حمد پاک

کاشف کو اپنی نعمتیں پروردگار دے دل میں نبی ؐکے عشق کی دولت اُتار دے   تیرے نبی ؐ کی مجھکو زیارت نصیب ہو وہ لمحۂ حسین مجھے پُر بہار دے   مخمور میری آنکھیں ہوں عرفانِ ذات سے معبود میرے ایسی ہی لیل و نہار دے   حمد و ثنا کے پھول اُگاتا ہی میں رہوں گلزارِ فکر کو میری تازہ بہار دے   اے رب ذوالجلال بفیض رسول پاکؐ اک اپنا خوف دل کو مرے بھی اُدھار دے   تاعمر سیدھی راہ پہ مجھکو چلا، خدا اپنے ہی نیک بندوں کا مجھ میں شعار دے   اظفر کاشفؔ پوکھریروی  ڈائریکٹر حامدی ایجوکیشنل ٹرسٹ  سیتامڑھی بہار  

ہاتھ اپنے ہی مل گیا سورج

 شب کے ہاتھوں پھسل گیا سورج سحر ہوتے ہی کھِل گیا سورج کتنی رونق ہے گھر کے آنگن میں پھول پتوں سے گھُل گیا سورج دشت و صحرا کو روشنی دے کر ساری ظلمت مسل گیا سورج صبح دوپہر اور پھر سہ پہر رفتہ رفتہ پھِر ڈھل گیا سورج عُمر انساں کی بھی عین ایسی ہے موت آئی تو جل گیا سورج زندہ لاشوں کو دیکھ کر عُشاقؔ ہاتھ اپنے ہی مل گیا سورج   عُشّاق ؔکِشتواڑی صدر انجُمن ترقٔی اُردو (ہند) شاخ کِشتواڑ موبائل نمبر:  9697524469

تازہ ترین