۔ 26جنوری پر فقید المثال سیکورٹی بندو بست

سرینگر// مثالی سیکورٹی حصار کے بیچ وادی میں26 جنوری کی تقریبات منعقد ہوئیں،جبکہ سڑکوں اور بازاروں میں سناٹا چھایارہا۔ 3دائروں پر مشتمل حفاظتی انتظامات کے بیچ وادی میں 26 جنوری کی مناسبت سے سب سے بڑی تقریب سرینگر کے سونہ وار کرکٹ اسٹیڈیم میں منعقد ہوئی جہاںلیفٹیننٹ گورنر کے مشیر بصیر احمد خان نے ترنگا لہرا کر مارچ پاسٹ پر سلامی لی۔سرینگر اور وادی کے تمام اضلاع میں بازار اور دیگر تمام کاروباری و تجارتی مراکز بند رہنے کے علاوہ سڑکوں سے مسافر و نجی گاڑیاں غائب رہیں۔شہر اور وادی کے تمام قصبہ جات میں کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کیلئے پولیس و فورسز کے ہزاروں اہلکاروں کو سریع الحرکت رکھا گیا تھا جبکہ شہر میں اسٹیڈیم کی جانب جانے والی سڑکوں کو سیل کیا گیا تھا۔شہر کو مختلف اضلاع سے ملانے والی سڑکوں کے ساتھ ساتھ تمام بین ضلعی سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑا کی گئیں تھیں۔پوری وادی میں قریب 2بجے تک پرائیویٹ اور

بارہمولہ میں گرینیڈ بر آمد

بارہمولہ// سیکورٹی فورسز نے بارہمولہ کے مضافات میں ایک گرینیڈ بر آمد کیا۔معلوم ہوا ہے کہ 52آرآر کی ایک پارٹی معمول کی گشت پر تھی،جس دوران انہوں نے بارہمولہ میں چندوسہ کے شر پورہ نالہ کے نزدیک ایک دستی بم برآمد کیا۔ پولیس نے چندوسہ نالہ کے نزدیک ایک گرینیڈ برآمد کرنے کی تصدیق کی۔انہوں نے کہا کہ فورسز کو گرنیڈ کی موجودگی کے بارے میں اطلاع ملی تھی، جس کے بعد اسے بر آمد کیا گیا تاہم کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔  

پہلگام اور گلمرگ میں سردی کا قہر

سرینگر //موسم ابرآلودرہنے کی وجہ سے سرینگر میںشبانہ درجہ حرارت میں معمولی بہتری ریکارڈ کی گئی لیکن دن کے درجہ حرارت میں کمی واقع ہوئی ہے جس سے لوگ ٹھٹھرنے پر مجبور ہوئے۔تاہم سیاحتی مقامات پر شبانہ اور دن میں سردیوںکا قہر جاری ہے ۔ محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ 31جنوری تک اسی طرح کی صورتحال رہے گی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق سوموار اور منگل کی درمیانی شب سرینگر میں درجہ حرارات منفی 2.4 ڈگری سیلشیس ریکارڈ کیا گیاجو اس سے قبل کی شب منفی 5.2تھا،اس طرح اس میں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے تاہم منگل کو دن کے زیادہ سے زیادہ درجہ حرات میں گراوٹ دیکھنے کو ملی ۔ترجمان کے مطابق سرینگر میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرات 5.2ڈگری ریکارڈ کیا گیا ۔ جو حالیہ ایام میں دن میں سب سے کم درجہ حرارت رہا۔ سیاحتی مقام گلمرگ میں رات کا درجہ حرات منفی 7.1اور دن کا درجہ حرات منفی 4.0جبکہ پہلگام میں رات کا منفی11ڈگری اور دن کا 1.6ڈگ

کورونا وائرس|80سالہ معمر شخص فوت، 74 مثبت

 سرینگر // جموں و کشمیر میں پچھلے 24گھنٹوں کے دوران کورنا وائرس کی تشخیص کیلئے 23ہزار 223 ٹیسٹ کئے گئے جن میں سے 74کی رپورٹیں مثبت آئیں اور اسطرح متاثرین کی مجموعی تعداد 1لاکھ 24 ہزار157ہوگئی ہے۔ ان میں 72 ہزار 688کشمیر جبکہ 51ہزار 469 جموں صوبے سے تعلق رکھتے ہیں۔ منگل کو مزید ایک شخص کورونا وائرس سے فوت ہوگیا ہے ۔ متوفین کی مجموعی تعداد 1930ہوگئی ہے جن میں 719جموں جبکہ 1211 کشمیر میں فوت ہوئے ہیں۔ نئے 74 معاملات میں 23جموں جبکہ 51 کشمیر میں سامنے آئے ہیں۔ کشمیر کے 51متاثرین میں 37 سرینگر، 3 بارہمولہ، 2بڈگام، 3 پلوامہ، 1کپوارہ، 2اننت ناگ، 0 بانڈی پورہ، 1گاندربل، 1کولگام اور ایک شوپیان سے تعلق رکھتا ہے۔ جموں صوبے کے 23نئے معاملات میں 20جموں، 1ادھمپور، 1پونچھ اور ایک ریاسی سے تعلق رکھتا ہے جبکہ جموں کے راجوری، ڈوڈہ، کٹھوعہ، سانبہ، کشتواڑ اور رام بن میں کسی کی رپورٹ مثبت نہیں آئی

