تازہ ترین

نعت رسولؐ

دین سے بڑھ کے اگر تجھ کو جچے گی دنیا آخرت پائے گا تو اور نہ ملے گی دنیا ہٹ کے سرکارِ مدینہ کے اصولوں سے کبھی نہ چلی تھی نہ چلی ہے نہ چلے گی دنیا سنتِ احمدِ مرسل میں اے ڈھلنے والے میرا ایماں ہے تری داسی بنے گی دنیا کھلتے جائیں گے خدائی کے رموز واسرار جب بھی معراج محمدؐ کوپڑھے گی دنیا کب مرا عشقِ نبی ہوگا جنونی مولا کب مجھے شاہ کا دیوانہ کہے گی دنیا میرا ایمان ہے یہ اے مرے آقائے کریم ایک دن آپکی سیرت پہ چلے گی دنیا صرف اک بار درِ آقا پہ ہو آ "زاہد" پھر ترے دل کو کبھی بھا نہ سکے گی دنیا   محمد زاہد رضا بنارسی دارالعلوم حبیبیہ رضویہ گوپی گنج,بھدوہی  

محمد رفیع کی یاد میں

خدائے پاک نے بخشا حسیں انداز کا تحفہ بڑا بے مِثل تھا بے شک  لبِ اعجاز کا تحفہ مچلتا ہے سبھی کا دل ترے نغمات کو سن کر  مِلا رب سے تجھے یوں دلنشین آواز کا تحفہ   مرے دل کو لبھاتا ہے تری آواز کا جادو کہ جس آواز پر پھیکا پڑا ہر ساز کا جادو بہت ہی دلنشیں تیرے سبھی نغمات ہیں بے شک دِلوں پر نقش ہے جن کے حسیں انداز کا جادو   تری آواز قلب و روح کو مخمورکرتی ہے صدائے دل نشیں ہر نفس کو مسرور کرتی ہے  مْغنّی تو زمانے میں بہت آئے گئے لیکن تجھے دنیا سبھی سے خوش گْلو منظور کرتی ہے    محمد مصطفیٰ غزالی  پٹنہ ، موبائل نمبر8409508700, 9798993200    

( نعتِ رسولﷺ)

کیوں نہ اس پہ زندگی اپنی ذکی واری کرے وہ نبی جو سارے ہی نبیوں کی سرداری کرے دیکھو تو آقا سے مولا کیا حسیں یاری کرے ہر پہر اس کے مدینے پر کرم باری کرے قافلہ جاتا ہوا سوئے مدینہ دیکھ کر اے خدا غمگیں بہت مجھ کو یہ ناداری کرے پتھروں کی بارشوں کے بدلے برسائے دعا کوئی سرکارِ مدینہ جیسی سرکاری کرے شکر ہے میں اس نبیٔ پاکؐ کا ہوں اُمتی جو برائے عاصی رب سے گریہ و زاری کرے مرحبا میرا نبی  ہے  ایسا اک گلزار ساز جو کہ چٹانوں پہ بھی تیار پھلواری کرے میرے جیسا ایک عاصی اور نعتِ مصطفٰی دیکھئے کیا کیا کرشمے رحمتِ باری کرے عظمتِ دنیا بھی بخشے اور بہشتِ ناز بھی کون ہے جو میرے آقا جیسی مختاری کرے    ذکی طارق بارہ بنکوی  سعادتگنج،بارہ بنکی،یوپی موبائل نمبر؛7007368108  

