تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

کورونا سے فوتیدہ افراد ۔غسل کا شرعی حکم سوال: کووِڈ وائرس میں فوت ہونے والے افراد کو غسل دے سکتے ہیں یا بغیر غسل کے ہی دفن کیا جاسکتا ہے جبکہ کئی ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جب میتوں کو بغیر غسل کے دفن کیا گیا ۔ عبدالکبیر ۔عید گاہ سرینگر جواب:میت کو غسل دینا ضروری ہے ۔کرونا میں مبتلا شخص کے علاج معالجہ کے دوران جن احتیاطی تدابیر کے ساتھ سارا عمل کیا جاتا ہے، علاج ،خبر گیری ،تیمار داری ،کھلانے پلانے وغیرہ میں جو عمل اختیار کیا جاتا ہے، انہی تدابیر کے ساتھ اُس کا غسل اور کفن دفن بھی کرنا ممکن ہے بلکہ اس پر مقامی سطح پر بھی اور دوسرے مقامات پر بھی عمل ہوتا رہتا ہے ۔لہٰذا اگر اس حکم ِ شرعی کو انجام دینے میںوہ مخصوص لباس جو P.P.Eکہلاتا ہے استعمال کیا جائے، واٹر پروف گلاوز بھی پہن لئے جائیں اور پھر میت کا منہ اور ناک اچھی طرح بند کیا جائے۔اسی طرح جسم سے جہاں جہاں سے کوئی داخلی رطو

خانہ کعبہ اور مسجدِ اقصیٰ اسلام کے دو مراکز:کچھ مشترکہ پہلو

روئے زمین پر وجود انسانی کے ابتدائی زمانہ سے ہی مسجد حرام اور مسجد اقصیٰ اسلام کے دو اہم مرکز رہے۔ ان دونوں کا مختلف انبیاء، ان کی زندگی، ان کی تعلیمات، دعوت و تبلیغ اور تاریخ سے بڑا گہرا ربط رہا۔ اسی طرح دونوں کا تقدس واحترام اور مسلمانوں کا ان سے دینی اعتبار سے جذباتی لگاؤ بھی ہمیشہ برقرار رہا۔ تو آئیے ان دونوں مساجد و مراکز کے چند مشترکہ امتیازی پہلؤوں کا جائزہ لیں۔ 1-  سب سے پہلے تعمیر کردہ مراکز:  یہ دونوں مراکز روئے زمین پر اللہ کی عبادت کے لئے تعمیر کی گئی سب سے پہلی دو عبادت گاہیں ہیں۔ بخاری شریف میں حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ زمین پر سب سے پہلی تعمیر کردہ مسجد، مسجد حرام ہے، اس کے چالیس سال بعد مسجد اقصی کی تعمیر ہوئی اسی حدیث میں اس میں نماز پڑھنا افضل  بتایا گیا ہے۔ 2-  دونوں مساجد اور حضرت آدم:  مسجد حرام اور مسجد اقصیٰ

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

لُقہ اور اُسکے احکام کوئی چیز اُٹھائی جائے تو اُٹھانے والے کی کیا ذمہ داریاں ہیں؟ سوال:اگر کوئی آدمی کچھ رقم یا کوئی چیز اٹھائے اس کے متعلق شریعت کا کیا حکم ہے۔راقم نے پڑھا ہے کہ اگر اس کا مالک نہ ملے تو اس کو اصلی مالک کے نام صدقہ دے۔اگر اس کا مالک معلوم نہ ہو تو یہ بھی ممکن ہے کہ اس کا مالک غیر مسلم بھی ہو سکتا ہے ۔کیا ایسے مالک کو صدقہ کا کچھ فایدہ ہوگا۔ اگر نہیں تو ایسی رقم یا چیز کا مصرف کیا ہے؟ ابو عقیل ۔دار پورہ ،زینہ گیر سوپور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جواب:جب کوئی شخص کسی جگہ سے کوئی گِری پڑی چیز اُٹھائے یا کوئی رقم پالے تو شریعت میں اس چیز کو لُقطہ کہتے ہیں۔اس لُقطہ کا حکم یہ ہے کہ اُٹھاتے وقت مالک تک پہنچانے کی نیت سے اٹھائے ۔اگر اُس نے خوش ہوکر اپنے استعمال کی نیت سے اُسے اٹھالیا تو اس نیت کی وجہ سے وہ گنہگار ہوگا،اور پھر وہ شخص اس چیز کا ضامن بن جائے گا ،پھر ضمان کے

بیت المقدس تاریخ کے آئینے میں!

