دوست یہ ٹھیک نہیں ہے

کسی کے منہ پہ تعریف کا اظہار پیٹھ پیچھے نفرت کی یلغار دوست یہ ٹھیک نہیں ہے پھول سمجھ کر بچپن مہکایا کانٹوں سے تجھے بچایا والدین  ہیں میٹھا شاہجار شادی کے ساتھ ہی فرار دوست یہ ٹھیک نہیں ہے بڑے لوگوں کی کریں خوش آمد دوست کو دکھائیں  ہمدردی بھائی مفلس و لاچار رشتے ناطے سے انکار دوست یہ ٹھیک نہیں ہے سماج سدھار کا ہو جب کام    ہوجائے ایک دم گمنام سیاست کے موسم میں ہر دم ہر پل بے قرار دوست یہ ٹھیک نہیں ہے رہن سہن اور تعمیر اچھی ہے یہ تدبیر کپڑے لائیں سوسوبار   اورکتاب سے انکار   دوست یہ ٹھیک نہیں ہے   ڈاکٹر ریاض توحیدی    وڈی پورہ ہندوارہ کشمیر193221 موبائل نمبر؛9906834877  

بھگائینگے ہم

فرض اپنا یہ پہلے نبھائیں گے ہم گھر سے باہر گلی میں نہ جائینگے ہم   پھر کروناؔ جو آئے اُسے آنے دو خوب مل جُل کے اُسکے بھگائینگے ہم   لاکھ بہتر ہے گھر کے ہی اندر رہیں بیٹھے بیٹھے ہی رَب کو منائینگے ہم   جنکو کچھ بھی پتہ ہے نہیں دوستو! بات حق کی انہیں پھر بتائینگے ہم   کوئی کھانسی یا ریشے کا بیمار ہو جلد سے ڈاکٹر کو دکھائینگے ہم   فرض عُشاقؔ اپنا نبھائینگے ہم اِس ’’کورونا‘‘ کو ہند سے بھگائینگے ہم   عُشاق کشتواڑی کشتواڑ، حال جموں موبائل نمبر؛9697524469  

آؤ کہ بھول جاتے ہیں

آؤ کہ بھول جاتے ہیں  چْبھ گئے ہیں جو  باتوں کے نشتر  دل پر لگے ہیں جو  زہر میں ڈوبے خنجر    آؤ کہ بھول جاتے ہیں  رنجشیں  نفرتیں  عداوتیں   آؤ کہ کِھلاتے ہیں  چاہتوں کے گلاب  پڑھتے ہیں مل کر  محبتوں کا نصاب    آؤ کہ مل کر  تفسیرِ وفا  آیاتِ محبت پڑھتے ہیں  آؤ کہ پڑھ کر تسبیح پیار کی  ہم دم کرتے ہیں    شمیمہ صدیق شمی  شوپیان کشمیر  

قطعات

کرن اُمید کی فکر و نظر میں اسی کی روشنی قلب و بصر میں نظامِ زندگی قائم ہے اس سے اسی کا حوصلہ دل میں جگر میں   شفق روتی ہے خُوں تو شامِ غم ہے شبِ تاریک رُخصت صُبحدم ہے سحر ہی جب ہے انجامِ شبستاں تو پھر مایوس کیوںیہ چشمِ نم ہے   اسی عُقدہ میں ہے عقدہ کُشائی کلی کِھل کر یہی پیغام لائی نہ گھبرانا تو اے دل مشکلوں سے صبح ہو ہی گئی جب رات آئی   دلِ غم ہے اور جشمِ پُرنم پریشاں حالیوں کا دَور ہردم خدا جانے کہ اب کیا حالِ دل ہو نہاں جس میں ہیں لاکھوں درد اور غم    موبائل نمبر؛7006606571

کووِڈ

آبھی جا! اب ضبط میرا آزمانےکے لئے ایک میٹر دور سے دل کو لگانے کے لئے کوئی بھی موقع عمل کا پیش تو ہوگا نہیں پھر بھی آ، ناکام عاشق کو ستانے کے لئے  دہنِ غنچہ، بینیٔ شمشیر ماسک میں سہی مُجھ کو کافی ہیں مرے مِژگاں لُبھانے کے لئے  مرمریں ہاتھوں پہ دستانے چڑھے تو غم نہیں ساعدِ سیمیں تو ہیں باقی دِکھانے کے لئے  چشمِ نرگس ہاتھ سے چُھونا ہدایت میں نہیں یہ بھی کیا کم ہے ملیں، نظریں ملانے کے لئے  گرکیا کووڈ نے اپنے بس میں اب بوس وکنار تُو اجازت لے کے آجا مُسکرانے کے لئے  بُھول جاعیش و طرب اور وصل کے شام و سحر  آئو وائرس کے دِنوں، آنسو بہانے کے لئے    یوسف نیرنگؔ توی وہار، جموں موبائل نمبر؛9419105051