۔4 کورونا وائرس مریض زیر علاج

 سرینگر //جواہر لال نہرو میموریل اسپتال اور کشمیر ویلی نرسنگ ہوم میں زیر علاج 4کورونا وائرس مریضوں کے علاج و معالجہ کیلئے دونوں اسپتالوں میں عام لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کی گئی ہے جسکی وہاں سے سونہ وار اور رعناواری کے علاوہ دیگر علاقوں میں رہنے والے عام مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔  وبائی بیماری سے قبل دونوں اسپتالوں میں روزانہ 3ہزار سے زائد مریض علاج و معالجہ کیلئے آتے تھے جبکہ 100سے زائد جراحیاں انجام دی جاتی تھیں لیکن متوقع کورونا وائرس کی دوسری لہر کیلئے دونوں اسپتالوںمیں عام لوگوںکے داخلے پر پابندی ہے ۔ 250بستروں پر مشتمل  رعناواری اسپتال میں2کورونا وائرس مریض زیر علاج ہیں جنکی حالت مستحکم ہے جبکہ 80بستروں پر مشتمل کشمیر ویلی نرسنگ ہوم میں بھی 2کورونا مریض زیر علاج ہیں جن میں ایک کی حالت مستحکم جبکہ ایک کو سانس لینے کیلئے آکسیجن کی ضرور

موبائل انٹر نیٹ 17گھنٹے بند

سرینگر// وادی میں منگل کو26جنوری کے موقعہ پر موبائل انٹرنیٹ سروس حسب معمول منقطع کردی گئی، تاہم فون کالز بن نہیں کی گئیں۔26جنوری کے موقعہ پر حفاظتی اقدامات کے پیش نظر پیر کی رات12بجے سے ہی وادی کے شمال و جنوب میں موبائل انٹرنیٹ سروس منقطع کی گئی۔ یہ سلسلہ منگل کی شام6بجے تک جاری رہا۔لگاتار 17گھنٹے تک موبائل انٹر نیٹ سہولیات کو بند رکھا گیا جس سے طلاب میں اضطراب پیدا ہوا۔طلاب کیساتھ عام لوگوں کی ذہنی کوفت منگل کی شام 6بجے دور کردی گئی۔حکام نے بتایاکہ یہ اقدام احتیاطی بنیادپرکیاگیا تھا۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ یہ قدم’ ’امن دشمن عناصر‘ ‘کی جانب سے انٹرنیٹ خدمات کے غلط استعمال کو روکنے کے لئے اٹھایا گیا ۔26جنوری اور15اگست کو سیکورٹی خدشات کی بنیاد پر موبائل انٹرنیٹ سروس معطل کرنا اب ایک روایت بن چکی ہے۔  

کیرن میں متعدد تعمیروترقی کے منصوبے برسوں سے تشنہ تکمیل

سرینگر //کشمیر کی حدمتارکہ پر واقعہ کیرن گائوں میں تعمیر وترقی کے نام پرنہ صرف لوگوں سے مذاق ہو رہا ہے بلکہ سرکاری محکموں کے کام بھی بری طرح سے متاثر ہوئے ہیںکیونکہ متعدد ایسے محکمہ جات ہیں جہاں عملہ ہی دستیاب نہیں ہے ۔ موصلاتی نظام نہ ہونے کے نتیجے میں یہاں کے لوگوں کو معمولی فون کال کیلئے بھی 40کلو میٹر کا فاصلہ طے کر کے کرالپورہ آنا پڑتا ہے ۔ کیرن کے لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ علاقے میں پچھلے 6ماہ سے تحصیلدار کی کرسی خالی پڑی ہے اور تحصیلدار زچلڈارہ کپوارہ کو اس تحصیل کا اضافی چارج دیا گیا ہے اور لوگوں کو اپنے مسائل کے حل کیلئے زچلڈارہ کئی کلو میٹر دور آنا پڑا ہے ۔مقامی لوگوں نے حکام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر تحصیل میں تحصیلدار کی کرسی خالی ہے تو ایسے میں یہ کیسے ممکن ہے کہ لوگوں کے ڈومسائل اور دیگر کاغذات بن پائیں گے اور لوگوں کا تحصیلدار تک پہنچنا بھی کافی مش