گذشتہ دنوں ماہ رمضان المبارک میں غزہ اور فلسطین میں اسرائیل کے انسانیت سوز مظالم کے بعد قبلۂ اول بیت المقدس اور فلسطین ایک مرتبہ پھر دنیا بھر کی نظروں کے سامنے آگئے۔ بیت المقدس کی آزادی کے خواب سجائے ہوئے اہل فلسطین کی داستان تقریباً ایک صدی پر پھیلی ہوئی ہے۔ جس سے آج ہماری نئی نسل بالکل ناواقف ہے۔ اہل فلسطین کی کہانی روشنائی سے نہیں بلکہ انکے خون سے لکھی گئی ہے۔ فلسطین کے ہر چپہ چپہ پر قربانیوں کی ایسی لازوال داستانیں نقش ہیں جس سے وہاں کے باشندوں کی جرأت، ہمت، غیرت اور استقامت کا پتہ چلتا ہے۔ فلسطین کے معصوم بچے، مائیں، بہنیں، جوان اور بوڑھے سب ہی جس ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں اس کے بارے میں اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو بزبان حال یہی کہ سکتے ہیں: تم شہرِ اماں کے رہنے والے! درد ہمارا کیا جانو! ساحل کی ہوا تم موج صبا طوفان کا دھارا کیا جانو! اس میں کوئی شک نہیں کہ فلسطین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

مساجد میں بجلی کا استعمال اور فیس کی ادائیگی س:۱- آج کل گرمی کی وجہ سے مسجدوں میں ائرکنڈیشنز لگائے جارہے ہیں۔ التماس ہے کہ اگرمحکمہ بجلی کو فیس ادانہ کی جائے تو ایسی مسجدوں میں نمازوں کا کیا حال ہوگا ؟ غلام مصطفی علوی …سرینگر جواب:-مسجد میں ائرکنڈیشن کا انتظام دُرست ہے لیکن جیسے روشنی کے انتظام کے لئے بجلی فیس اداکرنا ضروری ہے ۔ اسی طرح ائرکنڈیشن میں صرف ہونے والی بجلی ادا کرنا بھی ضروری ہے ۔ اگرخدانخواستہ بجلی فیس ادا نہ کی جائے تو نماز تو پھر بھی ادا ہوجاتی ہے مگر بجلی کی فیس ادا نہ کرنے کا گناہ برقرار رہے گا ۔ بجلی کی فیس ادا کرنے کا سب سے بہتر اورمحتاط طریقہ میٹر لگانا ہے تاکہ روشنی ، پنکھوں اور ائرکنڈیشن میں جتنی بجلی خرچ ہو میٹر کے ذ ریعہ اُس کی پوری مقدار سامنے آئے اور پھر اتنی ہی فیس ادا کریں ۔ یہ بات ایمانی غیرت کے خلاف ہے کہ مسلمان اللہ کے گھر میں

آہ !مفتی فیض الوحید قاسمی رحمہ اللہ!

کووڈ19کی دوسری لہر نے پورے ملک میں کہرام مچا رکھا ہے۔ ہر دن کسی نہ کسی بڑی شخصیت کے انتقال سے دل ودماغ مغموم و محزون ہے۔ واٹس ایپ اور اخبار کھولتے ہوئے ایک ڈرسا لگا رہتا ہے کہ پتہ نہیں کیا خبر آئے گی اور کس کی موت کی خبر چھپی ہوگی،بالخصوص آج کل ہمارے اکابر ین کا اس تیزی کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوجاناہم سب کے لیے بہت ہی صدمہ کی بات ہے۔ آخر ہم پر یہ کیسا زمانہ آگیا کہ ہم ایک حادثہ ابھی بھول نہیں پاتے کہ دوسرا حادثہ پیش آجاتاہے ، ایک زخم مندمل نہیں ہوپاتا کہ دوسرا زخم لگ جاتا ہے۔ اپنے بزرگوں ،دوستوں اور عزیزوں کی فرقت پراتنا زیادہ رونا دھوناہوچکا ہے کہ اب آنکھیں بھی خشک ہو چکی ہیں۔ اتنے صدمے جھیلے جاچکے ہیں کہ اب دلوں میں مزید سکت باقی نہیں ہے۔ملک بھر میں اورجموں وکشمیر میں ہورہے سلسلہ اموات کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے یہ عام الحزن ، اور عام الاموات تو نہیں۔ یا اللہ!ہم کمزوردلوں اورکم ہمتو

