تازہ ترین

غزلیات

پھرتے ہیں مارے مارے یوں وحشت کے زاغ میں ہم کو پلا دے ساقیا کچھ غم ایاغ میں تیرا بدن ہے گویا ستاروں کی کہکشاں یا ہیرے ہیں جَڑے ہوئے شب کے چراغ میں نازک بدن کو تیرے ستائیں گی تتلیاں تنہا پھرا کرو نہ یوں خوابوں کے باغ میں یہ لوگ میری آنکھوں سے تجھ کو چُراتے ہیں اس بار ہم بنائیں گے نقشہ دماغ میں کانٹوں کے ساتھ ساتھ شگوفے بھی جل گئے ایسی لگی ہے آگ محبت کے باغ میں جو لطف غم کی آگ میں جلنے کا ہے میاں وہ لطفِ جاں کہاں ہے غموں سے فراغ میں داغِ جگر نے ہے مجھے شاعر بنا دیا واللہ کچھ تو بات ہے زخموں کے داغ میں    عاشق راہی ؔ   اکنگام اننت ناگ  موبائل نمبر؛6005630105     خار سے بھی اے صبا پیار میں کرتا رہا راستے میں جو ملا اپنا اُسے کہتا رہا کب رُکا تھا میں کبھی اُن ساحلوں کو دیک

غزلیات

پھیکا پھیکا سا ہے ماحول خُدا خیر کرے اپنی کشتی بھی گئی ڈول خدا خیر کرے   ہم تو دُنیا کی امامت کا سبق بھول گئے اب تو ہاتھوں میں ہے کشکول خدا خیر کرے   جب سے چھوڑاتُجھے ذلت نے ہمیں گھیر لیا اپنے ہاتھوں ہوئی چھترول خدا خیر کرے   کھو دیا ہم نے ہی بھیڑ میں چلنے کا ہُنر کجروی کھول گئی پول خدا خیر کرے   لاکھ پردوں میں بھی کردار نظر آتا ہے اپنا کردار تو ہے ڈھول خدا خیر کرے   ہم مسافر ہیں بشارتؔ تو سفر پر نکلیں راہ پُر پیچ ہے پُر ہول خدا خیر کرے   بشارت حسین بشارتؔ  مینڈھر، پونچھ موبائل نمبر؛7051925481   کر گیا مجروح مجھ کو اعتباری کا جنوں دل کو تڑپاتا رہا بس اضطراری کا جنوں زخمِ دل کرتا رہا آنسو کے دھاروں کی طلب آنکھ سے بہتا رہا یوں آہ و زاری کا جنوں

غزلیات

تمہاری نظر سے گرایا گیا ہوں تمہاری نگہ سے چُرایا گیا ہوں   چراغوں کے من میں اُتارا گیا ہوں ہوائوں کی شہ پر جلایا گیا ہوں   میں تیرے لبوں کے مقدر کا نغمہ کسی کے لبوں سےسُنایا گیا ہوں   میں اک آئینہ ہوں شکایت ہے مجھ کو فقط اندھوں کو کیوں دِکھایا گیا ہوں   سکندر سے جیتے بہت جنگ عادلؔ میں ہارے ہوئوں سے ہرایا گیا ہوں   اشرف عادلؔ کشمیر یونیورسٹی، سرینگر موبائل نمبر؛7780806455     چاند کے گرد جو یہ ہالہ ہے  میری الفت کا اک حوالہ ہے  مجھ کو رکھتا ہے ہر گھڑی بے کل  زیرِ پائے طلب جو چھالا ہے مجھ کو بھی نیند اب نہیں آتی   مجھ کو بھی عشق ہونے والا ہے اب کے کوئی خوشی نہیں دیکھی  غم نے ڈیرا جو گھر میں ڈالا ہے  جن کو خ

