نعت پاک

تضمیں بر اشعارِ شری چاند بہاری لال صباؔ جے پوری   تمہیں ہو نورِ اول کا ستارا یارسول اللہؐ تمہیں ظلمت میں ہو روشن مُنارا یا رسول اللہؐ ہے تم سے جلوئہ حق آشکارا یا رسول اللہؐ   ’’نہ پہلے تھا کوئی ثانی تمہارا یا رسول اللہ نہ اب ہوگا کوئی تُم سا دوبارا یا رسول اللہ‘‘   زہے قسمت تمارا سرورِ دنیا و دیں ہونا نہ تُم سامہ جبیں ہونا نہ تم سادل نشیں ہونا یہ ثابت کررہا ہے رحمتہ اللعالمینؐ ہونا   ’’خدا کا وہ نہیں ہوتا، خدا اُس کا نہیں ہوتا جِسے آتا نہیں ہونا تمہارا یا رسول اللہ‘‘   بشیر آثمؔ ہے اور حدِ نظر عصیاں کا دفتر ہے حواس افسردہ، سر پر آگ، دل مایوس و مضطر ہے ہجومِ یاس میں لب پر مرے نامِ پیغمبرؐ ہے   ’’خدا حافظ، خداناصر سہ

خیر اُلبشرﷺ

مُصطفیٰؐ کی دُعا کا اثر دیکھ لو آگئے دوڑ کر ہیں عمرؓ دیکھ لو خالقِ دو جہاں محوِ ذکرِ امیں اِس پہر، اُس پہر، ہرپہر دیکھ لو اُسکی طاعت میںسربستہ رب کی رضا قُربتِ وضُحٰیؐ کا ثمر دیکھ لو  پرتوئے حُسنِ یٰسؐ کے ا نوار سے نورتاباں یہ ماہ و مہر دیکھ لو  شہرِ مکہ میں ہر د م ستائے گئے گُل بداماں ہیں شقُ القمرؐ دیکھ لو تیرگی سے اُجالوں میں لائے گئے اہلِ طائف کے سنگ دل مگر دیکھ لو  عرش پہ ہیں مُلاقی خدا سے ہوئے فرش پہ وہ کھجوروں کا گھر دیکھ لو خونِ اطہر بہایا ہے دیں کے لئے جاکے اُحد و بدر کی سحر دیکھ لو اُمّتی کے لئے رب کے دربار میں اَشک اَفشاں ہیں خیرُالبشرؐ دیکھ لو   طُفیل شفیع گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر موبائل نمبر؛6006081653

کورونا

کیوں نہ تقدیر اپنی سنوارینگے ہم ایسی تصویر پھر سے اُتارینگے ہم ہم ہیں ہندوستانی ہمیں ناز ہے ایسا خاکہ زمین پہ اُبھارینگے ہم مرض چل کر جو آیا یہاں چین سے ایسے رستوں سے اسکو گذارینگے ہم اسکی صورت کا نقشہ بدل جائیگا کھال اس طور اُسکی اُتارینگے ہم بھول بیٹھے گااپنے یہ نقش و نگار ضرب ایسی کچھ اسکو لگائینگے ہم نقش اسکے مٹیں گے سبھی آپ ہی ایسا جادو اُسے کر دکھائنگے ہم جب بھی لیگا جنم یہ یہاں پہ کہیں ایسے ’’راون‘‘ کو اس جاہی مارینگے ہم ہم نے دنیا میں ہر شے کو ہے مات دی کیا کرونا سے عشاقؔ ہارینگے ہم   عُشاقؔ کشتواڑی کشتواڑ، حال جموں موبائل نمبر؛9697524469  

