تازہ ترین

غزلیات

اِن تیز ہواؤں کو تُم بادِ صبا لکھنا کانٹوں کے بچھونے کو پھولوں کی قبا لکھنا   جب فصلِ بہاراں میں گُلشن ہی اُجڑ جائے اِس حال میں پھولوں کی تقدیر ہی کیا لکھنا   سوچوں میں ذہن سارے اُلجھے ہوے رہتے ہیں تقدیر کی تختی پر کوئی تو دُعا لکھنا   تُم نُقطہِ اوّل بھی آخر بھی تُمہی تُم ہو مُجھکو مرے ہرجائی کیا تیرے سوا لکھنا   راتوں کی سیاہی میں صدیوں کو گُزارا ہے اب ایک ہی شیوہ ہے ظُلمت کو ضیاء لکھنا   آ جاؤ کبھی زد میں تُم گردشِ دوراں کی اُنگلی سے ہواؤں میں بس نامِ خُدا لکھنا   شاید کہ وہ سُن ہی لے جاویدؔ صدا میری فریاد پُرانی ہے انداز نیا لکھنا   سردارجاویدؔخان پتہ، مہنڈر ، پونچھ ،رابطہ؛ 9419175198   سر پھری اتنی نہ تھی موجِ ہوا شام کے بعد  بجھ گیا

غزلیات

تنفر دل میں رکھنے سے محبت بھول جاتی ہے  شریفوں کو عداوت میں شرافت بھول جاتی ہے  بنا اُجرت کے خالی ہاتھ جب بھی لوٹتا ہوں گھر  تو ایسے میں میری بچّی شرارت بھول جاتی ہے جنوں ،وحشت جو ذہنوں پر اثر انداز ہو جائے  تو ایسے میں بزرگوں کی نصیحت بھول جاتی ہے  بشر کرتا ہے شکوہ اک ذرا سی بات پر اُس سے  خُدا نے آج تک کی جو عنایت بھول جاتی ہے  کرا کے چاک دامن جو نکلتا ہے گُلستاں سے  اُسے بستی میں پُھولوں کی تجارت بھول جاتی ہے  خبر گیری نہایت شوق سے کرتے ہیں غیروں کی  مگر ماں باپ کی ان کو عیادت بھول جاتی ہے  غریبوں کی ضرورت کو نظر انداز کرتے ہی امیروں کو سخاوت ،کی عبارت بھول جاتی ہے  سیاست کی ہوا جب ورغلا لیتی ہے مُنصف کو  ستم دیدوں کے کیسوں کی سماعت بھول جاتی ہے  طرف

غزلیات

جہد سے جو گریز کرتا ہے وہ تو جینے سے پہلے مرتا ہے دیر تک ٹھوکروں میں رہتا ہے تب کہیں آدمی سنبھلتا ہے نور تیرا ہے ایک اک شئے میں تو ہی خاکوں میں رنگ بھرتا ہے اب نہیں ہے وحوش سے وحشت آدمی آدمی سے ڈرتا ہے ہرکوئی عارضی سا نظّارا خودبخود خاک میں بکھرتا ہے گفتگو بھی سلیقہ چاہتی ہے ورنہ انساں نظر سے گرتا ہے رُک سی جاتی ہیں دھڑکنیں دل کی جب وہ جانے کی بات کرتا ہے حال بسملؔ کا پوچھتے کیا ہو سَو جتن کرکے دل گزرتا ہے   خورشید بسمل تھنہ منڈی ، راجوری موبائل نمبر؛9086395995     غزلیات چمن کے نو دمیدہ گُل بہاروں سے خفا بیٹھے صباحت میں خلش پیہم اسیرِغم ہوا بیٹھے ابھی فردِ وفا اِک جاں بہ لب ہے شہرِ گریاں میں تبھی سب پا بہ گِل پہلے بچھا  فرشِ عزا  بیٹھے کہا جب اہلِ بین