غزلیات

گھر سے نکلا تو نئی راہ گزر پہ نکلا چل کے دیکھا کہ پرانی ہی ڈگر پہ نکلا آنکھ بھر خواب سمندر میں کہیں چھوڑآؤں تشنگی لے کے سرابوں کے سفر پہ نکلا سنگِ تربت سا نشاںوقت نے چھوڑا جیسے اک تری یاد کا پھوڑا ہے جگر پہ نکلا چشمِ نم ہجر نے زرخیز یہ مٹی کردی دانۂ خستہ کہ گل شاخِ شجر پہ نکلا کون یہ بوجھ اُداسی کا اٹھائے لوگو اب جو قرعہ بھی اسی خاک بسر پہ نکلا کوئی سورج نہ کوئی چاند ستارہ چمکے ابر چھا جانے مرے عشق نگر پہ نکلا انگلیاںچاند پہ لوگوں نے اٹھائیں شیدؔا ایک تِل سادہ رخِ رشکِ قمر پہ نکلا   علی شیدؔا  نجدون نیپورہ اسلام ا?باد،   موبائل نمبر؛9419045087     غزل لوگ کانٹوں میں بھی پھولوں کی قبا چاہتے ہیں  ہم تو بس فرطِ محبت کا صلہ چاہتے ہیں  ٹِمٹما اُٹھے ہیں پھر

غزلیات

نکلی تھی جگنوئوں کی مٹکتی سیاہ رات روشن ہوئی نگاہ کی حد تک سیاہ رات   تاروں کا جال نوچ رہا تھا خیالِ یار لگتا تھا کررہی تھی فلک پر گناہ رات   اُس لذتِ گناہ کا ہلکا سا وہ خمار برسا رہی تھی اشکِ ندامت نگاہ رات   ویران میرے شہر کو دیکھا تمام دن بھرتی رہی فلک پہ لگاتار آہ رات   وہ پیار بھائیوں کا نکلتا ہے جب فریب یوسفؑ کو پھر سکھاتی ہے تدبیرِ چاہ رات   بادل نے آفتاب کو دن میں کیا اُداس پلکوں پہ پھر بٹھاتی رہی مہر و ماہ رات   اِک ہُوک سی اُٹھی تھی جگر سے فلک کے بھی تاروں سے جیسے مانگ رہی تھی پناہ رات   اشرف عادل کشمیر یونیورسٹی،موبائل نمبر؛7780806455     غزلیات جب بھی وہ کھل کے مسکراتی ہے دیر تک کائنات گاتی ہے   اس سے ملنا قر

قطعات

رونقِ زمین و زمان، یہ فتنۂ آسمان ہے کیا یقین اور گمان کی فضا کے درمیان ہے کیا وہ جو انجان ہے اپنے جوئے ذات سے بھی غرق بیخودی اب تلک صاحبِ ایمان ہے کیا ���   پھر وہی ہنگامہ پھر وہی شور ہوگا ہم نہ رہے یہاں تو کوئی اور ہوگا اس بزم الم کا کچھ نہیں بدلنے والا نئے لباس میں پھر وہی دور ہوگا   ��� اس ترک تعلق، اس بے رُخی کی وجہ بتاتی جا کیا ہوئی وہ پہلی سی محبت، وہ وعدہ وفا بتاتی جا وہ کیا روٹھے کہ روٹھ گیا سارا جہاں مجھ سے اے بادِ صبا اب تو ہی اس کو حال میرا بتاتی جا   میر شہریار سریگفوارہ اننت ناگ موبائل نمبر؛7780895105

غزلیات

مرےرُوبہ رُو تُو ہے جلوہ گر مجھے دیکھنے کا کرم تو دے تِرا عکس جِس میںسدا رہے مُجھے ایسا دیدئہ نم تو دے   جو کلام تجھ سے ہو رُو بہ رُو تو بہم طویل ہو گفتگو میں سدا رہوں تری خاکِ پا مجھے یہ شرف اَے صنم تو دے   مِری زندگی کی بیاض میں تِری عظمتوں کی ہو داستاں تِرا ذکر جِس کی ہو نوک پر مرے ہاتھ وہ قلم تو دے   مِرا شوق رختِ سفر مرا تری دید منزلِ زندگی جو لگائیں منزلِ شوق پر مجھے تیز رَو وہ قدم تو دے   ہے مِزاج میرا جومنفرد ہے کلام میرا جو دِل نشیں تری رہنمائی کی ہے عطا مری فکر کو یہ بھرم تو دے   یہ عُشاقؔ در پہ کھڑا ہے جو تِرے آستان کا فقیر ہے تُو ہے بادشاہِ سخن اِسے تُو متاعِ لوح و قلم تو دے   عُشاقؔ کشتواڑی صدر انجمن ترقی اُردو (ہند) شاخ کشتواڑ موبائل نمبر؛9697524469  

