نظمیں

آخر کب تک؟ باپ کی آنکھوں سے بہتے اشکوں کے دھارے ماتم کرتی ماں بیچاری آخر کب تک؟ فصلِ گْل پر بادِ خزاں کی پہرے داری گلعذاروں کی آزاری آخر کب تک؟ کوڑی پا کر صحنِ چمن کو گروی رکھنا حق داروں سے یہ غداری آخر کب تک؟ شعلہ فگن ہتھیاروں کی یہ دوڑا دوڑی سبزہ زاروں پر بمباری آخر کب تک؟ مرحم کے وعدوں پر سینے چھلنی کرنا جھوٹی تسلی اور مکاری آخر کب تک؟ پرچم اوڈھی لاشوں کی خود کام نمائش اخباروں کی مینا کاری آخر کب تک؟ مذہب کو ہتھیار بنا کر دنگے کرنا گلی گلی یہ مارا ماری آخر کب تک؟ کمسن بچے کے سر سے یہ اٹھتے سائے بیواؤں کی ماتم داری آخر کب تک؟ مفلس تنکے کو ترسے تُو موج منائے ایسی بے دردانہ زرداری آخر کب تک؟ اپنے ہی ہاتھوں سے  اپنے گھر کو جلا کر بیگانوں کی خاطر داری آخر کب تک؟ درد چھلکتا آنکھوں میں ا

نظمیں

 محبت کم نہیں ہوتی  محبت بس محبت ہے قیامت ہے تو آئے پھر میں ہارو نگا میں واروں گا اسے کوئی تو بھائے پھر بچھڑنا ہے اسے اک دن  تڑپنا ہے تمہیں اک دن سکوت میں رہے گا وہ بھٹکنا ہے تمہیں اک دن اگر یہ جان کے بھی پھر اسی میداں میں گھومو گے تو پھر اک بات بولوں میں؟ تمہیں سود و زیاں کا غم کوئی زنجش کہیں پیہم اسے کھونے کا بس اک غم نہیں ہے! کیوں نہیں آخر؟   جواب سنو اے ناصح سن لو محبت ایک خواہش ہے محبت خوشنما مرہم محبت انتہا غم کی محبت آزمائش ہے۔ محبت میں اگر دو دل بچھڑ کے دور ہوتے ہیں بنا اک دوسرے کے وہ غموں سے چور ہوتے ہیں نئے بندھن میں بندھیں سے نئے سپنے سجانے سے نئی دنیا بسانے سے محبت کم نہیں ہوتی  محبت دائمی سچ ہے محبت کم نہیں ہوتی   

سراب اور حقیقت

خیال و فکر اور احساس ہر دِل میں بہرآں ہے کبھی غلطاں و پیچاں ہے کبھی اُفتاں و خیزاں ہے   کبھی تن بے سکوں ہے اور کبھی یہ دِل پریشاں ہے تڑپتا خانۂ دل میں کبھی رہ رہ کے ارماں ہے   کبھی پہنائی ِ دل میں تمنائوں کا خلجاں ہے کبھی اس آتشِ حسرت میں رُوح و قلب سوزاں ہے   نگارِ آرزو کا دِل پہ ہر دم ایک پیکاں ہے بڑی مشکل سے کوئی آرزو گو ہر بہ داماں ہے   کبھی انسان اپنے دشمنوں پر بھی مہرباں ہے کبھی افسوس اپنے محسنوں پر بھی ستمراں ہے   حکمراں بن کے انساں جبکہ کرتا خونِ انساں ہے خلافِ ظلم لڑکر کوئی ہوتا حق ہی قُرباں ہے   کبھی عشق و محبت میں دلِ مضطر غزلخواں ہے کبھی ناکامیِ اُلفت میں یہ ناشاد و نالاں ہے   کبھی ناکامی و رنج و بلا میں دِل پریشاں ہے یہی دِل کامرانی میں کبھی مغرور

