غزلیات

دلِ آزار کو سینے میں چھپائے رکھنا یہ بھی کیا کم ہے مراسم کو نبھائے رکھنا   رْخِ تاباں پہ وہ گیسو کا گِرانا تیرا پھر سرِ شام چراغوں کو جلائے رکھنا   سامنے آ کے اشاروں میں اشارے کرنا بات کرنا بھی تو ہونٹوں کو دبائے رکھنا   پرتوِ خْور میں فنا ہونے کی تعلیم نہ دے میرے چہرے پہ تْو زْلفوں کے یہ سائے رکھنا   چشمِ تر میں یہی ایک خزانہ ہی تو ہے ہو جو مْمکن تو یہ موتی ہی بچائے رکھنا   ہم ملیں یا نہ ملیں اب کے مقّدر جاویدؔ ایک اْمید کی لو دل میں جگائے رکھنا   سردارجاویدخان پتہ، مہنڈر، پونچھ موبائل نمبر؛ 9697440404       یہ خنجر بھی اے میری جاں جگر کے پار ہو جائے جو روٹھا ہے کسی باعث وہ پھر بیزار ہوجائے محبت کا ستم بھی آپ میں اک آشنائی ہے کرم

نظمیں

جال سپنے بنتے بنتے  جانے کب بن بیٹھی تھی میں  اپنے لئے اک جال  وقت نے شاید چلی تھی چال  جس نے کیا مجھکو بے حال  پریت کا کب بن بیٹھی میں  ایک ریشمی جال  کچھ پتا ہی نا چلا  کب ہوش گنوائے کب ہوئ بے حال کچھ پتا ہی نہ چلا جب حیات ہوئی بے تال اور جینا ہوا محال تب دکھ کا دیکھا جال تقدیر نے چل دی چال سب روگ لئے تھے پال ہر پل بنا جنجال یہ کیسا آیا کال کچھ پتا ہی نہ چلا   جسپال کور نئی دلی، انڈیا موبائل نمبر؛09891861497   ’’ بھوک‘‘  ارے یہ کون دروازہ کھٹکھٹایا۔۔۔ کس نے ہم کو اتنا ڈرایا۔۔۔          ارے وہ پھر سے آیا۔۔۔                 &nbs

غزلیات

کچھ نہ  کچھ تو بات ہے تکرار میں ہے لگا اقرار کیوں انکار میں   عشق ہوتے دیر تو لگتی نہیں عمر لگتی ہے مگر اظہار میں    دِل کے بدلے دِل  دیا جائے حضور  دِل کبھی بِکتا نہیں بازار میں   آ پ کے آگے کہاں ٹِک پائے گا دَم کہاں ہے عشق  کے  بیمار میں   دِل کی بازی میں ہی دِل ہے ہارتا جیت لگتی پھر بھی دِیکھو ہار میں   عشق کو دینا سزا  بس عشق کی التجا  ہے آپ  کے دربار میں   آپ کا دِیوانہ انجمؔ  ہو گیا ہو نہ پاگل دیکھنا اب پیار میں   پیاسا انجمؔ /34 ریشم گھر کالونی  جموّں موبائل نمبر؛9419101315     چلا یوں جانبِ منزل یہ اپنا کارواں یارو لٹے اسباب رستے میں بٹے سب رہ رواں یارو گذشتہ رات ظا

غزلیات

زندگی تْجھ کو تو اک روز فنا ہونا ہے روح سے خاک کے پْتلے کو جْدا ہونا ہے اِ تنی جلدی تو قیامت نہیں آنے والی ابھی دَجّال کے فِتنے کو بپا ہونا ہے ابھی عیسٰی و مہدی کا بھی ہونا ہے ورود تم بھی دیکھو گے ابھی دْنیا میں کیا ہونا ہے سب کے ہاتھوں میں ہی اسلام کا پرچم ہو گا دین کے بْجھتے چراغوں کو ضیا ہونا ہے پھر کہیں جا کے زمانہ نئی کروٹ لے گا پھر قیامت میں ہمیں پیشِ خدا ہونا ہے مجھ کو امید مرے مولا تری رحمت کی تیرے محبوب کی اْمت کا بھلا ہونا ہے   سردار جاوید خان  پتہ، مہنڈر، پونچھ موبائل نمبر؛ 9697440404       یاد کی خوشبو خیالوں کی قبا لے جائے گا کیا خبر تھی غم کا جھونکا سب اُڑا لے جائے گا   یہ سسکتی زندگی دم توڑتی یہ عصمتیں عہدِ نو کیا نیکیاں ساری اٹھا لے جائے گا؟ &nb

