تازہ ترین

غزلیات

لوگ کانٹوں میں بھی پھولوں کی قبا چاہتے ہیں  ہم تو بس فرطِ محبت کا صلہ چاہتے ہیں  ٹِمٹما اُٹھے ہیں پھر سے تری یادوں کے چراغ  عین ممکن ہے کہ بُجھ جائیں ہوا چاہتےہیں عمر اک جن کو مٹانے میں گزاری تُم نے وہی جگنو تری محفل میں ضیاء چاہتے ہیں  غمِ فرقت میں اِن آنکھوں کو جلائے رکھا اور وہ ہیں کہ مجھے اور جلا چاہتے ہیں  ہم نے کب تُجھ سے چمکتا ہوا سورج مانگا ہم وہ پاگل ہیں کہ مٹی کا دیا چاہتے ہیں ابنِ مریم یہ مداوا مرے کس کام کا ہے زخم اک فصلِ بہاراں میں کُھلا چاہتے ہیں کوئی حد بھی تو مقرر ہو سزا میں جاوید ؔ فیصلہ تُجھ سے کوئی اور خدا چاہتے ہیں   سردارجاویدؔخان  میندھر پونچھ موبائل نمبر؛ 9419175198       یاد ُس کی ایسے مُسکانے لگی ہے دِل کے زخموں سے م