ماہِ صیّام جا رہا ہے

ہم سب پہ کرکے لاکھوں احسان جارہا ہے افسوس پاک ماہِ رمضان جارہا ہے   تڑپا کے ہم سبھی کو رمضان جا رہا ہے اللہ کے کرم کا عنوان جارہا ہے   ہردن تھا جس کا رحمت اور مغفرت کا حامل وہ برکت افشاں ماہِ ذیشان جارہا ہے   بن کر خدا کی نعمت آیا تھا جو مہینہ ہم سب کا کرکے بیدار ایمان جارہا ہے   اس کے ہی صدقے سر پر ٹوپی کا تاج آیا  دے کر یہ ہم کو دینی پہچان جارہا ہے   اس کیہی دم سے گھر میں اعمال کی تھی رونق اب کرکے یہ سبھی کچھ ویران جارہا ہے   اللہ کے کرم سےرمضان کا مہینہ  ہم کو نواز کر کے قرآن جارہا ہے   آ تے ہی اس کے سارا ماحول?اتی جی اٹھا تھا اب کر کے یہ فضا کو بے جا ن جا رہا ہے   للہ روک لیجے للہ روک لیجے رمضان جا رہا ہے رمضان جا رہا ہے  

رمضان سپیشل

نعتِ رسولؐ ہم عشقِ نبیؐدل میں بسانے میں لگے ہیں فردوس میں گھر اپنا بنانے میں لگے ہیں   اعمال کو سنت کی ضیاء کرکے عطا ہم نام و نشاں ظلمت کا مٹانے میں لگے ہیں   ہم عاشقِ سرکارِؐمدینہ ہیں زمانے خود مٹ گئے ہم کو جو مٹانے میں لگے ہیں   کردار تو دیکھو ذرا اصحابِ نبیؐ کا خود بھو کے ہیں اوروں کو کھلانے میں لگے ہیں   گردانِ دروُد اپنے لبوں پر نہیں یونہی ہم خود کو جہنم سے بچانے میں لگے ہیں   یہ مرتبہ یہ شان یہ اعزازِ محمدؐ سب اہلِ فلک ناز اُٹھانے میں لگے ہیں   خلوت ہو کہ جلوت ہو پئے اُمتِ عاصی رب کو مرے سرکارؐ منانے میں لگے ہیں   ذکی طارق بارہ بنکوی سعادتگنج۔بارہ بنکی،یوپی۔بھارت موبائل نمبر؛7007368108   مرحبا اے ماہ رمضان ! توکہ تاباں، تجھ پہ نازاں ح

وائرس کا پیغام

ایک پیغام انسان کے نام  وائرس نے کہا یہ انسان سے   تم مجھ سے واقف ہو ہی نہیں  میں چھوٹی سی اک ادنیٰ سی  مخلوق ِ خدا ہوں نازک سی  ہے حکم خدا کی پابندی  لازم مجھ پر ارزاں سے ہی  اور حکم خدا سے  ہی اٹلی  میرے قہر سے زیر ہوئی اتنی  میں چین سے لے کر ایران کی  یورپ کی بھی میں نے سیرکری    امیریکا ا ور اسپین پہ بھی  میں نے دہشت ایسی طاری کی  محصور ہوے سب گھر میں ہی سب طفل و جواں اور بوڑھے بھی  کیوں مجھ پر اے انسان پڑی  ساری دنیا کو اک مار پڑی ہے اس کے پیچھے اتنی سی  اک بات چھپی بڑی پیاری سی  دنیا میں تجھے بڑی فکر رہی  بس شان سے زندہ رہنے کی  اور کمزوروں کی آپ بیتی  تیرے دھیان سے ہٹتی ہی رہی

رباعیات

آسان ہے گر تم یہ سمجھ جائو بات ہر گز بھی نہیں کھائو گے دشمن سے مات اس ذات سے وابسطہ کر اُمیدیں سب جو رات کو کرتی ہے دن، دن کو رات   عالم جو ہیں ان سب پر احسانِ رب رہبر بھیجے پڑی ضرورت  جب جب پر آقاؐ کی خاص ہے کتنی آمد بھی اُن ؐکی رحمت کے سائے میں شامل سب   چِھن جائے گا سر سے تیرے امبر دیکھ سولی پر لٹکائیں گے تو دے سر دیکھ سچ کہنا دشوارہے کتنا !!!جانے گا اس رہ پر چل کر تو بھی کھا ٹھوکر دیکھ   عارضؔ ارشاد سرینگر، کشمیر موبائل نمبر؛7006003386