غزلیات

یہ دورِ وبا کیا ہے دو دن کی پریشانی مشکل میں وہ کرتا ہے بندوں کی نگہبانی   محفوظ رہیں گے سب ہم گھر میں رہیں گے جب  ہوتا ہے زیاں اُس کا کرتا ہے جو من مانی   گھر کچھ بھی کہے کوئی بھوکا نہ رہے کوئی امداد کرو سب کی یہ فرض ہے انسانی   پرہیز کریں گے جو بے خوف رہیں گے وہ جب وقت ہو نازک تو کرتے نہیں نادانی   بچوں کو بزرگوں کو  محتاط ہی رہنے دو بیمار اگر ہو جُز ہے کُل کو پشیمانی   ٹل جائے گا یہ طوفاں مایوس نہ ہو اے جاں ہوتی ہے دُعائوں سے تکلیف میں آسانی   عالم ہے نشانے پر آفت ہے زمانے پر یہ رقصِ اجل کیا ہے راحتؔ کو ہے حیرانی   رئوف راحتؔ روز لین ایچ ایم ٹی ، سرینگر،9149830023         دل مِرا کیونکر تِرا معتْوب ہے یہ تو

غزلیات

ٹوٹ کر کتنا گرا ہے آئینہ ملبے میں ہے کتنی جانیں اور کتنا گھر جلا ملبے میں ہے   کتنے معصوموں کی چیخیں کتنی خوشیاں ہیں نہاں کتنے ارمانوں کا خوں ہے ہوگیا ملبے میں ہے   لو تجاہل عرفانہ سے نہ ہرگز کام تم انسانیت کے قتل کا سارا پتہ ملبے میں ہے   کس نے محلوں کو اجاڑا کس نے لوٹی آبرو جاکے ویرانے سے پوچھو سب چھپا ملبے میں ہے   یہ نہ پوچھو کہ صدائے الاماں دیتا ہے کون؟ گونجتی ہے روز و شب جو بھی صدا ملبے میں ہے   جگنوؤں کی جگمگاہٹ چھینی کس نے روشنی بجھ گیا عادل جہاں میں جو دیا ملبے میں ہے   آج بھی ملبے میں ہے ہر سو دبی چنگاریاں آج بھی ہر سمت شعلہ جا بہ جا ملبے میں ہے   ڈاکٹر نصیر احمد عادل مہرولی،کمتول، دربھنگہ، بہار  [ مری آنکھوں میں  ہر دن وہ نئے سپنے

غزلیات

وقت لگتا نہیں پِھسلنے میں عمر لگتی ہے پھر سنبھلنے میں تْم کو معلوم کیا کہ تیرے بعد وہ مزہ بھی رہا نہ جلنے میں میری آنکھوں میں بس گئے ہو تْم عْمر لگ جائے گی نکلنے میں ابھی بیٹھو ذرا چلے جانا وقت باقی ہے شام ڈھلنے میں اب پتنگوں سے یہ تو پوچھوں گا زار کیا تھا یونہی مچلنے میں اِن چراغوں کی خیر ہو جاویدؔ عْمر اک ہو گئی ہے جلنے میں   سردارجاویدخان  پتہ،  مہنڈر، پونچھ رابطہ، 9697440404     اہلِ چمن کا خون ہُوا جا رہا ہے بے قابو یہ طاعون ہوا  جارہا ہے  چلن موت کا ہواکچھ عام یوںکہ   تھوک و پرچون  ہوا جا رہا ہے  نابود ہو کورونا کہ ہر بحث کا  بس یہی مضمون ہوا جا رہا ہے نظر آئے کووِڑ کو ہر شخص لیلیٰ  اور خود وہ مجنون ہوا جارہا ہے