غالیات

دلِ آزار کو سینے میں چھپائے رکھنا یہ بھی کیا کم ہے مراسم کو نبھائے رکھنا   رْخِ تاباں پہ وہ گیسو کا گِرانا تیرا پھر سرِ شام چراغوں کو جلائے رکھنا   سامنے آ کے اشاروں میں اشارے کرنا بات کرنا بھی تو ہونٹوں کو دبائے رکھنا   پرتوِ خْور میں فنا ہونے کی تعلیم نہ دے میرے چہرے پہ تْو زْلفوں کے یہ سائے رکھنا   چشمِ تر میں یہی ایک خزانہ ہی تو ہے ہو جو مْمکن تو یہ موتی ہی بچائے رکھنا   ہم ملیں یا نہ ملیں ابکے مقّدر جاوید ایک اْمید و بِیم دل میں لگائے رکھنا   سردارجاویدخان  پتہ، مہنڈر، پونچھ موبائل نمبر؛ 9697440404     محسن ہماری جان کا غم وخوار ڈاکٹر دینے کو اپنی جان  بھی تیار ڈاکٹر ہمت بڑھا رہا ہے عملے کو بہادر وائرس سے لڑ رہا ہے خبردار ڈاکٹر

غزلیات

درد آخر گھٹا دیا ہم نے زندگی کو بڑھا دیا ہم نے حسرتو ں کے پرانے آنگن سے دل کا لاشہ اٹھا دیا ہم نے ایک ہی خواب تھا کنارے پر آنسؤں میں بہا دیا ہم نے آخری چال پر تھے خالی ہاتھ پھر دیا ہی بجھا دیا ہم نے خشک سالی پڑی تھی آنکھوں میں دل کا دریا چڑھا دیا ہم نے موت کو زندگی کے بارے میں شعر اپنا سْنا دیا ہم نے ہوچْکا تھا گلوب گرد آلود آئینے پر گْھما دیا ہم نے آبگاہوں نے احتجاج کیا ایک پنچھی اْڑا دیا ہم نے شاہراہیں گزرنے والی تھیں چل کے رستہ بنادیا ہم نے دھوپ کو برف پہ اْترنا تھا بادلوں کو بچھا دیا ہم نے آخری پیڑ تھاوہ جنگل کا اورمل کر گرا دیا ہم نے تھک چکا تھا یہ جون کا سورج چاندنی میں سْلادیا ہم نے اس برس بھی دْعا کی بارش میں جسم اپنا جلا دیا ہم نے ایک سایہ ملا جو باہر تھا گھر م

غزلیات

دیکھیں گے کہ کب تک وہ صداقت نہ کہیں گے کس بات پر ہے ہم سے عداوت نہ کہیں گے   ٹوٹے گا بکھر جائے گا دل، صبر کریں گے چاہت کی چُکائی ہے جو قیمت نہ کہیں گے   اَسلاف سے سیکھا ہے محبت کا سلیقہ ہم کو ہے کسی سے بھی عداوت، نہ کہیں گے   ہم چاک گریبان کو چپ چاپ سئیں گے پر کوئی بھی اُن سے ہے شکایت نہ کہیں گے   جو تاج نہ تعمیر کرا پائے تو عارضؔ کیا اُن کی محبت کو محبت نہ کہیں گے ؟   عارض ارشاد نوہٹہ، سرینگر، کشمیر موبائل نمبر؛7006003386     چمن کے نو دمیدہ گُل بہاروں سے خفا بیٹھے صباحت میں خلش پیہم اسیرِغم ہو ا بیٹھے   ابھی فردِ وفا اِک جاں بہ لب ہے شہرِ گریاں میں تبھی سب پا بہ گِل پہلے بچھا فرشِ عزا  بیٹھے   کہا جب اہلِ بینش نے جلالِ پادشاہی کیا