اذان کربلا

اصل میں ماہِ محرّم کا ہے ایسا سانحہ جس نے ذہن و دل، جگر پارہ پارہ کردیا کربلا کی آخری شب تھا غموں کا سلسلہ تھے سبھی تصویرِ غم اور لب پہ تھا شکر خدا  سر بہ سجدہ تھے سبھی وہ عاشقانِ مصطفےٰ تھے بہت بیتاب سننے کو اذانِ کربلا جس میں تھا یکسر علی اکبرؑ کا جذبہ برملا نغمۂ اللہ اکبر کی لطافت تھی اذاں مژدئہ جامِ شہادت کی بشارت تھی اَذاں ہاں بہتّر عاشقوں کی استقامت تھی اَذاں وہ اَذاں جس سے کہ پیغامِ عبادت تھا عیاں وہ عبارت جس سے اقرارِ شہادت تھا عیاں صبحِ عاشور اذانِ فجر تھی اعلانِ حق جس سے روشن ہوگئے ایمان کے سارے طبق وہ اذاں خود ہی شہادت کا نیا عنوان تھی وہ اذاں انکارِ بیعت کا کُھلا اعلان تھی   بشیر آثمؔ باغبان پورہ، لعل بازار موبائل نمبر؛9627860787

آہ ! راحت اندوی

سب کو ہنسانے والا رُلا کر چلا گیا نغمے وہ زندگی کے سنا کر چلا گیا اک عہد اس کے نام سے منسوب ہو گیا تاریخ میں وہ نام لکھا کر چلا گیا …… فیس بک اور ٹیلی ویژن پر اس کے مرنے کی جب خبر آئی آسمان و زمیں اداس ہوئی پتھروں کی بھی آنکھ بھر آئی …… روشنی ہے نثار جگنو پر سارا عالم فدا ہے خوشبو پر چھوڑ کر دنیا کیا گئے راحتؔ جیسے ٹوٹا پہاڑ اردو پر …… اس کی باتوں میں لُبھانے کا عجب انداز تھا اس کی غزلوں میں بلا کا حسن تھا اعجاز تھا اس کے دم سے رونق شعر وسخن دوبالا تھی محفل شعر وسخن کا منفرؔد وہ ساز تھا   ڈاکٹر شمس کمال انجم صدر شعبۂ عربی / اردو/ اسلامک اسٹڈیز بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری، موبائل نمبر؛9086180380  

بچپن

کاش کہیں سے آئے بچپن کوئی میرا لوٹائے بچپن   پھر سے ویسا ہی ساون ہو ماں اور بابا کا آنگن ہو خوشیوں سے مہکائے بچپن کوئی میرا لوٹائے بچپن بہنا، بھیا اور سکھیاں ہوں کاجل والی دو اکھیاں ہوں فرصت آئے سجائے بچپن کوئی میرا لوٹائے بچپن   بھرکھا باش کی مستی ہو اور وہ کاغذ کی کشتی ہو یاد بہت ہی آئے بچپن کوئی میرا لوٹائے بچپن   حدِ نظر تک سُکھ ہی سُکھ ہو جس میں کورونا کا نا دکھ ہو سحر کو پھر وہ ہنسائے بچپن کوئی میرا لوٹائے بچپن   ثمینہ سحرؔ مرزا بڈھون، راجوری  