نعتِ رسولِ مقبولؐ(فارسی)

خُدا وندا نہ سُلطانم نہ گنجِ بے بہادارم ولے شادم کہ لاثانی رسول و رہنما دارم   بہ ہرصورت، بہ ہر موسم، سکونِ قلب می دارم کہ من پیہم نگہ برنقشِ پائے مصطفےٰ دارم   بصد اخلاص وشفقت اے یزیدِ وقت می گویم مسلمانم، پس و پیشِ نظر نورُالہُدیٰ دارم   بِیا صحرا نوردی ترک کُن، بامن بہ راحت زِی مثالِ مہرِ تاباں اسوئہ خیر الوریٰ دارم   بشر ہستم و دارم دامن از عصیان آلودہ ولے بہرِ شفاعت منبعٔ جُود و سَخا دارم   بِروں از روز و شب انظرؔ بِروں اِیں ظلمت غم کُن بِگو نازم کہ بہرِ زیستن شمس الضحیٰ دارم   منظوم اردو ترجمہ   کوئی حاکم ہوں نہ گنجِ بے بہار رکھتا ہوں میں خاص لیکن اِک رسولؐ و رہنما رکھتا ہوں میں   اطمینانِ دل میّسر ہ

نعت پاک

تضمیں بر اشعارِ شری چاند بہاری لال صباؔ جے پوری   تمہیں ہو نورِ اول کا ستارا یارسول اللہؐ تمہیں ظلمت میں ہو روشن مُنارا یا رسول اللہؐ ہے تم سے جلوئہ حق آشکارا یا رسول اللہؐ   ’’نہ پہلے تھا کوئی ثانی تمہارا یا رسول اللہ نہ اب ہوگا کوئی تُم سا دوبارا یا رسول اللہ‘‘   زہے قسمت تمارا سرورِ دنیا و دیں ہونا نہ تُم سامہ جبیں ہونا نہ تم سادل نشیں ہونا یہ ثابت کررہا ہے رحمتہ اللعالمینؐ ہونا   ’’خدا کا وہ نہیں ہوتا، خدا اُس کا نہیں ہوتا جِسے آتا نہیں ہونا تمہارا یا رسول اللہ‘‘   بشیر آثمؔ ہے اور حدِ نظر عصیاں کا دفتر ہے حواس افسردہ، سر پر آگ، دل مایوس و مضطر ہے ہجومِ یاس میں لب پر مرے نامِ پیغمبرؐ ہے   ’’خدا حافظ، خداناصر سہ

خیر اُلبشرﷺ

مُصطفیٰؐ کی دُعا کا اثر دیکھ لو آگئے دوڑ کر ہیں عمرؓ دیکھ لو خالقِ دو جہاں محوِ ذکرِ امیں اِس پہر، اُس پہر، ہرپہر دیکھ لو اُسکی طاعت میںسربستہ رب کی رضا قُربتِ وضُحٰیؐ کا ثمر دیکھ لو  پرتوئے حُسنِ یٰسؐ کے ا نوار سے نورتاباں یہ ماہ و مہر دیکھ لو  شہرِ مکہ میں ہر د م ستائے گئے گُل بداماں ہیں شقُ القمرؐ دیکھ لو تیرگی سے اُجالوں میں لائے گئے اہلِ طائف کے سنگ دل مگر دیکھ لو  عرش پہ ہیں مُلاقی خدا سے ہوئے فرش پہ وہ کھجوروں کا گھر دیکھ لو خونِ اطہر بہایا ہے دیں کے لئے جاکے اُحد و بدر کی سحر دیکھ لو اُمّتی کے لئے رب کے دربار میں اَشک اَفشاں ہیں خیرُالبشرؐ دیکھ لو   طُفیل شفیع گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر موبائل نمبر؛6006081653