غزلیات

  درد کے راستوں میں رہتا ہے وہ فقط سازشوں میں رہتا ہے گُھپ اندھیرا گھروں میں رہتا ہے بغض جب تک دلوں میں رہتا ہے اُس کو دنیا نظر میں رکھتی ہے وہ سدا آئنوں میں رہتا ہے خار جیسے گلوں میں رہتے ہیں وہ مرے دوستوں میں رہتا ہے ظلم کے بادلوں کے سائے میں آدمی جنگلوں میں رہتا ہے موج و طوفاں سے اس کو کیا مطلب وہ تو بس بزدلوں میں رہتا ہے حق کی آواز وہ نہیں سنتا کیونکہ وہ حاکموں میں رہتا ہے جب سے اس ماہ رخ کو دیکھا ہے دل مرا جگنوؤں میں رہتا ہے جب تلک ہو ہوا مخالف شمسؔ حوصلہ شہپروں میں رہتا ہے   ڈاکٹر شمس کمال انجم صدر شعبۂ عربی بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری موبائل نمبر؛9086180380      اب کے وہ بس چیختا ہے دشت&n

غزلیات

    غزلیات وہ شخص اپنی زات میں گہرا بہت لگا لہجہ اگرچہ تلخ تھا سچا بہت لگا یاروں نے یاسیت  کا کیا دائمی مریض اس انتخاب میں ہمیں دھوکا بہت لگا اس شہرِ نامراد کی صورت عجیب ہے  ہر فرد اپنے آپ میں اُلجھا بہت لگا اک انجمن کے روپ میں ملتا تو تھا مجھے دیکھا قریب سے تو وہ تنہا بہت لگا تھاسحر ایسا اُسکی شناسائی میں نہاں "مغرور ہی سہی مجھے اچھا بہت لگا" بیزار و بیقرار تھے بستی کے لوگ سب یہ اور بات ہر کوئی ہنستابہت لگا اپنا امیرِکارواں شہرت کے نام پر مشہور تو نہیں مجھے رُسوا بہت لگا یہ گُلشنِ حیات بھی بسملؔ عجیب ہے اس کا ہر ایک پھل مجھے پھیکا بہت لگا   خورشید بسملؔ تھنہ منڈی راجوری موبائل نمبر؛9622045323     وارثانِ حجاب آتے ہیں  پردے میں آفت

قطعات

جہانِ رنگ و بُو ظاہر پرستی جہانِ قلب و باطن سوز و مستی  وہ فتنہ اور ظلمت کا ہے ساماں  یہ نورِ معرفت عرفانِ ہستی    اسی عقدہ میں ہے عُقدہ کشائی  کلی کھِل کر یہی پیغام لائی نہ گبھرانا تو اے دِل مشکلوں سے صبح ہو ہی گئی جب رات آئی   خلوص و درد اور دِل کی صفائی دلوں میں ہم نے یہ خصلت نہ پائی  ہے جلنا اور جلانا جس کا شیوہ وہ خصلت کیوں دِلوں کو راس آئی   دلِ بیدار صدرِ لامکاں ہے یہی اسرارِ حق کا رازداں ہے  یہی انوارِ حقاّنی کا مسکن  یہی بزم جہاں کا پاسباں ہے    بشیر احمد بشیرؔ (ابن نشاطؔ)کشتواڑی  ضلع کشتواڑ ،موبائل نمبر9018487470

