تازہ ترین

نعتیں

 نعتِ رسولﷺ  قرآں میں کرکے جا بجا مدحت رسول کی اللّٰہ نے بتا دی فضیلت رسول کی ہم آلِ زہرہ والے رہیں مبتلائے غم کیسے گوارہ کر لے یہ رحمت رسول کی دوزخ کا سن کے تذکرہ آتا ہے یہ خیال کیا ہوتے ہم  جو پاتے نہ امت رسول کی دینا ہی ہوگا خلد میں اے رضواں داخلہ سینے میں رکھتا ہوں میں محبت رسول کی اللہ کی قسم مجھے محشر کا ڈر نہیں کیوں کے وہاں پہ ہوگی زیارت رسول کی اس بڑھیا کو مرض سے شفا ہی نہیں فقط ایماں بھی بخشتی ہے عیادت رسول کی وہ ذات ہے بہت بڑی اور منھ ہے چھوٹا سا کیسے کروں خدایا میں مدحت رسول کی کیا جانے دنیا کے شبِ معراج کس قدر کی ہے خدائے پاک نے عزت رسول کی    ذکی طارق بارہ بنکوی  سعادتگنج،بارہ بنکی،یوپی موبائل نمبر؛7007368108      نعتِ رسولِ مقبول ؐ

نعتیں

نعتِ شریف  ’’رب کے محبوب کی زندگی معجزہ‘‘ شاہِ کونین کی بندگی معجزہ   زندگی معجزہ، بندگی معجزہ ہر عمل معجزہ ، سادگی معجزہ   طائرِ سد رہ کے پر جہاں جل گئے شاہِ معراج کی رفتگی معجزہ   کسریٰ قیصر کے گنبد کاوہ ٹوٹنا آمدِ مصطفیٰ کی گھڑی معجزہ   اک اشارہ کیا چاند بھی شق ہوا ڈوبتے شمس کی واپسی معجزہ   قاب قوسین نزدیک تر دیدنی بے قراروں کی وارفتگی معجزہ    جبیں نازاں لکشمی نگر، نئی دہلی  jabeennazan2015@gmail.com     رسولِ رحمتﷺ تیرے بدولت نبیٔ ؐ رحمت  ملی جہاںمیں ہے ہم  کو عزت ہے نام تیرا، پیام تیرا، ستم کبیدہ دلوں کی راحت بحر ثنا گو، ہےبَر ثنا گو، حجر و سارے شجر ثنا گو ہے بزمِ انجُم یہ چاند&nb

نظمیں

ہمت بولنے اب عطا کر بے زبانوں کو   اے مجید وانی ساکن احمد نگر سرینگر،  جو 31اگست2021کو مرحوم و مغفور ہوئے،  کے غیر مطبوعہ کلام میں سے ایک نظم قارئین کی نذر۔   نہ دیںجو حوصلہ کوئی ،بھلا اُن داستانوں کو  حقیقت میں بدل دے اب ،پرانے اُن فسانوں کو  کریں پیدا دِلوں میں ولوَلہ جو ہم ضعیفوں کے سجالے اپنے ہونٹوں پر ،تُوایسے ہی ترانوں کو  جہاں مجروح ہوتی ہو،خودی تیری اے آدم زاد پلٹ کر بھی کبھی مت دیکھ ایسے آستانوں کو  برق رفتار بن کر تُو،حکومت کر ہوائوں پر قدم اپنے زمین پہ رکھ کے چھُولے آسمانوں کو  بسیرا کر نہیں سکتا ہے شاہیں سبز پیڑوں پر  وہ گھر اپنا بنا لیتا ہے پتھریلی چٹانوں کو  اندھروں میں جلایا ہو،جنہوں نے وہ تیرا مَسکن تُو بجلی بن کے کردے راکھ اُن کے آشیانوں کو

