کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

س:۱-کیااللہ تعالیٰ انسان کی تقدیر صرف ایک بار لکھتاہے یا بار بار انسان کی تقدیر میں ہر کوئی چیز آتی ہے جن میں موت بھی شامل ہے اور موت مختلف قسم کی ہوتی ہے، تو پھر خودکشی ناجائز کیوں ہے ؟ س:۲-کیا قیامت کے دن ہر کسی جاندار چیز سے حساب لیا جائے گا یا صرف انسان سے ہی ؟ س:۳-اگر کوئی انسان کسی سے کچھ رقم یا اور کوئی چیز لیتاہے جو بعد میں واپس کرنی ہومگر پھر یہی انسان بھول گیا کہ اس نے کسی سے کچھ رقم لی یا کوئی اور چیز اور دینے والا بھی اس سے مانگنے کی جرأت نہ کرے یا وہ بھی بھول گیا ہو تو کیا اس صورت میں قیامت کے دن ادائیگی کرنی ہوگی ؟ غلام محی الدین بٹ …بانڈی پورہ  اموراتِ تقدیر کی وضاحت ج:۱-انسان کی زندگی کے کچھ امور تو وہ ہیں جن میں انسان کو کوئی دخل نہیں ہےاورنہ انسان اُن میں کسی تغیر وتبدل کرنے کا اختیار رکھتاہے ۔ مثلاً موت کا وقت ،جگہ اور جائے دفن وغیرہ

فضیلت حضرت سید نا صدیق ِاکبرؓ

اللہ تبارک وتعالیٰ نے مدحتِ صدیق اکبر ؓمیں بیشتر قرآنی آیات نازل فرمائی ہیں، جس سے آپ کا مقام و مرتبہ ثابت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احادیث شریفہ میں آپ کی تعریف و توصیف فرمائی ہے۔ چنا نچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کسی شخص کے مال نے مجھ کو اتنا فائدہ نہیں پہنچایا جتنا کہ ابوبکر ؓکے مال نے مجھے فائدہ پہنچایا ہے۔تمام علمائے اکرام کا اس پراتفاق ہے کہ سیدناابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ قبول اسلام سے لے کرحضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال مبارک تک ہمیشہ سفروحضر میں آپ کے رفیق رہے ۔ حضرت عویم بن ساعدہؓ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے چن لیااورمیرے لئے میرے اصحاب کوچن لیا،پھراُن میں سے بعض کومیرے وزیر،میرے مددگاراورمیرے سسرالی رشتہ داربنادیا۔پس جوشخص ان کوبُراکہتاہے اس پراللہ کی لعنت،فرشتوں کی لعنت اورسا

تقویٰ و پرہیز گاری،عبادت اوربندگی کی بُنیاد

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اے ایمان والو! اللہ سے ایسے ڈرتے رہا کرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہاری موت صرف اسی حال پر آئے کہ تم مسلمان ہو اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں مت پڑو، اور اپنے اوپر اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کردی اور تم اس کی نعمت کے باعث آپس میں بھائی بھائی ہوگئے، اور تم دوزخ کی آگ کے گڑھے کے کنارے پرپہنچ چکے تھے پھر اس نے تمہیں اس گڑھے سے بچا لیا، یوں ہی اللہ تمہارے لئے اپنی نشانیاں کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم ہدایت پا جاؤ۔(سورۂ آل عمران۱۰۲ تا ۱۰۴) ان آیات میں اللہ رب العزت نے خصوصیت کے ساتھ اپنے بندوں کو تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کے علاوہ سب کو اجتماعی طور پر دین پر مضبوطی سے عمل پیرا ہونے کی تلقین کی گئی ہے اور فرقہ واریت کا شکار ہونے سے منع فرمایا ہے۔ ا

