تازہ ترین

’’نونہالانِ کاشمیر کے نام‘‘

ن و ن ہ ا ل ا ن ک ا ش م ے ر ک ے ن ا م نہ ہوتا موجدِ عالم تو ہوتے ہم کہاں بچّو وہ واحد ہے، نہیں اُس کا شریکِ شکل کوئی بھی  نفاست اُس کی بالا ہے بلند اس کی خیالی ہے ہُوا اُس کے بدولت ہے ظہورِ دو جہاں۔ مانو! ازل سے تا ابد اس کی عنایت ہم پہ ہے جاری مزہ آتا جو جیتے جی اسے گر دیکھ لیتے ہم سکون و امن اور راحت پلٹ کر آپ آتی پھر نگہ میں اس کی رہتی ہے جہانوں کی جہاں بانی کوئی جب کِشت کشیپ کی جہاں میں بات کرتا ہے اُبھرتا اس کی آنکھوں میں یہی کشمیر ہے یکتا شباہت شان و شوکت اور شہرت دیکھ کر اس کی مرا دامن یقینا یوں بہ قدرِ شوق بھر جائے یہ جنت میرے بچّو کیوں ہمیں از خود کھٹکتی ہے ربابِ زیست کی تانیں یہاں مغموم ہیں کیونکر کہا کرتی فضائیں اب جہاں کے دوربینوں سے