تازہ ترین

غزلیات

  کوئی مسکین مرے گھر سے جو خالی جائے ’’مجھ سے حالت مری دیکھی نہ سنبھالی جائے‘‘   باغِ رضواں کے سبھی راستے کھل جائنگے عشقِ احمدؐ کی کِرن دل میں چھپالی جائے۔    ریگزاروں میں سرابوں نے کیا مجھکو نڈھال اب سمندر سے کوئی راہ نکالی جائے    میرے اللہ مرے شہر کو ایسا کردے کسی معصوم کی پگڑی نہ اُچھالی جائے   جو ہمیں ہوش کے ناخن نہیں لینے دیتی اب وہ اذہان سے تصویر ہٹا لی جائے   کورنش کرتے ہوئے، آئیں ملائک سرِ راہ  آدمی جائے جہاں سے تو مثالی جائے   خامشی اوڑھ کے سو جاتے ہیں بسملؔ آؤ قلبِ ویراں میں نئی بستی بسالی جائے    خورشید بسملؔ تھنہ منڈی راجوری موبائل نمبر؛9622

نعتیں

نعت جشنِ سرکار جومناتے ہیں خلد میں اپنا گھر بناتے ہیں چاہنے والے میرے آقا کے غم کی حالت میں مسکراتے ہیں جس کو مہتاب کہتی ہے دنیا انگلیوں پر نبیؐ نچاتے ہیں ہم کو مت چھیڑ گردشِ دوراں آنکھ سورج سے ہم ملا تے ہیں حسن اخلاقِ مصطفےٰ ؐ دیکھو زخم کھاتے ہیں مسکراتے ہیں جس کو ٹھکرادیا ہو دنیا نے اس کو آقا گلے لگا تے ہیں منتظر ان کی ہے بہشتِ بریں ماں کے قدموں کوجو دباتے ہیں  جو حسینی ہیں وہ تومقتل میں سر ہتھیلی پہ لے کے جاتے ہیں چھوڑ دیتے ہیں دانہ پانی،جب کربلاوالے یاد آتے ہیں ذکرِ آلِ نبی سے ہم زاہدؔ دل کی دنیا کو جگمگا تے ہیں   محمد زاہد رضا بنارسی دارالعلوم حبیبیہ رضویہ گوپی گنج بھدوہی موبائل نمبر؛9451439786   آغوشِ محمد ﷺ سوائے بارگاہِ رب کہیں راحت نہیں  پائی

کیا ہم پہ یہ گزری؟

  وبا یہ چینؔ سے چل کر اُدھر سے کیا ادھر گزری اَجل انجام ہے اِس کا یہ عالم سے جدھر گُزری   بکھیرے بال و پر اپنے یہ بیٹھی مشرق و مغرب ہر اک جاء ہے یہ واویلا اِدھر گزری اُدھر گزری   اچانک ایک خطے میں کبھی شب خُون یہ مارے نہیں ٹھہرائو ہے اِس کا یہ دُوجے کے بھی گھر گزری   اِلٰہی آپ ہی جانیں بھلا یہ ماجرا کیا ہے وبا ایسی یہ مہلک کیوں جہاں میں خُشک و ترگزری   طبیبِ وقت بھی اِس سے ہراساں اور نالاں ہے بصورت ایک فاتح کے وبا ء یہ اُسکے سرگزری   پیامِ مرگ کا لے کر علم یہ چہار سُو گھومے کسی کا نوجواں بیٹا یہ لیکر با پدر گُذری   تمہاری ذات سے ہم نے تعلق توڑ جو ڈالا مؤجب اسکے بن کے سر سے وہ مثلِ شرر گزری   ابھی بھی وقت ہے عُشاقؔ غلط کاری سے توبہ کر کہو گے ورنہ محشر می