نظمیں

قطعات دل بہلتا ہی نہیں گلزار میں اب نہیں جینے کی چاہ بیمار میں  کُھل گیا ہے زہر سانسوں میںیہاں ضرب دیتا ہے وہ ہر جھنکار میں     نہ ہو دل میں اضطراب کوئی ممکن نہیں تب تک انقلاب کوئی بے خوف باطل سے سوال کرو اس سے بہتر نہیں جواب کوئی   مسکراتا ہے وہ گُل کانٹوں کے بیچ اجنبی جیسے کوئی اپنوں کے بیچ میری باتوں میں نہیں دم  اس لئے زندگی گزری ہے دیوانوں کی بیچ   سعید احمد سعید احمد نگر سرینگر موبائل نمبر؛9906355293         نظم یہ دنیا نصیبوں کا تُم کھیل سمجھو قفس کے پرندو حسیں جیل سمجھو تلاطم کا موجوں کا ہے سیل سمجھو تلازُم کو توڑے گی اک دن یہ دنیا سکوں کی طلب ہے نہ آرام کی ہے مجھے فکر بس اپنے انجام کی ہے مصیبت کی دنیا ، ی

نظم

تجھے ہم‌سفر ملے کوئی میری مُحبتیں جو اُجھاڑ دے مجھے تیرے دل سے نکال دے دل و زندگی تجھے سونپ کر میرا‌ قرضِ عشق‌ اُتار دے تجھے ہم سفر ملے کوئى تجھے‌دل کا سُکوں عطا کرے وہ‌اَصم رہے تو‌ جو خطا کرے میری نفرتوں کے بیج سے‌ تجھے فصلِ عشق عطا کرے تجھے‌ ہم سفر ملے کوئی تیرا انتظار وہ کیا کرے تیرا اعتبار وہ کیا کرے وہ‌ میری طرح نہ ہو خود غرض تجھے‌حِجاب دے نہ حِصار دے تجھے ہم سفر ملے کوئى تمھیں اجازتیں جو دیا کرے تجھے گزارشیں وہ کیا کرے وہ‌ میری طرح نہ ہو بے ادب تیری خوشامدی وہ کیا کرے تجھے ہم سفر ملے‌کوئی جو تیرے لیے بڑا خاص ہو مجھے چھوڑنے کے ترے فیصلے پہ تجھے فخر ہو تجھے ناز ہو تجھے ہم سفر ملے‌کوئى   معصومؔ فرمان مرچال س

نظمیں

باپ باپ وہ عظیم ہستی ہے جو خود روتا ہے پر ہمیں ہنساتا ہے بھوکا رہتا ہے پر ہمیں کھلاتا ہے خود جاگتا ہے پر ہمیں سُلاتا ہے خود دھوپ میں جلتا ہے پر ہمیں چھاؤں میں رکھتا ہے خود کانٹوں میں سوتا ہے پر ہمیں پھولوں پر سُلاتا ہے ہو کِتنا بھی کمزور پر ہمارے لئے ساری دنیا سے لڑجاتا ہے خود کے لئے نمازوں میں دعا کرے یا نہ کرے پر ہمارے لئے ضرور کرتا ہے اپنی خواہشات پوری کرے یا نہ کرے پر ہماری ضرور پوری کرتا ہے خود آگے چل پائے یا نہ چل پائے پر ہمیں اُنگلی پکڑ کر چلنا ضرور سکھاتا ہے خود روٹھتا ہے پھر خُود ہی مان جاتا ہے پر اگر ہم روٹھ جائیں تو پوری دنیا کو منا لیتا ہے یا اللہ ہم سب کے والدین کو سلامت رکھ اور جن کے والدین اس دنیا میں نہیں ہیں  ان کی مغفرت فرما۔ آمین   ماہرہ مشتاق چک پولیس ہائوسنگ کالونی قمرواری سرینگر  

