امتحاں کوئی سراب ہی تو مہرباں  بے سبب ہی ادھر جانا چار دن   شہزادہ فیصل ڈوگری پورہ، پلوامہ موبائل نمبر؛8492838989     آگے رواں دواں  شیطان بن چکا ہے اب پاسباں ہمارا ہم رازداں ہیں اُس کے، وہ رازداں ہمارا   ہر سوچ ہے شیطانی، ہر دِل میں بے ایمانی  آگے رواں دواں ہے یوں کارواں ہمارا  

نظمیں

نظم   خواب تو خواب ہیں زاغ بیٹھے ہیں سینہ تانے یہاں کائیں کائیں بھی ان کی چاروں طرف ساراجنگل ہی دسترس میں ہے اور قوت کہ چونچ میں ان کی ہم کہ  بے گانہ سب جہانوں سے ایک دیمک زدہ سی شاخ پہ ہے آشیاں جانے کس زمانے کا   دل میں لہراتا اک شکستہ سوال پیڑ پودوں پہ سبز پتوں کی جانے کب وہ بہار آئے گی آرزووں میں جس کی جیتے ہیں   خواب تو خواب ہیں علاج کہاں؟ گر نہ ہوگی کدال ہاتھوں میں سبزہ دیوار پر نہیں ہوگا  !!   احمد کلیم فیض پوری گرین پارک ، بھساول موبائل نمبر؛8208111109           ہارون کی ایک شام سُرمئی شام کے دُھندلکے میں اَبر پارے فضا میں بِکھرے ہیں مست بُوندیں ہوا کے شانوں پر ایسے رقصاں ہیں جیسے پی لی ہ

نظمیں

گمشدہ پڑاؤ ۔۔۔ دہلیز سے اترنے کی دیر تھی پگڈنڈی نے دامن پکڑ لیا  عشق کی کچی ڈگر تک لے آئی خوبصورت کچی ڈگر  دونوں اطراف کاسنی پھولوں کی رنگت  خوشبؤں کی معصومیت  کچی ڈگر کے معدوم آخری سرے تک کا لایعنی احساس پختہ سڑک تک کھینچتا لے آیا  دھوپ کی تمازت سے سنگ مرمر  سا بدن پگھلنے لگا آرزؤں کی تتلیاں اُڑان بھرنے لگیں  وصل کےبھونرے ہوش کھو بیٹھے  میں خود سے بچھڑتا گیا فنا کی وادیوں سے گزرتا ہوا نکلا  آدمیت کے دشت میں خاک اُڑاتے ہوئے ہجر کے موسم کی زردیاں  سمیٹے   فرشتوں کے جزیرے پہ آکے ٹھہر گیا ایک رومی چھایا سے مدھ بھرے گیت کے حروفِ ناز کی شبنمی بوندیں ٹپکی  خرقہ ء تبریزی سے دستِ گماں نکلا  اور

فرشتے آپ تھے شادان

پڑا جب واسطہ میرا جہانِ آسمانی سے خلائق پیش آئے واں بہت ہی قدردانی سے عجب اِس باغِ ہستی میں فضائے بوئے گل پائی چلا کرتھی جو اکثر وہاں کیا شادمانی سے ملائک خیمہ زن پائے فضائے بزم انجم میں جگر محضوظ ہوتا تھا کیا اُن کی دُرفشانی سے نہیںکچھ خستہ حالی کا وہاں نام و نشان پایا گُذر ہوتے تھے دن اپنے بصورت کہکشانی سے نہیں مسجد و مندر کا وہاں پر کوئی جھگڑا تھا وہاں پر روح کا رشتہ فقط تھا لامکانی سے چھلکتے میں نے دیکھے ہیں وہاں جام و سُبو اکثر وہاں توحید کے ساگر تھے ہمگو بے کرانی سے  وفورِ کیف و راحت میں جو دیکھا دیدنی منظر مئے گُل گوں برستی تھی فضائے آسمانی سے ثبات و بے ثباتی سے میں تھا آزادواں یکسر فرشتے آپ تھے شاداں مرے کارِگرانی سے   عشاق کشتواڑی  کشتواڑ، موبائل نمبر؛9697524469  

