غزلیات

 رب سے باتیں کیا کرو یارو اپنے سب غم ہوا کرو یارو بندگی سے عروج پاؤگے تم خدا مَت بنا کرو یارو زندگی  ایک بار ملتی ہے        ہر کسی کا بھلا کرو یارو زیر دستوں کی مختصر دنیا نہ انہیں تم خفا کرو یارو  حد سے باہر ہزار خطرے ہیں حد کے اندر جیا کرو  یارو غیظ پَل بھر میں راکھ کرتا ہے زہر یہ پی لیا کرو یارو چھوٹی باتوں پہ کان دھرنا کیا نہ کسی سے گلہ کرو یارو کچھ تو رکھّو بھرم محبت کا  تم بھی ہم سے وفا کرو یارو بھول جاؤ عنایتیں کرکے بن بتائے دیا کرو یارو قَول انساں کو عزتیں بخشے مت کسی سے دغا کرو یارو دل کے ٹکڑے ہیں شعر بسملؔ کے اس کے حق میں دعاکرو یارو   خورشید بسملؔ تھنہ منڈی راجوری جموں وکشمیر موبائل نمبر؛9086395995    

غزلیات

تُم بتاؤ تو سہی بات میں کیا رکھا ہے ہوں نہ مُخلص تو ملاقات میں کیا رکھا ہے میرا دل ہے کہ کھنچا آئے تُمہاری جانب تُم دکھاؤ تو سہی ہات میں کیا رکھا ہے حُسن تیرا جو نہ ظاہر ہو مرے لفظوں سے ایسے بے معنی مُقطعات میں کیا رکھا ہے لوگ ملتے ہیں یہاں اور بچھڑ جاتے ہیں عُمر بھر ہجر کے صدمات میں کیا رکھا ہے عاشقی جسم نہیں روح طلب ہوتی ہے حُسن والے تری خیرات میں کیا رکھا ہے خاک سمجھو گے زمانے کی حقیقت جاویدؔ کوئی سمجھا ہے کہ ذرّات میں کیا رکھا ہے   سردارجاویدخان  مینڈھر پونچھ موبائل نمبر؛ 9419175198     مرا دین و مذہب مری جاں ہے اُردو مرا حاصلِ ماہ تاباں ہے اردو ہر اک سمت ہو ہو ثنا خوانِ اردو زمیں پر بھی یہ عرش ساماں ہے اردو نہ ڈر ہے کسی کا نہ منت کسی کی جو وقتِ ازل سے

صدائے دل

میرے مولاگُناہوں کا سمندر ساتھ لایا ہوں سرِ تسلیم کرنے خم تیرے دربار آیا ہوں ٹھکانا ڈھونڈتا ہوں میں تیرے سائے تلے مولا اُمیدوں کے سہارے میں یہاں اِس بار آیا ہوں مُعالج ڈھونڈ ناپائے علاجِ مرض ہے اب تک شفاء کا جام پینے میں نحیف و زار آیا ہوں مسائل نے مسل کر ر کھ دیا ہے مُدتوں مجھ کو تھکن سے چو‘ر ہوکر اب میں دل اَفگار آیا ہوں بصارت کھوگئی ساری بصیرت بھی نہیں باقی یہاں ہونے مہک افزاء میں بدبودار آیا ہوں نہیں اوروں کی خوشیاں بھی کبھی ہیں راس آجاتیں تکبُر کا جو ہے مخزن میں وہ کُہسار آیا ہوں اُچھالا ہے نہیں میری خطا ؤں کو کبھی مولا گُناہوں کا میں کرنے اب یہاں اقرار آیا ہوں   طُفیلؔ شفیع گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر موبائل نمبر؛6006081653  

