تازہ ترین

سیاحتی مقام اہر بل جنگلات کا وسیع محاصرہ | تصادم آرائی میں جنگجو جاں بحق، آپریشن جاری

شوپیان// مشہور سیاحتی مقام اہرہ بل علاقے میں پیر کو مسلح تصادم میں ایک جنگجو جاں بحق ہوا۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ لشکر کا اعلیٰ کمانڈر تھا۔ علاقے میں مزید جنگجوئوں کی موجودگی کے شبہ کے پیش نظر آپریشن رات بھر کیلئے ملتوی کردیا گیا ہے۔پولیس نے بتایا کہ اہربل سے قریب دو کلومیٹر دور چیرن بل نامی جنگلاتی علاقے میں جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی جس کے بعد درمیانی شب  62آر آر،14بٹالین اور پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ نے قریب دو کلو میٹر کا راستہ پیدل طے کیا اور صبح 7بجے آپریشن شروع کیا۔ اہربل سے مذکورہ علاقے تک کوئی راستہ نہیں جاتا ہے۔جنگلاتی علاقے کا آپریشن دن بھر جاری رہا اور شام 5بجے سیکورٹی فورسز کا جنگجوئوں کیساتھ آمنا سامنا ہوا جس کے دوران طرفین میں گولیوں کا شدید تبادلہ ہوا جس میں ایک مقامی جنگجو جاں بحق ہوا۔سیکورٹی فورسز نے اسکے بعد مزید جنگلاتی علاقے کو محاصرے میں لیا اور

بنواس گاندربل میں بجلی کی عدم دستیابی

گاندربل//گاندربل کے علاقہ اندرون کی پہاڑی کے دامن میں واقع بنواس میں لگ بھگ چالیس سے پچاس کنبے موسم گرما کے چار مہینوں کیلئے رہائش اختیار کرتے ہیں لیکن بجلی سہولیات میسر نہ ہونے سے سینکڑوں طلباء آن لائن پڑھائی سے محروم ہیں۔اندرون علاقہ گاندربل قصبہ سے صرف بارہ کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے اور بنواس اندرون سے محض آدھا کلومیٹر دور ہے۔اندرون کے چالیس سے پچاس کنبے موسم گرما میں مویشیوں کو لیکر بنواس چلے جاتے ہیں جہاں ان کے لئے رہائش کی خاطر کوٹھے بنے ہوئے ہیں۔بنواس میں موجودلوگوں نے بتایا کہ دہائیوں سے وہ گرمیوں کا موسم شروع ہوتے ہی اندرون سے تین چار مہینوں کے لئے بنواس ہجرت کرتے ہیں تاکہ ان کے مویشیوں کو  کو سرسبز گھاس کھانے کو مل سکے۔ انہوںنے کہا کہ کووناکی وجہ سے آن لائن طرز تعلیم جاری ہے لیکن ان کے بچے بجلی کی سہولیات میسر نہ ہونے سے اس آن لائن پڑھائی سے محروم ہیں ۔انہوں نے کا ک

صورہ اوڑی رابطہ سڑک اور دیگر بنیادی سہولیات سے محروم

اوڑی//اوڑی حدمتارکہ پر واقع صورہ نامی گائوں میںرابطہ سڑک اور دوسری بنیادی سہولیات کے فقدان کی وجہ سے لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔یہ گائوں حاجی پیر سیکٹر میں بالکل حدمتارکہ پر واقع ہے۔ رابطہ سڑک نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کی آبادی کو گھروں تک پہنچنے کے لئے چھ کلو میٹر ے قریب سفر پیدل طے کر نا پڑتا ہے۔ایک مقامی شہری محمد عثمان نے بتایا کہ انہوں نے کئی بار حکام سے رابطہ سڑک تعمیر کرنے کامطالبہ کیا لیکن کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔انہوں نے کہا کہ ہندو پاک افواج کے درمیان جنگ بندی معاہدے کے بعد سرحدیں خاموش ہیں جو خوشی کی بات ہے لیکن آرپار گولہ باری ہو یا دیگر صورتحال ،رابطہ سڑک نہ ہونے کی وجہ سے انہیں طرح طرح کے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ایک اور شہری نے بتایا کہ ان کے علاقے میں کوئی راشن گھاٹ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ نزدیکی گائوںموٹھل میں راشن گھاٹ قائم کیا گیا تھا لیکن کچھ عرصہ قبل وہ ر