نعتیں

نعت نبی ﷺ جو ڈوبی نبی کے بیانوں میں ہیں گلستاں کھلے ان زبانوں میں ہیں   ہمیں بھی مدینے کا دیدار ہو کہ ہم بھی تو ان کے دِوانوں میں ہیں   فقط نعت کا ذکر کیا کے نبی   نمازوں میں ہیں اوراذانو ں میں ہیں   ہواکرتا ہے جن میں ذکرِنبی بڑی برکتیں اُن مکانوں میں ہیں   نبی کی میرے عظمتیں دیکھیے نشانِ قدم آسمانوں میں ہیں    نبی کے سوا کوئی اپنا نہیں وہی تو فقط کل جہانوں میں ہیں   تجھے جو اے زاہدؔ ہیں آقاملے وہ تو مہرباں مہربانوں میں ہیں   محمد زاہد رضابنارسی  دارالعلوم حبیبیہ رضویہ گوپی گنج,   بھدوہی،اترپردیش۔انڈیا     نعتِ محمدﷺ سرمایٔہ حیات ہے نعتِ محمدؐ خو شبوئے کائینات ہے ذات ِ محمدؐ   لاریب معنبر

قُطبی ستارے سے

اے ستارے کس کے سینے کا سُلگتا راز تُو ہے خلائوں میں کِسی کی مُنجمد پرواز تُو   اِستقامت اور یکسوئی پہ تُجھ کو ناز ہے گردشِ افلاک سے بھی لیک سازو باز ہے   ایک نامعلوم مدت سے فلک پر تُومُقیم شاہدِ ہستی ارادہ آپ کا کتنا صمیم!   تُوتماشائی مگر ہر آنکھ کی منز ل ہے تُو ناخُدا کا بحرِ پُر امواج میں ساحِل ہے تُو   عظمت و شہرت ملی تُجھ کو جہاں کی دید سے تُو نے کچھ مانگا نہیں ہے پرتوِ خورشید سے   سوزِ دل کی آگ سے ہی آج تک جلتا ہے تُو اپنے اندر کے شراروں پر مگر پلتا ہے تُو   تُجھ میں اُکتاہٹ نہیں ہے گردش ایام سے تو ابد کی صُبح تک ہے اِبتداء کی شام سے   یوسف نیرنگ بوگنڈ، کولگام، کشمیر،موبائل نمبر؛9419105051  

ماں

اک نام ہے سب سے پیارا، ماں! کیا خوب ہے میرا سہاراماں اپنے چہرے پر ہرہرپل دکھلائے نیا نظارا ماں ہے آس کی گہری جھیلوں میں مضبوط ہمارا شکارا ماں ہر سُو جس سے روشن ہو ہے ایسا ایک ستارہ ماں دُکھ بچوں کے پل بھر کے لئے کرتی ہی نہیں ہے گوارا ماں؟ چاہوں نہ میں رنگ اور کوئی ست رنگی میرا فوارہ ماں پھر لوٹ کے آتی نہیں سحرؔ زیست میں کوئی دوبارہ ماں   ثمینہ سحرؔ مرزا بڈھون ، راجوری

نذر علی گڑھ

اے علی گڑھ تو ہے علم و فضل کا روشن منار تیری عظمت پر یقینا ایک عالم ہے نثار روشنی پھیلی یہاں سے تا بہ خاک کاشغر چھٹ رہا ہے جہل کی تاریکیوں کا ہر غبار ہے خمیدہ آسمان علم و دانش کی جبیں تیری شادابی سے پھیلی باغ عالم میں بہار خوشہ چینوں کے لیے یکجا یہاں دیر و حرم زاہدوں کی دھن پہ رقصاں گردش لیل و نہار علم ہی تار نفس ہے علم ہی گہنائے زیست آرہی ہے دم بہ دم یہ لوح سید سے پکار ذرے ذرے سے ہے تہذیب و تمدن کا نمود چومتا ہے خاک پائے علم و دانش رہ گزار اک صدی سے نور علم و آگہی تو نے دیا قوم و ملت پر کیا احسان تونے بے شمار ہر گھڑی یاں ساغر علم و ادب میں غوطہ زن خاک کے ذروں میں تیرے دین و دنیا کا شرار ہے مٹائی کاروان شوق نے یاں تشنگی تو نوید فتح و نصرت علم و فن کا شہسوار ہوگئے کتنے یہاں اہل خرد اہل جنوں عاشقوں کے واسطے یہ