غزلیات

  دنیا ہے محبت کی انسان محبت کا  روکا نہیں جاسکتا طوفان محبت کا    راحت کے نگر میں ہے فقدان محبت کا  انسان اٹھاتا ہے نقصان محبت کا    ہاتھوں میں اٹھایا ہے میزان محبت کا  عادل نے بسایا ہے ایوان محبت کا    آدم کبھی لایا تھا ایمان محبت پر  انسان یہاں پر ہے دربان محبت کا    ترسیں ہوئی آنکھیں ہیں بھیگا ہوا کاجل ہے  نفرت کے نگر میں ہے امکان محبت کا    جلتے ہوئے ماتھے پر شبنم کی ہتھیلی ہے  ہے پیکرِ آتش پر احسان محبت کا    اس شہرِ عداوت میں اعجاز کیا کس نے  جاری ہوا ہے عادلؔ فرمان محبت کا    اشرف عادل ؔ الٰہی باغ سرینگر ،موبائل نمبر؛ 778080645

ہدیۂ نعت

 خیرالبشر، سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم جسدِ مطہر، نورِ مُجسم صلی اللہ علیہ وسلم نورِ ازل اور سیدِ آدم صلی اللہ علیہ وسلم فکرِ اُمت رہتی ہر دَم صلی اللہ علیہ وسلم قاب و قوسین رہا باہم صلی اللہ علیہ وسلم اسوئہ کامِل ، خُلقِ اعظم صلی اللہ علیہ وسلم فخرِ رسالت ، نبوّت کے خاتِم صلی اللہ علیہ وسلم روحانیت کے نیّر اعظم صلی اللہ علیہ وسلم ہر پہلو میں اکمل و اُتّم صلی اللہ علیہ وسلم  مدح رب نے خود کیے رقم صلی اللہ علیہ وسلم کامِل تیرا ہر نقشِ قدم صلی اللہ علیہ وسلم   غلام نبی نیّر کولگام، کشمیر موبائل نمبر؛  9596047612    

غا فرِ اعظم

 سر بہ گرِیباں عاصئی بے دم آج در پہ آیا ہوں سر ندامت سے ہے سرخم ، آج در پہ آیا ہوں غفلتِ بے نور فی الحقیقت تُجھ سے ہی میں دور پڑا تھا تو ہے یکتا ر بِّ اَرحم، آج در پہ آیا ہوں میری خطاؤں سے ہیں لبالب جا بجا اعماقِ بحر و بر بخش دے اے غافرِ اعظم ، آج در پہ آیا ہوں میرے خدایا میری ندائیں ،آج سُن ذرا سُن ذرا میں ہوں مقصور ، خالقِ عالم آج در پہ آیا ہوں عمر ساری جُستجو ئے سیم و زر میں ہے گُزاری چُھوڑ کر اب دام و د رہم، آج در پہ آیا ہوں در پہ تیرے صدقِ دل سے توبتہُ النَّصُوح کر چلا فضل رکھ تو مجھ پہ پیہم،آج در پہ آیا ہوں ٖٖضربتِ نِفاق سے ہے بے رنگ ، قلب مجروح یہ میرا زخم کردے نظرِ مرحم ، آج در پہ آیا ہوں                   طُفیلؔ شفیع گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر

غزلیات

سارے شکوے گلے بُھلا دیتے تم جو ہلکا سا مسکرا دیتے   سرد موسم کی دھوپ پہنے ہوئے بالکونی سے کیا مزہ دیتے   ٹھوکریں منزلوں پہ لے جاتیں حادثے راستہ دِکھا دیتے   خواب ہاتھوں میں تھما دیتے ہیں اس سیاست میں اور کیا دیتے   یوں تو اپنا مکان ہے، کیا ہے؟ تم جو ہوتے تو گھر بنا دیتے   شہر کی بے رُخی اکڑتی ہے گائوں میں سب گلے لگا دیتے   خوش دیو مینیؔ پونچھ سٹی، جموں موبائل نمبر؛8493881999     مرے گھر سے اندھیروں کی نگہبانی نہیں جاتی کسی صورت مرے دل سے پریشانی نہیں جاتی تُمہی مجھ پر کوئی احسان کر دو خود چلے آؤ کہ مُجھ سے خاک صحرا کی تو اب چھانی نہیں جاتی جہاں ظالم حکمراں ہوں، جہاں انصاف بِکتا ہو وہاں مظلوم کی فریاد بھی مانی نہیں جاتی جو لوٹ آؤ