حُسَینُ مِنِّی وَاَ نَامِن الحُسَین

 السلامُ علیکم یاحسینِ پاکؓ السلام السلام السلام السلام اے حسین اے امام الامام السلام آپ کے سر کٹانے میں یہ راز تھا آیا نیزے پہ جیسے ہی سر مرحبا عظمتِ سر کو پھر مرتبہ یہ ملا آفتابِ قیامت کی حد بن گیا راکبِ دوشِ خیرالانام السلام اے حسین اے امام الامام السلام اک طرف پیکرِ جبر و ظلم و جفا ایک جانب ہے پروردگارِ وفا اْس طرف تھا ستم انتہا آشنا اِس طرف تھی ابھی صبر کی ابتدا اک طرف گمرہی اک طرف اک امام اے حسین اے امام الامام السلام کاسۂ شمر میں ڈال دی سر کی بھیک حرمتِ دستِ حق پر نہیں جانے دی مرحبا مرحبا آفریں آفریں اے گلِ فاطمہ اے چراغِ علی پھر نہ کیوں یہ جہاں آپ کا ہو غلام اے حسین اے امام الامام السلام دیکھ کر اہلِ بیتِ نبی پر ستم صرف ہم آپ کیا کُل جہاں روپڑا کیا شجر کیا حجر کیا چرند و پر

غزلیات

جـب بات نہ ہو گھــبراتا ہوں خود اپنے زخـم ســہلاتا ہــوں   نہ دن میں مجھکو چین ملـے نہ راتـــوں کو ســــو پاتـا ہوں   دھوپ سے میرا شکوہ کیسا میں چھاؤں سے جل جاتا ہوں   زنــدہ ہوں یہ کیــسے مانوں؟ سانس کہاں لے پـــاتا ہوں   ســاقی بــس تو جــام پـــــلانا میخانے چل کر آتـا ہوں   پیاس کہاں گلشنؔ کی بھجے گی میں بس غم کے آنسوں پیتــا ہوں   گلشــــنؔ رشـــــید دلنوی دلنہ بارہمولہ، کشمیر موبائل نمبر؛9596434034     ہر طرف اب ہم شکارے جائیں گے چھین کے وہ پھر سہارے جائیں گے رات بھر بیدار تھے سب سو گئے عشق والے اب پکارے جائیں گے جن کی قسمت میں لکھا ہے درد و غم اب کہاں اپنوں کے مارے جائیں گے دشتِ کربل راستے میں آئے گا خالی ہاتھوں ہم ات

غزلیات

لِکھے ہیں مقدر میں مرے درد و الم اور سہنے ہیں ابھی مجھکو ترے ہِجر کے غم اور   گویا مُجھے درپیش قیامت کی گھڑی ہے اب کے تو ستمگر کا ہے اندازِ ستم اور   لازم نہیں تُم نے جو سُنا ہے وہی سچ ہو واعظ کی زباں اور کہ رودادِ قلم اور   دریا ہوں مگر ایک سمندر سے جدا ہوں لوٹوں گا تو ہو جاؤں گا پہلے سے بھی ضم اور   سجدوں نے اُٹھا رکھا ہے محشر مرے سر پر کعبہ کا خدا اور کہ پتھر کا صنم اور   مُمکن ہے اِسی جھیل میں اُتریں یہ شناور کر لیجئے آنکھوں کو ابھی تھوڑا سا نم اور   اک شاخ سے ٹُوٹی ہُوئی ٹہنی کو گِلہ ہے یزداں نے بڑھا رکھا ہے جاویدؔ کا غم اور   سردارجاویدخان مینڈھر پونچھ،موبائل نمبر؛9697440404   یہ دور نیا ، دستور نیا ، اقوال نئے ، کردار نئے انسان نئے ، انداز

قطعات

دے دیا زہر کوئی دوا سے پہلے پی گیا میں بھی جسے قضا سے پہلے   مر کرونا سے گیا، لوگ کہتے ہیں سعیدؔ کب کا میں مر چکا کرونا سے پہلے ۔۔۔۔ سنا ہے وقتِ آفت پر خدا ہی یاد آتا ہے مگر بازی گروں کو تو تماشا یاد آتا ہے   مرے ہیں بھوک سے اب لوگ یارو ہر طرف دیکھو ہمیں تو شہنشاہوں کو لُبھانا یاد آتا ہے   بُرا نہیں، وہ سادگی اچھا شگون تھا ہر آدمی ہو اپنا یہ سر پر جنون تھا   صندل کے اس مکان میں دم گُھٹ گیا میرا کُٹیا میں رہ کے دوستو کتنا سکون تھا ۔۔۔۔ دیر تک ہم سو گئے عمر کو گھٹا بیٹھے وقت نے مانگا حساب زندگی لُٹا بیٹھے   تو نے پہچانا نہیں جب موسموں کو سعیدؔ کاغذی پھولوں سے گھر اپنا سجا بیٹھے سعید احمد سعیدؔ احمد نگر، سرینگر،موبائل نمبر؛9906355293      

