تازہ ترین

غزلیات

بدن میں ہجر کا تپ تھا نئی بارش میں آ ٹھہرا کہ میرا خاک زادہ آگ کی سازش میں آ ٹھہرا نویلی شب کی چادر میں نگاہیں نیم عریاں تھیں پرانے خواب کی اک تازہ پیمائش میں آ ٹھہرا چمک اُٹھی ہے شبنم زرد موسم کی ہتھیلی پر فلک نیلا یہ کس کا ہے مری گردش میں آ ٹھہرا اُسے معلوم ہے کس کے فسوں کی زد پہ رہنا ہے مرے کینواس پر آکر مری کاوش میں آ ٹھہرا تکوں میں گھومتا کب تک وہ اپنا دائرہ لیکر  کسی قد کے برابر سائے کی لغزش میں آ ٹھہرا اسی برسات میں مٹی یہ تن کی دُھل گئی ساری کسی کا جسم میری روح کی ورزش میں  آ ٹھہرا مکاں کی وسعتیں شیدّاؔکہاں پر چھوڑ آئے تم زمن کی دھڑکنوں کا شور اک جنبش میں آ ٹھہرا   علی شیدّاؔ  نجدون نیپورہ اسلام ا?باد،   موبائل نمبر؛9419045087   میرے خوابوں میں آنے سے کیا ف