تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:    ۱۔صدقہ وغیرہ کے جو مختلف مَد قرآن میں بیان ہیں ،اُن میں تعلیمی اداروں کا ذکر نہیں ہے۔کیا عُشر زکواۃ و صدقات دینی اداروں، مدارس اور دارلعلوم کو دے سکتے ہیں؟ سوال :  ۲۔زکواۃ اورعُشر وغیرہ کا جمع شدہ مال کہاں خرچ کرسکتے ہیں،کیا دینی اداروں اور مدارس کے اساتذہ و ملازمین کی تنخواہ اِس میں سے دے سکتے ہیں؟ سوال:   ۳۔ کیا سبزیوں کی پیداوار پر عُشر دینا ضروری ہے؟ سوال:  ۴۔ اکثر جگہوں پر بیت المال قائم کئے گئے ہیں،بیت المال کی اصل کیا ہے اور کون لوگ ان کو چلانے کے اہل ہیں؟ محمد گلزار میر ۔ڈولی پورہ ،ہندوارہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دینی تعلیمی اداروں کے لئے زکواۃ، صدقات وغیرہ کے مصارف کا استعمال جائز جوابات  :  ۱۔زکواۃ ،صدقات اور عُشر کا مصرف قرآن کریم نے مقرر فرمادیا ہے۔ اُس مصرف میں غریب ومسکین بھی شامل ہیں،بلکہ سب سے پ

اللہ کے نیک بندوں کی صحبت

انسان کی شخصیت، اس کے عادات واطواراور افعال اورکردارسے نمایاں ہوتی ہے۔انسان فطری طورپراپنا مصاحب اور دوست بھی انہی کو بناناپسند کرتاہے جو معاشرے میں اچھے ہوتے ہیں اوربرے لوگوں سے کنارہ کشی اختیار کرتاہے۔ فارسی مثل مشہورہے’’صحبت طالع تراطالع کند‘‘، اور جاپانی مقولہ ہے’’جب کسی شخص کا کردارتم پرواضح نہ ہوتواس کے دوستوں کو دیکھو‘‘۔ اس سے اس کے معیارکا پتہ چلتا ہے، اس لئے معمولی سے معمولی عقل وشعور رکھنے والا انسان کبھی برے لوگوں کو ا پنا دوست بناناپسند نہیں کرتا ،بلکہ اس کی فحش باتوں اور برے کاموں سے بچنے کے لئے اس سے دوری اختیارکرنے میں اپنی بھلائی محسوس کرتاہے۔نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا: ’’مومن محبت اورالفت کاحامل ہوتاہے اوراُس شخص میں کوئی خوبی اور بھلائی نہیں جونہ خودمحبت کرے اورنہ لوگوں کواس سے الفت ہو۔‘‘(مسند احمد

نبی اکرم ؐ۔رحمتہ للعالمین

ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’اور نہیں بھیجا ہے ہم نے تم کو اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مگر رحمت بناکر جہاں والوں کے لیے‘‘۔(سورۃ الانبیاء)  آیت میں مذکور لفظ’’عالمین ‘‘ عالَم کی جمع ہے ،جس میں ساری مخلوقات بشمول انسان، فرشتے،جنات، حیوانات، نباتات، جمادات سب ہی داخل ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سب چیزوں کے لیے رحمت اس طور پر ہیں کہ دنیا میں قیامت تک اللہ تعالیٰ کا ذکر وتسبیح اور اس کی عبادت وبندگی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دم سے قائم اور آپ ؐ ؐکی تعلیمات کی برکت سے جاری و ساری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب زمین پر کوئی بھی اللہ اللہ کہنے والا نہیں رہے گا تو قیامت آجائے گی۔ تفسیر ابن کثیر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا گیا ہے کہ’’میں اللہ کی بھیجی ہوئی رحمت ہوں‘‘۔ب

نمازِ جمعہ اور ہمارا طرزِ عمل

 مومن کی شان یہ ہے کہ اس کا دل مسجد میں اٹکا ہوا ہوتا ہے۔ نماز جمعہ کے لئے موذن کی پکار پر فوری توجہ دی جائے اور دنیوی تمام مصروفیات کو روک کر مسجد کی طرف چل پڑنا اہل ایمان کے لئے ضروری ہے۔ہمیں نماز جمعہ کی اہمیت کو سمجھنے کی ضرورت ہےاور نماز جمعہ پر ہمیں اپنے طرز عمل پر بھی غوروفکر کرنا چاہئے۔ صحابہ کرامؓ کی زندگیوں سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ وہ نماز کے معاملہ میں انتہائی چوکنا رہا کرتے تھے اور اس کا اہتمام ان کی زندگیوں میں نمایاں تھا، مگر افسوس اس بات پر کہ ہمارے معاشرے میں اور خاص طور پر ہمارانوجوان طبقہ عام نمازوں کے علاوہ نماز جمعہ کے موقع پر سستی و کاہلی کا مظاہرہ کرتا ہے، یعنی اذان کے بعد مسجد میں تاخیر سے پہنچنا اور جلد سے جلد مسجد سے باہر نکل جانا وغیرہ ایسی باتیں ہیں، جن پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اہل ایمان کو اس بات کا حکم دیتے ہیں کہ جب جمعہ کے دن نم