غزلیات

زندگی مرغزار کیا ہوگی یہ خزاں پُر بہار کیا ہوگی   آہنی روزوشب کی صدیوں میں  صورتِ انتظار کیا ہوگی   جینے مرنے کا فرق کھو بیٹھی زندگی اور خوار کیا ہوگی   لبِ اظہار کے دوراہے پر خامشی زیرِ بار کیا ہوگی   فکرِ سود و زیاں ہو جامد تو کوششِ کار و بار کیا ہوگی   کامیابی کے سیلِ باطل میں معتبر کوئی ہار کیا ہوگی   حنیف ترین صدر’مرکزعالمی اردومجلس‘بٹلہ ہاؤس، جامعہ نگر،نئی دہلی، حال راولپورہ سرینگر موبائل نمبر؛9971730422     مسلسل مسکرائے جا رہا ہے وہ زخموں کو چُھپائے جارہا ہے مجھے دیکھا نہیں اک بار مڑ کر یہی غم مجھ کو کھائے جارہا ہے سمندر تیری آنکھوں کا اے ہمدم  گھروندوں کو گرائے جارہا ہے یہ جو سینے میں ہے طوفان ب

غزلیات

ملتی ہے جنہیں تیری رضا کیا نہیں پاتے خاطر میں نہیں تخت سلیمان بھی لاتے خورشید ہی آئے تو جہاں ہوگا منور ’’بجلی کے چمکنے سے اندھیرے نہیں جاتے‘‘ ہوتا نہیں ادراک جنہیں سود وزیاں کا وہ اپنا چمن اپنے ہی ہاتھوں ہیں جلاتے رہزن کے جِلو میں چلیں جس قوم کے رہبر منزل تو کُجا وہ کبھی رستہ نہیں پاتے تھی کیسی خطا ٹوٹ گئے اُن سے روابط خوابوں میں خیالوں میں نہیں چہرہ دکھاتے پَل بھر میں بدل جاتی ہیں احباب کی سوچیں حالات بھی انسان کو کیا کیا ہیں بناتے یہ زیست بھی بسملؔ ہے نرالی سی پہیلی آتے ہیں چلے جاتے ہیں جاکر نہیں آتے   خورشید بسملؔ تھنہ منڈی، راجوری،موبائل نمبر؛9086395995   گو تُو ہے پیکرِ بے بدل ترا نفسِ ناطقہ بھی ناب ہے تُو ہی جنس مانا ہے بالاتر تیری زیست لیکن حباب ہے تُو کہ شکل و صو

رسولِ پاکﷺ

رسولِ پاک ؐ کی چھاؤں میں رہنے کی تمنا ہے مصائب کی یہاں حدت نے چاروں اور گھیرا ہے   جسے جبریل ؑنے اپنے پروںمیں شوق سے رکھا حرا کی چھائوں میں بیٹھا ، وہ خوشبودار میرا ہے   بساؤ گے اُسے دل میں تو روشن قبر پاؤ گے وگرنہ پھر وہاں ہردم اندھیرا ہی اندھیرا ہے     یہ جان و تن لٹاؤ گے نبیؐ کی راہ میں جانو  تمہارے ہاتھ محشر میں خلاصی کا پھریرا ہے ـ نبیؐ کی اُلفتِ عالی میں پنہاں اُلفتِ اللہ  خدائے لم یزل فرماں یہی قُرآں میں تیرا ہے         طُفیل شفیع گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر موبائل نمبر؛6006081653     