نظم

چمن زیر و زبر کرنے سے پہلے سوچ لینا تم گماں ایسا  اِدھر کرنے سے پہلے سوچ لینا تم  یہ کشتی ڈوب سکتی نے جو نسبت نوح سے ہمکو  تجربۂ جزر کرنے سے پہلے سوچ لینا تم  یہ دُنیا ہے مکافاتِ عمل کا اک دبستاں کہ نشاں بے عیب سر کرنے سے پہلے سوچ لینا تم  زمانے بھر دغا کی اب فضائے بد چلی ہے جو یقیں کَس کے نہ کرنے سے پہلے سوچ لینا تم  خیالِ خوش، خرابہ باغ ہر لمحہ رُلاتا ہے  حذر یاں دور شر کرنے سے پہلے سوچ لینا تم  مکمل پاس اپنے ہو اگر منزل تو رستہ موڑ کوئی نو خواب سر کرنے سے پہلے سوچ لینا تم  تذبذب،مخمصہ اور پھر تھوڑی سی بیقراری  ہو  تو اے بیدل سفر کرنے سے پہلے سوچ لینا تم  نہیں ہوتا سوائے تیغ عالم میں شرف حاصل سُخن ایسا جگر کرنے سے پہلے سوچ لینا تم    محمّد اقبال خ

سیاہ دُھند

کوئی مجھے رستہ دکھائے خدا کے حجرے کا شکایت درج کرنی ہے اک سیاہ دھند کی خیمہ زن ہے جو میرے آس پاس یہ اندھیروں کے بنکر مجھے تک رہے ہیں ان کے روزنوں سےپھوٹتی ہیں چمگاڈروں کی لیزر کرنیں  مجھ میں پھولوں کی وادی ہے میں خوشبو زادہ ہوں اور خوشبو لٹاتا  ہوں چاندنی راتوں میں اوس کے قطرے چُن چُن کر ململی  دھوپ سے گزارتا  ہوں بارش کی بوندوں میں گھول کے پیتا ہوں نئے عطر کے پودے اُگاتا ہوں بارش کی بوندیں جو رم جھم کرتی تھیں شہزادی کے گھنگھرو بجتے تھے دونوں ٹوٹ گئے  کوئی مجھے رستہ دکھائے خدا کے حُجرے کا شکایت درج کرنی ہے اک سیاہ دھند کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!   علی شیدؔا  نجدون نیپورہ اسلام آباد موبائل  نمبر؛9419045087 

نامِ فرحت

مرحبا صد مرحبا صدر مرحبا آپ ہیں شرم و حیاء کےآشیاں   علم و حکمت آگہی کے یہ ہُنر! حضرتِ رحمٰں ہوا ہے مہربان   آہٹوں میں کیا عجب حُسنِ حیا آنکھ بھی اخلاص کی ہے ترجماں   دیکھ کر بے مثلِ اسلوبِ وفا روحِ اطہر فاطمہؓ کی شادماں   جان لیتی ہو حقیقت عجز کی نامِ فرحت دیکھ لو ہے درمیاں   ہے دُعا میری یہی ہر اک پہر آپ کو حاصل ہو رحمت بے کراں   طفیل شفیعؔ سنٹرل لائبریری گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر موبائل نمبر؛9541186172

نعت پاک

کمان و تیر و خنجر اور نہ ہی تلوار کی باتیں میرا اسلام کرتا ہے ہمیشہ پیار  کی باتیں   بڑا بے چین دل ہے بے سکونی اس پہ چھائی ہے سناؤ مجھ کو میرے آقا کے دربار کی باتیں   جہازوں کی کہانی کے بجائے کیجئے ہم سے  شب معراج رف رف کو ملی رفتار کی باتیں    وفا کا تذکرہ جب بھی کبھی ہوتا ہےدنیا میں  نکل پڑتی ہیں آقا کے وہ چاروں یار کی باتیں   گریباں چاک کر ڈالا سبھی جھوٹے خداؤں کا  سنیں جب مکے والوں نے میرے سرکار کی باتیں    ابو بکر و عمر عثمان و حیدر کی زبانوں پر رہا کرتی تھی ہر لمحہ شہہ ابرار کی باتیں   صحائف ہوں کہ قرآں ہو یا کوئی اور کتب "زاہد" لکھی ہیں سب میں بیشک آمد سرکار کی باتیں     محمد زاہد رضا بنارسی دارالعلوم حبیبیہ