غزلیات

راحت کا وہ باعث تھا مگر، اب وہ کہاں ہے دلدار مرا رشکِ قمر، اب وہ کہاں ہے اک سلسلہ سانسوں کا مرا جس سے جُڑا تھا جو باندھ گیا رختِ سفر، اب وہ کہاں ہے خوشبو ابھی آتی ہے بدن سے مرے جس کی وہ جیسے تھا پھولوں کا نگر، اب وہ کہاں ہے میں جس کے تلے تھک کے سکوں پاتا تھا سو کر کاٹا ہے کسی نے وہ شجر، اب وہ کہاں ہے آتا تھا مجھے چین جسے دیکھ کے یا رب! وہ چل دیا،ڈھونڈوں گا کدھر، اب وہ کہاں ہے صحرائے جہاں میں مجھے پتھر تو ملے ہیں  لیکن نہ ملا کوئی گہر، اب وہ کہاں ہے شادابؔ وہ تو تجھ کو چلا چھوڑ کے تنہا کیوں تھام کے بیٹھا ہے جگر، اب وہ کہاں ہے    شفیع شادابؔ پازلپورہ شالیمارسرینگر کشمیر موبائل نمبر؛9797103435         کوئی ساعت سعید ہوتی ہے زندگی کی نوید ہوتی ہے پھول کھلتے ہ

غزلیات

مرے من میں مہکتی ہے تری گفتار کی خوشبو مجھے اب یاد آتی ہے ترے کردار کی خوشبو کسی مشکل سے گبھرا کر اگر مایوس ہوتا ہوں عزیمت بن کے آتی ہے کسی دلدار کی خوشبو رقیبوں کی رقابت سے بہت دلگیر ہو کر کے ضرورت بن کے آتی ہے تری وہ پیار کی خوشبو مرا گاؤں ہے پنگلینہ بہت اٹکا ہے دل اس میں  سمٹ آئے مرے مولا وہاں سنسار کی خوشبو بزرگوں کا جو ورثہ ہے اسے سنبھال کر رکھ دو بہت انمول ہوتی ہے کسی دستار کی خوشبو محبت سے جو عاری ہو نہ ہو اخلاص کا پیکر کہاں پھر راس آتی ہے کسی زردار کی خوشبو سناتا ہوں جو خود کو ہی ترے اخلاص کے قصے مجھے حیران کرتی ہے ترے ایثار کی خوشبو قلم کی روشنائی میں جگر کا سوز ہو شامل دلوں میں بیٹھ جاتی ہے اسی شاہکار کی خوشبو –مرے گھر میں ترا آنا مبارک ہوگیا ثابت نہیں نکلی ہے اب تک وہ در و دیوار کی خوشبو

غزلیات

دِل میں ہرغم آنے دو ایسے اِسے بہلانے دو اِس دِل میں ہیں غم لاکھوں پھربھی مُجھے مُسکانے دو اِس سے حوصلہ بڑھتاہے  دِل پر چوٹیں کھانے دو وہ باتیں جونہیں اچھی  اُن باتوں کوجانے دو دِل ہلکاہوجائے گا مُجھ کواشک بہانے دو جیسے بھی ہومیری سُنو غم کی آگ بُجھانے دو اپنے شعروسُخن سے ہتاشؔ اِس دُنیا کو جگانے دو   پیارے ہتاش دور درشن گیٹ لین جانی پورہ جموں موبائل نمبر؛8493853607     جس طرح ملتا تھا ہم سے اس طرح ملتا نہیں وہ جو گزرا ہے اِدھر سے اس طرف دیکھا نہیں جس کی خاطر ہم نے چھوڑا تھا لڑکپن کا سفر مڑ کے دیکھا غور سے جب وہ بھی اپنا تھا نہیں سازِ ہستی کی صدا ہے غور سے سن لیں میاں ہوش والوں کی نظر میں یہ کہیں ملتا نہیں آپ نے تو مجھ سے پوچھا کیا ہوا ہے تیرا دل دل کے