غزلیات

کھل گئے ہیں تمام میخانے مست ہیں پی کے سارے دیوانے ساری دنیا کھڑی ہے لائن میں بعد مدت کھلے جو میخانے شیخ جی خود بھی مست تھے پی کر اور وہ سب کو لگے تھے بہکانے جان والے ہی جانتے ہیں کیسے دیتے ہیں جان پروانے اتنا ناراض ہے خدا ہم سے ہوگئے بند سب خدا خانے اس ’’کرونا‘‘ کے بعد کیا ہوگا؟ لوگ کہتے ہیں، بس خدا جانے پوچھئے جاکے آپ ’’کووِڈ‘‘ سے کتنی جانوں کے لیں گے نذرانے کوئی حیرت نہیں ہوئی مجھ کو سن کے اپنوں سے زیر لب طعنے ’’ہے خبر گرم ان کے آنے کی‘‘ سج گئے شہر دل کے ویرانے عقل سے کہتے تو سمجھتا بھی کون جائے ہے دل کو سمجھانے یہ صدی شمسؔ مختلف ہوگی مختلف ہوں گے سارے پیمانے   ڈاکٹر شمسؔ کمال انجم صدر شعبۂ عربی بابا غلام شاہ باد

غزلیات

دلِ آزار کو سینے میں چھپائے رکھنا یہ بھی کیا کم ہے مراسم کو نبھائے رکھنا   رْخِ تاباں پہ وہ گیسو کا گِرانا تیرا پھر سرِ شام چراغوں کو جلائے رکھنا   سامنے آ کے اشاروں میں اشارے کرنا بات کرنا بھی تو ہونٹوں کو دبائے رکھنا   پرتوِ خْور میں فنا ہونے کی تعلیم نہ دے میرے چہرے پہ تْو زْلفوں کے یہ سائے رکھنا   چشمِ تر میں یہی ایک خزانہ ہی تو ہے ہو جو مْمکن تو یہ موتی ہی بچائے رکھنا   ہم ملیں یا نہ ملیں اب کے مقّدر جاویدؔ ایک اْمید کی لو دل میں جگائے رکھنا   سردارجاویدخان پتہ، مہنڈر، پونچھ موبائل نمبر؛ 9697440404       یہ خنجر بھی اے میری جاں جگر کے پار ہو جائے جو روٹھا ہے کسی باعث وہ پھر بیزار ہوجائے محبت کا ستم بھی آپ میں اک آشنائی ہے کرم

نظمیں

جال سپنے بنتے بنتے  جانے کب بن بیٹھی تھی میں  اپنے لئے اک جال  وقت نے شاید چلی تھی چال  جس نے کیا مجھکو بے حال  پریت کا کب بن بیٹھی میں  ایک ریشمی جال  کچھ پتا ہی نا چلا  کب ہوش گنوائے کب ہوئ بے حال کچھ پتا ہی نہ چلا جب حیات ہوئی بے تال اور جینا ہوا محال تب دکھ کا دیکھا جال تقدیر نے چل دی چال سب روگ لئے تھے پال ہر پل بنا جنجال یہ کیسا آیا کال کچھ پتا ہی نہ چلا   جسپال کور نئی دلی، انڈیا موبائل نمبر؛09891861497   ’’ بھوک‘‘  ارے یہ کون دروازہ کھٹکھٹایا۔۔۔ کس نے ہم کو اتنا ڈرایا۔۔۔          ارے وہ پھر سے آیا۔۔۔                 &nbs

غزلیات

کچھ نہ  کچھ تو بات ہے تکرار میں ہے لگا اقرار کیوں انکار میں   عشق ہوتے دیر تو لگتی نہیں عمر لگتی ہے مگر اظہار میں    دِل کے بدلے دِل  دیا جائے حضور  دِل کبھی بِکتا نہیں بازار میں   آ پ کے آگے کہاں ٹِک پائے گا دَم کہاں ہے عشق  کے  بیمار میں   دِل کی بازی میں ہی دِل ہے ہارتا جیت لگتی پھر بھی دِیکھو ہار میں   عشق کو دینا سزا  بس عشق کی التجا  ہے آپ  کے دربار میں   آپ کا دِیوانہ انجمؔ  ہو گیا ہو نہ پاگل دیکھنا اب پیار میں   پیاسا انجمؔ /34 ریشم گھر کالونی  جموّں موبائل نمبر؛9419101315     چلا یوں جانبِ منزل یہ اپنا کارواں یارو لٹے اسباب رستے میں بٹے سب رہ رواں یارو گذشتہ رات ظا