رحمتِ کُل

 تقاضائے دل ہے پھر نعمت کہئے پئے نعت قرآن کی آیات کہئے محمدؐؐ محمدؐ محمدؐ محمدؐ  یہی دل کے تاروں پہ نغمات کہئے ہے گیسوئے مشکیں کی توصیف کرنی تو پھر لیلۃ القدر کی بات کہئے سحر کا یہ آغاز، نورانی کرنیں انہیں روئے زیبا کی برسات کہئے حقیقت ہے سب میرے آقاؐ پہ روشن بھلا تابہ کے غم کے حالات کہئے درود اُنؐ پہ پیہم، سلام ان پہ پیہم یہی قلبِ بیخود کی سوغات کہئے غرض یہ کہ اُمت ہے بیحد پریشاں کہاں تک سہیں اب یہ صدمات کہئے ابھی تک سلامت ہے ایمان آقاؐ یہ بس آپؐ ہی کی عنایات کہئے ہے آثمؔ یہی رحمتِ ؐ کُل یقیناً انہیںکے حضور اپنے حالات کہئے   بشیر آشمؔ باغبان پورہ، لعل بازار سرینگر موبائل نمبر؛9627860787     میرے نبی کے لئے وجودِ عرض و سماں ہے میرے نبیؐ کے لئے نظامِ ک

شہ لولاکؐ پیارا مسکن

اے نظارو چلو ایسا کرلیں  میں تمہیں روضۂ اطہر کے روبرو کرلوں میری مت مانناخود ہی یہ فیصلہ کرنا تم حسیں ہو کہ شہ لولاکؐکا پیارا مسکن   اے بہارو ذرا یہ رونقیں اٹھا لاؤ اور لاؤ یہ ابھرتا ہوا نازک جوبن آؤ! آکے میرے محبوبؐ کے آنگن بیٹھو اور خود دیکھ کردنیا سے برملا کہہ دو تم جواں ہو کہ شہ لولاکؐ کا پیارا مسکن   اے گْلابو درا خوشبو نچوڑو کھلتی کلیوں کا رس بھی اس میں گھولو اب ذرا خاک مدینے کی چھو لو اور محسوس کرکے سارے زمانے سے یہ کہہ تم مہکتے ہو کہ شہ لولاکؐکا پیارا مسکن   اے ستارو ذرا کچھ دیر زمیں پر اْترو چاندنی رات کے ہمراہ اب کے آپ اور ہم  چلو چلتے ہیں جانبِ طیبہ وہیں جاکے یہ سِرّعیاں ہوگا تم دمکتے ہو کہ شہ لولاکؐکا پیارا مسکن   آفاق دلنوی دلنہ بارہمولہ کش

ماہِ رحمت

مغفرت، اُنس و اخوت کا مہینہ آگیا چاند اُفق پہ ماہِ رحمت کا ہے دیکھو چھاگیا   یاد کرنے  تازہ آیا عظمتِ قرآن کو یہ کوثر و تسنیم کی نہروں کا پانی لاگیا   حق اَدائی کرگیا جو قلب سے اس ماہ کی  وہ کلید ِ بابِ رضواں کی ضمانت پاگیا    جس نے پہلو میں یتٰمیٰ کے کیا افطار ہے شجرِ اَلفردوس کے باغوں کا میوہ کھاگیا   جو رموزِ عظمتِ قرآن سے آگاہ ہُوا خواہشاتِ نفس کے اصنام سارے ڈھاگیا   طُفیلؔ شفیع گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر،موبائل نمبر؛6006081653   

