غزلیات

 کوئی پتھر نہ کوئی ہیرا نہ تارا ہوگا روشنی دیتا ہے تو اشک ہمارا ہوگا   جو بھی دیوانے کو جی جان سے پیارا ہوگا سنگِ اوّل بھی اُسی دوست نے مارا گیا   جو کوئی عرش پہ گردش میں ستارا ہوگا اے صنم وہ بھی تِرے ہجر کا مارا ہوگا   عمر بھر بھول نہ پائے گی کبھی بھی شبنم پھول کے پہلو میں جو وقت گذارا ہوگا   ہم کو معلوم ہے کیوں ہو نہ سکے وعدے وفا آپ کے وعدوں کے اَلفاظ میں پارا ہوگا   ایک سے ایک حسیں آئیں گے کاندھا دینے میری میت پہ بھی جنت کا نظارا ہوگا   یہ تو گِرداب کی اَوقات نہیں تھی پنچھیؔ جس جگہ ڈوبی ہے کشتی وہ کنارا ہوگا   سردارپنچھیؔ جیٹھی نگر، مالیر کوٹلہ روڈ، کھنہ پنجاب موبائل نمبر؛09417091668   بات ہے اب کے مرے وہم و گماں سے آگے ہے نگہ جلوہ ط

تازہ ترین