نظم

آئو مل کر پیڑ لگائیں     ہم اپنی دھرتی کو سجائیں     دھرتی کا کم ہو گا کٹائو   کم ہو گا جب تیز بہائو  پانی کا تب ہو گا بچائو    دھرتی بھی ہو گی اُپجائو   آندھی طوفاں بھی کم ہو نگے    اور حفاظت میں ہم ہو نگے    آندھی طوفاں تیز ہوائیں   ورنہ اتنا  قہر مچائیں جن سے کبھی ہم بچ نہ پائیں   بہتر ہے یہی رہ اپنائیں آگے پیچھے دائیں بائیں    آئو مل کر پیڑ لگائیں   ہریش کمار منیؔ بھدرواہی جموں،موبائل نمبر؛9906397577  

محرم خصوصی

 مدحتِ اہلِبیتؓ  این و آں کی نہیں عادتِ اہلِبیت ہوتی ہے سب پہ ہی رحمتِ اہلِبیت مجھ کو بھی دے گا رب جنتِ اہلِبیت میرے دل میں بھی ہے اُلفتِ اہلِبیت ساری دنیا کے آلام ہیں اک طرف اور تھی اک طرف کُلفتِ اہلِبیت میرے اعمال نامے میں دوزخ تھا بس وہ تو کام آگئی نسبتِ اہلِبیت ہم سے بھی راضی ہوجاتا پرور دگار کاش کر پاتے ہم خدمتِ اہلِبیت تیرا بھی نام رہ جاتا باقی یذید تو بھی کر لیتا جو منتِ اہلِبیت ذہنِِ انساں کو ممکن نہیں علم یہ رب ہی بس جانے ہے رفعتِ اہلِبیت دل میں جنت کی حسرت ہےجاگی ذکیؔ آؤ آؤ کریں مدحتِ اہلِبیت    ذکی طارق بارہ بنکوی  سعادت گنج،بارہ بنکی،یوپی موبائل نمبر؛7007368108     محرم تاریخ بتاتی ہے یہی شام و سحر کی   تکلیف ، محرم میں بڑھے سوزِ

نظمیں

کون راہ دے گا اب رستہ کوئی دیتا نہیں،ہمت ہے تو چلو ہر سمت میں اک بھیڑ ہے، قوت ہے تو چلو ہیں ناتواں سب لوگ یاں اور کچھ بھی نہیںہے اے جانِ جاں گر تجھ میں کچھ ہمت ہے تو چلو ہے جان بچانا ہی مقدم اس گُھٹن میں گر سانس کچھ لینا ہی غنیمت ہے تو چلو جو کھو گیا ہے راہ میں تو اس پرصبر کر اللہ کی گر اس میں ہی رحمت ہے تو چلو سوئے ہوئے ہیں دن میں تو گھبرائیں بھلا کیوں خوابوں میں غرق رہنا جو فطرت ہے تو چلو رستوں کا پتہ مانگ تُو راہیں تو ملینگی منزل سے دوری گر نہیں زحمت ہے چلو   سید مصطفی احمد حاجی باغ، زینہ کوٹ     ذکرو فکر پلائے مجھے گر مئی سوز و ساز کْھلے گا جہانِ نہفتہ کا راز مکافات میں ہے یہ زنّار پوش فلک سے پکارے نوائے سروش ترے دم سے مٹتے ہیں نقشِ کْہن ہرے تجھ سے ہوتے ہیں اْجڑے چمن ت

گلہائے عقیدت

 آپ کی شہادت اے ابنِ مرتضٰیؓ مہکے آج بھی زمانے میں ذکرِ کربلا مہکے لفظ جگمگائیں تو جامہ فکر کا مہکے ذکرِ آلِ زہرہؓ سے شعری سلسلہ مہکے عزم ، صبر، استقلال اور ارادہ ، قربانی کربلا کے سلطاں کی ایک اک ادا مہکے آسمان پر جیسے چاند ضوفگن ہے وہ اس زمیں پہ ویسے ہی روضہ آپ کا مہکے دیکھا تو بس اک کاغذ پر حسینؓ لکھّا تھا سوچتا تھا کیوں آخر اتنا گھر مرا مہکے مرتضٰیؓکے گلشن کے گل نے دی ہے قربانی اس جہاں میں جو دینِ مصطفٰیﷺ مہکے آسماں کے دامن پر دیکھ تو شفق صورت آج بھی شہیدوں کا خونِ با وفا مہکے کوئی ابنِ حیدرؓکا ذکر کر رہا ہے کیا دیکھو تو ذرا کتنی آج کی فضا مہکے    ذکی طارق بارہ بنکوی  سعادت گنج ، بارہ بنکی،یوپی ، انڈیا موبائل نمبر؛7007368108     حسینؑ زندہ باد رضائے حق