غزلیات

اِن تیز ہواؤں کو تُم بادِ صبا لکھنا کانٹوں کے بچھونے کو پھولوں کی قبا لکھنا   جب فصلِ بہاراں میں گُلشن ہی اُجڑ جائے اِس حال میں پھولوں کی تقدیر ہی کیا لکھنا   سوچوں میں ذہن سارے اُلجھے ہوے رہتے ہیں تقدیر کی تختی پر کوئی تو دُعا لکھنا   تُم نُقطہِ اوّل بھی آخر بھی تُمہی تُم ہو مُجھکو مرے ہرجائی کیا تیرے سوا لکھنا   راتوں کی سیاہی میں صدیوں کو گُزارا ہے اب ایک ہی شیوہ ہے ظُلمت کو ضیاء لکھنا   آ جاؤ کبھی زد میں تُم گردشِ دوراں کی اُنگلی سے ہواؤں میں بس نامِ خُدا لکھنا   شاید کہ وہ سُن ہی لے جاویدؔ صدا میری فریاد پُرانی ہے انداز نیا لکھنا   سردارجاویدؔخان پتہ، مہنڈر ، پونچھ ،رابطہ؛ 9419175198   سر پھری اتنی نہ تھی موجِ ہوا شام کے بعد  بجھ گیا

غزلیات

تنفر دل میں رکھنے سے محبت بھول جاتی ہے  شریفوں کو عداوت میں شرافت بھول جاتی ہے  بنا اُجرت کے خالی ہاتھ جب بھی لوٹتا ہوں گھر  تو ایسے میں میری بچّی شرارت بھول جاتی ہے جنوں ،وحشت جو ذہنوں پر اثر انداز ہو جائے  تو ایسے میں بزرگوں کی نصیحت بھول جاتی ہے  بشر کرتا ہے شکوہ اک ذرا سی بات پر اُس سے  خُدا نے آج تک کی جو عنایت بھول جاتی ہے  کرا کے چاک دامن جو نکلتا ہے گُلستاں سے  اُسے بستی میں پُھولوں کی تجارت بھول جاتی ہے  خبر گیری نہایت شوق سے کرتے ہیں غیروں کی  مگر ماں باپ کی ان کو عیادت بھول جاتی ہے  غریبوں کی ضرورت کو نظر انداز کرتے ہی امیروں کو سخاوت ،کی عبارت بھول جاتی ہے  سیاست کی ہوا جب ورغلا لیتی ہے مُنصف کو  ستم دیدوں کے کیسوں کی سماعت بھول جاتی ہے  طرف

غزلیات

جہد سے جو گریز کرتا ہے وہ تو جینے سے پہلے مرتا ہے دیر تک ٹھوکروں میں رہتا ہے تب کہیں آدمی سنبھلتا ہے نور تیرا ہے ایک اک شئے میں تو ہی خاکوں میں رنگ بھرتا ہے اب نہیں ہے وحوش سے وحشت آدمی آدمی سے ڈرتا ہے ہرکوئی عارضی سا نظّارا خودبخود خاک میں بکھرتا ہے گفتگو بھی سلیقہ چاہتی ہے ورنہ انساں نظر سے گرتا ہے رُک سی جاتی ہیں دھڑکنیں دل کی جب وہ جانے کی بات کرتا ہے حال بسملؔ کا پوچھتے کیا ہو سَو جتن کرکے دل گزرتا ہے   خورشید بسمل تھنہ منڈی ، راجوری موبائل نمبر؛9086395995     غزلیات چمن کے نو دمیدہ گُل بہاروں سے خفا بیٹھے صباحت میں خلش پیہم اسیرِغم ہوا بیٹھے ابھی فردِ وفا اِک جاں بہ لب ہے شہرِ گریاں میں تبھی سب پا بہ گِل پہلے بچھا  فرشِ عزا  بیٹھے کہا جب اہلِ بین

