نظمیں

آزاد کلام  یونس کی مچھلی کی قسّم  اک امتحاں تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایوب کے کیڑوں کی قسم  اک امتحاں تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ امتحاں تھا جس کو سب نے دیکھ لیا  احمد ﷺ کے ایذا کی قسم  اک امتحاں تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو صبر سے بھی کام لیا ۔۔جیت گیا  چپکے چپکے اشک پیا ۔۔جیت گیا  مسجد میں ضربت کی قسم  اک امتحاں تھا ۔۔۔۔۔۔۔ مولاعلی کے سجدے کی قسم۔۔۔۔  اک امتحاں تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یوسف کی جدائی تھی ایک کوہِ گِراں یعقوب کی آنکھوں کی قسّم  اک امتحاں تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ آیا تھا اک فرمان پسر ذبِِحَ کرو ۔ براہیم کی عظمت کی قسّم  اک امتحاں تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اکبر جواں کی لاش۔۔اٹھاتے تھے حسین  کربل کی گرمی کی قسّم  اک امتحاں تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اک امتحاں سے آج بھی آدم کا گزر ۔۔۔۔ حو

نظمیں

یہ دورِچل چلائوہےاظہار کیاکریں رودِ سُخن میں بہائو ہے اظہار کیا کریں اس میں ہی رواں نائو ہے اظہار کیا کریں آتی یہی آواز ہے اب قلبِ دروں سے سوچوں میں اِک تنائو ہے اظہار کیا کریں سُنتا ہی کون آجکل ہے داغؔ و میرؔ کو یہ بھی جِگر پہ گھائو ہے اظہار کیا کریں ہے عصر میں اب خوب تر متشاعروں کی مانگ یہ نسلِ نَو کا چائو ہے اظہار کیا کریں جب ہو طنابِ وقت ہی دستِ فقیر میں ہوتا پھِر ایک بھائو ہے اظہار کیا کریں حیران ہم ہیں دیکھ کر یہ حُسنِ اِنتخاب بونوں کے ہاتھ دائو ہے اظہار کیا کریں ہوکارِ زرگری جو آہن گر کے ہاتھ میں پھر ڈوبتی سی نائو ہے اظہار کیا کریں کامت جنہیں نصیب ہے ایوانِ سُخن میں اُن کا ہی کچھ نہ بھائو ہے اظہار کیا کریں بربادیوں کا دور ہے بامِ عروج پر تہذیب کا ٹھہرائو ہے اظہار کیا کریں شہرِ سُخن شناس میں شعراء سے

نعت

میرے آقا جدھر جدھر سے گئے راستے وہ سنور سنور سے گئے   ان کے اصحاب ان کے قدموں میں  پھول بن کر بکھر بکھر سے گئے   آئی جس جس گلی سے بوئے نبیؐ عرش والے اِدھراُدھر سے گئے   یہ شریعت ہے ہوش میں رہنا جانے کتنے اگر مگر سے گئے   ذکرِ حسنینؓ لب پہ آتے ہی چہرے سب کے نکھر نکھر سے گئے   نام لیتے ہی ابن زہرا کا منھ عدو کے اُتر اُتر سے گئے   بن کے سردارِ انبیاء ؐکے غلام ہم بھی زاہد ؔسنور سنور سے گئے   محمد زاہد رضا بنارسی دارالعلوم حبیبیہ رضویہ  گوپی گنج، بھدوہی۔یوپی۔انڈیا  

نظمیں

’’لکھے گا وقت کا مورخ ‘‘ تیری قدرت تو ہے پنہاں، فلک کے چاند تاروں میں عیاں عظمت تو ہے تیری زمیں کے سب نظاروں میں   ہیں طالب تیری رحمت کے، تیرے دربار میں آکر کھڑے ہیںسامنے تیرے، ترے بندے قطاروں میں   یہ بِن چَرواہے کا ریوڑ، چَلا یُوں جارہا جیسے نکل کر وہ چمن سے، آگیا ہو ریگزاروں میں   دَبے نیچے چٹانوں کے ہیں نالے بیگناہوں کے چُھپی چھینٹیں لہو کی ہیں یہاں کے آبشاروں میں   جو برسوں سے ہوئے ہیں لاپتہ اپنے گھروں سے وہ  نہیں معلوم زندہ ہیں کہ سوئے ہیں مزاروں میں   صفوں میں اپنی ہیں موجود ابھی کچھ کالی بھیڑیں جو سدھائیں اپنے الّو کو اِشاروں ہی اِشاروں میں   اگر اَب بھی قیادت میں ہماری یُوں رہی دوری لکھے گا وقت کا مورخ، انہیں بھی اشتہاروں میں  