غزلیات

محصور سا اب سر پہ گگن دیکھ رہا ہوں زنداں کی طرح اپنا وطن دیکھ رہا ہوں جو دل پہ گزرتی ہےبیاں اُسکا ہے مشکل میں سہما ہوا اپنا سخن دیکھ رہا ہوں آمد پہ بہاروں کی ہیں گلشن کی نگاہیں یژمردہ ہوئے سرؤ و سمن دیکھ رہا ہوں تھک ہار کے ہیں روح نے پر اپنے سمیٹے کچھ ٹوٹا ہوا اپنا بدن دیکھ رہا ہوں ہیں بستیاں جیسے کہ خزاں خوردہ گلستاں میں گھر میں کِھلے پھولوں کے بن دیکھ رہا ہوں ہر سمت نظر آتا ہے تحریک کا فقدان "میں وقت کے چہرے پہ تھکن دیکھ رہا ہوں"  ممکن ہے کوئی صور لئے چل ہی پڑا ہو افسردہ ہوئے کوہ دمن دیکھ رہا ہوں  آئینہءکردار پہ یہ گرد کی تہہ کیوں بسملؔ میں تیرا اور چلن دیکھ رہا ہوں   خورشید بسملؔ تھنہ منڈی، راجوری،موبائل نمبر؛9622045323     حُسن جب بھی جوان ہوتا ہے ہر قدم ام

غزلیات

پھول پتے بہار کیا معنی بن تْمھارے سنگھار کیا معنی   تْو نہ آئے گا میری سمت کبھی اب ترا انتظار کیا معنی   سارے چہرے اْداس لگتے ہیں ساقیا اب خْمار کیا معنی   اب حدیں توڑنے کی ٹھانی ہے درِ زنداں حصار کیا معنی   میری آنکھوں میں دْھند سی رہتی ہے اْس کے رْخ پر نکھار کیا معنی   دل کی دْنیا اْجڑ گئی جاویدؔ عشق کا کاروبار کیا معنی   سردارجاویدؔخان  مہنڈر، پونچھ،موبائل نمبر 9697440404       کل تلک خوشیاں ہی خوشیاں تھیں جہاں ہر بات میں ’موت آنسو بانٹتی ہے اب وہاں خیرات میں‘ زلزلوں نے اسقدر وحشت مچائی ذہن میں خوف شامل ہوگیا حرکات میں سکنات میں کھنڈروں میں ڈھونڈتے ہو عشق کی پرچھائیاں آرزوئیں چیختی ہیں اب یہاں صدمات میں

غزلیات

قرارِ عشق کی رسمیں نبھا کر دیکھ لیتا ہوں دلِ ناداں کو دیوانہ بنا کر دیکھ لیتا ہوں   خطا کاروں کو کس طرح نہیں ملتی تیری جنت تیرے دربار میں آنسو بہا کر دیکھ لیتا ہوں   کرم تیرا کہ اے اللہ میں اک خاک کا پتلا تیرے سنسار کو نظریں اٹھا کر دیکھ لیتا ہوں   یہ کارِ دوجہاں آباد ہے تیری مشیت سے میں ناداں ہوں جو قسمت آزما کر دیکھ لیتا ہوں   تیری ہی کارسازی کے تو یہ سارے کرشمے ہیں کہ میں فولاد گردوں میں اُڑا کر دیکھ لیتا ہوں   اے اللہ عشق میں آفاقؔ کا انجام کیا ہوگا؟ تیرے ہی واسطے ہستی مٹا کر دیکھ لیتا ہوں   آفاق دلنوی دلنہ بارہمولہ کشمیر موبائل نمبر؛ 700608727     محفل سجی ہے آج بڑے اہتمام سے لیکن گریز پا ہوا دل دھوم دھام سے   کیوں آج اس بہار م