نظمیں

فرشتے آپ تھے شاداں    پڑا جب واسطہ میرا جہانِ آسمانی سے ملائک پیش آئے واں بہت ہی قدردانی سے عجب اس باغِ ہستی میں فضائے بُوئے گُل پائی چلا کرتی تھی جو اکثر وہاں کیا شادمانی سے نہیںکچھ خستہ حالی کا وہاں نام و نشان پایا گُذر ہوتے تھے دن اپنے بصورت کہکشانی میں نہیں مندر و مسجد کا وہاں پر کوئی جھگڑا تھا وہاں پر رُوح کا رشتہ فقط تھا لامکانی سے چھلکتے میں نے دیکھے ہیں وہاں جام وُسبو اکثر وہاں توحید کے ساگر تھے ہمگو بیکرانی سے دفورِ کیف و راحت کے تھے ہر سُو دیدنی منظر مئے گُل گوں برستی تھی فضائے آسمانی سے ثبات و بے ثاتی سے میں تھا آزادواں یکسر فرشتے آپ تھے شاداں مرے کارِ گرانی سے   عشاق کشتواڑی کشتواڑ،موبائل نمبر؛9697524469     انسان بھی سدھرنے کو تیار کہاں ہے   انسان

نظمیں

استدعا پرندوں کو یہاں پرواز کی طاقت عطا کر  انہیں پھر  آسمانوں کا سفر دے شکستہ گھونسلوں کی پیاس کب تک پہاڑوں سے پرے بھی آشیاں دے کہ جس مٹی سے ان کا واسطہ ہے نمو اس کو عطا کر یہ خود جوتیں زمینِ دل کو نیزے کی انی سے اُگائیں فصل پھر اپنی اَنا کی  انہیں دے حوصلہ گزرے دنوں کا کہ فتح و کامرانی سرخ روئی ملا کرتی تھی جب زخمی پروں سے   احمد کلیم فیض پوری گرین پارک، بہوسوال، مہاراشٹرا موبائل نمبر؛8208111109     لخطِ جگر   ابراہیم لنکن کا خط اپنے بیٹے کے استاد کے نام   سیکھناہوگا اسے کہ لوگ سارے ہوتے نہیں عدل و صداقت کے فرشتے سکھاؤ اسے کہ ہر غنڈے کے مد مقابل ہوتا ہے اک نجات دہندہ ہر خود غرض سیاست داں کے مد مقابل ہوتا ہے اک پر خل

مُناجات

نظرِ رحمت مجھ پہ یارب ہو سدا کے واسطے کون ہے تیرے سوا مجھ بے نوا کے واسطے دردِ دل میں مبتلا ہوں عافیت کیجے عطا کر رہا ہے دل دعا تجھ سے شِفا کے واسطے روزِ محشر جس گھڑی ہو دل پریشاں آنکھ نم ظِلِّ ربّانی ہو مجھ بے دست و پا کے واسطے بھر گیا ہے اب گناہوں سے مِرا ظرفِ دروں مغفرت کر دے مِری جُود و سخا کے واسطے میں رسولِ محترمؐ کا داغدارِ  پُر خطا بابِ رحمت کھول دے مجھ بے نوا کے واسطے دستگیری  کر ہمیشہ  اے خدائے لم یزل کر عطا کچھ کام جو آئے سدا کے واسطے دیدروئے شافعِ محشر سے کر دے فیضیاب دل شکستہ جو کرے تجھ سے دعا کے واسطے بھر دے یارب سینہ ٔجاہل شفائیؔ علم سے نور بھی کر دے عطا پھر مصطفیٰؐ کے واسطے    ڈاکٹر شکیل شفائیؔ بمنہ/سرینگر

سنُو ذرا

سُنو ذرا کُون ہو تم  کیوں ہو مجھ سے یُوں مخاطب ؟ تیرے ہاتھ میں یہ قلم و کاغذ  کیا کوئی درد لکھنے جارہے ہو ؟ کیا درد تحریر ہو پا رہے ہیں؟   سُنو ذرا  اگر ہو محبتوں کی کتاب لکھنا  ساتھ میں وفا کا نصاب لکھنا  نہ ہی بدلنا تیور  نہ کبھی اپنا لہجہ  خزاں کی رُت میں بھی  لہجہ اپنا گُلاب لکھنا  سنُو اگر ہو کچھ وقت کو لکھنا  تو وقت سے یہ کہہ تم دینا  کہ میری آنکھوں میں نیا خواب نہ دینا  پھر مجھے رتجگوں کا  عذاب نہ دینا  کہ میں ہوں اِک حساس سی لڑکی  خاموش اور اداس سی لڑکی  گُماں میں رہنا نہیں گوارا  حقیقتوں میں ہوں میں رہتی  حساسیت نے ہے مجھ کو مارا  بےتحاشہ ہوں میں سُوچتی  درد دلوں کے ہوں

