تازہ ترین

غزلیات

خواب اچھا تھا مگر تعبیر سے خالی تھا جو جیسے خط محبوب کا تحریر سےخالی تھا جو سایۂ دیوار سے لٹکا ہوا اٹکا ہوا عالمی نقشہ ملا کشمیر سے خالی تھا جو آج بھی لائی تھی سطحِ آب پر موجِ چناب دل کسی رانجھے کا لیکن ہیر سے خالی تھا جو چھوڑ کر یہ کون دیوانہ گیا ہے یوں قفس دشت میں اک ڈھانچہ زنجیر سے خالی تھا جو سرد آہوں سے بھرا صندوق جب کھولا گیا درد کا البم ملا تصویر سے خالی تھا جو پھینک کر آئے جنوں کی وادیوں میں صبح تک اپنے حصے کا نشہ تاثیر سے خالی تھا جو ہم نے دل کی روشنی نیلام کردی رات بھر جھونپڑا شیدؔا ترا چھت گیر سے خالی تھا جو    علی شیدؔا  نجدون نیپورہ اسلام آباد،   موبائل  نمبر؛9419045087       زندگی کے سراب کا مارا ہوں مسلسل عذاب کا مارا  پڑھ نہ

نعت شریف

کلامِ الٰہی سے ہے سب عیاں بشر تو کرے بس حقیقت بیاں خُدا نے بنائے زمیں آسماں محمدؐ کی خاطر یہ کون و مکاں کیا نور اُن کا جُدا نُور سے ہوا جس سے رُوشن یہ سارا جہاں زمیں پہ اُتارا بڑی شان سے مٹایا ہے باطل کا نام و نشاں کیا اس پہ واجب درود و سلام ہے دینِ خُدا کا نبیؐ پاسباں مدعو کرکے رب نے بُلایا جہاں فرق قاب و قوسیں کا تھا درمیاں رُموزِ الٰہی کئے آشکار علوم و اَدب سے کیا جاوِداں مِلن تھا خُدا کا یہ محبوب سے بنا تھا نبیؐ کا خُدا میزباں محمدؐ نے رب سے جو مانگا وہاں وہی دے کے رب نے کیا شادماں مظفرؔ کرے رب سے بس یہ دعا گھرانہ نبیؐ کا رہے مہربان   حکیم مظفر ؔحسین باغبان پور، لعل بازار موبائل نمبر؛9622171322  

تازہ ترین