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

بُرے خیالات: شیطان وہیں حملہ کرتاہے جہاں ایمان کی دولت ہو سوال:۱-بہت سارے نوجوانوں کی حالت یہ ہے کہ اُنہیں بہت بُرے بُرے خیالات آتے ہیں ۔ میرا حال بھی ایسا ہی ہے۔ یہ خیالات اللہ کی ذات کے بارے میں ،حضرت نبی علیہ السلام کے متعلق ، ازواج مطہراتؓ کے متعلق ،قرآن کے متعلق ہوتے ہیں۔اُن خیالات کوزبان پر لانا بھی مشکل ہے ،اُن خیالات کو دفع کرنے کے جتنی بھی کوشش کرتے ہیں اتنا ہی وہ دل میں ،دماغ میں مسلط ہوتے ہیں ۔اب کیا یا جائے ؟ کامران شوکت … سرینگر جواب:۱-بُرے خیالات آنا دراصل شیطان کا حملہ ہے۔حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک صحابیؒ نے یہی صورتحال عرض کرکے کہاکہ یا رسول اللہ ؐ میرے دل میں ایسے خیالات آتے ہیں کہ اگر میں اُن کو ظاہر کروں تو آپؐ ہم کو کافر یا منافق قرار دیں گے ۔ اس پر حضرت ؐ نے ارشاد فرمایا کہ واقعتاً تمہارے دل میں ایسے خیالات آت

مولانافیض الوحید کا’فیض‘

  وہ ابھی محض 55 برس کے تھے۔ لیکن چلے گئے تو سب کو رْلا گئے۔ "تعلق"گوجر برادری سے تھا لیکن "تعارف" انسانوں سے ۔مذہب و ملت کے لحاظ کے بغیر "انسانی برادری" آپ کا احترام کرتی۔ آپ سے ملاقات کرتی، آپ سے مشورے لیتی، آپ کو عزیز رکھتی۔   مولانامفتی فیض الوحید صوبہ جموں کے ضلع راجوری میں پیدا ہوئے تھے۔ لیکن آپ نے اپنی زندگی کا اکثر حصہ جموں شہر میں گزارا۔ بٹھنڈی کے مدرسہ "مرکز المعارف" کا یہ معلم ِ حق نونہالوں کو دنیا کی حقیقت سے آشنا کرتا تھا۔ سْنا تھا مدرسہ کے محدود احاطہ کے باہر دنیا کے وسیع احاطے میں بھی آپ کے کئی متعلم آپ سے "فیض" حاصل کرتے تھے۔ چنانچہ راقم کئی ایسے لوگوں کو جانتا ہے جو مرحوم مفتی فیض الوحید کے ساتھ براہِ راست رابطے میں تھے اور آپ کو استاد اور مربی تصور کرتے تھے۔  ہر سال ماہِ رمضان م

آہ !مفتی فیض الوحید صاحب

مفتی فیض الوحید صاحب اسلامک دنیا کی جانی مانی شخصیت ہیں۔ جو دودشن بالا میں 1966 کو پیدا ہوئے۔ مفتی فیض بچپن سے ہی کافی ذہین تھے۔ انھوں نے قرآن مجید کو 1982 میں مکمل حفظ کیا۔ صرف اتنا ہی نہیں مفتی صاحب نے تجوید کے فن کو بھی سیکھ لیا۔ مفتی فیض صاحب جموں وکشمیر کے راجوری سے تعلق رکھتے تھے۔ انھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم مدرسہ کاشف العلوم تھنہ منڈی اور مدرسہ تعلیم القرآن مظفر نگر سے حاصل کی۔ اسکے بعد انھوں نے دو سال تک درس نظامی مدرسہ خادمل السلام ہاے پور میں پڑھا۔ اور اپنی گریجویشن دارالعلوم دیوبند میں 1911 میں مکمل کی۔ مفتی فیض صاحب نے اپنی ایم-اے اردو کی ڈگری ڈاکٹر بیم راؤ امبیدکر یونورسٹی میں حاصل کی۔ مفتی فیض الوحید صاحب نے پڑھانے کی شروعات مدرسہ اشرف العلوم جموں سے کی۔ اسکے بعد انھوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر جامعہ معارفِ القرآن کو شروع کیا اور 5 اکتوبر1990 کو وہ وہی چلے گئے