نظمیں

رخصتی بارش گُل ہورہی ہے ہورہا ہے اہتمام جھوم اُٹھے غنچہ و گل ہے صبا محوِ خرام اس طرح مصروف ہے ہر اک برائے انتظام ہے ہنسی لب پر نظر میں کیف دل ہے شاد کام حُسن کو نیرنگیاں ہم جولیوں کے درمیاں جیسے ہوتاروں کے جھرمٹ میں حسیں ماہِ تمام پھول سے ہاتھوں میں مہندی کی شفق کہتی ہے یہ ان حسیں ہاتھوں میں آنے کو ہے اک تازہ نظام ہے عروسِ خوب رو کے سر پہ عزت کی رِدا نورپیشانی پہ آنکھوں میں حیاء و احترام آج بھی بچپن تیرا اٹکھیلیاں کرتا ہوا میرے دل کی وسعتوں میں کھیلتا ہے صبح و شام تیری قسمت کا ستارہ جگمگاتا ہی رہے رخصتی بابل سے تیری ہو بہ صدہا احتشام  اے عروسِ نو دعا، ہے یہ میری کہ تُو رہے شاد کام و شاد کام و شاد کام و شاد کام کچھ محبت کے ہی موتی ہیں بشیر آثمؔ کے پاس ہے قوی اُمید کہ آئیں تیرے تحفے کے کام   

عید مبارک

مسرت، کامیابی ساتھ لائی ہے یہ دیکھو عید آئی، عید آئی ہے   رحمتوں کا نزول ہونا ہے خوش رہو، اب یہ عید آئی ہے   خوشحالی لوٹ آئے سارے عالَم میں دل اِس تمنا کا تمنّائی ہے   ترے جلوے ہی دکھتے ہیں ہر اور ایسی بینائی میری بینائی ہے   نفرتوں کو مٹا کے سب کہہ لو ہم نے الفت میں لَو لگائی ہے   خواہشوں کی دی ہے جس نے قربانی راہِ راست تو اُسی نے پائی ہے   دور ہوگا جہان سے وائرس زیب و زینت جو لوٹ آئی ہے   ظہور احمد منشی۔ دلگیرؔ بٹہ مالو۔ 9797256892  

سہرہ

سبحان اللہ سہرہ ہے کہ ہے تصویر پھولوں کی چمک اٹھی بحمدِ اللہ خود تقدیر پھولوں کی   وہ الفت کل جسے نوشہ بھی خود اک کھیل کہتا تھا وہ اُلفت رفتہ رفتہ بن گئی زنجیر پھولوں کی   دمکتا ہے ستاروں کی طرح ہر تار سہرے کا دوبالا ہوگئی رُخ سے تیرے تنویر پھولوں کی   دعائیں دے رہا ہر کوئی اس طرح نوشہ کو یوں ہی پُھولے پھلے یارب سدا جاگیر پھولوں کی   گلابی عکسِ عارض، لب شگفتہ، چہرئہ دلکش وہی تصویر نوشہ کی وہی تصویر پھولوں کی   حسیں جلوے مچلتے دل، نظر بہکی، فضا مہکی نگاہِ شوق تو نے دیکھ لی تاثیر پھولوں کی   نظر آئے یہی رنگت، یہی نکہت، یہی فرحت رہے تا عمر جوڑے میں حسیں تاثیر پھولوں کی   نہ نذرانہ ہے، تحفہ ہے، شفقت ہے، محبت ہے بشیر آثمؔ نے سہرے میں لکھی تاثیر پھولوں کی  

نظمیں

سراب اور حقیقت نگاہِ حق نگر محوِ تماشائے گلستاں ہے مآلِ گُلشنِ ہستی پہ گریاں اور خنداں ہے عجب مجموعۂ اضداد یہ جشنِ بہاراں ہے کہیں سرسبز و شاداںہے کہیں بربادو ویراں ہے نگاہِ دیدئہ عبرت ازل سے مرثیہ خواںہے فنا اِس بزمِ ہستی کے تعاقب میں خراماں ہے سمجھ بیٹھا جسے دارالبقا مدہوش انساں ہے نہیں دارالبقا، مُلکِ فنا کا ایک زنداں ہے اِدھر بھی موت رقصاں ہے اُدھر بھی موت رقصاں ہے اُمیدوں کا مگر پھر بھی بہر سواک چراغاں ہے بہت دُشوار اِس دارالفنا میں دردِ ہجراں ہے بقا بعد از فنا کا ہی تصوّر اُس کا درماں ہے گرفتارِ بلا دُنیا میں بھی رہتا یہ انساں ہے پکڑتی موت پھر اس کو ہے جس سے یہ گُریزاں ہے جواں لختِ جگر کی موت سے جو دِل کہ گریاں ہے وہ جیسے زندہ ہے درگور، خود گورِ غریباں ہے چمن میں خوش نوائی کر رہا مُرغِ خوش الحاں ہے ارادے سے