غالیات

دلِ آزار کو سینے میں چھپائے رکھنا یہ بھی کیا کم ہے مراسم کو نبھائے رکھنا   رْخِ تاباں پہ وہ گیسو کا گِرانا تیرا پھر سرِ شام چراغوں کو جلائے رکھنا   سامنے آ کے اشاروں میں اشارے کرنا بات کرنا بھی تو ہونٹوں کو دبائے رکھنا   پرتوِ خْور میں فنا ہونے کی تعلیم نہ دے میرے چہرے پہ تْو زْلفوں کے یہ سائے رکھنا   چشمِ تر میں یہی ایک خزانہ ہی تو ہے ہو جو مْمکن تو یہ موتی ہی بچائے رکھنا   ہم ملیں یا نہ ملیں ابکے مقّدر جاوید ایک اْمید و بِیم دل میں لگائے رکھنا   سردارجاویدخان  پتہ، مہنڈر، پونچھ موبائل نمبر؛ 9697440404     محسن ہماری جان کا غم وخوار ڈاکٹر دینے کو اپنی جان  بھی تیار ڈاکٹر ہمت بڑھا رہا ہے عملے کو بہادر وائرس سے لڑ رہا ہے خبردار ڈاکٹر

غزلیات

درد آخر گھٹا دیا ہم نے زندگی کو بڑھا دیا ہم نے حسرتو ں کے پرانے آنگن سے دل کا لاشہ اٹھا دیا ہم نے ایک ہی خواب تھا کنارے پر آنسؤں میں بہا دیا ہم نے آخری چال پر تھے خالی ہاتھ پھر دیا ہی بجھا دیا ہم نے خشک سالی پڑی تھی آنکھوں میں دل کا دریا چڑھا دیا ہم نے موت کو زندگی کے بارے میں شعر اپنا سْنا دیا ہم نے ہوچْکا تھا گلوب گرد آلود آئینے پر گْھما دیا ہم نے آبگاہوں نے احتجاج کیا ایک پنچھی اْڑا دیا ہم نے شاہراہیں گزرنے والی تھیں چل کے رستہ بنادیا ہم نے دھوپ کو برف پہ اْترنا تھا بادلوں کو بچھا دیا ہم نے آخری پیڑ تھاوہ جنگل کا اورمل کر گرا دیا ہم نے تھک چکا تھا یہ جون کا سورج چاندنی میں سْلادیا ہم نے اس برس بھی دْعا کی بارش میں جسم اپنا جلا دیا ہم نے ایک سایہ ملا جو باہر تھا گھر م

غزلیات

دیکھیں گے کہ کب تک وہ صداقت نہ کہیں گے کس بات پر ہے ہم سے عداوت نہ کہیں گے   ٹوٹے گا بکھر جائے گا دل، صبر کریں گے چاہت کی چُکائی ہے جو قیمت نہ کہیں گے   اَسلاف سے سیکھا ہے محبت کا سلیقہ ہم کو ہے کسی سے بھی عداوت، نہ کہیں گے   ہم چاک گریبان کو چپ چاپ سئیں گے پر کوئی بھی اُن سے ہے شکایت نہ کہیں گے   جو تاج نہ تعمیر کرا پائے تو عارضؔ کیا اُن کی محبت کو محبت نہ کہیں گے ؟   عارض ارشاد نوہٹہ، سرینگر، کشمیر موبائل نمبر؛7006003386     چمن کے نو دمیدہ گُل بہاروں سے خفا بیٹھے صباحت میں خلش پیہم اسیرِغم ہو ا بیٹھے   ابھی فردِ وفا اِک جاں بہ لب ہے شہرِ گریاں میں تبھی سب پا بہ گِل پہلے بچھا فرشِ عزا  بیٹھے   کہا جب اہلِ بینش نے جلالِ پادشاہی کیا