نذرانۂ عقیدت

استاذ گرامی جناب شوکت محمود شوکت کیلئے ’’ اے معلم، اے مدرس مہر پیکر، السلام ‘‘ آپ کا درجہ ہے اونچا اورہے اعلی مقام کتنے ہی ہیرے، جواہر اور تراشے کوہِ نور آپ درسِ آگہی دیتے ہیں یوں ہی صبح و شام  ہیں امینِ علم و حکمت قوم کے معمار آپ آپ کی چشمِ کرم سے ہو گئے کامل،  تمام  بیر رکھنے والے تو محروم ہیں اخلاص سے آپ کی تعلیم تو ہے صرف الفت کا پیام آپ تو بس درس دیتے ہیں وفا کے نام پر نفرتوں سے بالا تر ہے ، آپ کا سارا کلام  آپ سے ہوتے ہیں سارے لوگ ہر پل مستفید  سچ کہوں تو آپ کی تدریس کا ہے فیض عام  بالمقابل باپ ماں کے ، فوقیت ہے آپ کی آپ ہی کے درس سے انجم ؔ ہوئی ہے  شاد کام   فریدہ انجم  پٹنہ سٹی، بہار anjum.fareeda786@gmail.com

نعت رسولؐ

دین سے بڑھ کے اگر تجھ کو جچے گی دنیا آخرت پائے گا تو اور نہ ملے گی دنیا ہٹ کے سرکارِ مدینہ کے اصولوں سے کبھی نہ چلی تھی نہ چلی ہے نہ چلے گی دنیا سنتِ احمدِ مرسل میں اے ڈھلنے والے میرا ایماں ہے تری داسی بنے گی دنیا کھلتے جائیں گے خدائی کے رموز واسرار جب بھی معراج محمدؐ کوپڑھے گی دنیا کب مرا عشقِ نبی ہوگا جنونی مولا کب مجھے شاہ کا دیوانہ کہے گی دنیا میرا ایمان ہے یہ اے مرے آقائے کریم ایک دن آپکی سیرت پہ چلے گی دنیا صرف اک بار درِ آقا پہ ہو آ "زاہد" پھر ترے دل کو کبھی بھا نہ سکے گی دنیا   محمد زاہد رضا بنارسی دارالعلوم حبیبیہ رضویہ گوپی گنج,بھدوہی  

محمد رفیع کی یاد میں

خدائے پاک نے بخشا حسیں انداز کا تحفہ بڑا بے مِثل تھا بے شک  لبِ اعجاز کا تحفہ مچلتا ہے سبھی کا دل ترے نغمات کو سن کر  مِلا رب سے تجھے یوں دلنشین آواز کا تحفہ   مرے دل کو لبھاتا ہے تری آواز کا جادو کہ جس آواز پر پھیکا پڑا ہر ساز کا جادو بہت ہی دلنشیں تیرے سبھی نغمات ہیں بے شک دِلوں پر نقش ہے جن کے حسیں انداز کا جادو   تری آواز قلب و روح کو مخمورکرتی ہے صدائے دل نشیں ہر نفس کو مسرور کرتی ہے  مْغنّی تو زمانے میں بہت آئے گئے لیکن تجھے دنیا سبھی سے خوش گْلو منظور کرتی ہے    محمد مصطفیٰ غزالی  پٹنہ ، موبائل نمبر8409508700, 9798993200    

( نعتِ رسولﷺ)