غزلیات

 تم کتنے پانیوں میں ہو سوچا کرو کبھی  خاموشیوں کے شہر میں جایا کرو کبھی ہو مخملی سی رات تو جاگا کرو کبھی  اور خاروخس کی سیج پہ سویا کرو کبھی  لگ جائے آپ کو نہ کہیں اپنی ہی نظر تم آئینے کو ایسے نہ دیکھا کرو کبھی  ایسا نہ ہو کہ اپنا پتہ ڈھونڈتے پھرو  تم اپنے پاس خود کو بھی رکھا کرو کبھی  آلائشوں سے پاک بدن کی ہو جستجو پھرآنسؤوں سے قلب کو دھویا کرو کبھی  ہر بار جیتنے کا جنوں چھوڑ دو میاں تم ہار جاؤ ایسا بھی کھیلا کرو کبھی بسملؔ بہت ہی دیکھ لئے تم نے پارسا زناریوں کے پاس بھی بیٹھا کرو کبھی   خورشید بسملؔ تھنہ منڈی راجوری موبائل نمبر؛9622045323     جب بھی خوابوں میں لایا غزل ہو گئی اُ ن کے با ر ے میں سوچا غزل ہوگئی شب کی پلکو ں پہ تا

غزلیات

جب بھی پکارتا ہے کوئی رُوبہ رُو مجھے کرتا ہے اپنے فیض سے وہ مُشکبو مجھے   پیری میں پلٹ آگیا پھر سے شباب و شوق بھانے لگی ہے یار کی پھر گفتگو مجھے   رہتا خیال پھر نہ مجھے اپنے آپ کا پھر کوستا ہے آخرش یہ من و تُومجھے   یخ بستہ میری سوچ کا ساگر ہوا تو کیا بہنے کو اب بھی رُود سی ہے جُستجو مجھے   ماحول میں ایسے مِیاں نالہ بہ لب ہو کیوں بھاتا نہیں ہے آپ کا یہ ہائو ہُو مُجھے   اِس عُمر میں عُشاقؔ پھر یہ ذوقِ تجسّس یہ راز ہائے شوق تُو سمجھا کبھوُ مُجھے   عُشاقؔ کشتواڑی صدر انجمن ترقی اُردو(ہند) شاخ کشتواڑ موبائل نمبر؛9697524469       محبت کی فضا ہے اور میں ہوں نیا  یہ  راستہ  ہے  اور  میں ہوں ہنسی میرے لبوں پر کھیلتی ہے

غزلیات

اس شہر شعلہ زار میں جلتے رہے چنار  اس خطۂ زمیں پہ سُلگتے رہے چنار  انساں کی بے حسی سے لرزتے رہے چنار  کٹتے رہے چنار تڑپتے رہے چنار  کچھ آمد بہار سے ڈرتے رہے چنار  کچھ آمدِ خزاں سے سلگتے رہے چنار  سرگوشیاں خزان نے کیں جب بہار میں  موسم کے سارے راز اگلتے رہے چنار ہر شاخ پر سلگتا ہے موسم بہار کا  کتنے ہی حادثوں سے گزرتے رہے چنار  آب و ہوا کی جانے وہ تاثیر کیا ہوئی  گل کی طرح یہاں کبھی کھلتے رہے چنار  جب موسم خزاں نے دی دستک ہراک طرف  عادل ردائے سرخ میں جلتے رہے چنار    اشرف عادل کشمیر یونیورسٹی حضرت بل سرینگر کشمیر  موبائل نمبر؛7780806455       بھائی چارے باہم کی ریت پُرانی چاہئے! سب ٹھیک ہوگا، خُدا کی مہربانی