غزلیات

زندگی تْجھ کو تو اک روز فنا ہونا ہے روح سے خاک کے پْتلے کو جْدا ہونا ہے اِ تنی جلدی تو قیامت نہیں آنے والی ابھی دَجّال کے فِتنے کو بپا ہونا ہے ابھی عیسٰی و مہدی کا بھی ہونا ہے ورود تم بھی دیکھو گے ابھی دْنیا میں کیا ہونا ہے سب کے ہاتھوں میں ہی اسلام کا پرچم ہو گا دین کے بْجھتے چراغوں کو ضیا ہونا ہے پھر کہیں جا کے زمانہ نئی کروٹ لے گا پھر قیامت میں ہمیں پیشِ خدا ہونا ہے مجھ کو امید مرے مولا تری رحمت کی تیرے محبوب کی اْمت کا بھلا ہونا ہے   سردار جاوید خان  پتہ، مہنڈر، پونچھ موبائل نمبر؛ 9697440404       یاد کی خوشبو خیالوں کی قبا لے جائے گا کیا خبر تھی غم کا جھونکا سب اُڑا لے جائے گا   یہ سسکتی زندگی دم توڑتی یہ عصمتیں عہدِ نو کیا نیکیاں ساری اٹھا لے جائے گا؟ &nb

غزلیات

یہ دورِ وبا کیا ہے دو دن کی پریشانی مشکل میں وہ کرتا ہے بندوں کی نگہبانی   محفوظ رہیں گے سب ہم گھر میں رہیں گے جب  ہوتا ہے زیاں اُس کا کرتا ہے جو من مانی   گھر کچھ بھی کہے کوئی بھوکا نہ رہے کوئی امداد کرو سب کی یہ فرض ہے انسانی   پرہیز کریں گے جو بے خوف رہیں گے وہ جب وقت ہو نازک تو کرتے نہیں نادانی   بچوں کو بزرگوں کو  محتاط ہی رہنے دو بیمار اگر ہو جُز ہے کُل کو پشیمانی   ٹل جائے گا یہ طوفاں مایوس نہ ہو اے جاں ہوتی ہے دُعائوں سے تکلیف میں آسانی   عالم ہے نشانے پر آفت ہے زمانے پر یہ رقصِ اجل کیا ہے راحتؔ کو ہے حیرانی   رئوف راحتؔ روز لین ایچ ایم ٹی ، سرینگر،9149830023         دل مِرا کیونکر تِرا معتْوب ہے یہ تو

غزلیات

ٹوٹ کر کتنا گرا ہے آئینہ ملبے میں ہے کتنی جانیں اور کتنا گھر جلا ملبے میں ہے   کتنے معصوموں کی چیخیں کتنی خوشیاں ہیں نہاں کتنے ارمانوں کا خوں ہے ہوگیا ملبے میں ہے   لو تجاہل عرفانہ سے نہ ہرگز کام تم انسانیت کے قتل کا سارا پتہ ملبے میں ہے   کس نے محلوں کو اجاڑا کس نے لوٹی آبرو جاکے ویرانے سے پوچھو سب چھپا ملبے میں ہے   یہ نہ پوچھو کہ صدائے الاماں دیتا ہے کون؟ گونجتی ہے روز و شب جو بھی صدا ملبے میں ہے   جگنوؤں کی جگمگاہٹ چھینی کس نے روشنی بجھ گیا عادل جہاں میں جو دیا ملبے میں ہے   آج بھی ملبے میں ہے ہر سو دبی چنگاریاں آج بھی ہر سمت شعلہ جا بہ جا ملبے میں ہے   ڈاکٹر نصیر احمد عادل مہرولی،کمتول، دربھنگہ، بہار  [ مری آنکھوں میں  ہر دن وہ نئے سپنے