آہ!شاہبازؔ راجوروی

پیری میں ہو وفات یا ہو عالمِ شباب میں گُزرے حیاتِ ہر بشر اِسی پیچ و تاب میں قبلہ عرشؔ و حامدیؔ ہم سے تو بِچھڑ گئے کِس کو گُماں تھا راحتؔ بھی گُزرے گا شِتاب میں اب دفعتاً شاہبازؔ بھی رحلت سے چار ہوگئے مطلق نہیں یہ بات تھی خیال اور خواب میں اے وائے اجل تم سے تو ہم نہ لوہا لے سکے رہتا نہیں ٹھہرائو کبھی موجۂ سحاب میں دِل چاک ہوا اور ہے آتش کدہ جِگر مرا اب سانس میری ڈوب گئی ہے بُوئے تراب میں بزمِ جہاں کو چھوڑ کر کشتِ فِداؔ کا لعل بھی بہ رنگِ شفق چھپ گیا ہے کیسے اضطراب میں مشہور شخصیت تھی تِری ایک معلم کے طور  تم نے حیات صرف کی اسی کارِ ثواب میں خطۂ پنچال میں دانشوری کا شمس تھا کُنجِ لحد میں محو ہے اب اپنے حِساب میں کتنے گِنوں میں آپ کے اوصافِ حمیدہ یہاں تو گوہرِ نایاب تھا اُردو زباں کے باب میں جو کچھ لِکھا شہبا

موت سے التجا ۔۔

میں اپنی گنہگار جوانی کو سدھاروں  اے موت پلٹ جا ایمالِ نیک سے ذرا قسمت کو نکھاروں  اے موت پلٹ جا بیتی ہے گناہوں میں سدا میری جوانی صبحِ مسا ہوئی نہ مجھ سے اشک فشانی اک بار بھی سوچا نہ کہ ہر چیز ہے فانی قرطاسِ زیست پر نہ چڑھی نیک کہانی دل میں ذرا یہ آج تو احساس اُتاروں اے موت پلٹ جا میں اپنی گنہگار جوانی کو سدھاروں  اے موت پلٹ جا دن رات جا کے کرنی ہے ماں باپ کی خدمت نیت ہو کھری میری  گندی نہ ہو فطرت کرنی ہے ترک مجھ کو اب جھوٹ کی عادت محنت کے پسینے کی بس پاک ہے دولت بگِڑی میری دنیا کو پہلے میں سنواروں اے موت پلٹ جا میں اپنی گنہ گار جوانی کو سدُھاروں  اے موت پلٹ جا آئیں نہ میرے ذہن میں نا پاک خیالات گونجیں نہ میرے دل میں عُریاں سے سوالات  رہ رہ کے میں پچتاؤں ایسے نہ ہو

حمد پاک

کاشف کو اپنی نعمتیں پروردگار دے دل میں نبی ؐکے عشق کی دولت اُتار دے   تیرے نبی ؐ کی مجھکو زیارت نصیب ہو وہ لمحۂ حسین مجھے پُر بہار دے   مخمور میری آنکھیں ہوں عرفانِ ذات سے معبود میرے ایسی ہی لیل و نہار دے   حمد و ثنا کے پھول اُگاتا ہی میں رہوں گلزارِ فکر کو میری تازہ بہار دے   اے رب ذوالجلال بفیض رسول پاکؐ اک اپنا خوف دل کو مرے بھی اُدھار دے   تاعمر سیدھی راہ پہ مجھکو چلا، خدا اپنے ہی نیک بندوں کا مجھ میں شعار دے   اظفر کاشفؔ پوکھریروی  ڈائریکٹر حامدی ایجوکیشنل ٹرسٹ  سیتامڑھی بہار  

ہاتھ اپنے ہی مل گیا سورج

 شب کے ہاتھوں پھسل گیا سورج سحر ہوتے ہی کھِل گیا سورج کتنی رونق ہے گھر کے آنگن میں پھول پتوں سے گھُل گیا سورج دشت و صحرا کو روشنی دے کر ساری ظلمت مسل گیا سورج صبح دوپہر اور پھر سہ پہر رفتہ رفتہ پھِر ڈھل گیا سورج عُمر انساں کی بھی عین ایسی ہے موت آئی تو جل گیا سورج زندہ لاشوں کو دیکھ کر عُشاقؔ ہاتھ اپنے ہی مل گیا سورج   عُشّاق ؔکِشتواڑی صدر انجُمن ترقٔی اُردو (ہند) شاخ کِشتواڑ موبائل نمبر:  9697524469