وہ آئے گا

دْلہن بنی بیٹھی ہوں، نہ جانے بارات کب لائے گا دلہن بنی بیٹھی ہوں ناجانے بارات کب لائے گا اس نے کہا تھا وہ آئے گا سَکھیو! جاو دیکھو کہیں دروازہ نہ کھٹکھٹا رہا ہو ورنہ کہے گا،وہ پھر نا آئے گا۔ اس نے کہا تھا وہ آئے گا سنو یوں کھڑے کھڑے مذاق نہ اْڑاو  وہ میرا دل کبھی نہیں دُکھائے گا اس نے کہا تھا وہ آئے گا جاو آج سب راستے پھولوں سے سجا دو کانٹوں سے کہنا ذرا سنبھل کر رہنا وہ مجھے لینے ضرور آئے گا اس نے کہا تھا وہ آئے گا آج دیپ جلائو ،جگنو کوبلائو،اندھیروں سے ڈرتا ہے نا  وہ کیسے آئے گا   اس نے کہا تھا وہ آئے گا  تم دیکھنا،تم دیکھنا مجھے لے جائے گا ،سینے سے لگائے گا اور تم سب کو جلائے گا  اس نے کہا تھا وہ آئے گا                  &nbs

نکل آئے غم سے یہ سارا جہاں

  الٰہی ترا گھر ہے سُونا پڑا ہے روٹھے ہوئے ہم سے آلِ عبا ہوئی ہم سے جانے یہ کیسی خطا ہے گھیرے ہوئے ہم کو کیسی بلا ہے جس کا نہ مرہم نہ کوئی دواء اُسی غم میں سارے ہوئے مبتلاء ہے خائف اب انسان انسان سے لرزتا ہے ہر کوئی مہمان سے بنائی ہے دوری جو ایمان سے نہیںفیض پاتے ہیں قرآن سے زمانے پہ چھائی ہیں خاموشیاں ہیں ڈسنے لگی اب یہ تنہائیاں ہیں نغمہ سرا اب نہ بلبل کہیں مزاروں پہ کھلتے نہ سنبل کہیں چمن میں مہکتا نہیں کوئی گُل مداوا دلوں کا ہے بس چار قُل!! ہمیں نااُمیدی نے گھیرا ہے آج بھری دوپہر میں اندھیرا ہے آج خدایا ہیں تیرے ہی محتاج ہم رکھ اب دور ہم سے یہ درد و الم الٰہی تو کرلے اب اپنا کرم تجھے آلِ یٰسین کی ہے قسم یہ اُجڑا چمن پھر سے گلزار ہو شفایاب ہر ایک بیمار ہو مسیحی ٰ کوئی بن کے ا

اُو کورونا!

ہے کیسی خطرناک تُو بیماری او کورونا! تڑپے ہے لمحہ لمحہ دنیا ساری او کورونا! اب زندگی کا مقصد کیا رہ گیا ہے باقی سب پر ہی پڑ گئی ہے کیا بھاری، او کورونا! ملنا ملانا اب تو ممکن نہیں کسی سے ہم نے بھلا دی رشتے داری، او کورونا! ہے بوجھ یہ گناہِ انساں کا، اُٹھ نہ پائے جینا اسی لئے تو ہے بھاری، او کورونا! ہاتھوں کو دھوتے رہنا بس کام رہ گیا اب صورت ہوئی ہے ہر اک بیچاری، او کورونا! تجھ کو ہٹائینگے ہم اللہ کی مدد سے سب مل کے اب کرینگے تیاری، او کورونا! مٹ جائے گی تو جڑ سے، ہے سحرؔ کو یقیں یہ تجھ کو نصیب ہوگی بس خواری، او کورونا!   بڈھون، راجوری،جموں وکشمیر