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

ساس بہو کا رشتہ : محبت پانے کیلئے محبت کا روّیہ اپنانے کی ضرورت خاندان کا تصور…ادائیگی حقوق اور اجتنابِ ظلم مُقدم  سوال:۱-بہو اور ساس کے درمیان کون سا رشتہ ہے۔ اگر بہو ساس کی خدمت نہ کرے تو کیا وہ گنہگار ہوگی ۔ شریعت کی رو سے تفصیلی رہنمائی فرمائیں۔ بہو اور سسر میں کون سا رشتہ ہے۔ اگر بہو سسر کی خدمت نہ کرے تو کیا گنہگار ہوگی او راگر ساس اور سسر بہوکوہروقت کام کے لئے ڈانٹیں او ربُرا بھلا کہیں کیا وہ گناہ گار ہوں گے۔ بہو پر ساس سسر کی خدمت فرض ہے یا نہیں ؟ ساس بہو کو طعنے دے ،بُرابھلا کہے۔ لوگوں میں اسے ذلیل کرے جبکہ اپنی بیٹی ، جب وہ سسرال آئے ،کے ساتھ اچھا سلوک کرے  اور جب بہو اپنے باپ کے گھرجائے تو اس کو اچھی طرح رخصت نہ دے اور نہ ہی اس سے خندہ پیشانی سے بات کرے۔ قرآن وحدیث کی رو سے اس دہرے معیار کے لئے ایسی عورت کیا واقعی اللہ کے حضورجوابدہ

قبلہ اول کی بازیابی عالم اسلام کا اصل امتحان

بیت المقدس مسلمانوں کا قبلہ اول ہے۔ یہ امت مسلمہ کی ملکیت ہے، اس پر کسی دوسری قوم کا کسی بھی لحاظ سے حق نہیں، نہ ہی مذہبی، نہ ہی قومی، نہ ہی سیاسی۔ مسجد اقصیٰ امت مسلمہ کی عزت و عظمت کی علامت ہے، ہمارا ایمان ہے۔ مسجد اقصیٰ دنیا کی دوسری سب سے قدیم مسجد ہے،جس طرف حدیث اشارہ کرتی ہے"حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم روئے زمین پر سب سے پہلی مسجد کون سی ہے؟ آپؐ نے فرمایا مسجد حرام۔وہ کہتے ہیں کہ پھر میں نے دریافت کیا اس کے بعد؟ آپؐ نے فرمایا مسجد اقصیٰ،تو میں نے پوچھا کہ دونوں کے درمیان کتنی مدت کا فاصلہ ہے؟آپ نے ارشاد فرمایا چالیس سال کا"۔(صحیح مسلم)  مسجد اقصیٰ کا اطلاق دراصل اس پوری مسجد پر ہوتا ہے جس کے اردگرد دیواریں ہیں، جس میں دروازے ہیں اور وسیع میدان ہے، جس میں المصل

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

پختہ دینی فکر کے لئے حصولِ علم کی ضرورت سوال:-ہم بہت سارے دوست عمومی تعلیم سے وابستہ ہیں او رساتھ ہی دینی علوم کا بھی شوق رکھتے ہیں۔ آپ ہمیں بتائیں کہ ہم کن کتابوں کا مطالعہ کریں تاکہ ہماری دینی فکر درست بھی اور پختہ بھی ہو ۔  ڈاکٹر ند یم  ---  جموں  جواب:-دینی علم دراصل بہت سارے علوم کا مجموعہ ہے اور جب تک باقاعدہ اُن تمام علوم کو کسی مستند ادارے میں حاصل نہ کیا جائے اُس وقت تک مکمل رسوخ واعتماد حاصل نہیں ہوپاتا ۔تاہم دینی فکر کو پختہ کرنے اور اسے تمام طرح کے افراط وتفریط سے محفوظ رکھ کر مضبوط بنانے کے لئے ایسے افراد جو عصری علوم سے وابستہ ہو ، درج ذیل کتابیں یک گونہ ضرور فائدہ ہوں گی ۔ تفسیر میں آسان ترجمہ قرآن اُردو وانگریزی از مولانا محمد تقی عثمانی ۔ پھر تفسیر معارف القرآن از مولانا مفتی محمد شفیع ؒ (اردو انگریزی علوم القرآن از مولانا تقی ع