غزلیات

کھل گئے ہیں تمام میخانے مست ہیں پی کے سارے دیوانے ساری دنیا کھڑی ہے لائن میں بعد مدت کھلے جو میخانے شیخ جی خود بھی مست تھے پی کر اور وہ سب کو لگے تھے بہکانے جان والے ہی جانتے ہیں کیسے دیتے ہیں جان پروانے اتنا ناراض ہے خدا ہم سے ہوگئے بند سب خدا خانے اس ’’کرونا‘‘ کے بعد کیا ہوگا؟ لوگ کہتے ہیں، بس خدا جانے پوچھئے جاکے آپ ’’کووِڈ‘‘ سے کتنی جانوں کے لیں گے نذرانے کوئی حیرت نہیں ہوئی مجھ کو سن کے اپنوں سے زیر لب طعنے ’’ہے خبر گرم ان کے آنے کی‘‘ سج گئے شہر دل کے ویرانے عقل سے کہتے تو سمجھتا بھی کون جائے ہے دل کو سمجھانے یہ صدی شمسؔ مختلف ہوگی مختلف ہوں گے سارے پیمانے   ڈاکٹر شمسؔ کمال انجم صدر شعبۂ عربی بابا غلام شاہ باد

غزلیات

دلِ آزار کو سینے میں چھپائے رکھنا یہ بھی کیا کم ہے مراسم کو نبھائے رکھنا   رْخِ تاباں پہ وہ گیسو کا گِرانا تیرا پھر سرِ شام چراغوں کو جلائے رکھنا   سامنے آ کے اشاروں میں اشارے کرنا بات کرنا بھی تو ہونٹوں کو دبائے رکھنا   پرتوِ خْور میں فنا ہونے کی تعلیم نہ دے میرے چہرے پہ تْو زْلفوں کے یہ سائے رکھنا   چشمِ تر میں یہی ایک خزانہ ہی تو ہے ہو جو مْمکن تو یہ موتی ہی بچائے رکھنا   ہم ملیں یا نہ ملیں اب کے مقّدر جاویدؔ ایک اْمید کی لو دل میں جگائے رکھنا   سردارجاویدخان پتہ، مہنڈر، پونچھ موبائل نمبر؛ 9697440404       یہ خنجر بھی اے میری جاں جگر کے پار ہو جائے جو روٹھا ہے کسی باعث وہ پھر بیزار ہوجائے محبت کا ستم بھی آپ میں اک آشنائی ہے کرم

نظمیں

جال سپنے بنتے بنتے  جانے کب بن بیٹھی تھی میں  اپنے لئے اک جال  وقت نے شاید چلی تھی چال  جس نے کیا مجھکو بے حال  پریت کا کب بن بیٹھی میں  ایک ریشمی جال  کچھ پتا ہی نا چلا  کب ہوش گنوائے کب ہوئ بے حال کچھ پتا ہی نہ چلا جب حیات ہوئی بے تال اور جینا ہوا محال تب دکھ کا دیکھا جال تقدیر نے چل دی چال سب روگ لئے تھے پال ہر پل بنا جنجال یہ کیسا آیا کال کچھ پتا ہی نہ چلا   جسپال کور نئی دلی، انڈیا موبائل نمبر؛09891861497   ’’ بھوک‘‘  ارے یہ کون دروازہ کھٹکھٹایا۔۔۔ کس نے ہم کو اتنا ڈرایا۔۔۔          ارے وہ پھر سے آیا۔۔۔                 &nbs

غزلیات

کچھ نہ  کچھ تو بات ہے تکرار میں ہے لگا اقرار کیوں انکار میں   عشق ہوتے دیر تو لگتی نہیں عمر لگتی ہے مگر اظہار میں    دِل کے بدلے دِل  دیا جائے حضور  دِل کبھی بِکتا نہیں بازار میں   آ پ کے آگے کہاں ٹِک پائے گا دَم کہاں ہے عشق  کے  بیمار میں   دِل کی بازی میں ہی دِل ہے ہارتا جیت لگتی پھر بھی دِیکھو ہار میں   عشق کو دینا سزا  بس عشق کی التجا  ہے آپ  کے دربار میں   آپ کا دِیوانہ انجمؔ  ہو گیا ہو نہ پاگل دیکھنا اب پیار میں   پیاسا انجمؔ /34 ریشم گھر کالونی  جموّں موبائل نمبر؛9419101315     چلا یوں جانبِ منزل یہ اپنا کارواں یارو لٹے اسباب رستے میں بٹے سب رہ رواں یارو گذشتہ رات ظا

تازہ ترین