قطعات

راستے میں رہ گیا لشکر یہاں موسموں سے بے خبر رہبر یہاں وقت کا کھاتہ جو کھو بیٹھا سعیدؔ لٹ گیا ہر آن اور اکثر یہاں ۔۔۔ ساتھ میں عمر کی کتاب رکھنا وقت کا سارا حساب رکھنا کیا دیا سعیدؔ زمانے کو سوچ کے اس کا جواب رکھنا ۔۔۔۔ تھی جو اُمید وہ وقت کے ساتھ گئی جیسے سپنوں میں گذر یہ رات گئی اب سجا گھر میں کاغذی پھول سعیدؔ خوشبو، اخلاص، رشتوں کی بات گئی ۔۔۔ نہ رہی اب تو زمانے کو ضرورت میری راس آئی نہیں لوگوں کی محبت میری کیوں بتوں کو ہے چُنا ساتھ سفر میں سعیدؔ بوجھ اوروں کا اُٹھانا ہے تجارت میری   سعید احمد سعیدؔ احمد نگر، سرینگر،کشمیر  موبائل نمبر؛9906355293

کورونا وائرس

کورونا وائرس سے آج سب دنیا پریشان ہے جو سچ پوچھو تو سچ پھر ہے یہی، یہ حکمِ یزاں ہے   بجز حکمِ خدا تو ایک پتّا بھی نہیں ہلتا وبا بھی ہے اُسی کا حکم جو سلطانِ ذیشاں ہے   یہ انساں جب بھٹک کر حد سے باہر ہے نکل جاتا تو نازل قہر اپنا کر ہی دیتا پھر وہ رحمٰں ہے   ’’رہو تنہائی میں تم سب، کرو تسبیح اب میری‘‘ کہاں اس حال میں بھی کر رہا تسبیح انساں ہے   یہ تنہا رہ کے بھی بغض و حسب ہی دل میں رکھے گا کہ اس کا عمر بھر کا مشغلہ یہ کارِ شیطاں ہے   ’’قضا آید طبیب اَبلہ شود‘‘ ہے ایک سچائی ہے عزرائیل جب آتا تو بے بس ہوتا لقماں ہے   کرو سب احتیاطیں بھی خدا کو مت مگر بھولو حیات و موت کا تو فیصلہ کرتا وہ سلطان ہے   کورونا میں بھی اب کوئی ہے

ٹھہر اے وقت!

ٹھہر اے وقت! میں بھی تیرے ساتھ جستجو کی خِلش مٹانے کو بے نشاں راستوں پہ چلتا ہوں   بے تُک سے سفر پہ نکلے ہو یہ نہ معلوم کب تلک، کب سے کون سی سمت میں، کدھر سے، کیوں؟   لمحہ بھر کے لئے تو دم لے لو اتنی جلدی بھی کیا، کہاںجانا؟! تیری راہ، رہ گزر بھی، منزل بھی ہست اور نیست کے منازل سے آگے بھی سینکڑوں مراحل ہیں ٹھہر پل بھر، کہ تیرا ہمراہی بن کے بانٹوں میں تیری تنہائی   اور ہم ایک ساتھ کھوجیں گے بے پناہ واہموں کیوں اور کب؟ تھک بھی جائیں تو غم نہیں، ہم تو نیستی کے لطیف خوابوں میں مثلِ شمع سحر پگھل جائیں   جُھولتی کائینات کے پُل پر رازِ کون و مکاں سمجھنے میں اپنی ناکام جَہدِ لاحاصل کا ہلاہل زہر نگل جائیں ٹھہراے وقت، میں بھی تیرے ساتھ گرتے پڑتے، سنبھلتے چل دونگا می

