تازہ ترین

غزلیات

پھیکا پھیکا سا ہے ماحول خُدا خیر کرے اپنی کشتی بھی گئی ڈول خدا خیر کرے   ہم تو دُنیا کی امامت کا سبق بھول گئے اب تو ہاتھوں میں ہے کشکول خدا خیر کرے   جب سے چھوڑاتُجھے ذلت نے ہمیں گھیر لیا اپنے ہاتھوں ہوئی چھترول خدا خیر کرے   کھو دیا ہم نے ہی بھیڑ میں چلنے کا ہُنر کجروی کھول گئی پول خدا خیر کرے   لاکھ پردوں میں بھی کردار نظر آتا ہے اپنا کردار تو ہے ڈھول خدا خیر کرے   ہم مسافر ہیں بشارتؔ تو سفر پر نکلیں راہ پُر پیچ ہے پُر ہول خدا خیر کرے   بشارت حسین بشارتؔ  مینڈھر، پونچھ موبائل نمبر؛7051925481   کر گیا مجروح مجھ کو اعتباری کا جنوں دل کو تڑپاتا رہا بس اضطراری کا جنوں زخمِ دل کرتا رہا آنسو کے دھاروں کی طلب آنکھ سے بہتا رہا یوں آہ و زاری کا جنوں

تازہ ترین