غزلیات

آرزو پھر جگا کے حد کردی عشقِ آتش لگا کے حد کردی زندگی سے میری جاکے حد کردی یاد کا گھر بسا کے حد کردی! یہ بخیلی  مبارک ہو تجھ کو میں نے آنسو پلا کے حد کردی رسمِ الفت سے ناواقف ہوں میں میں نے  اس کو بُھلا کے حد کردی اس نے راہوں میں آگ بھر دی جو ہم نے چل کر دکھا کے حد کردی تو وفاڈھونڈ مت زمانے  میں میں نے سب کوبُھلا کے حد کردی اب وفا مل کتاب میں جائے اس نے قصہ  سنا کر حد کردی ایک دل میں ہزار خانے  ہیں ہاتھ اپنا چُھڑا کے حد کردی مسکراہٹ سے بیر تھا تجھ کو اشکِ فرقت بہا کے حد کردی   جبیں نازاں لکشمی نگر، نئی دہلی  jabeennazan2015@gmail.com      زمین پاؤں تلے دلدلی لگے ہے مجھے مسافرت کی یہ صورت نئی لگے ہے مجھے یہ تجربے کا تقاضا ہے نام د

نعت

پہلے  جب کرن کا ظہور  ہوگیا  کھلبلی سی  مچ گئی دور تک اندھیروں میں  ایک لاغر سی اونٹنی  کے تھنوں سے بھی دودھ کی نہریں  جاری ہوگئیں  کچھ غلاموں   کی بھی زنجیریں  کھل گئیں  دشت در دشت پھول کھلنے لگے  ریت مسکرانے لگی  آب زم زم  اور  بھی رواں  ہوگیا  کعبے میں بت لرز گئے  آزروں کے  خواب بھی ٹوٹنے لگے    دشمنان  آدمیت سسک گئی  بند ہونے لگے  ننھی قبروں  کے دہانے  دھوپ سایا نہیں  کرتی تو اور کیا  کرتی  خار خصلت نہیں بدلتے  اپنی تو اور کیا  کرتے  گمرہی کےدبیز اندھیرے  دور ہوتے نہیں تو&nb

غزلیات

وقت خود پیچھے رہا دُکھ درد کو آگے کیا ہم نے بازو کھول کر چپ چاپ بانہوں میں لیا   شام کی خوشبو میں تھیں پاگل ہوا کی دھڑکنیں ہم نے بھی کھڑکی پہ اک جلتا ہوا رکھا دیا   شاعری کو آپکے رخسار سے چُھو کر پڑھیں ہو غزل دلی کی یا پنجاب کا ہو ماہِیا   سوئیاں دیوار پر لاکے گھماؤں کس طرف دیر تک مرنا ہی تھا جو مختصر کیونکر جیا   یوں کُھلا رہنے دیا کب دردوغم کا پیرہن اشک نے ٹانکے پروئے، چاک آہوں نے سِیا   رات کا پچھلا پہر تھا ہمنشیں بس اور تم تشنگی کا زہر سارا جام بھر بھر کر پیا   حاصلِ آوارگی شیدؔا ریاضی کی طرح عشق نے سب کچھ لُٹایا حُسن نے دھوکہ دیا   علی شیدؔا  نجدون نیپورہ اسلام آباد،   موبائل  نمبر؛9419045087     دِلوں میں آ