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

نکاح سے قبل طے شدہ رشتہ ٹوٹنے پر تحائف کی واپسی کا مسئلہ  سوال:- کبھی اختلاف کی وجہ سے نکاح سے قبل طے شدہ رشتہ پہلے ہی مرحلے پر ٹوٹ جاتاہے اس کے بعد اختلاف اس پر ہوتے ہیں کہ جو تحفے تحائف لئے دیئے ہوئے ہیں اُن کا حکم کیا ہے ۔بعض دفعہ ایک فریق دوسرے سے جرمانے کا مطالبہ کرتاہے اور جو تحفے زیورات وغیرہ ہوتے ہیں ان کے بارے میں بھی شدید نزاعات ہوتے ہیں ۔اسی طرح کھلانے پلانے کا جو خرچہ ہوا ہوتاہے اس کے لئے بھی مطالبہ ہوتاہے کہ اس کی رقم بصورت معاوضہ ادا کیا جائے ۔اس بارے میں شرعی اصول کیا ہے؟ محمد یونس…شوپیان  جواب :-نکاح سے پہلے جو تحائف دئے جاتے ہیں۔ اُن کی حیثیت شریعت میں ہبہ باشرط یا ہبہ بالعوض کی ہے ۔ یعنی یہ تحائف اس شرط کی بناء پر دئے جاتے ہیں کہ آئندہ رشتہ ہوگا ۔ اب اگر آگے نکاح ہونے سے پہلے ہی رشتہ کا انکار ہوگیا تو جس غرض کی بناء پر تحفے دیئے

مہمان نوازی اُسوہ نبویؐ کا امتیازی پہلو

ارشادِ نبویؐ ہے:جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ وہ مہمان کی خاطر تواضع کرے۔(صحیح بخاری) مہمانوں کی خاطر و مدارات کرنا انبیاءؑ کی سنت ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاءؑ کا جامع اور افضل الرسل فرمایا ہے۔ آپؐ کی پاکیزہ سیرت میں مہمان نوازی کی صفت اتنی اعلیٰ تھی کہ اس کی مثال نہیں ملتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات مبارکہ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے،جن میں آپؐ نے مہمان نوازی کے اعلیٰ ترین معیار کا نمونہ قائم فرمایا۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے، وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے، جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لاتا ہے، تو وہ اپنے پڑوسی کی عزت کرے اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لاتا ہے، وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے۔ (صحیح مسلم) ایک موقع پر آپﷺ نے حضرت عبداللہ بن عمروؓ

نکاح میں سرپرستوں کی رائے کی اہمیت

 شریعتِ مطہرہ نے عاقلہ بالغہ لڑکی کو اس بات کی اجازت دی ہے کہ وہ اپنے نکاح کے سلسلے میں رائے قائم کرے اور سرپرست کو اس پر جبر اور زبردستی کرنے کی اجازت نہیں دی ہے، یہی وجہ ہے کہ اگر عاقلہ بالغہ لڑکی کی اجازت کے بغیر نکاح کردیا جائے تو اس کا نکاح اس کی اجازت پر موقوف ہوتا ہے، لیکن اس کے لیے یہ بہتر قرار دیا کہ وہ اپنے نکاح کے تمام معاملات ولی کے ذریعے یا ان کے مشورے سے انجام دے، کیوں کہ یہی مہذب گھرانوں کی لڑکیوں کی عادت اور دستور ہے۔ولی سے مشورے کی ضرورت اس لیے بھی ہے کہ انسان دنیاوی کمالات یا اختیارات کے اعلیٰ سے اعلیٰ مقام پر فائز ہوجانے یا عمر کے آخری حصے میں پہنچ جانے کے باوجود بھی مشورے کا محتاج رہتاہے، جہاں دیدہ، فہمیدہ، عمر رسیدہ حکم ران کو بھی مشورے کا پابند رکھا جاتا ہے، انفرادی رائے اور فیصلوں پر مبنی طرزِ حکومت کو پسند نہیں کیا جاتا، خواہ اس کے نتیجے میں ظاہری خوش حالی

دُعا۔ فضیلت اہمیت اور آداب

سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ دعا مومن کا ہتھیار ہے۔(حاکم)یعنی دعا ایسا مضبوط ہتھیار ہے کہ جس کے ذریعے بندہ اپنے رب کی نصرت و تائید حاصل کر کے فتح یاب و کامران ہو سکتا ہے۔ جیساکہ سرورِ عالمؐ کی سیرت مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ ہر موقع پر اپنے رب سے رجوع فرماتے، یقیناً اللہ تعالیٰ نے سرورِ کائناتؐ کو مستجاب الدعوات بنایا تھا، اسی طرح دیگر انبیائے کرام ؑصدیقین صالحین اور مظلومین ایسے ہیں، جن کی دعا ردنہیں ہوتی، البتہ اللہ ہی کو اختیار ہے جس کی دعا قبول فرمائے یا رد فرمائے ۔ دعا کی طلب و مقبولیت کے کچھ آداب و شروط بیان کئے گئے ہیں۔ اگر ان کا لحاظ و اہتمام کر لیا جائے تو امید واثق ہے کہ مانگی ہوئی دعائیں ضروراللہ کی بارگاہ میں منظور و مقبول ہو جائیں گی۔دعا مانگنے اور درجہ قبولیت کے حصول کے لئے لازم ہے کہ بندہ کسب حلال اختیار کرے۔ شریعت کی پابندی کرے۔ دعا کے لئے دو ز