پرائمری ہیلتھ سینٹر بونیار کو سب ضلع اسپتال کا درجہ دینے کا مطالبہ

اوڑی/ بونیار بارہمولہ میں آبادی کا ایک بڑا حصہ بہتر طبی سہولیات سے محروم ہے جبکہ یہاں کے مریضوں کو بہتر علاج کے لئے بارہمولہ یا سرینگر اسپتالوں میں جانا پڑتا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق علاقے میں ایک پرائمری ہیلتھ سنٹر اگرچہ موجود ہے، تاہم وہاں پر ماہرڈاکٹر موجود نہ ہونے سے یہ طبی مرکزاپنی اہمیت کھوچکا ہے۔ اطلات کے مطابق شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے بونیاراوڑی میں لوگ بہترطبی سہولیات کی عدم دستیابی کے نتیجے میں شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق میڈیکل بلاک بونیار کے حدود میں 80ہزارآبادی ہے اور پی ایچ سی بونیار میں مریضوں کا کافی دبائو رہتا ہے۔ تاہم یہاں فزیشن ڈاکٹروں کی عدم دستیابی کے سبب اکثر مریض بغیر علاج ہی واپس لوٹ جاتے ہیں ۔پرائمری ہیلتھ سینٹر بونیار میں اگرچہ تمام سازوسامان اور جدیدطبی آلات حکومت نے بہم رکھے ہیں لیکن اس ہیلتھ سینٹر میں ماہرڈاکٹر نہ ہونے کی وجہ سے

کشمیر کے سبھی اضلاع میں26جنوری کی تقاریب

 سرینگر//کشمیر صوبے میں بھی 72ویں یوم جمہوریہ کو جوش وجذبے کے ساتھ منانے کے لئے مختلف اَضلاع اورضلع ہیڈکواٹروں میں شاندار تقریبات کااِنعقاد کیا گیا جن میں اہم سیاسی اورسماجی شخصیات کے علاوہ معروف شہریوں ،بزرگوں ، تاجروں، فنکاروں اورطالب علموں کے علاوہ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے شرکت کی۔سرینگر میں مرکزی تقریب ایس کے سٹیڈیم میں منعقد ہوئی جہاں لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر بصیر احمد خان نے ترنگا لہرایا اور بی ایس ایف ، سی آر پی ایف ، ایس ایس بی ، جے کے اے پی ، آئی آر پی ، خواتین دستہ ، ایس ڈی آر ایف ، ایف اینڈ ای ایس اور ایف پی ایف کے علاوہ بی ایس ایف اور جے کے پی کے بینڈ کے دستوں سے مارچ پاسٹ پر سلامی لی ۔  تقریب میں صوبائی کمشنر کشمیر پی کے پولے ، انسپکٹر جنرل پولیس کشمیر وجے کمار ، ضلع ترقیاتی کمشنر سرینگر ڈاکٹر شاہد اقبال چودھری ، سول انتظامیہ ، پولیس اور نیم فوجی

مزید خبرں

حادثے کا شکار ہوئے ہیلی کاپٹر کے معاون پائلٹ کی حالت نازک نیوز ڈیسک   جموں //کٹھوعہ میں گزشتہ روز گرنے والے ہیلی کاپٹر کے معاون پائلٹ کی حالت بدستور نازک بنی ہوئی ہے۔فوج کاایک ہیلی کاپٹر سوموار کو پٹھانکوٹ سے آتے ہوئے بسوہلی کے قریب گر کر تباہ ہوا جس میں ایک پائلٹ کی موت ہوگئی ۔شمالی کمان کے ترجمان کے مطابق ہیلی کاپٹر کے معاون پائلٹ کپٹن انجانی کمار سنگھ کی حالت بدستور نازک بنی ہوئی ہے۔مارے گئے پائلٹ لیفٹینٹ کرنل رشبھ شرما کی لاش کو ایک جہاز کے ذریعے اُس کی بیوی اور پانچ سالہ بیٹے کے ہمراہ دلی روانہ کیا گیا۔ اتفاق سے رشبھ کے والدین بھی ان دنوں پٹھانکوٹ آئے تھے وہ بھی لاش کے ہمارہ دلی روانہ ہوئے۔ترجمان کے مطابق رشبھ کی آخری رسومات آبائی قصبے فریدآباد میں انجام دی جائیں گی ۔ہیلی کاپٹر کے گرجانے کی وجہ سے تحقیقات کی جارہی ہے ۔       صو

تازہ ترین