نظمیں

شالیمار کی گود میں تیری آغوش میں میرا بدن کیوں کسمساتا ہے مگر یاروںکا میٹھا غم رگوں میں دوڑ جاتا ہے تیری روشوں پہ چلتا ہوں، تفکُر جاگ جاتا ہے تمنا جھلملاتی ہے، تخیل گُنگناتا ہے ��� ہرے لانوں پہ جب میری نگاہیں دوڑ جاتی ہیں خِرد مسحور ہوتی ہے،تصور مُسکراتا ہے تیرے پھولوں کی خوشبو میں خُمارِ خود فراموشی  چناروں کا گھنا سایہ تردُد کو سُلاتا ہے گھنیری جھاڑیاں، سبزہ، عنادِل، تتلیاں، جھرنے عَدن کو رشک آتا ہے، اِرم آنسو بہاتا ہے! ��� یہ برقی قُمقمے تیرے، صدا اور نُور کا جادُو گھڑی بھر کے لئے بُھولا فسانہ یاد آتا ہے یہ کھنڈر، ٹوٹی دیواریں تجسُس کو جگاتی ہیں مناظر کتنی صدیوں کے تسلسل سے دِکھاتی ہیں ��� جہانگیری زمانے کے حقائق اور افسانے میری یاداشت کے پردے پہ تصویروں کی

حمد

طور پر جلوہ ترا برق و شرر میں تُو ہی ٹو  دور تک موسیٰ کے پاکیزہ سفر میں تُو ہی تُو   شام کے ڈھلتے ہوئے سایوں میں تیرا ہی دوام  ہر گجر میں تُو ہی تو نور سحر میں تُو ہی تُو    ہر سفر تیری طرف ہر موڑ پر موجود تُو  تُو تھکن میں منزلوں کی رہگزر میں تو ہی تو    سانس لینا ورنہ اس دنیا میں ہے کس کی مجال   تیرے جلوے ہر نظر میں ہر بشر میں تو ہی تو    نازکی بزمِ جہاں کی کوئی سمجھا ہی نہیں  شیشہ سازی میں تو ہی تو شیشہ گر میں توہی تو     بارشوں میں ترا جلوہ دھوپ میں تیرا کرم  ہر خوشی میں تو ہی تو ہے چشم  تر میں تو ہی تو    لفظ بھی کرتے ہیں اب اوراق پر حمدوثنا  شکر ہے اس حمد کے زیروزَبر میں تو ہی تو    ا

نظمیں

آخر کب تک؟ باپ کی آنکھوں سے بہتے اشکوں کے دھارے ماتم کرتی ماں بیچاری آخر کب تک؟ فصلِ گْل پر بادِ خزاں کی پہرے داری گلعذاروں کی آزاری آخر کب تک؟ کوڑی پا کر صحنِ چمن کو گروی رکھنا حق داروں سے یہ غداری آخر کب تک؟ شعلہ فگن ہتھیاروں کی یہ دوڑا دوڑی سبزہ زاروں پر بمباری آخر کب تک؟ مرحم کے وعدوں پر سینے چھلنی کرنا جھوٹی تسلی اور مکاری آخر کب تک؟ پرچم اوڈھی لاشوں کی خود کام نمائش اخباروں کی مینا کاری آخر کب تک؟ مذہب کو ہتھیار بنا کر دنگے کرنا گلی گلی یہ مارا ماری آخر کب تک؟ کمسن بچے کے سر سے یہ اٹھتے سائے بیواؤں کی ماتم داری آخر کب تک؟ مفلس تنکے کو ترسے تُو موج منائے ایسی بے دردانہ زرداری آخر کب تک؟ اپنے ہی ہاتھوں سے  اپنے گھر کو جلا کر بیگانوں کی خاطر داری آخر کب تک؟ درد چھلکتا آنکھوں میں ا