کتاب و سنت کے حوالے سےمسائل کا حل

اعتکاف مسجد میں لازمی موجودہ حالات میں ایک شخص معتکف ہوسکتا ہے سوال :رمضان المبارک کے آخری عشرے میں جو اعتکاف ہوتا ہے،کیا یہ اعتکاف آج گھروں میں ہوسکتا ہے یعنی جیسے جمعہ گھروں میں ہورہا ہے اسی طرح اعتکاف کرنے کی اجازت ہوگی یا نہیں ۔یاد رہے کہ کچھ علماء نے جمعہ و جماعت کی طرح گھروں میں بھی اعتکاف کی اجازت دی ہے ،اس کا جواب ضرور لکھا جائے کہ کیا یہ اعتکاف مسنون ہوگا اور کیا اس عبادت کا کوئی اجر ہوگا یا نہیں اور اس میں کوئی فایدہ ہے یا یہ ضیاع ہے؟ محمد معروف بٹ جواب  :رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف سنت موکدہ ہے ۔مردوں کے اعتکاف کے لئے مسجد ہونا شرط ہے اور خواتین گھروں میں اعتکاف کریں گی ۔مردوں کے اعتکاف کے لئے چونکہ مسجد ہونا شرط ہے اور جب اس شرط کے ساتھ یہ اعتکاف ہوگا تو یہ سنت علی الکفایہ کی وجہ سے سب کی طرف سے ادا ہوجائے گا ۔اس لئے جیسے مساجد میں اذان اور

اســـــــلامی نظامِ زکوٰۃ | موجودہ معاشی بحران کا واحد حل

انسان نہ صرف روح کا نام ہے نہ فقط جسم کابلکہ دونوں کے مجموعے کو انسان کہا جاتا ہے، اسی لئے نوعِ انسانی کا عالمگیر اور ابدی دین وہی ہو سکتا ہے جو روح اور جسم دونوں کے تقاضوں کو پورا کرے، جو دونوں کی نشو نما و بالیدگی کا ضامن ہو۔ دونوں میں باہمی کشمکش اور محاز آرائی کو ختم کرنے اور ان میں ایسی ہم آہنگی پیدا کردے کہ دونوں ایک ہی راہ پر ایک ہی منزل کی طرف رواں دواں رہیں۔مذہب کے نام پر جو نظامہائے حیات اس وقت موجود ہیں وہ مادی نظامہائے فکر سے مات کھا چکے ہیں اور اپنے ماننے والوں سے یہ تقاضانہیں کر سکتے کہ وہ بے را ہ روی کو چھوڑ دیں، ان کا مطالبہ صرف اتنا ہے کہ اس مذہب کا لیبل اپنے اوپر  چسپاں کئے رکھیں اسکے بعد جو جی میں آئے کریں، شراب پئیں، جوا کھیلیں،شبینہ کلبوں میں دادِ عیش دیں، ننگے ناچ ناچیں، سودی کاروبار کریں، جس طرح جی میں آئے غرباء ، مساکین و دیگر ضرورت مندوں کا خون چوستے ر