دوست یہ ٹھیک نہیں ہے

کسی کے منہ پہ تعریف کا اظہار پیٹھ پیچھے نفرت کی یلغار دوست یہ ٹھیک نہیں ہے پھول سمجھ کر بچپن مہکایا کانٹوں سے تجھے بچایا والدین  ہیں میٹھا شاہجار شادی کے ساتھ ہی فرار دوست یہ ٹھیک نہیں ہے بڑے لوگوں کی کریں خوش آمد دوست کو دکھائیں  ہمدردی بھائی مفلس و لاچار رشتے ناطے سے انکار دوست یہ ٹھیک نہیں ہے سماج سدھار کا ہو جب کام    ہوجائے ایک دم گمنام سیاست کے موسم میں ہر دم ہر پل بے قرار دوست یہ ٹھیک نہیں ہے رہن سہن اور تعمیر اچھی ہے یہ تدبیر کپڑے لائیں سوسوبار   اورکتاب سے انکار   دوست یہ ٹھیک نہیں ہے   ڈاکٹر ریاض توحیدی    وڈی پورہ ہندوارہ کشمیر193221 موبائل نمبر؛9906834877  

بھگائینگے ہم

فرض اپنا یہ پہلے نبھائیں گے ہم گھر سے باہر گلی میں نہ جائینگے ہم   پھر کروناؔ جو آئے اُسے آنے دو خوب مل جُل کے اُسکے بھگائینگے ہم   لاکھ بہتر ہے گھر کے ہی اندر رہیں بیٹھے بیٹھے ہی رَب کو منائینگے ہم   جنکو کچھ بھی پتہ ہے نہیں دوستو! بات حق کی انہیں پھر بتائینگے ہم   کوئی کھانسی یا ریشے کا بیمار ہو جلد سے ڈاکٹر کو دکھائینگے ہم   فرض عُشاقؔ اپنا نبھائینگے ہم اِس ’’کورونا‘‘ کو ہند سے بھگائینگے ہم   عُشاق کشتواڑی کشتواڑ، حال جموں موبائل نمبر؛9697524469  

آؤ کہ بھول جاتے ہیں

آؤ کہ بھول جاتے ہیں  چْبھ گئے ہیں جو  باتوں کے نشتر  دل پر لگے ہیں جو  زہر میں ڈوبے خنجر    آؤ کہ بھول جاتے ہیں  رنجشیں  نفرتیں  عداوتیں   آؤ کہ کِھلاتے ہیں  چاہتوں کے گلاب  پڑھتے ہیں مل کر  محبتوں کا نصاب    آؤ کہ مل کر  تفسیرِ وفا  آیاتِ محبت پڑھتے ہیں  آؤ کہ پڑھ کر تسبیح پیار کی  ہم دم کرتے ہیں    شمیمہ صدیق شمی  شوپیان کشمیر  

قطعات

کرن اُمید کی فکر و نظر میں اسی کی روشنی قلب و بصر میں نظامِ زندگی قائم ہے اس سے اسی کا حوصلہ دل میں جگر میں   شفق روتی ہے خُوں تو شامِ غم ہے شبِ تاریک رُخصت صُبحدم ہے سحر ہی جب ہے انجامِ شبستاں تو پھر مایوس کیوںیہ چشمِ نم ہے   اسی عُقدہ میں ہے عقدہ کُشائی کلی کِھل کر یہی پیغام لائی نہ گھبرانا تو اے دل مشکلوں سے صبح ہو ہی گئی جب رات آئی   دلِ غم ہے اور جشمِ پُرنم پریشاں حالیوں کا دَور ہردم خدا جانے کہ اب کیا حالِ دل ہو نہاں جس میں ہیں لاکھوں درد اور غم    موبائل نمبر؛7006606571