کورونا

کیوں نہ تقدیر اپنی سنوارینگے ہم ایسی تصویر پھر سے اُتارینگے ہم ہم ہیں ہندوستانی ہمیں ناز ہے ایسا خاکہ زمین پہ اُبھارینگے ہم مرض چل کر جو آیا یہاں چین سے ایسے رستوں سے اسکو گذارینگے ہم اسکی صورت کا نقشہ بدل جائیگا کھال اس طور اُسکی اُتارینگے ہم بھول بیٹھے گااپنے یہ نقش و نگار ضرب ایسی کچھ اسکو لگائینگے ہم نقش اسکے مٹیں گے سبھی آپ ہی ایسا جادو اُسے کر دکھائنگے ہم جب بھی لیگا جنم یہ یہاں پہ کہیں ایسے ’’راون‘‘ کو اس جاہی مارینگے ہم ہم نے دنیا میں ہر شے کو ہے مات دی کیا کرونا سے عشاقؔ ہارینگے ہم   عُشاقؔ کشتواڑی کشتواڑ، حال جموں موبائل نمبر؛9697524469  

ماہِ صیّام جا رہا ہے

ہم سب پہ کرکے لاکھوں احسان جارہا ہے افسوس پاک ماہِ رمضان جارہا ہے   تڑپا کے ہم سبھی کو رمضان جا رہا ہے اللہ کے کرم کا عنوان جارہا ہے   ہردن تھا جس کا رحمت اور مغفرت کا حامل وہ برکت افشاں ماہِ ذیشان جارہا ہے   بن کر خدا کی نعمت آیا تھا جو مہینہ ہم سب کا کرکے بیدار ایمان جارہا ہے   اس کے ہی صدقے سر پر ٹوپی کا تاج آیا  دے کر یہ ہم کو دینی پہچان جارہا ہے   اس کیہی دم سے گھر میں اعمال کی تھی رونق اب کرکے یہ سبھی کچھ ویران جارہا ہے   اللہ کے کرم سےرمضان کا مہینہ  ہم کو نواز کر کے قرآن جارہا ہے   آ تے ہی اس کے سارا ماحول?اتی جی اٹھا تھا اب کر کے یہ فضا کو بے جا ن جا رہا ہے   للہ روک لیجے للہ روک لیجے رمضان جا رہا ہے رمضان جا رہا ہے  

رمضان سپیشل

نعتِ رسولؐ ہم عشقِ نبیؐدل میں بسانے میں لگے ہیں فردوس میں گھر اپنا بنانے میں لگے ہیں   اعمال کو سنت کی ضیاء کرکے عطا ہم نام و نشاں ظلمت کا مٹانے میں لگے ہیں   ہم عاشقِ سرکارِؐمدینہ ہیں زمانے خود مٹ گئے ہم کو جو مٹانے میں لگے ہیں   کردار تو دیکھو ذرا اصحابِ نبیؐ کا خود بھو کے ہیں اوروں کو کھلانے میں لگے ہیں   گردانِ دروُد اپنے لبوں پر نہیں یونہی ہم خود کو جہنم سے بچانے میں لگے ہیں   یہ مرتبہ یہ شان یہ اعزازِ محمدؐ سب اہلِ فلک ناز اُٹھانے میں لگے ہیں   خلوت ہو کہ جلوت ہو پئے اُمتِ عاصی رب کو مرے سرکارؐ منانے میں لگے ہیں   ذکی طارق بارہ بنکوی سعادتگنج۔بارہ بنکی،یوپی۔بھارت موبائل نمبر؛7007368108   مرحبا اے ماہ رمضان ! توکہ تاباں، تجھ پہ نازاں ح

وائرس کا پیغام

ایک پیغام انسان کے نام  وائرس نے کہا یہ انسان سے   تم مجھ سے واقف ہو ہی نہیں  میں چھوٹی سی اک ادنیٰ سی  مخلوق ِ خدا ہوں نازک سی  ہے حکم خدا کی پابندی  لازم مجھ پر ارزاں سے ہی  اور حکم خدا سے  ہی اٹلی  میرے قہر سے زیر ہوئی اتنی  میں چین سے لے کر ایران کی  یورپ کی بھی میں نے سیرکری    امیریکا ا ور اسپین پہ بھی  میں نے دہشت ایسی طاری کی  محصور ہوے سب گھر میں ہی سب طفل و جواں اور بوڑھے بھی  کیوں مجھ پر اے انسان پڑی  ساری دنیا کو اک مار پڑی ہے اس کے پیچھے اتنی سی  اک بات چھپی بڑی پیاری سی  دنیا میں تجھے بڑی فکر رہی  بس شان سے زندہ رہنے کی  اور کمزوروں کی آپ بیتی  تیرے دھیان سے ہٹتی ہی رہی