نظمیں

 محبت کم نہیں ہوتی  محبت بس محبت ہے قیامت ہے تو آئے پھر میں ہارو نگا میں واروں گا اسے کوئی تو بھائے پھر بچھڑنا ہے اسے اک دن  تڑپنا ہے تمہیں اک دن سکوت میں رہے گا وہ بھٹکنا ہے تمہیں اک دن اگر یہ جان کے بھی پھر اسی میداں میں گھومو گے تو پھر اک بات بولوں میں؟ تمہیں سود و زیاں کا غم کوئی زنجش کہیں پیہم اسے کھونے کا بس اک غم نہیں ہے! کیوں نہیں آخر؟   جواب سنو اے ناصح سن لو محبت ایک خواہش ہے محبت خوشنما مرہم محبت انتہا غم کی محبت آزمائش ہے۔ محبت میں اگر دو دل بچھڑ کے دور ہوتے ہیں بنا اک دوسرے کے وہ غموں سے چور ہوتے ہیں نئے بندھن میں بندھیں سے نئے سپنے سجانے سے نئی دنیا بسانے سے محبت کم نہیں ہوتی  محبت دائمی سچ ہے محبت کم نہیں ہوتی   

سراب اور حقیقت

خیال و فکر اور احساس ہر دِل میں بہرآں ہے کبھی غلطاں و پیچاں ہے کبھی اُفتاں و خیزاں ہے   کبھی تن بے سکوں ہے اور کبھی یہ دِل پریشاں ہے تڑپتا خانۂ دل میں کبھی رہ رہ کے ارماں ہے   کبھی پہنائی ِ دل میں تمنائوں کا خلجاں ہے کبھی اس آتشِ حسرت میں رُوح و قلب سوزاں ہے   نگارِ آرزو کا دِل پہ ہر دم ایک پیکاں ہے بڑی مشکل سے کوئی آرزو گو ہر بہ داماں ہے   کبھی انسان اپنے دشمنوں پر بھی مہرباں ہے کبھی افسوس اپنے محسنوں پر بھی ستمراں ہے   حکمراں بن کے انساں جبکہ کرتا خونِ انساں ہے خلافِ ظلم لڑکر کوئی ہوتا حق ہی قُرباں ہے   کبھی عشق و محبت میں دلِ مضطر غزلخواں ہے کبھی ناکامیِ اُلفت میں یہ ناشاد و نالاں ہے   کبھی ناکامی و رنج و بلا میں دِل پریشاں ہے یہی دِل کامرانی میں کبھی مغرور

اذان کربلا

اصل میں ماہِ محرّم کا ہے ایسا سانحہ جس نے ذہن و دل، جگر پارہ پارہ کردیا کربلا کی آخری شب تھا غموں کا سلسلہ تھے سبھی تصویرِ غم اور لب پہ تھا شکر خدا  سر بہ سجدہ تھے سبھی وہ عاشقانِ مصطفےٰ تھے بہت بیتاب سننے کو اذانِ کربلا جس میں تھا یکسر علی اکبرؑ کا جذبہ برملا نغمۂ اللہ اکبر کی لطافت تھی اذاں مژدئہ جامِ شہادت کی بشارت تھی اَذاں ہاں بہتّر عاشقوں کی استقامت تھی اَذاں وہ اَذاں جس سے کہ پیغامِ عبادت تھا عیاں وہ عبارت جس سے اقرارِ شہادت تھا عیاں صبحِ عاشور اذانِ فجر تھی اعلانِ حق جس سے روشن ہوگئے ایمان کے سارے طبق وہ اذاں خود ہی شہادت کا نیا عنوان تھی وہ اذاں انکارِ بیعت کا کُھلا اعلان تھی   بشیر آثمؔ باغبان پورہ، لعل بازار موبائل نمبر؛9627860787

آہ ! راحت اندوی

سب کو ہنسانے والا رُلا کر چلا گیا نغمے وہ زندگی کے سنا کر چلا گیا اک عہد اس کے نام سے منسوب ہو گیا تاریخ میں وہ نام لکھا کر چلا گیا …… فیس بک اور ٹیلی ویژن پر اس کے مرنے کی جب خبر آئی آسمان و زمیں اداس ہوئی پتھروں کی بھی آنکھ بھر آئی …… روشنی ہے نثار جگنو پر سارا عالم فدا ہے خوشبو پر چھوڑ کر دنیا کیا گئے راحتؔ جیسے ٹوٹا پہاڑ اردو پر …… اس کی باتوں میں لُبھانے کا عجب انداز تھا اس کی غزلوں میں بلا کا حسن تھا اعجاز تھا اس کے دم سے رونق شعر وسخن دوبالا تھی محفل شعر وسخن کا منفرؔد وہ ساز تھا   ڈاکٹر شمس کمال انجم صدر شعبۂ عربی / اردو/ اسلامک اسٹڈیز بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری، موبائل نمبر؛9086180380