تازہ ترین

غزلیات

تری جانب نکلنا ہے مُجھے اب یہ رستہ بھی بدلنا ہے مُجھے اب ہواؤں میں تری خوشبو نہیں ہے برنگِ عود جلنا ہے مُجھے اب گنوا دی عُمر ساری سرکشی میں کہیں جا کر سنبھلنا ہے مُجھے اب سفر دن کا بڑی مُشکل سے کاٹا ہوئی ہے شام ڈھلنا ہے مُجھے اب اب اُسکے ہاتھ میں سَم ہو کہ امرت بِنا دیکھے نگلنا ہے مُجھے اب بڑی پُرخار ہیں جاویدؔ راہیں یقیناً بچ کے چلنا ہے مُجھے اب   سردارجاویدخان مینڈھر، پونچھ رابطہ،، 9419175198     دشت بھی، تاریکیاں بھی، مل گئیں تنہائیاں واسطے ان کے کیں ہم نے ترک بزم آرائیاں ہم سناتے ہی رہے رودادِ دل، دل کھول کر بے ارادہ وہ سنا، لیتا رہا انگڑائیاں ہم فلک کے زیر سایہ رات دن تڑپیں یہاں وہ محل کے بعد دیکھیں واں چمن آرائیاں ریت قائم ہے ازل سے جائے فانی میں یہی ایک جانب سوگ