کیوں نہ اس پہ زندگی اپنی ذکی واری کرے وہ نبی جو سارے ہی نبیوں کی سرداری کرے دیکھو تو آقا سے مولا کیا حسیں یاری کرے ہر پہر اس کے مدینے پر کرم باری کرے قافلہ جاتا ہوا سوئے مدینہ دیکھ کر اے خدا غمگیں بہت مجھ کو یہ ناداری کرے پتھروں کی بارشوں کے بدلے برسائے دعا کوئی سرکارِ مدینہ جیسی سرکاری کرے شکر ہے میں اس نبیٔ پاکؐ کا ہوں اُمتی جو برائے عاصی رب سے گریہ و زاری کرے مرحبا میرا نبی  ہے  ایسا اک گلزار ساز جو کہ چٹانوں پہ بھی تیار پھلواری کرے میرے جیسا ایک عاصی اور نعتِ مصطفٰی دیکھئے کیا کیا کرشمے رحمتِ باری کرے عظمتِ دنیا بھی بخشے اور بہشتِ ناز بھی کون ہے جو میرے آقا جیسی مختاری کرے    ذکی طارق بارہ بنکوی  سعادتگنج،بارہ بنکی،یوپی موبائل نمبر؛7007368108  

نظمیں

لائوڈ تھنکنگ دوستی کی پیدائیش سے لے کر  دوسری سالگرہ تک تمہارا چہرہ,پگھلتا,لرزتا پیشانی کی لکیروں سے ہوکر یاداشت کی گھنی جھاڑیوں میں کھپ چکا ہے۔ میں حاشیے پر کہیں  کسی سیاہ نکتے کی صورت منتظر ہوں منتظر ہوں اس بات کی  کہ کب تم مرکز سے ہٹ کر میرے دل کو اپنی ہتھیلیوں میں لے کر تسکین دوگے میرا مریل سا دل جو راتوں کی بے خواب ہواؤں سے ڈرتا ہے دریاؤں میں نہاتی،بل کھاتی،خُنک ہوائیں زرد خاموشی کو چیر کر وجود سے ٹکراتی ہیں تو ذہن کے کونوں سے جالے ہٹ جاتے ہیں اطراف دھوئیں کی لکیریں بنتی،بگھڑتی ہیں میں اپنی نبض کو ٹٹولتی ہوں۔ تو تمہارے لب بھی ہلتے ہیں تم مجھے میلے،مرجھائے حروف کی خلعت پہناتے ہو۔ یہ خاموش اور سنجیدہ مہربانیاں مجھے گرمی اور حرارت دیتی ہیں۔ جو جذبوں کے لمس سے بھی آگے کی گرمی ہے ی

آہ ! دلیپ کمار

ہے فنا انجام ہر کوئی فنا ہو جائے گا اِک نہ اِک دِن نیند ابدی اوڑھ کر سو جائے گا جو یہاں آیا ہے اُسکو لَوٹ کر جانا بھی ہے گُھوم پِھر کر دُنیا کے میلے میں گھر جانا بھی ہے ادنٰی ہو اعلٰی ہو کوئی حُکمراں ہو یا غُلام موت سے دو چار ہونے ولا ہے ہر خاص و عام آتی جاتی سانسوں کا اِک سِلسِلہ ہے زِندگی تیرتا آبِ رواں پر بُلبُلہ ہے زِندگی زِندگی سب کچھ ہے لیکن زِندگی کچھ بھی نہیں جو ہمیشہ ہی رہے وہ زِندگی مِلتی نہیں آج کل پرسوں کِسی بھی وقت یہ آ سکتی ہے موت تو برحق ہے یہ ٹالی نہیں جا سکتی ہے اِس دیارِ فانی میں کچھ بھی نہیں ہے جاوِداں اِک نہ اِک دِن جانا ہے اُسکو جو آیا ہے یہاں دیکھنے سُننے میں آئی ہر طرف سے یہ خبر آ گیا مُنہ کو کلیجہ کِتنوں کا یہ جانکر کر گئی ہے جانے کِتنوں کو خبر یہ بیقرار زِندگی نے مان لی ہے موت سے آہ !

تازہ ترین