غزلیات

وقت لگتا نہیں پِھسلنے میں عمر لگتی ہے پھر سنبھلنے میں تْم کو معلوم کیا کہ تیرے بعد وہ مزہ بھی رہا نہ جلنے میں میری آنکھوں میں بس گئے ہو تْم عْمر لگ جائے گی نکلنے میں ابھی بیٹھو ذرا چلے جانا وقت باقی ہے شام ڈھلنے میں اب پتنگوں سے یہ تو پوچھوں گا زار کیا تھا یونہی مچلنے میں اِن چراغوں کی خیر ہو جاویدؔ عْمر اک ہو گئی ہے جلنے میں   سردارجاویدخان  پتہ،  مہنڈر، پونچھ رابطہ، 9697440404     اہلِ چمن کا خون ہُوا جا رہا ہے بے قابو یہ طاعون ہوا  جارہا ہے  چلن موت کا ہواکچھ عام یوںکہ   تھوک و پرچون  ہوا جا رہا ہے  نابود ہو کورونا کہ ہر بحث کا  بس یہی مضمون ہوا جا رہا ہے نظر آئے کووِڑ کو ہر شخص لیلیٰ  اور خود وہ مجنون ہوا جارہا ہے

غزلیات

محصور سا اب سر پہ گگن دیکھ رہا ہوں زنداں کی طرح اپنا وطن دیکھ رہا ہوں جو دل پہ گزرتی ہےبیاں اُسکا ہے مشکل میں سہما ہوا اپنا سخن دیکھ رہا ہوں آمد پہ بہاروں کی ہیں گلشن کی نگاہیں یژمردہ ہوئے سرؤ و سمن دیکھ رہا ہوں تھک ہار کے ہیں روح نے پر اپنے سمیٹے کچھ ٹوٹا ہوا اپنا بدن دیکھ رہا ہوں ہیں بستیاں جیسے کہ خزاں خوردہ گلستاں میں گھر میں کِھلے پھولوں کے بن دیکھ رہا ہوں ہر سمت نظر آتا ہے تحریک کا فقدان "میں وقت کے چہرے پہ تھکن دیکھ رہا ہوں"  ممکن ہے کوئی صور لئے چل ہی پڑا ہو افسردہ ہوئے کوہ دمن دیکھ رہا ہوں  آئینہءکردار پہ یہ گرد کی تہہ کیوں بسملؔ میں تیرا اور چلن دیکھ رہا ہوں   خورشید بسملؔ تھنہ منڈی، راجوری،موبائل نمبر؛9622045323     حُسن جب بھی جوان ہوتا ہے ہر قدم ام

غزلیات

پھول پتے بہار کیا معنی بن تْمھارے سنگھار کیا معنی   تْو نہ آئے گا میری سمت کبھی اب ترا انتظار کیا معنی   سارے چہرے اْداس لگتے ہیں ساقیا اب خْمار کیا معنی   اب حدیں توڑنے کی ٹھانی ہے درِ زنداں حصار کیا معنی   میری آنکھوں میں دْھند سی رہتی ہے اْس کے رْخ پر نکھار کیا معنی   دل کی دْنیا اْجڑ گئی جاویدؔ عشق کا کاروبار کیا معنی   سردارجاویدؔخان  مہنڈر، پونچھ،موبائل نمبر 9697440404       کل تلک خوشیاں ہی خوشیاں تھیں جہاں ہر بات میں ’موت آنسو بانٹتی ہے اب وہاں خیرات میں‘ زلزلوں نے اسقدر وحشت مچائی ذہن میں خوف شامل ہوگیا حرکات میں سکنات میں کھنڈروں میں ڈھونڈتے ہو عشق کی پرچھائیاں آرزوئیں چیختی ہیں اب یہاں صدمات میں

غزلیات

قرارِ عشق کی رسمیں نبھا کر دیکھ لیتا ہوں دلِ ناداں کو دیوانہ بنا کر دیکھ لیتا ہوں   خطا کاروں کو کس طرح نہیں ملتی تیری جنت تیرے دربار میں آنسو بہا کر دیکھ لیتا ہوں   کرم تیرا کہ اے اللہ میں اک خاک کا پتلا تیرے سنسار کو نظریں اٹھا کر دیکھ لیتا ہوں   یہ کارِ دوجہاں آباد ہے تیری مشیت سے میں ناداں ہوں جو قسمت آزما کر دیکھ لیتا ہوں   تیری ہی کارسازی کے تو یہ سارے کرشمے ہیں کہ میں فولاد گردوں میں اُڑا کر دیکھ لیتا ہوں   اے اللہ عشق میں آفاقؔ کا انجام کیا ہوگا؟ تیرے ہی واسطے ہستی مٹا کر دیکھ لیتا ہوں   آفاق دلنوی دلنہ بارہمولہ کشمیر موبائل نمبر؛ 700608727     محفل سجی ہے آج بڑے اہتمام سے لیکن گریز پا ہوا دل دھوم دھام سے   کیوں آج اس بہار م

