غزلیات

رعونت عقل پہ انساں کی پردہ ڈال دیتی ہے سب اٹھنے والی آوازوں پہ پہرہ ڈال دیتی ہے   سیاست پھولنے پھلنے نہیں دیتی ہے لوگوں کو ہمیشہ دوستوں کے دل میں کینہ ڈال دیتی ہے   تمہارے طنزیہ لفظوں سے ہوتا ہے جگر چھلنی تمہاری بات دل پر زخم گہرا ڈال دیتی ہے   مسائل کے بھنور کو پار کر جاتا ہوں لمحے میں مری ہمت سمندر میں سفینہ ڈال دیتی ہے   مرے گھر کے ہر اک کھانے کی لذت وازوانی ہے مری محنت جو روزی میں پسینہ ڈال دیتی ہے   میں جب گھر سے نکلتا ہوں دعا پڑھ کر نکلتا ہوں مری ماں پھر بھی دس روپے کا صدقہ ڈال دیتی ہے   جہاں جاتا ہوں میں اللہ کی رحمت برستی ہے مشیت دھوپ میں بادل کا سایہ ڈال دیتی ہے   ڈاکٹر شمس کمال انجم صدر شعبۂ عربی/ اردو/ اسلامک اسٹڈیز بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی ر

تازہ ترین