رات ہوتی ہے

دل سے کہو کہ سو جائے  رات ہوتی ہے عشق کے تھے چار دن عشق نے وہ کاٹ لئے زندگی بھی چار دن زندگی نہ ہو جائے  رات ہوتی ہے دل کا  دھڑکنا، کیا کروں خود سے جھگڑنا، کیا کروں یہ تیرا بگڑنا، کیا کروں  کس سے کہوں کہ سو جائے رات ہوتی ہے کیا کیا کہا جو کہہ لیا یہ اپنا جنوں جو سہہ لیا دل سے اک دریا بہہ لیا کوئی دوا تو ہو جائے رات ہوتی ہے   شہزادہ فیصل منظور ڈوگری پورہ پلوامہ موبائل نمبر؛ 8492838989    

دُعا

مولیٰ تُو کرلے سبھوں پہ کرم مٹیں ساری دنیا سے رنجم و الم   ہے سجدے میں سر اور زباں پہ دُعا مولیٰ میں طالب ہوں رکھنابھرم   نیا سال آیا کورونا کے بیچ ہمیں بس ضرورت ہے تیرا کرم   وہ ملنا ملانا ہو پھر سے شروع سجے دل کی محفل، ہوں جذبے گرم   کسی سے نہ ہو کوئی پھرسے جدا سحرؔ کو بھی رکھنا تو خوش و خرم   ثمینہ سحر ؔمرزا بھڈون راجوری

نظمیں

سالِ نو مُتفرقات آ گیا ہے پھِر سے عُشاقؔ سالِ نو لے کے آئے گا یہ اپنا حالِ نو آنے والے کل سے ہم محرم نہیں کیسی ہوگی اس کی آگے تالِ نو ��� سالِ نو سے اب یہی اُمید ہے یہ کہ رکھے گا ہمیں مستِ خرام شاعری کے شوق کو ہم چھوڑ کر زندگی باقی گزاریں زیرِ بام ��� لاکھ بہتر ہے کہ اب سو جائیں ہم خوابِ شیریں میں کہیں کھو جائیں ہم زندگی ہے خود بخود پُلِ صراط اس سے بھی دو چار تو ہو جائیں ہم   عُشّاق ؔکِشتواڑی صدر انجُمن ترقٔی اُردو (ہند) شاخ کِشتواڑ موبائل نمبر؛ 9697524469     آرزو سورج کی  کتنی لمبی سیاہ رات ہے یہ اب تو کچھ بھی دکھائی دیتا نہیں نیند آنکھوں میں جاگتی ہے مگر خواب کوئی دکھائی دیتا نہیں ذراسی دیر کو اترا تھا چاند دھرتی پر مگر وہ جھیل کے

نعت

تمنا ہے مدینے میں بھی جائوں وہاں کی نوری بارش میں نہائوں   کرو ذکرِ نبیؐ اے اہلِ محفل میں ہونٹوں کو درودوں سے سجائوں   مجھے اَزبر ہو عشقِ مصطفےٰؐ یوں کہ اُس کے آگے سب کچھ بُھول جائوں   مجھے کب ہو گا دیدارِ مدینہ خدایا دل کو میں کب تک منائوں   میں کیسے چھوڑ دوں دربارِ آقاء میں کیونکر ٹھوکریں در در کی کھائوں   نظر میں رکھ کے کردارِ صحابہ سلیقہ جینے کا خود کو سکھائوں   پِروکر سنتیں اپنے عمل میں اے زاہدؔ زندگی اپنی بنائوں   محمد زاہد رضاؔ بنارسی دارالعلوم حبیبیہ رضویہ گوپی گنج،  بھدوہی۔یوپی 9451439786