رَحم کَر

 مرے خامہ ! تو سوچتا کیا ہے اب رحیم اور رحمٰن ہے میرا رب الٰہی رحم کر ہے مشکل گھڑی کہ آفت میں ساری  ہی  دنیا پڑی وبا جس نے پھیلائی وہ میرا رب اکیلا ہمیں چھوڑتا ہے وہ کب یہ دھوپ اور چھاؤں کا سنسار ہے وہ حمد و ثنا کا سزا وار ہے نبی سے محبت خدا کو بھی ہے ہے الفت ہمیں بھی جہاں جو بھی ہے سزا اور جزا کی یہ دنیا نہیں کہیں کچھ ہے زیادہ تو کم ہے کہیں خدا نے جہاں جس کا مرنا لکھا نہیں کوئی مقصد کسے کیا  دکھا جو قانون قدرت پہ راضی رہا خدا کے ہی دیں پہ مرا اور جیا یتیموں،ضعیفوں کا کَس تھا سُنا وہ سوپور والوں کا بس تھا سنا وہ جو چاہتا رہتا عشرت میں بھی  مزے اس کے تھے بس تو مسجد میں ہی  ملی موت ایسی شہادت کی واہ  جئے زندگی وہ صداقت کی واہ انہیں وقت توبہ کا بھی تھا ملا کٹھن

نعت

سبھی کے ہیں شہہِ لولاکؐ مبارک جن کا نامِ پاکؐ   بشارت خیر کی لا ئے محمدؐ شانِ اللہ پاک   فرشتے حیرتوں میں گُم بشر کر پائے کیا ادراک   صداقت اور شجاعت میں نہ کوئی آپؐ سا بے باک   ہوئے سر خم اِسی  در پر یہیں پر چشم کرنمناک    مشتاق مہدیؔ مدینہ کالونی۔مَلہ باغ۔سرینگر موبائل نمبر؛9419072053  

کورونا وائرس

نظم کچھ دن تم نہ باہر جانا ،میرے دادُو، میرے نانا۔ جاؤ بھی تو خالی آنا، بُھولے سے نہ کرونا لانا۔ کچھ دن تم نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاتھ اور پاؤں دھوتے رہنا دُھوپ میں اکثر سوتے رہنا دُور سے ہی اب ہاتھ ہلانا کچھ دن تم نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابوّ امّی بھی گھر بیٹھیں ،سوچیں،سوچیں خُوب وہ سوچیں، کیسے گھر کو خُوب چلانا، کچھ دن تم نہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کروناکیسی تو بیماری؟ ہر گھر میں ہے دہشت طاری تجھ کو ہم نے دُور بھگانا کچھ دن تم نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھول گئے ہیں پڑھنا لکھنا بھول گئے یاروں سے ملنا یاد آتا ہے دور پرانا کچھ دن تم نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بسملؔ آؤ رب کو منائیں دل کی دنیا خوب سجایئں سچّا تو بس ایک ٹھکانا کچھ دن تم نہ باہر جانا۔ میرے دادوُ میرے نانا۔   خورشید بسملؔ تھنہ منڈی راجوری&nb

راہِ نجات

یہ عذاب تُم پہ کیسا  مُجھے آج تو بتا دے تیرے روز و شب ہیں کیسے ذرا آج تو دِکھادے تیری جُستجو ہے گر یہ کہ عذاب ٹل کے جائے تو  خُدا کے در پہ آکے ذرا اپنا سر جُھکا دے  کبھی چھو نہ پاسکیںگی تُجھے اَن سُنی بلائیں  دل آشنائے احمد ؐ صبح و مسا کر ادے   تُجھے راحت و سُکوں کی مل جائیں گی بہاریں یہ نحیف رشتہ رب سے مضبوط تر بنادے تیرے دل کی یہ دُعائیں کبھی رد نہ ہوسکیں گی  اخلاص و عا جزی سے ذرا ہاتھ تو اُٹھادے  تو سہم گیا ہے کیونکر، تُجھے خوف ہے یہ کیسا شب غم میں روحِ مجروح کو قرآن تو سنادے کوئی بچ نہیں سکا ہے، کوئی بچ نہیں سکے گا   مانگ اپنے رب سے آجا ، مولا مُجھے بچادے    گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر موبائل نمبر؛6006081653