تازہ ترین

بابا گیل لمبر بونیار بنیادی سہولیات سے محروم | مقامی آبادی گوناگوں مسائل سے دوچار

اوڑی//بونیار تحصیل ہیڈ کواٹر سے تقریباً14کلو میٹر دور بابا گیل لمبر نامی گائوں بنیادی سہولیات سے محروم ہے جس کے نتیجے میں لوگوں کو طرح طرح کے مشکلات کا سامنا ہے۔ گائوں کے ایک باشندے غلام قادر نے بتایا کہ کئی سال قبل پی ایم جی ایس وائی محکمہ نے لمبر سے بابا گیل تک سڑک تعمیر کی جو اب کھنڈرات میں تبدیل ہو گئی ہے اورگاڑیوں کی نقل و حرکت مشکل بن گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ پی ایم جی ایس وائی اور وائلڈ لائف محکمہ کے درمیان تال میل نہ ہونے کی وجہ سے ابھی تک اس سڑک پرمیکڈم نہیں بچھایا گیا ۔ غلام قادر نے بتایا کہ باباگیل کے بالکل نزدیک جنگلی جانوروں کی ایک پناہ گاہ ہے جہاں مختلف قسم کے جنگلی جانور اور پرندے پائے جاتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ یہاں اکثر انسانی جانوں کو جنگلی جانوروں کا خطرہ رہتا ہے جو اکثر مویشیوں کو نشانہ بنانے کے علاوہ فصلوں کو بھی شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ گائوں میں

نی پورہ سڈورہ سڑک مکمل کرنے کا مطالبہ

کولگام// ضلع کولگام کے نی پورہ سڈورہ سوا دو کلو میٹر رابطہ سڑک تعمیر کرنے کیلئے پی ایم جی ایس وائی محکمہ نے کام شروع کیا تھا اور دو کلو میٹر سڑک پر میکڈم بھی بچھایا گیا لیکن سڑک کا ایک بڑا حصہ تاحال خستہ حال ہے ۔مقامی لوگوںنے بتایا کہ آدھے کلو میٹر سڑک پر میکڈم نہیں بچھایا گیا جس کی وجہ سے انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔لوگوں نے موسم سرما سے قبل ہی سڑک کو مکمل کرنے کا مطالبہ کیا ۔  

کنگن میں خاتون ریچھ کے حملے میں زخمی

کنگن// ضلع گاندربل کے کنگن علاقے میں اس وقت سنسنی اور خوف و دہشت کا ماحول پیدا ہوگیا جب پاور ہائوس کنگن کے نزدیک شاہینہ زوجہ جان محمد میر ساکن کنگن نامی خاتون پر ریچھ نے حملہ کیا جس کے نتیجے میں خاتون شدید زخمی ہوگئی جس کو علاج و معالجہ کیلئے سب ڈسٹرک ہسپتال کنگن منتقل کیا گیا جہاں سے زخمی خاتون کو بہتر علاج و معالجہ کیلئے صورہ میڈیکل انسٹی چوٹ منتقل کیا گیا۔  

ادبی مرکز کمراز کی ڈاکٹر عزیز حاجنی کی یاد میں آن لائن تعزیتی تقریب

سرینگر//ادبی مرکز کمرازکی طرف اپنے سرپرست ڈاکٹر عزیز حاجنی کی یاد میں ایک آن لائن تعزیتی تقریب منعقد ہوئی۔تقریب میں وادی سے باہرادیبوں ، دانشوروں اور قلمکاروں کی ایک کثیر تعداد نے خراج عقیدت پیش کیا۔مجلس کا آغاز مرکز کے جنرل سیکریٹری شبنم تلگامی نے کیا۔انہوں نے ڈاکٹر حاجنی کی تنظیم سازی اور ان کی مقتدر شخصیت کا بچھڑنا کشمیری زبان کیلئے ایک بڑا نقصان قرار دیا۔سب سے پہلے مرکز کے صدر محمد امین بٹ نے کلیدی خطبہ پیش کیا اود ڈاکٹر حاجنی کی شخصیت کے مختلف گوشوں کو اجاگر کیااور ادبی مرکز کمراز کے تئیں ان کی شاندار خدمات کو سراہا۔پروگرام میں ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں رہنے والے مقتدر ادبا،شعراء اور دانشوروں نے مرحوم ڈاکٹر حاجنی کی خدمات کو سراہا اور ان کی المناک موت کو ایک عظیم سانحہ قرار دیا،جس سے جموں و کشمیر کے زبان وادب میں ایک خلا پیدا ہوا۔ان دانشوروں میں ساہتیہ اکیڈمی میں ہندی کے ایڈ