کووِڈ

آبھی جا! اب ضبط میرا آزمانےکے لئے ایک میٹر دور سے دل کو لگانے کے لئے کوئی بھی موقع عمل کا پیش تو ہوگا نہیں پھر بھی آ، ناکام عاشق کو ستانے کے لئے  دہنِ غنچہ، بینیٔ شمشیر ماسک میں سہی مُجھ کو کافی ہیں مرے مِژگاں لُبھانے کے لئے  مرمریں ہاتھوں پہ دستانے چڑھے تو غم نہیں ساعدِ سیمیں تو ہیں باقی دِکھانے کے لئے  چشمِ نرگس ہاتھ سے چُھونا ہدایت میں نہیں یہ بھی کیا کم ہے ملیں، نظریں ملانے کے لئے  گرکیا کووڈ نے اپنے بس میں اب بوس وکنار تُو اجازت لے کے آجا مُسکرانے کے لئے  بُھول جاعیش و طرب اور وصل کے شام و سحر  آئو وائرس کے دِنوں، آنسو بہانے کے لئے    یوسف نیرنگؔ توی وہار، جموں موبائل نمبر؛9419105051

نعتِ رسولِ مقبولؐ(فارسی)

خُدا وندا نہ سُلطانم نہ گنجِ بے بہادارم ولے شادم کہ لاثانی رسول و رہنما دارم   بہ ہرصورت، بہ ہر موسم، سکونِ قلب می دارم کہ من پیہم نگہ برنقشِ پائے مصطفےٰ دارم   بصد اخلاص وشفقت اے یزیدِ وقت می گویم مسلمانم، پس و پیشِ نظر نورُالہُدیٰ دارم   بِیا صحرا نوردی ترک کُن، بامن بہ راحت زِی مثالِ مہرِ تاباں اسوئہ خیر الوریٰ دارم   بشر ہستم و دارم دامن از عصیان آلودہ ولے بہرِ شفاعت منبعٔ جُود و سَخا دارم   بِروں از روز و شب انظرؔ بِروں اِیں ظلمت غم کُن بِگو نازم کہ بہرِ زیستن شمس الضحیٰ دارم   منظوم اردو ترجمہ   کوئی حاکم ہوں نہ گنجِ بے بہار رکھتا ہوں میں خاص لیکن اِک رسولؐ و رہنما رکھتا ہوں میں   اطمینانِ دل میّسر ہ

نعت پاک

تضمیں بر اشعارِ شری چاند بہاری لال صباؔ جے پوری   تمہیں ہو نورِ اول کا ستارا یارسول اللہؐ تمہیں ظلمت میں ہو روشن مُنارا یا رسول اللہؐ ہے تم سے جلوئہ حق آشکارا یا رسول اللہؐ   ’’نہ پہلے تھا کوئی ثانی تمہارا یا رسول اللہ نہ اب ہوگا کوئی تُم سا دوبارا یا رسول اللہ‘‘   زہے قسمت تمارا سرورِ دنیا و دیں ہونا نہ تُم سامہ جبیں ہونا نہ تم سادل نشیں ہونا یہ ثابت کررہا ہے رحمتہ اللعالمینؐ ہونا   ’’خدا کا وہ نہیں ہوتا، خدا اُس کا نہیں ہوتا جِسے آتا نہیں ہونا تمہارا یا رسول اللہ‘‘   بشیر آثمؔ ہے اور حدِ نظر عصیاں کا دفتر ہے حواس افسردہ، سر پر آگ، دل مایوس و مضطر ہے ہجومِ یاس میں لب پر مرے نامِ پیغمبرؐ ہے   ’’خدا حافظ، خداناصر سہ