غزلیات

اے جانِ وفادِل کو لُبھانے کے لئے آ آجائو ذرا درد مٹانے کے لئے آ   اُجڑا ہے میرے دل کا چمن تند ہوا سے اِک بار میرے گھر کو بسانے کے لئے آ   ویران پڑا ہے میرا کا شانۂ غربت اُلفت کے اِس مندر کو سجانے کے لئے آ   ہم تم میں رہے دوری گوارا نہیں لیکن حائل ہیں جو پردے وہ ہٹانے کے لئے آ   معصوم ؔسخنور کو وفاوئوں کا صلہ دے آئوئو ۔۔۔ تو سَدا ساتھ نبھانے کے لئے آ   مشتاق احمد معصومؔ حسینی کالونی، چھترگام، بڈگام موبائل نمبر؛06005510692     بے شک گردشِ شام وسحردو دِل کے ساتھ کُشادہ نظردو جس میں گزرے عمر ہماری رہنے کی خاطروہ گھردو اس دنیاسے تنگ بہت ہوں  میں اُڑ جائوں ایسے پَردو کہاں ہوں میں، معلوم ہواِتنا مجھ کومیری کوئی خبردو میرے لئے احسان یہ

غزلیات

شبِ ہجراں کی سیاہی کو مٹانے کے لیے  لوگ نکلے ہیں چراغوں کو جلانے کے لیے  کون پھرتا ہے سرِ شام مری بستی میں کون آیا ہے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے تیرے ہاتھوں کی جو مہندی ہے اُتر جائے گی خون کیا کم تھا ہتھیلی پہ سجانے کے لیے مجھ سے ایک بار کو بچھڑا تو بچھڑتا ہی گیا  میں نے کیا کچھ نہ کیا جاں تجھے پانے کے لئے امتحاں اور لیے جائیں گے آخر کب تک  کوئی حد بھی تو مقرر ہو دیوانے لے لیے آخری رسمِ محبت تو نبھاتے جائو کون آئے گا مری خاک اُڑانے کے لیے ایک پیماں ہے کہ مرنے نہیں دیتا جاویدؔ اب تو جینا ہے مراسم کو نبھانے کے لیے   سردار جاوؔید خان   پتہ مہینڈھر پونچھ، رابطہ 9419175198,9697440404       قہر یوں نفرتوں کا برسا ہے آدمی آدمی کو ترسا ہے   پھر

غزلیات

ہر ایک  سنگ شیشۂ افکار سے نکال اس بار خار خار کو گلزار سے نکال مجروح ہوگئی ہے مری فکرِ نازنیں منفی ہے سوچ! خنجرِ افکار سے نکال خوشبو ہوئی حرام محبت کے نام پر اُڑتا ہوا غبار بھی گلزار سے نکال واقف ہیں ہم بھی لذّتِ گریہ سے اب بہت احساسِ درد زخم کے دربار سے نکال کب تک اُٹھے گی موجہ ٔ خوں لفظ لفظ سے اب سرخیٔ لہو مرے اخبار سے نکال مری زمینِ شوق ٹھٹھرتی رہے گی کیا؟ سورج تو اپنا سایۂ دیوار سے نکال ضائع نہ کر یہ تلخیٔ جاں اِس طرح سُنو! جیون سے اپنے زہر بھی مقدار سے نکال تبدیل ہوگیا ہے جہانِ سراب بھی! عادلؔ شکن شکن تو بھی دستار سے نکال   اشرف عادلؔؔ کشمیر یونیورسٹی، موبائل نمبر؛7780806455       نتائج کچھ بھی ہوں لیکن یہ دل سنسان نکلے گا میرے دل سے تری یادوں کا ایک طوفان نکلے گا