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 روزوں کے متفرق مسائل سوالات   (۱) گردوں میں پتھری ہو تو کیا روزہ رکھ سکتے ہیں؟ (۲) روزوں کے بدلے فدیہ کس فرد پر لاگو ہوتا ہے؟ (۳) معدے میں تیزابیت(Acidity)ہو جس کی وجہ سے دل میں جلن محسوس ہوتی ہے( Heart Burn) کیا اس صورتحال میں روزہ رکھ سکتے ہیں؟ (۴) جسم کے اندرونی حصہ میں السر (ulser)ہے، جس کی وجہ سے(Black Motion)ہوتی ہے ، کیا روزہ رکھ سکتے ہیں؟ (۵) جو ماں بچے کو دودھپلاتی ہو روزوں کے متعلق ان کو شریعت کیا حکم اور کیا گنجائش دیتی ہے؟ (۶) کیا ہم روزوں کے درمیان اندام نہانی میں وہ دوائی رکھ سکتے ہیں جس کا مقصد لیکویریا کا علاج ہوسکتا۔ (۷) استھما کی بیماری میں Inhaler کا استعمال کرنے سے روزہ متاثر ہوتا ہے؟ (۸) کیا روزوں میں دریا میں تیرنے کی اجازت ہے؟ (۹) حاملہ عورت روزہ رکھ سکتی ہے یا نہیں؟ (۱۰) تمباکو نوشی ختم کرنے کے لئے رمضان

رمضان ایثار و قربانی کا مہینہ

رمضان کریم کا بابرکت مہینہ ہمارے سروں پر سایہ فگن ہے،نیکیوں کا موسم بہارہے۔ اس مہینے میں جہاں ایک طرف بدنی عبادات کا اجر و ثواب بڑھا دیا جاتا ہے تو وہیںدوسری طرف مالی عبادات کا ثواب بھی دوہرا کر دیا جاتا ہے، کم عمل زیادہ فائدہ۔ رمضان المبارک کے اس بابرکت مہینے میں اجر و ثواب کی نیت سے جذبہ ایثار و قربانی کے ساتھ مالی عبادات پر عمل کرنے کی کوشش کریں اور دوہرے اجر کے مستحق بنیں۔  اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ایک آدمی کسی چیز کا خود ضرورت مند ہو لیکن جب کوئی دوسرا حاجت مند اس کے پاس آجائے تو وہ اپنی ضرورت کی پرواہ کئے بغیر اس شخص کو اپنی چیزیں دیدے اورخود مشکلیں اور پریشانیاں برداشت کرتا رہے، یہ جذبہ ایثار و قربانی کہلاتا ہے۔ یہ ایک ایسا جذبہ ہے جس کا تعلق دل اور نیت سے ہے اور اخلاقیات میں اس کا مقام بلند و بالا ہے کیونکہ جب کوئی اپنی ضرورت کوپس پشت ڈال کر دوسرے کی ضرورت کو پورا ک

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

ایام تعزیت میں روزہ نہ رکھنا…… شریعت میں رخصت کی گنجائش نہیں سوال: رمضان شریف کے حوالے سے تین سوالات کا جواب عنایت فرمائیں۔ ۱۔ کشمیر میں بہت سارے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جس گھر میں کسی کی موت ہوگئی ہو ان کو تعزیت کے تین دن تک روزہ نہیں رکھنا ہے۔ پچھلے جمعہ کو سمبل سونا واری کے ایک مضافاتی گاوں میں ایک تعزیتی تقریب باقاعدہ جمعہ کے وقت کھلم کھلا دسترخوان بچھا کر کھانا کھلایا گیا اور بہانہ یہی تھا کہ تعزیت میں روزہ نہیں۔ ۲۔ افطار کے وقت لوگ جلدی سے جلدی مغرب کی نماز کھڑی کرتے ہیں کیا چند منٹ وقفہ کر سکتے ہیں تاکہ اطمینان سے افطار ہو سکے۔ ۳۔ کیا تراویح کی نماز گھر میں ادا کر سکتے ہیں۔ مسجد میں کووڈ کی وجہ سے اگر جانا مشکل ہو تو گھروں میں تراویح پڑھنے کی گنجائش ہے۔فقط  خورشید احمد سونا واری جواب: روزہ فرض ہے اور صرف بیماری کے واقعی عذر یا سفر کی مشقت