غزلیات

 ایک کہانی لکھتا ہوں یاد پرانی لکھتا ہوں   دنیا بھر کے رنج و غم اپنی زبانی لکھتا ہوں   لفظ تو سارے کہہ ڈالے آج معانی لکھتا ہوں   دل کی بنجر دھرتی پر دھانی دھانی لکھتا ہوں    تیرے بدن کی خوشبو کو رات کی رانی لکھتا ہوں   سچ تو یہ ہے میں عارفؔ آگ اور پانی لکھتا ہوں   عرفان عارف صدر شعبہ اُردو، کامرس کالج جموں موبائل نمبر؛9682698032   ستم یوں مجھ پر وہ کررہا ہے یہ من پسند اس کا مشغلہ ہے قصور اپنا بتا رہا ہے نسب کا لگتا ہے وہ بھلا ہے اسے کبھی یا ر مت سمجھنا قدم پہ حاجت سے گر پڑا ہے کرو نا !الفت کی بات پھر سے عناد میں کیا  کوئی مزا ہے ؟ کرم کریں یا ستم کریں  وہ غریب  دل صبر آزما ہے نہیں ہے قاتل یہاں تو ک

تم نہ رُکنا دوستو طوفاں بھی آجائے اگر زیست کا مطلب ہی کیا ہے حوصلہ جائے اگر   منصفوں کے ہاتھ میں خنجر ہے تو کیا کچھ ہوا بات حق کی بول دوں گا جان بھی جائے اگر     کیسے خود کو پائو گے جب دل پہ اختیار نہیں دل گزرتا حد سے ہے جس کا اعتبار نہیں   عشق میں دیوانگی کی انتہا یہ ہے سعیدؔ چاہتا ہوں میں جسے اس کا انتظار نہیں   سعید احمد سعیدؔ احمد نگر، سرینگر موبائل نمبر؛9906355293    

میدانِ حشر

سہی نہیں ہے نہ سہ سکیں گے   نبی ؐ رحمت  ہماری  ذلت  جزا کے دن جب اُٹھے گی خلقت تو ڈھونڈ لے گی وہ اُن کی قُربت  طویل سجدے میں کر رہے وہؐ   بیان  ہونگے  خدا کی مدحت عرق میں ڈوبے بدن کے اعضاء  وہاں  پہ دیکھیں گے رب کی قُدرت بلک رہیں ہونگے پیاس سے سب نہ کوئی مہلت نہ ہوگی فُرضت سما وہ کتنا عجیب ہوگا نہ باپ بیٹے میں ہوگی اُلفت فرشتے مومن کے ساتھ ہونگے َِ  بَلا کی اُن کو ملے گی راحت اور حال کیا ہوگامُنکروں کا  اُنہیں تو ہوگی فقط عُقوبت سجے گا میداں حساب کا جب اُٹھائینگے سر رسولِ رحمتؐ  خدا کی چاہت سے جسکو چاہے کرینگے اُن کی وہ خود شفاعت دُعا ہے تُم سے خلوصِ دل سے خلوصِ دل سے خلوصِ دل سے  خدائے اعظم  رفیقِ اعظم  نوازنا 

غزلیات

میں سمندر ہوں کنا روں میں کہاں رہتاہوں تیری آنکھوں کے شکاروں میں کہاں رہتا ہوں یوں نہ دیکھا افسردہ نگاہوں سے مجھے میں ترے گھر کی دیواروں میں کہاں رہتا ہوں آ کے دیکھو ذرا پھولوں پہ نکھار آیا ہے تم تو کہتے تھے بہاروں میں کہاں رہتا ہوں عمر کٹ سکتی ہے تنہا بھی کسی کی خاطر میں کہ وحشی ترا یاروں میں کہاں رہتا ہوں اُٹھتے گرتے ہی سہی پا لیا جنت کا سراغ نسلِ آدم ہوں شراروں میں کہاں رہتا ہوں ڈھونڈ سکتے ہو تو ڈھونڈو کہیں مٹی میں مُجھے اب میں اشکوں کی قطاروں میں کہاں رہتا ہوں دیکھ کتنے تری یادوں کے ہیں موتی مُجھ میں میں تو عاشق ہوں خساروں میں کہاں رہتا ہوں مستقل اپنا ٹھکانہ بھی نہیں ہے جاویدؔ اُڑتا پھرتا ہوں میناروں میں کہاں رہتا ہوں   سردارجاویدؔخان   مینڈھر، پونچھ موبائل نمبر؛ 9419175198   &nbs