نظمیں

لائوڈ تھنکنگ دوستی کی پیدائیش سے لے کر  دوسری سالگرہ تک تمہارا چہرہ,پگھلتا,لرزتا پیشانی کی لکیروں سے ہوکر یاداشت کی گھنی جھاڑیوں میں کھپ چکا ہے۔ میں حاشیے پر کہیں  کسی سیاہ نکتے کی صورت منتظر ہوں منتظر ہوں اس بات کی  کہ کب تم مرکز سے ہٹ کر میرے دل کو اپنی ہتھیلیوں میں لے کر تسکین دوگے میرا مریل سا دل جو راتوں کی بے خواب ہواؤں سے ڈرتا ہے دریاؤں میں نہاتی،بل کھاتی،خُنک ہوائیں زرد خاموشی کو چیر کر وجود سے ٹکراتی ہیں تو ذہن کے کونوں سے جالے ہٹ جاتے ہیں اطراف دھوئیں کی لکیریں بنتی،بگھڑتی ہیں میں اپنی نبض کو ٹٹولتی ہوں۔ تو تمہارے لب بھی ہلتے ہیں تم مجھے میلے،مرجھائے حروف کی خلعت پہناتے ہو۔ یہ خاموش اور سنجیدہ مہربانیاں مجھے گرمی اور حرارت دیتی ہیں۔ جو جذبوں کے لمس سے بھی آگے کی گرمی ہے ی

آہ ! دلیپ کمار

ہے فنا انجام ہر کوئی فنا ہو جائے گا اِک نہ اِک دِن نیند ابدی اوڑھ کر سو جائے گا جو یہاں آیا ہے اُسکو لَوٹ کر جانا بھی ہے گُھوم پِھر کر دُنیا کے میلے میں گھر جانا بھی ہے ادنٰی ہو اعلٰی ہو کوئی حُکمراں ہو یا غُلام موت سے دو چار ہونے ولا ہے ہر خاص و عام آتی جاتی سانسوں کا اِک سِلسِلہ ہے زِندگی تیرتا آبِ رواں پر بُلبُلہ ہے زِندگی زِندگی سب کچھ ہے لیکن زِندگی کچھ بھی نہیں جو ہمیشہ ہی رہے وہ زِندگی مِلتی نہیں آج کل پرسوں کِسی بھی وقت یہ آ سکتی ہے موت تو برحق ہے یہ ٹالی نہیں جا سکتی ہے اِس دیارِ فانی میں کچھ بھی نہیں ہے جاوِداں اِک نہ اِک دِن جانا ہے اُسکو جو آیا ہے یہاں دیکھنے سُننے میں آئی ہر طرف سے یہ خبر آ گیا مُنہ کو کلیجہ کِتنوں کا یہ جانکر کر گئی ہے جانے کِتنوں کو خبر یہ بیقرار زِندگی نے مان لی ہے موت سے آہ !

نظمیں

کاسنی کے پھول کاسنی کے پھول ابھی کھلے نہیں تھے کہ محبت مر گئی موسم وقت کی گڑیا ہے  وقت جسے وقت وقت پہ  بدلتا رہتا ہے   محبت نہیں محبت  دائروں سے باہر ہے صحرا میں پڑی کسی گمشدہ مسافر کے  حوادث کی پوٹلی جیسی شیلا مندر کی آخری سیڑھی پہ رک کر کہا کرتی تھی دیکھ بھیّا۔۔۔محبت امر ہے تب ماہی میری طرف دیکھ کے پلکوں سے آرتی اتارتی تھی شیلا کا سندور چھن گیا  دکھ اور درد کے خوفناک جنگل میں میں اور ماہی کسی عجیب موسم میں آگرے  دائروں کے بیچ حادثہ آ ٹپکا ماہی اور میرا موسم کئی حصوں میں بٹ گیا شیلا وقت کی دھند میں کھو گئی تپتی دوپہر کی دھوپ میں پگھل گئی پہلگام کی وادیوں میں برفیلے بابا کی طرح پگڈنڈی کے دوسرے سرے کی اور ہم تنہا ہوتے گئے لمس چھوٹنے لگے کاسنی کے پھول ابھی ک