غزلیات

سلگ رہا تھا جو برگِ چنار،ہےاب بھی فضا میںگو نجتی میری پکارہےاب بھی مرا ضمیر ستانے لگا مجھے، شاید شفق کی سرخیوں پہ اشک بار ہے اب بھی عجیب شخص ہے، دھوکہ بھی کھا گیا جس سے اسی کی بات پہ با اعتبار ہے اب بھی یہ کشمکش جو ہے باطن کی میرے ظاہر سے طفیل اس کے یہ دل بے قرار ہے اب بھی محبتوں کے سمندر میں پیارکی کشتی صدا تھی بے کنار، بے کنار ہے اب بھی گزرتے وقت نے ہتھیار کندکر ڈالے مگر یہ نوکِ قلم تیزدھارہے اب بھی میں کھردرا ہی سہی ہوں تو قیمتی پتھر کہ جس کو جوہری کا انتظار ہےاب بھی اگر چہ اشکِ ندامت سے دھو دیا عارضِؔ تو پھر یہ کیا ہے کہ دل داغدار ہے اب بھی    عارضؔ ارشاد  نوہٹہ، سرینگر موبائل نمبر؛700603386       تری شکست کا حربہ  تلاش کرتے ہیں تجھے نہیں ترے جیسا تلا ش

غزلیات

کُھلے گا امن کا در آر پار اب کے برس  نکالے گا کوئی رہ شہریار اب کے برس    محبتوں سے ملا خار خار اب کے برس  ہوئے ہیں اہلِ جفا شرمسار اب کے برس   رچائی دست صبا پر ہمیں نے تھی مہندی  ہوا ہے رنگِ حنا آشکار  اب کے برس    ڈسا ہے  یار نے پچھلے برس مجھے اتنا  کیا ہے سانپ پہ بھی اعتبار اب کے برس    لطیف آب و ہوا تن بدن کے شہر میں ہے  رہا یہ موسمِ دل خوشگوار اب کے برس    چلا نہ تھا سرِ صحرائے دل کوئی سایا  اٹھا ہے دشت میں کوئی غبار اب کے برس    بہار آئی مکرر چمن چمن عادلؔ گلاب دل کا کِھلا بار بار اب کے برس    اشرف عادل ؔ کشمیر یونیورسٹی حضرت بل سرینگر  موبائل نمبر؛9990654031   کچھ

غزلیات

در و دیوار کہ ویران ہوئے جاتے ہیں شہر کے شہر بیابان ہوئے جاتے ہیں   میں بھی سورج کو ہتھیلی پہ لئے پھرتا ہوں اور جگنو ہیں پریشان ہوئے جاتے ہیں   تم ہی آؤ مری محفل میں کوئی رنگ جمے ورنہ سب تو یہاں بے جان ہوئے جاتےہیں   با وفائی کا چلو کچھ تو نتیجہ نکلا میرے ہرجائی پشیمان ہوئے جاتے ہیں   آؤ کچھ دیر ہی چلتے ہیں رہِ منزل پہ اب یہ رستے بھی تو انجان ہوئے جاتے ہیں   کیوں ہواؤں سے بغاوت پہ اَڑے ہو جاویدؔ چار سُو قتل کے سامان ہوئے جاتے ہیں   سردارجاویدخان  مہنڈر، پونچھ موبائل نمبر؛9419175198     چلو راحت ہے دنیا میں ابھی ایما ن باقی ہے  بڑی حیوانیت کے درمیاں انسان باقی ہے  مچلتا ہے یہ دل اب تک تیری یا دیں بھی ہیں زندہ ابھی میں مر نہیں

شکن زاد تخلیق

کشمیر سے دُکھ کا شاعر ہوں اک دھول جمی ہے چہرے پر تشہیرِ دھواں ہے آنکھوں میں قرطاس پہ بکھری ہیں لاشیں اور قطرہ قطرہ رستا ہے اس نوک قلم سے تازہ لہو  آہیں ہیں صریر خامہ میں ہر نقطہ ہے اک تربت سا ہر لفظ ہے سوئے دارورسن ہر حرف ہے میرا پا بہ زنجیر   ہر شوق تخیل زخمی ہے ہر صنف سُخن ہے گریہ کناں رفتارِ غزل پہ قدغن ہے ہر شاخ نظم ہے برق زدہ اور نثر گریباں چاک کئے پیوستہ خنجر فکر میں ہے اک سہما سہما موسم سا گلزارِ معانی ویراں ہے زرخیز زمینیں بنجر ہیں ہر قافیہ بجھتا جگنو سا   جب برگِ ردیف پہ پت جھڑ ہو پھر شعرِ مردّف کیا ہوگا اے دوست نہ کر اب مجھ سے طلب وہ نظم و غزل کی خوشبوئیں وہ باغ کلی وہ تتلی... سب ماضی کی کہانی بن بیٹھے اپنا جو حال ہے رہنے دے........ پر بچے ....