غزلیات

اے جانِ وفادِل کو لُبھانے کے لئے آ آجائو ذرا درد مٹانے کے لئے آ   اُجڑا ہے میرے دل کا چمن تند ہوا سے اِک بار میرے گھر کو بسانے کے لئے آ   ویران پڑا ہے میرا کا شانۂ غربت اُلفت کے اِس مندر کو سجانے کے لئے آ   ہم تم میں رہے دوری گوارا نہیں لیکن حائل ہیں جو پردے وہ ہٹانے کے لئے آ   معصوم ؔسخنور کو وفاوئوں کا صلہ دے آئوئو ۔۔۔ تو سَدا ساتھ نبھانے کے لئے آ   مشتاق احمد معصومؔ حسینی کالونی، چھترگام، بڈگام موبائل نمبر؛06005510692     بے شک گردشِ شام وسحردو دِل کے ساتھ کُشادہ نظردو جس میں گزرے عمر ہماری رہنے کی خاطروہ گھردو اس دنیاسے تنگ بہت ہوں  میں اُڑ جائوں ایسے پَردو کہاں ہوں میں، معلوم ہواِتنا مجھ کومیری کوئی خبردو میرے لئے احسان یہ

غزلیات

شبِ ہجراں کی سیاہی کو مٹانے کے لیے  لوگ نکلے ہیں چراغوں کو جلانے کے لیے  کون پھرتا ہے سرِ شام مری بستی میں کون آیا ہے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے تیرے ہاتھوں کی جو مہندی ہے اُتر جائے گی خون کیا کم تھا ہتھیلی پہ سجانے کے لیے مجھ سے ایک بار کو بچھڑا تو بچھڑتا ہی گیا  میں نے کیا کچھ نہ کیا جاں تجھے پانے کے لئے امتحاں اور لیے جائیں گے آخر کب تک  کوئی حد بھی تو مقرر ہو دیوانے لے لیے آخری رسمِ محبت تو نبھاتے جائو کون آئے گا مری خاک اُڑانے کے لیے ایک پیماں ہے کہ مرنے نہیں دیتا جاویدؔ اب تو جینا ہے مراسم کو نبھانے کے لیے   سردار جاوؔید خان   پتہ مہینڈھر پونچھ، رابطہ 9419175198,9697440404       قہر یوں نفرتوں کا برسا ہے آدمی آدمی کو ترسا ہے   پھر

غزلیات

ہر ایک  سنگ شیشۂ افکار سے نکال اس بار خار خار کو گلزار سے نکال مجروح ہوگئی ہے مری فکرِ نازنیں منفی ہے سوچ! خنجرِ افکار سے نکال خوشبو ہوئی حرام محبت کے نام پر اُڑتا ہوا غبار بھی گلزار سے نکال واقف ہیں ہم بھی لذّتِ گریہ سے اب بہت احساسِ درد زخم کے دربار سے نکال کب تک اُٹھے گی موجہ ٔ خوں لفظ لفظ سے اب سرخیٔ لہو مرے اخبار سے نکال مری زمینِ شوق ٹھٹھرتی رہے گی کیا؟ سورج تو اپنا سایۂ دیوار سے نکال ضائع نہ کر یہ تلخیٔ جاں اِس طرح سُنو! جیون سے اپنے زہر بھی مقدار سے نکال تبدیل ہوگیا ہے جہانِ سراب بھی! عادلؔ شکن شکن تو بھی دستار سے نکال   اشرف عادلؔؔ کشمیر یونیورسٹی، موبائل نمبر؛7780806455       نتائج کچھ بھی ہوں لیکن یہ دل سنسان نکلے گا میرے دل سے تری یادوں کا ایک طوفان نکلے گا