نعت شریف

تضمین بر اشعار خمارؔ بارہ بنکوی یوں تصور میں مدینہ کی گلی اچھی لگی وہ سکوں پرور بہارِ زندگی اچھی لگی جو بھی گزری ہے وہاں وہ ہر گھڑی اچھی لگی صبح بھی اچھی لگی اور شام بھی اچھی لگی مجھ کو سوتے جاگتے یادِ نبی ؐ اچھی لگی مجھ سا آثم اور بیانِ سیرتِ خیرالوریؐ آپؐ ہیں شمس الضحیٰ بدرالدجیٰ نور الہدیٰ مدحِ لولاکِؐ لما صل علیٰ صل علیٰ خود تو فاقہ کُش مگر کونین کے حاجت روا رحمت اللعالمین کی مفلسی اچھی لگی اللہ اللہ آپ کے رحم و کرم کا سلسلہ  بالیقین جو کچھ ملا وہ آپ کے در سے ملا غلبۂ حسنِ تصور اس قدر بڑھنے لگا کہتے کہتے یا خدا میں یا نبی ؐ کہنے لگا میرے رب کو یہ میری دیوانگی اچھی لگی آپ کی سیرت کے ہیں تاریخ میں وہ معجزے اہلِ فہم اہلِ نظر انگشت بدنداں رہے معجزے ایسے کہ جس کے غیر بھی قائل ہوئے چانددو ٹکڑے ہوا مٹھی

قطعات

ہجومِ زندگی سے شاد ہو کر چلا ہوں گھر کو  میں برباد ہو کر حقیقت آنی اور فانی ہماری ہوئے برباد ہم آباد ہو کر °°°° مری تقدیر کو کر دے تُو روشن تخٔیل میں مرے بھر دے تُو روشن ترے شمس و قمر اور چاند سُورج رگ و پے کو مرے کردے تُو روشن °°°° نہ سوچو کتنے ہی ہیں عیب میرے بھروسہ تُجھ پہ ہے اے غیب میرے مدینے سے کوئی پیغام لائے مٹا کے آئیں ہیں لاریب میرے °°°° ابھی سے گردشِ پیہم پڑا ہوں کہ بھٹکی راہ میں جیسے کھڑا ہوں کوئی بھی پوچھنے والا نہیں ہے یہی حالت ہے، افسردہ پڑا ہوں   یاور حبیب ڈار  بڈکوٹ ہندوارہ طالبِ علم,شعبہء اردو کشمیر یونی ورسٹی سری نگر موبائل نمبر؛ 6005929160      

نعت رسول مقبول ﷺ

رب نے ایسی بنائی ہے ذات آپ کی ملکیت ہے شہا کائنات آپ کی اس پہ شاہد احادیث و قرآن ہیں بات رب کی ہے سرکار بات آپ کی صدق دل سے پڑھیں مصطفے پر درود ختم ہو جائیں گی مشکلات آپ کی اُن کی الفت بسائے رہیں قلب میں ہوگی ایمان پر ہی وفات آپ کی رکھیے گا لب پہ نغمات صل علیٰ ٹوٹے جس دم طنابِ حیات آپ کی نعت ہو ہی نہیں سکتی مجھ سے رقم ہو نہ جب تک شہا التفات آپ کی ان کی مدحت کیے جائیں شارق ؔرضا اس کے صدقے میں ہوگی نجات آپ کی   سید شارقؔ خالدی  شاہجہاں پوری اُتر پردیش موبائل نمبر؛9450684815  

مفتی فیض الوحید صاحب کی یادمیں

وہ صاحب ِکتاب    وہ علم کاآفتاب وہ حلم کامہتاب   آبروئے قلم کی تاب  جس سے فیضیاب تھی بزمِ زمانہ  ہائے ظالم قضانے وہ بنالیااپنانشانہ    اب قرآن ویساکون سُنائے گا پتھردِلوں کوپھرکون رولائے گا انسانوں کوانسانیت کون سکھائے گا آخرت کے ہُوبہُومناظرکون دکھائے گا   چلا گیا وہ مردِ صالح اپنے دیارسے  نکاتِ دین اب سمجھائے گاکون پیارسے جس نے کوہستانوں میں چراغِ ہدایت جلائے  بھٹکے ہوئے قافلوں کوراستے دکھائے    جس کی کاوشوں سے بے عِلم سُوئے عِلم آئے  مدہوش جوپڑتے تھے ہوش میں آئے    آہ! وہ مفتی جوواقف تھارازِہستی سے سفرآخرت پرنکل گیااپنی بستی سے    نواب دین کسانہ  اُودہمپور،جموں،موبائل نمبر؛94191-66320