نظمیں

اُلجھن حوصلوں نے دم توڑا سانس لینا بھی مشکل ہے کوئی یہ بتائے کہ لوگ درد کہاں چْھپاتے ہے اب زندگی سے کیا شکوہ سب کچھ تو بکھرا پڑا ہے ظالم تُو بس رکنا مت ابھی مجھ میں زندگی باقی ہے چھین لو وہ سانسیں پھر سے جو مجھ میں ابھی باقی ہیں اْف نہ کروں گا میں کبھی جان میری تو حاضر ہے جدا کر دے روح میری جو جسم میں میرے قید ہے   سید عامر شریف قادری کاپرن شوپیان موبائل نمبر؛9797535210 aamirsharief45@gmail.com     کوئی مسیحا آئے کیوں بے بس تو ہے انسان تیرا، شکوہِ زبان پہ لائے کیوں واقف ہے تُو ہر حال سے، کوئی تجھے بتائے کیوں ہر آتی جاتی سانس بھی، قبضے میں ہو جِس ذات کے پھر سامنے اُس ذات کے، بندہ نہ سر جُھکائے کیوں ہر ایک رُروح مجروح ہے، چھلنی ہے ہر جگر یہاں گہرے ہمارے گھاؤ ہ

نظمیں

کیا کمالِ غضب  سُخن کے ساگر میں دُر نایاب ہیں سُخن کو پانے کے لئے بیتاب ہیں ایک مُدّت سے ہیں سب محوِ تلاش کیا غضب کے اِن کے دیکھو خواب ہیں سعیِ کامل کی بدولت دیکھئے ہیں یہی مہرِ سُخن مہتاب ہیں اِن میں کوئی ہے نہیں اب تشنہ کام مست سب پی کر مئے نایاب ہیں ان میں شامل جو بھی ہیں پامالِ شوق چل رہے وہ جانبِ گرداب ہیں خواب میں اُن کو نظر آتا ہے طور کیا خیال خام اُن کے خواب ہیں سُخنِِ کم تَر کو کہاں ہوگا نصیب خواب اُس کے عارضی محراب ہیں اس پہ دعویٰ ہے کہ ہم شہباز ہیں یہ تو عُشاقؔ مصنوعی سُرخاب ہیں   عُشّاق ؔکِشتواڑی صدر انجُمن ترقٔی اُردو (ہند) شاخ کِشتواڑ موبائل نمبر؛ 969752446      الوداع اے سال 2020 الوداع اے سال سالِ یاد

کوڑے دان

اونچے اونچے محلوں میں رہنے والے اے اونچے لوگو  آپ نے کھانا کھایا کیا؟ لو! میں بھی پاگل ٹھہرا جو یہ آپ کو آکے پوچھ رہا ہے آپ نے تو کب کا مزے سے کھایا ہوگا کیسا ہوتا ہے یہ آپ کا شاہی کھانا؟ خوب مزہ آتا ہوگا نا کھاتے کھاتے اس میں شامل طرح طرح کے پکوان ہوا کرتے ہونگے نا؟ دودھ، دہی، تندوری مرغا، مٹن پلاؤ، رستے، گوشتابے، کورما،شورما ، تری ، ترکاری، نان کھٹائی ، پھل و مٹھائی سب شامل ہوتے ہونگے نا؟ خیر! مجھے پڑوسی ہونے کے ناطے نہیں پوچھو گے تم نے کھانا کھایا ہے؟ نہیں پوچھتے آپ کبھی بھی آپ نہیں مانو گے لیکن میں بھی آپ کا ہمسایہ ہوں میں بھی آپ کے ساتھ اسی بستی میں ہی رہتا ہوں سنو! وہ جو چوک کے بیچوں بیچ بڑا پُل ہے نا جسکے پاس میونسپلٹی کے بڑے بڑے وہ کوڑے دان لگے رہتے ہیں اکثر جن میں آپ کی بستی کا سب

نظمیں

سُخن کا پمپوش نہیں مَیں بیٹھا کبھی جہان میں خاموش نہیں مَیں دیتا ہوں خود کو اس لئے ہی دوش نہیں مَیں کرنے کو یوں تو کر گیا کارِ حیات سب قلب حزیں کو دے سکا سنتوش نہیں مَیں پیتا ہوں روز عرق میں دیوانِ داغؔ کا لیکن ہنوز تشنہ ہوں، مدہوش نہیں مَیں رہتا ہوں غرق رات دن اپنے خیال میں میخوار گو ہوں رندِ بلا نوش نہیں مَیں ہنگامہ ہائے زیست کے آتش کدے میں دوست شعلوں سے ہم کنار ہوں روپوش نہیں مَیں یاں صحبتِ آزادؔ و عابدؔ ہوئی نصیب صد حیف مگر ان کا ابھی ہم دوش نہیں مَیں پھِر بھی کئے دیوان در دیوان مرتّب عُشاقؔ سُخن کا بھلے پمپوش نہیں مَیں   عشاق کشتواڑی کشتواڑ، حال (جموں)موبائل نمبر؛9697524469      اجنبی رات   رات پگھلتی رہی تيری آغوش ميں،  سرد آہوں ميں تُم ميرا  &nb