غزلیات

گُماں ہی گُماں  کھو رہا ہے میرا وجود مجھے تھام لے کوئی رُوح کو میری میں کہاں جم گیا نہیں معلوم پر سِمٹ کر بِکھر رہا ہوں میں   کون ہوں میں؟ کہاں رہا ہوں میں؟   ایسے ہوں چند ہی سوال ترے تو بتا میں جواب کیوں کر دوں   جبکہ میں اک گُماں ہوں فقط اک گُماں میرا کوئی مثالیہ ہی نہیں   احمد پاشاؔ جی بڈکوٹ ہندوارہ اے۔پی شعبۂ اردو ڈگری کالج ہندوارہ         غزلیات مشکلوں کے بیچ ساری زندگی! کب ملی ہے اختیاری زندگی ؟ چھوڑ کر دامن تمہارا کیا ملا ؟ پھر رہی ہے ماری ماری زندگی! پاس رشتوں کا ،  نہ کچھ کردار کا  ہو گئی ہے کاروباری زندگی! شاخِ گُل پر قطرہء تیزاب سی  دوستو ، ہم نے گذاری زندگی! اس سے بڑھ کر وقت کیا ہوگا بُرا ؟ 

نعتِ حبیب ﷺ

وطن کے لیے ہےمدینے کی چاہت  مجھے خوشبوؤں میں ہے جینے کی چاہت   میں مشک و ختن عودکو کیا کروں گا مجھے ہے نبی ﷺ کے پسینے چاہت   جو پہنچادے ہم کو دیار  نبی تک ہمیں تو ہے ایسے سفینے کی چاہت   مرے دل کو چاہے ہے عشقِ نبی یوں انگو ٹھی کو جیسے نگینے کی چاہت   مٹادے خیالاتِ جام و سبو تو اگر جام کوثر ہے پینے کی چاہت   تو پھر نقش پائے نبی ﷺڈھونڈ’’زاہدؔ‘‘ دوعالم کی گر ہے خزینے کی چاہت   محمد زاہد رضابنارسی  دارالعلوم حبیبیہ رضویہ  گوپی گنج،ھدوہی،یوپی انڈیا        

غزلیات

چلن عشق کا ہے وفا کیجیے ہے جب حُسن کہتا جفا کیجیے ہے یہ موت اور زندگی کا سوال کبھی دل نہ دل سے جدا کیجیے دکھاوا کہاں اور محبت کہاں نہ ہم سے یہ مکر و ریا کیجیے خدا کا بھی دیکھا طریقہ یہی کہ خلوت میں اُس سے ملا کیجیے کھٹکتا جو غم آپ کے دل میں ہے وہ غم کچھ ہمیں بھی عطا کیجیے مجھے آپ کا غم گوارا نہیں خدارا سدا خوش رہا کیجیے کوئی چارہ گر ہو نہ جب اے بشیرؔ تو اپنے خدا سے دعا کیجیے   بشیر احمد بشیرؔ (ابن نشاطؔ) کشتواڑی کشتواڑ، موبائل نمبر؛7006606571     نظر کر رہی ہے اثر رفتہ رفتہ اٹھی ہیں ہمیں پر نظر رفتہ رفتہ ذرا تم کرو دل کی باتیں او جاناں کسی دم بھی کرلو مگر رفتہ رفتہ پرندوں کو گھر میں جگہ دے دو یارو کہ کم ہو رہے ہیں شجر رفتہ رفتہ نشے میں گزاری گئی ہیں جو راتیں وہ راتیں

غزلیات

غزل  تیرے دم سے جہان قائم ہے یہ زمیں آسمان قائم ہے دوریاں مِٹ گئیں مگر پھر بھی فاصلہ درمیان قائم ہے دل بدلتا ہے تو بدل جائے عہد و پیماں زبان قائم ہے کیا ہُوا میرے پُر نہیں نکلے حوصلوں میں اُڑان قائم ہے جسم میرا بکھر گیا لیکن دل میں تیرا مکان قائم ہے گرچہ ہوش و حواس بس میں نہیں پھر بھی تیرا دھیان قائم ہے کوئی کہہ دے عدو سے اے جاویدؔ مسجدوں میں اذان قائم ہے     سرداجاویدؔخان مینڈر،پونچھ موبائل نمبر؛ 9419175198         غزلیات پَل بھر میں  برسوں کا رشتہ توڑ دیا  پتھر ِدل نے آخِر شیشہ توڑ دیا    دیکھ کے اُسکو، پھِر دانستہ دیکھ لیا اِک لغزش نے میرا روزہ توڑ دیا   شاید اُسکی فطری غیرت جاگ اٹھے ہم نے 