نظمیں

سُن اے بنتِ حوا  سُن اے بنتِ حوا  تو ہے کتنی ناداں  کہ ریت پر بناتی  ہے آشیاں  یہ ابنِ آدم بُنتا ہے  جال لفظوں کا  اور تو لے آتی ہے ایماں  تو ہے کتنی ناداں    سُن اے بنتِ حوا  تو جسے سمجھتی ہے فرشتہ  ہوسکتا ہے وہ ہو کوئی درندہ  قدم قدم پر درندگی یہاں  قدم قدم پر یہاں بہروپیے  ملتے ہیں  جو نئی نئی چال یہاں  چلتے ہیں  سُن اے بنتِ حوا  نہ لفظوں کے سحر میں مبتلا ہونا  نہ اپنوں کا کبھی تم بھروسہ کھونا    سُن اے بنتِ حوا  کچھ لوگ تجھے  جنت کی حور کہیں گے کچھ تو تجھے دل کا  سرور کہیں گے کچھ تو تیری چشم کو  چشمِ غزال کہیں گے  اور کچھ لوگ تجھے&n

نظمیں

حجرے میں گُم ہجوم کئی دنوں سے یہ سوچتا ہوں کہ سوچنا ہی نہیں ہے کافی ذرا میں دیکھوں ہے جتنا سوچا کہ اس میں کتنی حقیقتیں ہیں فسانے کتنے مجاز کتنا فضول کتنا مگر یہ ممکن نہیں ہے شاید میں کس سے پوچھوں  کہاں پہ ڈھونڈوں کہاں کریدوں کہاں سے جھانکوں یہاں ہے زخموں کی دھوپ گم سُم وہاں پہ گردِ ملال بکھری جہاں بھی شاخِ گلاب رکھی صبا کی سانسیں فضاء کا آنچل تقدسوں کی مہک اُٹھائے وہاں تو ہر شب  دیا ہے جلتا مزارِ سوسن کے گل بدن پر کشیدہ رنگِ کفن میں لپٹا اذیتوں کا ہے حبسِ ہجراں سیاہ سوچوں کا دُکھتا حجرہ  گُھٹن گُھٹن سے بھرا پڑا ہے ہجومِ غم ہے کہ روزنوں میں  تمام دُکھ ہے میں کس کو سوچوں  کہ سوچنا ہی نہیں ہے کافی کئی دنوں سے میں سوچتا ہوں۔۔۔   علی شیدؔا  &nbs

نعتیں

نعتِ شریف غم آئیں تو آنے دو ہم ڈرتے نہیں غم سے لَو ہم نے لگائی ہے سرکارِ دُوعالم ؐسے   کیا پیاس بُجھے اپنی ساگر ہیں سبھی کھارے اِک بوند کا طالب ہوں اُس وادیٔ شبنم سے   پرواز خیالوں نے، ہردِل نے نظر پائی کیا کیا نہ ملا ہمکو اُس حُسنِ مجسم سے   ہم کو بھی بُلا لیجئے اِک بار حضوری میں ناراض ہیں کیوں آقا کیا بُھول ہوئی ہم سے   ہم کو تو سرِ محشر بس اک سہارا ہے رہ آپ کی دیکھیں گے ہم دِیدئہ پُرنم میں   یہ شعر ہیں پنچھیؔ کے گلدستہ عقیدت کا نہلایا ہے پھولوں کو جذبات کی شبنم سے   سردار پنچھیؔ جیٹھی نگر، مالیر کوٹلہ روڑ کھنہ پنجاب موبائل نمبر؛9417091668   نبی ہماراﷺ  بُلندوبالاہے سب سے اعلیٰ نبیؐ ہمارا نبی ؐ ہمارا  خُدائے رحمٰں کا ہے دُلارا نبیؐ ہمارا