سینٹرل یونیورسٹی اور دامودر سنجیویا نیشنل یونیورسٹی کے درمیان مفاہمت | قانونی تحقیق کوفروغ دینے پر رضامند

گاندربل//سینٹرل یونیورسٹی کشمیر کے اسکول آف لیگل اسٹڈیز اور دامودرم سنجیویا نیشنل یونیورسٹی وشاکھاپٹنم نے ہندوستان میں قانونی تحقیق کو فروغ دینے کے لئے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔دونوں اداروں نے مستقبل میں باہمی تعاون سے متعلق تعلیمی فروغ کے لئے 25 جولائی 2021 کو ایک مفاہمت نامہ پر دستخط ثبت کئے۔ایم او یو طلبا اور اساتذہ کو قانونی تبادلہ اور قانونی تحقیق میں مزید پیشرفت کے مواقع فراہم کرتا ہے اور تعلیمی تعامل کے لئے مواقع پیدا کرے گا ۔سنٹرل یونیورسٹی کشمیر کے وائس چانسلر پروفیسرمعراج الدین میر نے وشاکھاپٹنم سے گفتگو کرتے ہوئے تعلیمی فضلیت کو حاصل کرنے کے لئے اس طرح کے معاہدوں پر زور دیا اور کہا قومی تعلیمی پالیسی باہمی تعاون کے ساتھ تعلیم اور تحقیق پر زور دیتی ہے۔ انہوں نے کہا ،’’مفاہمت نامہ نئی تعلیمی پالیسی کے اہداف کے حصول کے لئے ایک قدم ہے۔‘‘ اس موقع پر

وجے دیوس کے موقعہ پرتقریب | کرگل جیسی جنگ میں فتح حاصل کرناانتہائی مشکل کام :بپن راوت

 سرینگر// دراس لداخ میںکرگل وجے دیوس کی 22 ویں سالگرہ کی تقریبات کا انعقاد کیا گیاجس میں آپریشن وجے کے حوالے سے فوج کی بہادری کی کہانیاں بیان کی گئی اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن راوت نے کرگل دیوس کو تاریخی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے مشکل حالات میں فتح حاصل کرنا انتہائی مشکل کام ہوتا ہے۔ سی این ایس کے مطابق اس یہ تقریبات کرگل وار میموریل میں منعقد کی گئیں۔ اس موقعہ پرجنگ کے دوران ٹائیگر ہل اور دیگر واقعات پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ اس موقع پر لداخ یونین ٹریٹری کے لیفٹیننٹ گورنر آر کے ماتھر مہمان خصوصی تھے جنہوں نے وار میموریل پر پھول مالا چڑھائی ۔اس خصوصی تقریب پر کارگل جنگ کے ہیروز اور اْن کے کنبے کے مزید دیگر فوجی اہلکار بھی موجود تھے۔ جنگ کی کہانی سن کر وہاں موجود سامعین کی آنکھیں نم ہو گئی آخر میں تقریبات کو کرگل وار میموریل منتقل

مزید خبریں

چیف سیکریٹری نے جل جیون مشن کا جائزہ لیا | 15 اگست تک تمام اسکولوں اور آنگن واڑی مراکز میں پینے کا پانی مہیا کرنے کی ہدایت  سرینگر // چیف سیکریٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا نے پیر کو جموں وکشمیر میں مرکزی زیر اہتمام اسکیم ’’ جل جیون مشن ‘‘ کے تحت حاصل پیش رفت کا جائزہ لینے کیلئے ایک میٹنگ کی صدارت کی۔کمشنراور سیکریٹری جل شکتی محکمہ اور مشن ڈائریکٹر جل جیون مشن کے ساتھ محکمہ کے متعلقہ افسران نے بھی میٹنگ میںشرکت کی۔میٹنگ میںبتایا گیا کہ محکمہ نے رواں مالی سال کے دوران 21650 گھرانوں کو نئے فنکشنل گھریلو نل کنیکشن (FHTC) فراہم کئے ہیں۔ محکمہ نے اس اسکیم کے تحت 90فیصد سے زیادہ اسکولوں اور آنگن واڑی مراکز ، 51فیصد صحت کے اداروں اور 34فیصد گرام پنچایتوں کو بھی شامل کیا۔میٹنگ میںمزید بتایا گیا کہ 2021-22 کے دوران صوبہ کشمیر میں 197593 گھرانوں اور صوبہ جموں میں 49

تازہ ترین