رباعیات

آسان ہے گر تم یہ سمجھ جائو بات ہر گز بھی نہیں کھائو گے دشمن سے مات اس ذات سے وابسطہ کر اُمیدیں سب جو رات کو کرتی ہے دن، دن کو رات   عالم جو ہیں ان سب پر احسانِ رب رہبر بھیجے پڑی ضرورت  جب جب پر آقاؐ کی خاص ہے کتنی آمد بھی اُن ؐکی رحمت کے سائے میں شامل سب   چِھن جائے گا سر سے تیرے امبر دیکھ سولی پر لٹکائیں گے تو دے سر دیکھ سچ کہنا دشوارہے کتنا !!!جانے گا اس رہ پر چل کر تو بھی کھا ٹھوکر دیکھ   عارضؔ ارشاد سرینگر، کشمیر موبائل نمبر؛7006003386

رحمتِ کُل

 تقاضائے دل ہے پھر نعمت کہئے پئے نعت قرآن کی آیات کہئے محمدؐؐ محمدؐ محمدؐ محمدؐ  یہی دل کے تاروں پہ نغمات کہئے ہے گیسوئے مشکیں کی توصیف کرنی تو پھر لیلۃ القدر کی بات کہئے سحر کا یہ آغاز، نورانی کرنیں انہیں روئے زیبا کی برسات کہئے حقیقت ہے سب میرے آقاؐ پہ روشن بھلا تابہ کے غم کے حالات کہئے درود اُنؐ پہ پیہم، سلام ان پہ پیہم یہی قلبِ بیخود کی سوغات کہئے غرض یہ کہ اُمت ہے بیحد پریشاں کہاں تک سہیں اب یہ صدمات کہئے ابھی تک سلامت ہے ایمان آقاؐ یہ بس آپؐ ہی کی عنایات کہئے ہے آثمؔ یہی رحمتِ ؐ کُل یقیناً انہیںکے حضور اپنے حالات کہئے   بشیر آشمؔ باغبان پورہ، لعل بازار سرینگر موبائل نمبر؛9627860787     میرے نبی کے لئے وجودِ عرض و سماں ہے میرے نبیؐ کے لئے نظامِ ک

شہ لولاکؐ پیارا مسکن

اے نظارو چلو ایسا کرلیں  میں تمہیں روضۂ اطہر کے روبرو کرلوں میری مت مانناخود ہی یہ فیصلہ کرنا تم حسیں ہو کہ شہ لولاکؐکا پیارا مسکن   اے بہارو ذرا یہ رونقیں اٹھا لاؤ اور لاؤ یہ ابھرتا ہوا نازک جوبن آؤ! آکے میرے محبوبؐ کے آنگن بیٹھو اور خود دیکھ کردنیا سے برملا کہہ دو تم جواں ہو کہ شہ لولاکؐ کا پیارا مسکن   اے گْلابو درا خوشبو نچوڑو کھلتی کلیوں کا رس بھی اس میں گھولو اب ذرا خاک مدینے کی چھو لو اور محسوس کرکے سارے زمانے سے یہ کہہ تم مہکتے ہو کہ شہ لولاکؐکا پیارا مسکن   اے ستارو ذرا کچھ دیر زمیں پر اْترو چاندنی رات کے ہمراہ اب کے آپ اور ہم  چلو چلتے ہیں جانبِ طیبہ وہیں جاکے یہ سِرّعیاں ہوگا تم دمکتے ہو کہ شہ لولاکؐکا پیارا مسکن   آفاق دلنوی دلنہ بارہمولہ کش

ماہِ رحمت

مغفرت، اُنس و اخوت کا مہینہ آگیا چاند اُفق پہ ماہِ رحمت کا ہے دیکھو چھاگیا   یاد کرنے  تازہ آیا عظمتِ قرآن کو یہ کوثر و تسنیم کی نہروں کا پانی لاگیا   حق اَدائی کرگیا جو قلب سے اس ماہ کی  وہ کلید ِ بابِ رضواں کی ضمانت پاگیا    جس نے پہلو میں یتٰمیٰ کے کیا افطار ہے شجرِ اَلفردوس کے باغوں کا میوہ کھاگیا   جو رموزِ عظمتِ قرآن سے آگاہ ہُوا خواہشاتِ نفس کے اصنام سارے ڈھاگیا   طُفیلؔ شفیع گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر،موبائل نمبر؛6006081653   