پکھر پورہ بڈگام میں پولیس دربار

بڈگام//عوامی کے ساتھ بہتر تال میل بنائے رکھنے کی خاطر پکھر پورہ بڈگام میں پولیس کی جانب سے عوامی دربارکا انعقاد کیا گیا ۔ پولیس چوکی پکھر پورہ میں منعقد اس میٹنگ کی صدارت ایس ڈی پی او چرار شریف سلیم جہانگیرنے ایس ایچ او چرار شریف اور ڈی او پکھر پورہ کے ہمراہ کی۔ میٹنگ میں معزز شہری اور مختلف مساجد کے نمائندے ، محلہ کمیٹیاں ، ٹرانسپورٹرز اور علاقے کے دیگر قابل ذکر افراد نے شرکت کی۔ میٹنگ کے دوران ، شرکاء نے پولیس اور سول انتظامیہ سے متعلق مختلف شکایات اٹھائیں۔ پولیس افسران نے شرکاء کو یقین دلایا کہ پولیس سے متعلق ان کی حقیقی شکایات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا اور سول انتظامیہ سے متعلقہ مسائل ان کے جلد ازالے کے لیے متعلقہ افراد کے ساتھ اٹھائے جائیں گے۔ شرکاء کو کوویڈ 19کی تیسری لہر کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے اختیار کیے جانے والے احتیاطی اقدامات کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔اجل

سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر | 2روزہ’ تشخیص کارواقفیت پروگرام ‘شروع

گاندربل//سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیرکے وائس چانسلر پروفیسر معراج الدین میر نے منگل کو 2روزہ ’تشخیص کارواقفیت پروگرام‘ (اے او پی) کا افتتاح کیا جس کاانعقاد مشترکہ طور پر نیشنل اسسمنٹ اینڈ ایکریڈیشن کونسل (این اے اے سی) اور سنٹرل یونیورسٹی آف کشمیرنے یونیورسٹی کے تولہ مولہ کیمپس میں کیا۔اپنے صدارتی خطاب میں وائس چانسلر پروفیسر معراج الدین میر نے کہا کہ تشخیص کرنے والوں کا کردار اعلیٰ تعلیمی اداروں کا جائزہ لینے کیلئے جانا معروضی اور غیر جانبدارانہ ہونا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ تشخیص کاروں کو کبھی بھی اپنے ادارے کے ساتھ موازنہ نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی اسے ملک میں کام کرنے والے بہترین اداروں کے ساتھ موازنہ کرنا چاہیے۔ پروفیسر معراج الدین میر نے کہاکہ تشخیص کو 35:65 میں تقسیم کیا گیا ہے ، جن میں سے 70 فیصد ادارہ کی جانب سے آن لائن جمع کرائی گئی معلومات کو دیا جاتا ہے جبکہ باقی30 ف

