ابدیت کا گیت

تم جو ہنستی ہو تو میرے آنگن کے خاموش پیڑ پہ دھوپ کِھکھلانے اُترتی ہے دھوپ۔۔ جو ابدیت کے گاؤں میں خود بخود اُگتی رہتی ہے  ہر موسم میں ، وقت کی کیاریوں سے باہر  ابدیت کا گاؤں کالے جزیرے پہ وقت سے پہلے بسایا ہوا ہے کالا جزیرہ، جو اَن گِنت خاموشیوں سے تعمیر شدہ ہے۔۔۔۔ تم جو ہنستی ہو تو مرے آنگن کے پیڑ پہ بادل رقص کرنے اُترتے ہیں سفید روئی میں ملبوس پریوں کی طرح  سارے رنگوں کے غبارے پھوڑ  کے بادل۔۔جو گاؤں کے تالاب میں اکثر نہاتے رہتے ہیں برف کی پہلی تہہ میں چُھپے گالے بدن پہ رگڑتے ہیں برف کی پہلی تہہ،جس پر کبھی کوئی موسم نہیں آتا ہے  بادل ابدیت کے سمندر سے اُڑان بھرتے ہیں مدوجزر کے اُڑن کھٹولے پر۔۔۔۔۔ تم جو ہنستی ہو تو مرے آنگن کے پیڑ پہ بارشیں بھیگنے چلی آتی ہیں دکھ سکھ کے شعلوں سے

تازہ ترین