غزلیات

کبھی تو پاس بارش کے بہانے ،بیٹھ جاؤ  ملیں گے پھر کہاں ایسے ٹھکانے ،بیٹھ جاؤ  نہیں تابِ نظر مجھ کو جُھلس جاؤں گا جاناں  کہاں سے آ گئے بجلی گرانے ،بیٹھ جاؤ  کہا ں تنہا ئی کا پھر ر و ز یہ مو سم ملے گا  ہوئے ملنے کو یوں کتنے زمانے ،بیٹھ جاؤ  پپہیا او ر کو ئل ڈ ا ل پر کیا کہہ ر ہے ہیں  سُنیں مل جُل کے یہ نغمے سُہانے ، بیٹھ جاؤ کبھی نظر یں ہٹا کر آئینے سے ہم کو دیکھو کھڑے ہیں ہم بھی زُلفوں کو سجانے ،بیٹھ جاؤ  بھڑکتے ہیں مرے جذبات جب بھی د یکھتا ہوں شُعاعیں تجھ کو آتی ہیں جگانے ،بیٹھ جاؤ  بہت آ سا ن ہے کر نا مگر یہ سو چ لینا  کہاں آ پا ؤ گی و عد ہ نبھا نے ،بیٹھ جاؤ  تمہارے حُسن پر لکھی ہیں میں نے آج تک جو تمہیں آیا ہوں وہ غزلیں سُن

غزلیات

منافقوں کے شہر میں ہے مشکلوں میں  جاں یہ جا بھی چھوڑ دوں تو پھر میں جائوں گا کہاں   جو کل تھے دھڑکنوں میں دمِ صبح کی نودید وہ لوگ سب گئے کہاں ہیں بس خموشیاں   میرا تو روم روم ہے تمہارا قرض دار اُتار کر ہی جا  میں پائوں سوئے آسماں   اگر چہ اب سبھی نے کی ہیں کھڑکیاں بھی بند چُھپا سکیں گے کس طرح چراغ کا  دھواں   عزیزِ جاں یہ  نام و نسب سب  نصیب کا مِرا ہے کیا یہ شبد ہی رہیں گے اک نشاں   مشتاق مہدیؔ مدینہ کالونی۔ ملہ باغ حضرت بل سرینگر موبائل  نمبر9419072053     تم نے سیکھا سیاستیں کرنا  ہم سے پوچھو محبتیں کرنا  تیری فطرت ہے تتلیوں جیسی  شاخِ گل پر شرارتیں کرنا  کیا عدالت یہی ہے سورج کی  تیرگی کی وکالت

ایک عورت کی کہانی اسکی زبانی

بھیگی پلکیں میری پڑھ لو اشک فشانی لکھتی ہوں   ایک ابھاگن عورت ہوں میں اپنی کہانی لکھتی ہوں  عورت ہی نے جنم دیا اور عورت ہونا سکھلایا دکھ کے آگے اف نہ کرنا بچپن ہی میں بتلایا  بچپن ہی سے دیکھا گھر میں ’’رائے‘‘ کی کچھ اوقات نہی  میں تو ہوں اک موم کا پتُلا میری کوئی ذات نہی  میری انّا کو ٹھیس  ہی پہنچی اپنے ان بے دردوں سے  میں تو اکثر سنتی آئی گھر کے سارے مردوں سے  جا کر تم خاموش رہو ہاں تم سے کس نے پوچھا ہے  کمرے میں روپوش رہو تم ،تم سے کس نے پوچھا ہے بھائی چاہے جو بھی کر لیں ان کو تو آزادی ہے  میری خواہش بھی تو پوچھو دل میرا فریادی ہے میری اس فریاد میں لوگو ایک ذرا سا جھوٹ نہیں  اپنا جیون ساتھی چُُن لوں مجھ کو اتنی چھوٹ نہیں  جب بھی چاہا جس سے چا