نظمیں

جال سپنے بنتے بنتے  جانے کب بن بیٹھی تھی میں  اپنے لئے اک جال  وقت نے شاید چلی تھی چال  جس نے کیا مجھکو بے حال  پریت کا کب بن بیٹھی میں  ایک ریشمی جال  کچھ پتا ہی نا چلا  کب ہوش گنوائے کب ہوئ بے حال کچھ پتا ہی نہ چلا جب حیات ہوئی بے تال اور جینا ہوا محال تب دکھ کا دیکھا جال تقدیر نے چل دی چال سب روگ لئے تھے پال ہر پل بنا جنجال یہ کیسا آیا کال کچھ پتا ہی نہ چلا   جسپال کور نئی دلی، انڈیا موبائل نمبر؛09891861497   کیا کبھی دَورِ خزاں آیا نہیں؟ وقت آخر پاس کوئی مہرباں آیا نہیں جائے مرگھٹ تک نظر اُس کا نِشاں آیا نہیں چلو غیروں نے دیا کاندھا مگر کہتے ہوئے کیا ہُوا کیونکر فلاں اِبنِ فلاں آیا نہیں جیتے جی اُلفت جتانا گو

دعا

ہے محبوب رب کو ادا مغفرت کی  قرینے سے مانگو دعا مغفرت کی  گناہوں میں ڈوبے الہی بہت ہیں  کرم کی نگہ ہو عطا مغفرت کی  بکثرت سوم ماہِ رمضاں کےعشرے  کرو رات دن التجا مغفرت کی  سیاہ دل ہوا ہے گناہوں سے یارب عطا ہو ذرا اب دوا مغفرت کی  مدینے کی پُر نور گلیوں میں مرنا مقدر میں لکھ دے فضا مغفرت کی کبھی ہاتھ خالی پلٹ کے نہ آیا ترے در پہ جو دے صدا مغفرت کی   کوئی آس عارفؔ کو باقی نہیں ہے  الٰہی تمہارے سوا مغفرت کی    جاوید عارف شوپیان کشمیر  موبائل نمبر;؛7006800298  

بدر کا میداں

چلے آجاؤ بتلاؤں گا تُم کو بدر کا میداں کہ اس بے مثل نُصرت کے ہے پیچھے رازکیا پنہاں ہُوا جو حُکم احمدؐ تو  یکایک آگئے سارے بسا اس قدر تھا اُن ؐکے دلوں میں جذبۂ ایماں ہُوئے رُخصت مدینہ سے رسولِ پاک ؐکے ہمراہ صحابہؐ تین سو تیرہ کہ جن پہ عرش ہے نازاں عزائم دیکھ کر اُن کے ہوئی حیرت ہے قُدرت کو اُنہی کی یاد میں نازل ہوا ہے  سورۂ قُرآں اُدھر بوجہل ، عُتبہ اور شیبہِ کبر میں سرمست اِدھر ذکرِ الٰہی میں محو تھے صاحبِ فُرقاں  سکینت ہوگئی نازل، فرشتے بن گئے حامی فلک سے اور برسایا خُدا نے رحمتِ باراں اُسی دن مل  گئے  چودہ نفوسِ پاکؐ رحمٰں سے خدا کے چاہنے والوں کا ہوتا ہے یہی ارماں فضائیں نعرۂ تکبیر سے جوں بدر کی گونجی پرستارِ ہُبل اور لات یکسر ہوگئے حیراں   طُفیل ؔ شفیع طالب علم گورنمنٹ میڈی

منقبت

منقبت در شان عظمت ورفعت ام المومنین زوجہ سرکار، راحت سرکار، حضور سرور کائنات جناب محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بنت یار غار حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ  طیبہ و طاہرہ سیدہ عائشہؓ زوجہ مصطفیٰؐ سیدہ عائشہؓ زاہدہ و عابدہ سیدہ عائشہؓ  چاہتِ مصطفیٰؐ سیدہ عائشہؓ نقش مہر و وفا سیدہ عائشہؓ نازِ صدق و صفا سیدہ عائشہؓ   جان صدیق اکبرؓکی ہیں بے گماں کون ہے باپ سا سیدہ عائشہؓ ہے بڑا مرتبہ اور مقام آپ کا آپ ہیں صادقہ سیدہ عائشہؓ راویہ آپ سچی حدیثوں کی ہیں  کون ہے آپ سا سیدہ عائشہؓ بنت صدیقؓ آرامِ جان نبیؐ خلق کی انتہا سیدہ عائشہؓ جانِ ارشد نثار آپ کے وصف پر صابرہ شاکرہ سیدہ عائشہؓ   محمد ارشد خان رضوی فیروزآبادی  