خیر اُلبشرﷺ

مُصطفیٰؐ کی دُعا کا اثر دیکھ لو آگئے دوڑ کر ہیں عمرؓ دیکھ لو خالقِ دو جہاں محوِ ذکرِ امیں اِس پہر، اُس پہر، ہرپہر دیکھ لو اُسکی طاعت میںسربستہ رب کی رضا قُربتِ وضُحٰیؐ کا ثمر دیکھ لو  پرتوئے حُسنِ یٰسؐ کے ا نوار سے نورتاباں یہ ماہ و مہر دیکھ لو  شہرِ مکہ میں ہر د م ستائے گئے گُل بداماں ہیں شقُ القمرؐ دیکھ لو تیرگی سے اُجالوں میں لائے گئے اہلِ طائف کے سنگ دل مگر دیکھ لو  عرش پہ ہیں مُلاقی خدا سے ہوئے فرش پہ وہ کھجوروں کا گھر دیکھ لو خونِ اطہر بہایا ہے دیں کے لئے جاکے اُحد و بدر کی سحر دیکھ لو اُمّتی کے لئے رب کے دربار میں اَشک اَفشاں ہیں خیرُالبشرؐ دیکھ لو   طُفیل شفیع گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر موبائل نمبر؛6006081653

کورونا

کیوں نہ تقدیر اپنی سنوارینگے ہم ایسی تصویر پھر سے اُتارینگے ہم ہم ہیں ہندوستانی ہمیں ناز ہے ایسا خاکہ زمین پہ اُبھارینگے ہم مرض چل کر جو آیا یہاں چین سے ایسے رستوں سے اسکو گذارینگے ہم اسکی صورت کا نقشہ بدل جائیگا کھال اس طور اُسکی اُتارینگے ہم بھول بیٹھے گااپنے یہ نقش و نگار ضرب ایسی کچھ اسکو لگائینگے ہم نقش اسکے مٹیں گے سبھی آپ ہی ایسا جادو اُسے کر دکھائنگے ہم جب بھی لیگا جنم یہ یہاں پہ کہیں ایسے ’’راون‘‘ کو اس جاہی مارینگے ہم ہم نے دنیا میں ہر شے کو ہے مات دی کیا کرونا سے عشاقؔ ہارینگے ہم   عُشاقؔ کشتواڑی کشتواڑ، حال جموں موبائل نمبر؛9697524469  

ماہِ صیّام جا رہا ہے

ہم سب پہ کرکے لاکھوں احسان جارہا ہے افسوس پاک ماہِ رمضان جارہا ہے   تڑپا کے ہم سبھی کو رمضان جا رہا ہے اللہ کے کرم کا عنوان جارہا ہے   ہردن تھا جس کا رحمت اور مغفرت کا حامل وہ برکت افشاں ماہِ ذیشان جارہا ہے   بن کر خدا کی نعمت آیا تھا جو مہینہ ہم سب کا کرکے بیدار ایمان جارہا ہے   اس کے ہی صدقے سر پر ٹوپی کا تاج آیا  دے کر یہ ہم کو دینی پہچان جارہا ہے   اس کیہی دم سے گھر میں اعمال کی تھی رونق اب کرکے یہ سبھی کچھ ویران جارہا ہے   اللہ کے کرم سےرمضان کا مہینہ  ہم کو نواز کر کے قرآن جارہا ہے   آ تے ہی اس کے سارا ماحول?اتی جی اٹھا تھا اب کر کے یہ فضا کو بے جا ن جا رہا ہے   للہ روک لیجے للہ روک لیجے رمضان جا رہا ہے رمضان جا رہا ہے  

تازہ ترین