مزید خبریں

سکل ڈیولپمنٹ مشن کی تیسری گورننگ کونسل کا اجلاس منعقد | بھٹناگر کاتجارت اور ہُنر مندی کے کورسزمتعارف کرنے پرزور  نئے نصاب میںروز گار کے مواقع کے امکانات پرتوجہ دی جائے:فاروق خان  سرینگر //لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر راجیو رائے بٹھناگر نے سول سیکرٹریٹ میں جموں و کشمیر اسکل ڈیولپمنٹ مشن ( جے کے ایس ڈی ایم ) کی تیسری گورننگ کونسل میٹنگ کی صدارت کی ۔ اجلاس میں لیفٹینٹ گورنر کے مشیر فاروق خان ، پرنسپل سیکریٹری ایس ڈی ڈی ڈاکٹر اصغر حسن سامون ، پرنسپل سیکرٹری سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ ( ایس ای ڈی ) بی کے سنگھ ، کمشنر سیکرٹری محنت و روز گار سریتاچوہان ، سیکرٹری قبائلی امور اور مشن ڈائریکٹر جے کے ایس ڈی ایم ڈاکٹر شاہد اقبال چودھری ، سیکرٹری منصوبہ بندی ، ترقی ، مانیٹرنگ اور اعلیٰ تعلیم سشما چوہان ، سیکرٹری سیاحت و ثقافت سرمد حفیظ ، سیکرٹری ایس ڈی ڈی ناظم ضیاء خان ، سیکرٹری دیہی ترقی

۔24گھنٹوں میں کوئی فوتیدگی نہیں،150کا اضافہ

سرینگر //پچھلے 24گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد میں سے 50فیصد کا تعلق ضلع سرینگر  سے ہے۔ پچھلے 24گھنٹوں کے دوران جموں و کشمیر میں کورونا وائرس کی تشخیص کیلئے 49ہزار 481ٹیسٹ کئے گئے جن میں 14مسافروں سمیت 150افراد کی رپورٹیں مثبت آئی ہیں۔ متاثرین کی مجموعی تعداد 3لاکھ 27ہزار کا ہندسہ پار کرکے 3لاکھ 27ہزار 140ہوگئی ہے۔ اس دوران دوسرے دن بھی کورونا وائرس سے کسی کی موت نہیں ہوئی ہے۔ متوفین کی مجموعی تعداد 4414بنی ہوئی ہے۔ گذشتہ 24گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے 150افراد متاثر ہوئے ہیں جن میں38جموں جبکہ 112 کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔ کشمیر سے تعلق رکھنے والے 112افراد میں سے 5بیرون ریاستوں اور ممالک سے سفر کرکے وادی پہنچے جبکہ دیگر 107افراد مقامی سطح پر رابطے میں آنے کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں۔ کشمیر کے 112متاثرین میں سرینگر میں سب سے زیادہ 75، بارہمولہ میں 10، بڈگام

شتکڑی سونہ مرگ سڑک ناقابل آمدورفت

کنگن//ریزن سے شتکڑی سونہ مرگ تک سڑک خستہ حال ہونے کے نتیجے میں ٹرانسپورٹروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ سڑک پر  جگہ جگہ گہرے کھڈبن جانے کی وجہ سے گاڑیوں کو نقصان ہورہا ہے۔ ٹرانسپورٹروں پر مشتمل ایک وفد نے بتایا کہ گاندربل ضلع کے ریزن سے شتکڑی سونہ مرگ تک سرینگر سونہ مرگ سڑک خستہ حال ہوچکی ہے جس کے نتیجے میں ٹرانسپورٹروں کو نقصان سے دوچار ہونا پڑتاہے۔ ٹرانسپورٹروں نے کہا کہ اگر ریزن سے شتکڑی ٹول پوسٹ تک باڈر روڈ آرگنائزیشن نے میکڈم نہیں بچھایا جس کی وجہ سے شاہراہ پر چلنے والے ٹرانسپورٹروں کو روزانہ ہزاروں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بیکن اس سڑک کی مرمت کرتی ہے نہ میکڈم بچھایا جارہا ہے۔ انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ ریزن سے شتکڑی تک سڑک پر میکڈم بچھایا جائے تاکہ انہیںمزید نقصان سے دو چار نہ ہونا پڑے۔