نعتِ رسولﷺ

خوشبوؤں میں بسو دوستو نعتِ آقا پڑھو دوستو سنّتوں کے مطابق ہووہ کام جو بھی کرو دوستو بھرلو سینوں میں دردِ نبی اور ہنستے رہو دوستو رکھ کے وردِ زباں یاعلی آفتوں سے بچو دوستو آج دل مضطرب ہے بہت ذکرِ طیبہ کرو دوستو کامیابی اگر چاہئے سنتوں میں ڈھلو دوستو بھر چکا ہے زمانے سے دل اب مدینے چلو دوستو عشقِ احمد میں ہوکر فنا پھول بن کر کِھلو دوستو   محمد زاہد رضابنارسی دارالعلوم حبیبہ رضویہ گوپی گنج،  بھدوہی۔یوپی۔بھارت  

نظمیں

چار دن بے سبب میرا مر جانا چار دن بے سبب ہے اُبھر آنا  چار دن   سن لیا اک ہا اور ہو خاموشیوں سے گفتگو پھر زندگی کا دستِ رفو  ہر اک شئے سے مکر جانا چار دن   خود سے بھی ڈر کے دیکھ لیا اور مر جانا مر کے دیکھ لیا کیا کیا نہ کر کے دیکھ لیا بے سبب ہی سدھر جانا چار دن   کچھ تو اے منزلِ بے نشاں مجھ پہ بھی کرم کا امتحاں کوئی سراب ہی تو مہرباں  بے سبب ہی ادھر جانا چار دن   شہزادہ فیصل ڈوگری پورہ، پلوامہ موبائل نمبر؛8492838989     آگے رواں دواں  شیطان بن چکا ہے اب پاسباں ہمارا ہم رازداں ہیں اُس کے، وہ رازداں ہمارا   ہر سوچ ہے شیطانی، ہر دِل میں بے ایمانی  آگے رواں دواں ہے یوں کارواں ہمارا  

نظمیں

نظم   خواب تو خواب ہیں زاغ بیٹھے ہیں سینہ تانے یہاں کائیں کائیں بھی ان کی چاروں طرف ساراجنگل ہی دسترس میں ہے اور قوت کہ چونچ میں ان کی ہم کہ  بے گانہ سب جہانوں سے ایک دیمک زدہ سی شاخ پہ ہے آشیاں جانے کس زمانے کا   دل میں لہراتا اک شکستہ سوال پیڑ پودوں پہ سبز پتوں کی جانے کب وہ بہار آئے گی آرزووں میں جس کی جیتے ہیں   خواب تو خواب ہیں علاج کہاں؟ گر نہ ہوگی کدال ہاتھوں میں سبزہ دیوار پر نہیں ہوگا  !!   احمد کلیم فیض پوری گرین پارک ، بھساول موبائل نمبر؛8208111109           ہارون کی ایک شام سُرمئی شام کے دُھندلکے میں اَبر پارے فضا میں بِکھرے ہیں مست بُوندیں ہوا کے شانوں پر ایسے رقصاں ہیں جیسے پی لی ہ

نظمیں

گمشدہ پڑاؤ ۔۔۔ دہلیز سے اترنے کی دیر تھی پگڈنڈی نے دامن پکڑ لیا  عشق کی کچی ڈگر تک لے آئی خوبصورت کچی ڈگر  دونوں اطراف کاسنی پھولوں کی رنگت  خوشبؤں کی معصومیت  کچی ڈگر کے معدوم آخری سرے تک کا لایعنی احساس پختہ سڑک تک کھینچتا لے آیا  دھوپ کی تمازت سے سنگ مرمر  سا بدن پگھلنے لگا آرزؤں کی تتلیاں اُڑان بھرنے لگیں  وصل کےبھونرے ہوش کھو بیٹھے  میں خود سے بچھڑتا گیا فنا کی وادیوں سے گزرتا ہوا نکلا  آدمیت کے دشت میں خاک اُڑاتے ہوئے ہجر کے موسم کی زردیاں  سمیٹے   فرشتوں کے جزیرے پہ آکے ٹھہر گیا ایک رومی چھایا سے مدھ بھرے گیت کے حروفِ ناز کی شبنمی بوندیں ٹپکی  خرقہ ء تبریزی سے دستِ گماں نکلا  اور

تازہ ترین