مروجہ تصورِ دین اور قرآنی تصورِ دین میں فرق

جب جب قرآن سمجھ کر پڑھتا ہوں عجیب کیفیت طاری ہو جاتی ہے، سوچتا ہوں کہ کیا یہ اْسی دین کی کتاب ہے جس دین کے سے ہم آئے روز متعارف کرائے جاتے ہیں؟ جس اسلام سے ہم واقف ہیں؟ حالانکہ وہ اسلام جس کی تصویر قرآن پاک کھینچتا ہے دونوں کے درمیان مشرق و مغرب کا بْعد محسوس ہوتا ہے۔ قرآن کے تصور دین کی ترجیحات یکسر مختلف ہیں، مروجہ تصورِ دین سے۔ ہم نے جن امورات کو دین کے 'اہم مسائل' کا درجہ دیا ہوا ہے، قرآن میں ان کا اول تو ذکر ہی نہیں یا اگر ذکر ہے بھی تو ضمناً۔ قرآن کریم کے نزدیک جو چیز اہم ہے ہمارے تصور دین میں غیر اہم، قرآن کا جب مطالعہ کرتے ہیں تو تعجب ہوتا ہے کہ ہم آج کس دین کی تبلیغ کررہے ہیں۔ اصل دین تو کچھ اور ہی ہے۔  نزولِ قرآن کی ابتدا 'اقرا' سے ہوئی۔ پہلی آیت پر غور کیا تو معلوم ہوا اللہ نے پڑھنے کا حکم دیا۔ کیا پڑھنا ہے اس کی کوئی تحدید نہیں۔ قرآن کے ع

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

روزے کے اہم مسائل  س: -روزے کے متعلق جوعمومی مسائل کثیر الوقوع ہیں ، براہ کرم اپنے مفیدکالم میں خود ہی انتخاب کرکے ضرور شائع کریں ۔ اعجاز احمد خان ج: -روزہ ہرمسلمان مرد عورت پر فرض ہے، بشرطیکہ وہ بالغ ہو ۔ روزہ کو فرض تسلیم کرنااور اس کو خدا کا، اس کے نبی کا لازم کردہ حکم اعتقاد رکھنا ضروری ہے۔ اس لئے جو شخص رمضان کی یا روزہے کی توہین کرے ، تو وہ شخص ایمان سے محروم ہوسکتاہے ۔مثلاً کوئی یہ کہے ،ہم کو بھوکا پیاسا رکھنے سے اللہ کو کیا ملے گا ، یا روزہ اس وقت فرض تھا جب لوگوں کے پاس کھانے پینے کو کچھ نہ تھا،اس طرح کے جملے بول دینے سے مسلمان کا ایمان ختم ہوجاتاہے۔روزہ کے فرض ہونے کا عقیدہ رکھنا اور پھر اس کو ادا کرنا دونوں لازم ہیں۔یعنی عقیدہ اور عمل دو الگ الگ امور ہیں اور دونوں ضروری ہیں صرف ایک خاص صورت میں روزہ رکھنا منع ہے ۔ اور یہ کہ جب کوئی خاتون حیض یا نفاس کی حالت

روزہ اور حصولِ تقویٰ ۔۔۔ چند احکام و مسائل

پیغمبر ِ اسلام حضرت محمدﷺ کی ایک مشہور حدیث ہے ’’بُنِیَ الْاِسْلَامُ عَلیٰ خمسٍ‘‘یعنی دینِ اسلام کی بنیاد پانچ چیزو ں پر قائم ہے۔ان میں سے ایک رمضان کا روزہ (صوم رمضان)بھی ہے۔گویا کہ ایک مسلمان کا دین تکمیل کو پہنچ ہی نہیں سکتا جب تک کہ وہ روزہ کی فرضیت کا قائل ہونے کے ساتھ ساتھ اس کا اہتمام بھی نہ کرتاہو۔’’الصّوم‘‘کے لغوی معنی ہے کام سے رکنا۔لیکن شریعت کی اصطلاح میں اس لفظ کا اطلاق طلوعِ فجرسے لے کر غروبِ آفتاب تک دن بھر کھانے پینے سے رکنا اور فحش گوئی ‘جھوٹ ‘مباشرت وغیرہ سے دور رہنے پر ہوتا ہے۔شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے حجۃ اللّٰہ البالغہ میں بہت ہی عمدہ بات کہی ہے کہ انسان کی طبیعت باغی ہوتی ہے اور انسان کو بغاوت پر اکساتی ہے ‘اس باغی طبیعت پر لگام کسنے کے لئے روزہ ایک بہترین بلکہ کارآمد ہتھیار ہے۱؎ ۔چنانچہ رسول ال