وہ آئے گا

دْلہن بنی بیٹھی ہوں، نہ جانے بارات کب لائے گا دلہن بنی بیٹھی ہوں ناجانے بارات کب لائے گا اس نے کہا تھا وہ آئے گا سَکھیو! جاو دیکھو کہیں دروازہ نہ کھٹکھٹا رہا ہو ورنہ کہے گا،وہ پھر نا آئے گا۔ اس نے کہا تھا وہ آئے گا سنو یوں کھڑے کھڑے مذاق نہ اْڑاو  وہ میرا دل کبھی نہیں دُکھائے گا اس نے کہا تھا وہ آئے گا جاو آج سب راستے پھولوں سے سجا دو کانٹوں سے کہنا ذرا سنبھل کر رہنا وہ مجھے لینے ضرور آئے گا اس نے کہا تھا وہ آئے گا آج دیپ جلائو ،جگنو کوبلائو،اندھیروں سے ڈرتا ہے نا  وہ کیسے آئے گا   اس نے کہا تھا وہ آئے گا  تم دیکھنا،تم دیکھنا مجھے لے جائے گا ،سینے سے لگائے گا اور تم سب کو جلائے گا  اس نے کہا تھا وہ آئے گا                  &nbs

نکل آئے غم سے یہ سارا جہاں

  الٰہی ترا گھر ہے سُونا پڑا ہے روٹھے ہوئے ہم سے آلِ عبا ہوئی ہم سے جانے یہ کیسی خطا ہے گھیرے ہوئے ہم کو کیسی بلا ہے جس کا نہ مرہم نہ کوئی دواء اُسی غم میں سارے ہوئے مبتلاء ہے خائف اب انسان انسان سے لرزتا ہے ہر کوئی مہمان سے بنائی ہے دوری جو ایمان سے نہیںفیض پاتے ہیں قرآن سے زمانے پہ چھائی ہیں خاموشیاں ہیں ڈسنے لگی اب یہ تنہائیاں ہیں نغمہ سرا اب نہ بلبل کہیں مزاروں پہ کھلتے نہ سنبل کہیں چمن میں مہکتا نہیں کوئی گُل مداوا دلوں کا ہے بس چار قُل!! ہمیں نااُمیدی نے گھیرا ہے آج بھری دوپہر میں اندھیرا ہے آج خدایا ہیں تیرے ہی محتاج ہم رکھ اب دور ہم سے یہ درد و الم الٰہی تو کرلے اب اپنا کرم تجھے آلِ یٰسین کی ہے قسم یہ اُجڑا چمن پھر سے گلزار ہو شفایاب ہر ایک بیمار ہو مسیحی ٰ کوئی بن کے ا

اُو کورونا!

ہے کیسی خطرناک تُو بیماری او کورونا! تڑپے ہے لمحہ لمحہ دنیا ساری او کورونا! اب زندگی کا مقصد کیا رہ گیا ہے باقی سب پر ہی پڑ گئی ہے کیا بھاری، او کورونا! ملنا ملانا اب تو ممکن نہیں کسی سے ہم نے بھلا دی رشتے داری، او کورونا! ہے بوجھ یہ گناہِ انساں کا، اُٹھ نہ پائے جینا اسی لئے تو ہے بھاری، او کورونا! ہاتھوں کو دھوتے رہنا بس کام رہ گیا اب صورت ہوئی ہے ہر اک بیچاری، او کورونا! تجھ کو ہٹائینگے ہم اللہ کی مدد سے سب مل کے اب کرینگے تیاری، او کورونا! مٹ جائے گی تو جڑ سے، ہے سحرؔ کو یقیں یہ تجھ کو نصیب ہوگی بس خواری، او کورونا!   بڈھون، راجوری،جموں وکشمیر

قطعات

راستے میں رہ گیا لشکر یہاں موسموں سے بے خبر رہبر یہاں وقت کا کھاتہ جو کھو بیٹھا سعیدؔ لٹ گیا ہر آن اور اکثر یہاں ۔۔۔ ساتھ میں عمر کی کتاب رکھنا وقت کا سارا حساب رکھنا کیا دیا سعیدؔ زمانے کو سوچ کے اس کا جواب رکھنا ۔۔۔۔ تھی جو اُمید وہ وقت کے ساتھ گئی جیسے سپنوں میں گذر یہ رات گئی اب سجا گھر میں کاغذی پھول سعیدؔ خوشبو، اخلاص، رشتوں کی بات گئی ۔۔۔ نہ رہی اب تو زمانے کو ضرورت میری راس آئی نہیں لوگوں کی محبت میری کیوں بتوں کو ہے چُنا ساتھ سفر میں سعیدؔ بوجھ اوروں کا اُٹھانا ہے تجارت میری   سعید احمد سعیدؔ احمد نگر، سرینگر،کشمیر  موبائل نمبر؛9906355293

تازہ ترین