غزلیات

غمِ دوراں میں خوشیوں کا خزانہ خواب لگتا ہے  ہمارے شہر میں اب مُسکرانا خواب لگتا ہے  وراثت پر مری قابض ہُوا کچھ اس طرح  غاصب کہ اپنی ہی زمیں پر گھر بنانا خواب لگتا ہے  جہاں پر چہچہاہٹ کو پرندے بھی ترستے ہوں  وہاں پر امن کا پرچم اُٹھانا خواب لگتا ہے  گیا جو دے کے تنہائی کے تحفے مُدتوں پہلے  میری آنکھوں کو اُس کا لوٹ آنا خواب لگتا ہے  اُسے تو کج ادائی کی رَوشِ کچھ اتنی راس آئی  مری راہوں میں اب پلکیں بچھانا خواب لگتا ہے  برسنے لگ گئے ہیں سنگ سب کے پھُول چہروں سے  ہمیں اس شہر میں سر کو بچانا خواب لگتا ہے  جہاں مسموم آندھی تاک میں شب بھر رہے مانوسؔ وہاں اکثر چِراغوں کو جلانا خواب لگتا ہے   پرویز مانوسؔ نٹی پورہ سرینگر  موبائل نمبر؛9622937142  

غزلیات

مرے دل کی بھی کچھ سنا کیجیے کچھ اپنے بھی دل کی کہا کیجیے   ہوں بیمار اے دلربا آپ کا مرے دردِ دل کی دوا کیجیے   مرے دل میں اُٹھتا کہ جو درد ہے کوئی گر نہ جانے تو کیا کیجیے   دلوں سے کہ اٹھتی جو آواز ہے کبھی تو اُسے بھی سنا کیجیے   وہ دل، آپ ہی کے جو بیمار ہیں اب اُن کی شفا کی دعا کیجیے   ہزاروں ہیں دل آپ کی قید میں خدارا اب ان کو رہا کیجیے   نہ دے جائے دھوکہ کوئی اے بشیرؔ ذرا دیکھ کر دل دیا کیجیے   بشیر احمد بشیرؔ (ابن نشاطؔ) کشتواڑی موبائل نمبر؛7006606571     میں ہوں مضطرب مرے ساقیا، مجھے پینے کو کوئی جام دو تہہ دل میں اسکو ہے کھوجنا، مجھے صبح دو مجھے شام دو   مرے ہم سفر کو نوید ہو، ترے ہجر کا میں شہید ہوں مری قبر کو ک

غزلیات

اس جہاں کے لوگ بس درد آشنا کہنے کو ہیں  آزمایا سب کو سب اہلِ وفا کہنے کو ہیں    پیشوائی کی نہ ان میں رہنمائی کی صِفت  یہ ہمارے رہنما یہ پیشوا کہنے کو ہیں    وقتِ مشکل ہمنوائی کون کرتا ہے بھلا  زندگی کی راہ میں سب ہمنوا کہنے کو ہیں    کون جانے ہو گیا کیا جذبہء ایثار کو  جو کیا کرتے ہیں جان ودل فدا کہنے کو ہیں    دیکھ کر اب تو ہے میزانِ عدالت دم بخود  عدل کی کرسی پہ اب حق آشنا کہنے کو ہیں    زیست کے گرداب سے ساحلؔ پکارا دوستو قلب ہو جن کے مثالِ آئینہ کہنے کو ہیں    مراد ساحلؔ  ممبئی، مہاراشٹر موبائل نمبر ؛9405187859   کِس قدردیرکی ہے آنے میں کیامِلاہے مُجھے رُلانے میں تُم وفائوں کی بات کرتے ہو

تازہ ترین