غزلیات

آپ کی جوشان ہے  اُس پہ دِل قُربان ہے  اُس کی خاطرجان ہے  جومیرامہمان ہے  اِن دِنوں ہے بدگُماں وہ جومیری جان ہے  سب پہ اِک تنقیدہو یہ ہُنرآسان ہے  اُس کودیکھوں کِس طرح ہرکوئی نگران ہے  لے رہے ہیں سانس ہم  آپ کااحسان ہے  زِندگی پیارے ہتاشؔ زخموں کا دیوان ہے    پیارے ہتاش  دور درشن گیٹ لین جانی پورہ جموں موبائل نمبر؛8493853607       گلوں میں رنگِ حنا کا کوئی نہیں منظر  فقط فنا ہے، بقا کا کوئی نہیں منظر مرے چمن  میں ہے زاغوں کا دبدبہ لوگو  ہے بلبلوں کی اَدا کا کوئی نہیں منظر  چراغ جلتے ہیں لیکن ہے چار سو ظلمت  کہیں پہ نور و ضیا کا کوئی نہیں منظر  گئے وہ دن کہ چمن سیرگاہ تھی اپن

غزلیات

ہی اک انترا  ہے آج کل جو عام چلتا ہے کسی کا کام ٹھہرا ہے کسی کا نام چلتا ہے ہمارے شہر میں اک کہکشاں ہے سرخ لفظوں کی  اسی سے خوں طلب افسانہ صبح و شام چلتا ہے کوئی سکہ نہیں کھوٹا سیاست کی تجوری میں  کوئی سکہ نہیں  سکے کا لیکن دام چلتا ہے ہماری ڈائری محفوظ کرلو کام آئے گی یہاں زندہ کفن میں اور مردہ عام چلتا ہے نئی وحشت کے سائے دن دہاڑے گھوم پھرتے ہیں  کوئی آسیب پروردہ بصد آرام چلتا ہے  سفیرِ آدمیت جا گزیں ہے کنجِ خلوت میں فقط نفرت کے میخانوں میں دورِ جام چلتا ہے تمہاری شاعری میں حسنِ جاناں ہو کہاں  شیدؔا بھلا اس دور میں بھی عاشقی کا کام چلتا ہے !   علی شیدؔا  نجدون نیپورہ اسلام آباد موبائل  نمبر؛9419045087       سہمی سہمی ہے فضا تازہ ہو

غزلیات

تری جانب نکلنا ہے مُجھے اب یہ رستہ بھی بدلنا ہے مُجھے اب ہواؤں میں تری خوشبو نہیں ہے برنگِ عود جلنا ہے مُجھے اب گنوا دی عُمر ساری سرکشی میں کہیں جا کر سنبھلنا ہے مُجھے اب سفر دن کا بڑی مُشکل سے کاٹا ہوئی ہے شام ڈھلنا ہے مُجھے اب اب اُسکے ہاتھ میں سَم ہو کہ امرت بِنا دیکھے نگلنا ہے مُجھے اب بڑی پُرخار ہیں جاویدؔ راہیں یقیناً بچ کے چلنا ہے مُجھے اب   سردارجاویدخان مینڈھر، پونچھ رابطہ،، 9419175198     دشت بھی، تاریکیاں بھی، مل گئیں تنہائیاں واسطے ان کے کیں ہم نے ترک بزم آرائیاں ہم سناتے ہی رہے رودادِ دل، دل کھول کر بے ارادہ وہ سنا، لیتا رہا انگڑائیاں ہم فلک کے زیر سایہ رات دن تڑپیں یہاں وہ محل کے بعد دیکھیں واں چمن آرائیاں ریت قائم ہے ازل سے جائے فانی میں یہی ایک جانب سوگ

تازہ ترین