تازہ ترین

غزلیات

پھرتے ہیں مارے مارے یوں وحشت کے زاغ میں ہم کو پلا دے ساقیا کچھ غم ایاغ میں تیرا بدن ہے گویا ستاروں کی کہکشاں یا ہیرے ہیں جَڑے ہوئے شب کے چراغ میں نازک بدن کو تیرے ستائیں گی تتلیاں تنہا پھرا کرو نہ یوں خوابوں کے باغ میں یہ لوگ میری آنکھوں سے تجھ کو چُراتے ہیں اس بار ہم بنائیں گے نقشہ دماغ میں کانٹوں کے ساتھ ساتھ شگوفے بھی جل گئے ایسی لگی ہے آگ محبت کے باغ میں جو لطف غم کی آگ میں جلنے کا ہے میاں وہ لطفِ جاں کہاں ہے غموں سے فراغ میں داغِ جگر نے ہے مجھے شاعر بنا دیا واللہ کچھ تو بات ہے زخموں کے داغ میں    عاشق راہی ؔ   اکنگام اننت ناگ  موبائل نمبر؛6005630105     خار سے بھی اے صبا پیار میں کرتا رہا راستے میں جو ملا اپنا اُسے کہتا رہا کب رُکا تھا میں کبھی اُن ساحلوں کو دیک