غزلیات

تھا با ضمیر جُرم کا اقرار کرگیا پیچ و خمِ نگاہ کو ہموار کر گیا   کیسی تھی یہ نگاہ جو پتھرا گئ مجھے یہ کون مجھکو نقش بہ دیوار کرگیا   دیوار و در کی قید میں محفوظ تھا بہت کھڑکی کھلی تو مجھ پہ کوئی وار کرگیا   تھی سوچ منفرد تو سزا یہ ملی مجھے دشمن میں اپنی جان کا سنسار کر گیا    یہ کس کی سازشوں سے تھی مسموم سب فضا انصارکو بھی کون یہ اغیار کر گیا   اندوہ و انبساط کا ادراک ہے کہاں میں سرحدِ شعور کو اب پار کر گیا   دل میں کچھ ایسے اُترا ہے تیکھی نظر کا تیر  دل ہی نہیں جگر پہ بھی یلغار کرگیا   بسملؔ وفا،خلوص بھی بکنے لگے یہاں  انسان آج گھر کو بھی بازار کر گیا   خورشید بسملؔؔ تھنہ منڈی،راجوری موبائل نمبر؛9086395995   

نعتِ مقبول

بزمِ سرکارِ دوعام میں جو مدحت گر ہوا میرا اِک اِک لفظ پھر گنجینۂ گوہر ہوا    خیبروخندق ہو، صفیں ہو کہ ہوبدر و احد کامرانی کی بشارت ساقیِ کوثر ہوا   باخدا اخلاق میں اعمال میں کامل ہے وہ جوبَشر آلِ رسولِ پاک کا نوکر ہوا   عظمتِ آلِ نبی قرآں سے جو پوچھی گئی  ھل اتیٰ گویا ہوئی تطہیر کا مظہر ہوا   میں ہوں کیا عرفان عارفؔ کیاہے میری شاعری سب کرم ان کا ہے میں پتھر اگر گوہر ہوا   عرفان عارفؔ صدر شعبہ اردو ایس پی ایم آر کالج آف کامرس جموں موبائل نمبر؛09682698032            

تازہ ترین