نعتِ رسولِ مقبولؐ

نورِ حق نورِ ہدایت نورِ عرفاں آپؐ ہیں سارے گم گشتہ دلوں کا دین وایماں آپؐ ہیں آپ کا ہمسر جہاں میں کوئی بھی انساں نہیں جس کا رب العالمین ہے خود ثنا خواں آپؐ ہیں آپ جیسا رہنما کوئی نہیں پیدا ہوا جان بھی کردے فدا جس پر مسلماں آپؐ ہیں آپ نے دنیا کو دکھلایا ہے سیدھا راستہ امت مرحومہ پر جس کا ہے احساں آپؐ ہیں حضرت صدّیق کو کافی ہے بس اُن کا رسول ان کے دین ودنیا کا سارا ہی ساماں آپؐ ہیں میرا حامی اور ناصر ہے خدائے ذو الجلال میرا ہادی اور رہبر ہے جو انساں آپؐ ہیں آپ کی مدح وثنا کے ہیں طریقے بے شمار شمسؔ جس کی ذات ہے تفسیر قرآں آپؐ ہیں   ڈاکٹر شمس کمال انجم صدر شعبۂ عربی باباغلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری موبائل نمبر؛9086180380  

کـورونا

ہوگئی مسموم یارب کیسی یہ آب و ہوا چار سو پھیلا گئی کیسی کرونا کی وبا آرہا ہے اس کی زد میں دھیرے دھیرے یہ جہاں زد میں سارے لوگ ہیں بچے کیا پیروجواں جس بشر پر بھی کرونا کی ہوئی جب بھی پکڑ ابتدا سردی کھانسی کا ہے دِکھلاتا اثر سانس کی تکلیف کا انسان ہوتا ہے شکار سر سے پا تک آدمی پر زور دِکھلاتا بخار اس مرض سے آدمی جو بھی ہوا دو چار ہے زندگی پیرانہ سالوں کی ہوئی دشوار ہے اس سے بچنے کے معالج نے بتائے احتیاط آدمی سے آدمی کا کم سے کم ہو ارتباط چاہئے کرنا سینٹائزر کا اکثر استعمال باہری آب و ہوا سے بچنے کا ہووے خیال بھیڑ سے بچ کر ہر انسان کو چلنا چاہئے ماسک چہرے پر لگا کر ہی نکلنا چاہئے ہے یہ لازم تو بھی عادلؔ کر سدا ہی احتیاط ہے اگر بچنا مرض سے مضبوط کر انضباط   ڈاکٹر نصیر احمد عادل رابطہ؛کمہرولی،کمتول،

تجھ کو تیرا واسطہ میرے خدا

اے خدا میرے خدا میرے خدا دور کر دے یہ بلا میرے خدا کر دے منزل آشنا میرے خدا کھو گیا ہے راستہ میرے خدا رحم فرما اس وبا کی وجہ سے چھن گیا جینا مرا میرے خدا اس مرض کے جتنے بھی بیمار ہیں بخش دے سب کو شفا میرے خدا در گزر کر دے خطائیں میری  سب تجھ کو تیرا واسطہ میرے خدا کیا کرے وہ جس کا جیون آسرا اس وبا نے لے لیا میرے خدا میں بہت کمزور ہوں کیسے کروں مشکلوں کا سامنا میرے خدا موت منظر ہو چلی اس دنیا کو کر دے پھر ہستی نما میرے خدا   ذکی طارق بارہ بنکوی بارہ بنکی۔ یوپی، موبائل نمبر؛7007368108  

تازہ ترین