تازہ ترین

غزلیات

 زندہ رہنے کے لئے کوئی بہانا چاہئے زندگی جیسی بھی گزرے مسکرانا چاہئے اپنی چادر دیکھ کر ہی پاؤں پھیلائیں جناب استطاعت کے مطابق بوجھ اٹھانا چاہئے غم کی کیفیت کو چہرے پر نہ آنے دیں کبھی درد اپنا اک خدا کو ہی سنانا چاہئے واسطہ پڑتا ہے کم ظرفوں سے اب ہر گام پر رازِ دل ہرگز نہ ہر اک کوبتانا چاہئے درسگاہوں میں کہاں تہذیب زندہ رہ گئی یہ سبق بچوں کو گھر میں ہی پڑھانا چاہئے دوست کہنے میں بہت محتاط رہئے گا حضور اور جب کہدیں تو پھر رشتہ نبھانا چاہئے جنگ کی صورت کبھی پیدا نہ ہونے دیجئے ایسی دلدل میں کوئی دانا نہ آنا چاہئے مرغِ بسمل کی طرح ہیں نوجواں ہر شہر میں اب نئی بستی کو دھرتی پر بسانا چاہئے قول داناؤں کا  ہے اسکو رکھیں جاں سے عزیز کرکے نیکی ہم کو بسملؔ بھول جانا چاہئے   خورشید بسملؔ تھنہ منُڈى را