تازہ ترین

ماہِ رمضان

  رحمتوں کا، برکتوں کا ہے مہینہ ماہِ رمضان بندگی اور حاجتوں کا ہے مہینہ ماہِ رمضان خوابِ غفلت چور کرنے آ گیا ہےماہِ رمضان ہر گنہ سے دور کر نے آ گیا ہے ماہِ رمضان ہر گنہ سے پاک ہے ماہِ مبارک ماہِ رمضان ہر طرح بے باک ہے ماہِ  مبارک ماہِ رمضان رحمتوں کا ہے مہینہ اور عبادت کا مہینہ اپنے رب سے لو لگانے اور سخاوت کا مہینہ میرے مولیٰ نے عطا کر جو دیا ہے ماہِ رمضان ہر بلا سے دور رہنے کو ملا ہے ماہِ رمضان ہو مبارک چار سو میں رونقیں،پھیلی ہوئی ہیں  ہو مبارک رحمتیں اور برکتیں ،پھیلی ہوئی ہیں    یاور حبیب بڈکوٹ راجوار، ہندوارہ موبائل نمبر؛ 6005929160  

قطعات

لوگوں نے مجھ کو دوست کا درجہ نہیں دیا کی دشمنوں سے بھی وفا رتبہ نہیں دیا گُم کردیا ہے جن کو مایا جال نے سعیدؔ اُن شاہوں نے کسی کو سہارا نہیں دیا ۔۔۔   دل کی دنیا میری آباد ہے برباد نہیں کسرتِ غم ہے میرے پاس میں ناشاد نہیں جیتے جی اُمیدِ شفا کیسے کروں میں طبیب میرے ناسورِ محبت کی دوا ایجاد نہیں ۔۔۔۔   پلکوں پہ آنسوئوں کا سیلاب رکھتا ہوں اُداسی کو اسی طرح میں شاداب رکھتا ہوں عمر ساری کاٹ لی ہے بے حساب سعیدؔ وقتِ آخر لمحوں کا حساب رکھتا ہوں   سعید احمد سعیدؔ احمد نگر، سرینگر موبائل نمبر؛9906355293      

ڈگری کالج بھدرواہ کے نام

کس قدر نم ہے مری آنکھ تجھے پانے پر اور یہ دل تو مچلتا ہی چلا جاتا ہے تیری جانب کو لپکتے ہوئے خوش رو چہرے اس یقیں سے کہ انہیں تجھ سے سکوں حاصل ہو ان کو امید ہے اس تری عطا کردی سے کہ یہ سب لوٹ کے مایوس نہیں جائیں گے دیکھتا بھی ہے کوئی رب کی عطائیں ، کہ نہیں کس طرح اس نے تجھے علم کا زیور بخشا ہو بیاں کیسے کہ یہ تیرے حسیں کوزہ گر کس طرح خاک سے انسان بنا لیتے ہیں جس جگہ طفلِ جہاں تھک کے ٹھہر جاتے ہوں یہ وہاں اک نیا امکان بنا لیتے ہیں کتنے دلکش ہیں ترے باغ میں کھلتے ہوئے پھول جیسے بدلی سے کوئی چاند نکل آتا ہے کیا کہوں کیسی ملائم ہے ترے لان کی گھاس دل مچلتا ہوا اک پل میں بہل جاتا ہے یہ ترے صحن میں سالوں سے کھڑا ایک چنار تیرے بچوں کی نگاہوں کو سکوں دینے کو سبز ہوتا ہے ، کبھی سرخ ہوا جاتا ہے چار جانب سے پہاڑوں کی قطار

تازہ ترین