مُناجات

نظرِ رحمت مجھ پہ یارب ہو سدا کے واسطے کون ہے تیرے سوا مجھ بے نوا کے واسطے دردِ دل میں مبتلا ہوں عافیت کیجے عطا کر رہا ہے دل دعا تجھ سے شِفا کے واسطے روزِ محشر جس گھڑی ہو دل پریشاں آنکھ نم ظِلِّ ربّانی ہو مجھ بے دست و پا کے واسطے بھر گیا ہے اب گناہوں سے مِرا ظرفِ دروں مغفرت کر دے مِری جُود و سخا کے واسطے میں رسولِ محترمؐ کا داغدارِ  پُر خطا بابِ رحمت کھول دے مجھ بے نوا کے واسطے دستگیری  کر ہمیشہ  اے خدائے لم یزل کر عطا کچھ کام جو آئے سدا کے واسطے دیدروئے شافعِ محشر سے کر دے فیضیاب دل شکستہ جو کرے تجھ سے دعا کے واسطے بھر دے یارب سینہ ٔجاہل شفائیؔ علم سے نور بھی کر دے عطا پھر مصطفیٰؐ کے واسطے    ڈاکٹر شکیل شفائیؔ بمنہ/سرینگر

سنُو ذرا

سُنو ذرا کُون ہو تم  کیوں ہو مجھ سے یُوں مخاطب ؟ تیرے ہاتھ میں یہ قلم و کاغذ  کیا کوئی درد لکھنے جارہے ہو ؟ کیا درد تحریر ہو پا رہے ہیں؟   سُنو ذرا  اگر ہو محبتوں کی کتاب لکھنا  ساتھ میں وفا کا نصاب لکھنا  نہ ہی بدلنا تیور  نہ کبھی اپنا لہجہ  خزاں کی رُت میں بھی  لہجہ اپنا گُلاب لکھنا  سنُو اگر ہو کچھ وقت کو لکھنا  تو وقت سے یہ کہہ تم دینا  کہ میری آنکھوں میں نیا خواب نہ دینا  پھر مجھے رتجگوں کا  عذاب نہ دینا  کہ میں ہوں اِک حساس سی لڑکی  خاموش اور اداس سی لڑکی  گُماں میں رہنا نہیں گوارا  حقیقتوں میں ہوں میں رہتی  حساسیت نے ہے مجھ کو مارا  بےتحاشہ ہوں میں سُوچتی  درد دلوں کے ہوں

تازہ ترین