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

مساجد کے لئے چندہ جمع کرنا  قلبی رضامندی کے بغیر چندہ لینا دینا جائز نہیں سوال:-مساجد یا مدارس کے لئے سڑکوں پر چندہ جمع کرنا کیساہے ۔ کئی علاقوں میں کچھ مقامات پر پرانی مساجد کو شہید کرکے از سر نو تعمیر کیا جاتاہے اور سڑکوں پر باقاعدہ طور حصولِ چندہ کے لئے ایک گروپ متعین کیا جاتاہے جو لائوڈ اسپیکر لے کر سڑکوں پر ڈیرہ جماتے ہیں اور ہرآنے جانے والی گاڑی کو روک کر ان سے چندہ کے لئے اپیل کرتے ہیں ۔شریعت اور اخلاقیات کے اعتبار سے ایسی کارروائی/سرگرمی کی کیا حیثیت ہے ، براہ کرم جواب عنایت کریں۔ جاوید احمد…… سرینگر   جواب:- مساجدیا مدارس کے لئے سڑکوں پر چندہ جمع کرنے کا یہ طریقہ غیر شرعی بھی ہے اور طرح طرح کی خرابیوں کا مجموعہ بھی ہے ۔ مسجدوں کی تعمیر میں حصہ لینا ایک نفلی عبادت ہے اور نفلی عبادت انجام دینے کے لئے صرف ترغیب دے سکتے ہیں خصوصاً وہ نف

شہسوارِراہِ وفا۔۔۔

  فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے مطابق تمام صحابہ کرام عادل ستاروں کی مانند ہیں اور اہل زمین کے لئے باعث امان ونجات ہیں مگر جملہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھما میں خلفائے راشدین کو جو مقام و مرتبہ حاصل ہے وہ مقام ومرتبہ ہی ان نفوس قدسیہ کی ایمانی فضیلت اور ذات مصطفیٰؐ سے غیر معمولی وابستگی کی دلیل ہے۔ ان نفوس قدسیہ نے اپنے احساس ذمہ داری ،فلاح وبہبود عامہ ،تبلیغ اسلام اور انتہائی کٹھن وقت میں اپنے صبر واستقامت کی بدولت یہ ثابت کردیا کہ ان کا انتخاب حق اور شوکت وغلبہ دین کے باعث تھا، ان میں سے ہر ایک کی شخصیت آسمان رشد و ہدایت پر جگمگاتےہوئے ستاروں کی سی حیثیت رکھتی ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے فیضان صحبت اور تعلیم وتربیت کی بدولت صحابہ کرام ؓ اشاعت اسلام کے اولین داعی اور راہ حق میں استقامت و ثابت قدمی کے پہاڑ بن گئے۔ انہوں نے غلبہ دین حق اور

سیّدالمرسلین ؐ…

تاریخِ انسانی میں بہت سی شخصیات کا تذکرہ ملتا ہے اور ہر شخصیت کسی مخصوص پہلو کی حامل نظر آتی ہے لیکن ان سب میں سب سے ممتازترین ونمایاں،کامل واکمل،ہمہ گیر وہمہ جہت اور جامع شخصیت اگر کسی کی ہے تو وہ ہے نبی آخر الزماں ،افضل البشر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت،آپ صلعم کو اللہ تعالیٰ نے ہر حیثیت سے کمال عطا فرمایا تھاتاکہ آپؐ تمام انسانیت کے لئے مکمل أسوہ اور نمونہ بن سکیںاور زندگی کے ہر میدان میں رہبری اور رہنمائی کا کام انجام دے سکیں۔ اسی لئے آپ صلعم کی نبوی زندگی کے ایک ایک لمحہ کو محفوظ کیا گیا اور نسل در نسل پورے استناد کے ساتھ اس کو دوسروں تک منتقل کیا جاتا رہا۔دنیا کی تاریخ میں آپؐ ہی کی شخصیت ایسی ہے جس کی پوری سیرت حرف بحرف موجود ہے اور وہ صحیح ترین علمی ذرائع اور مدلل انداز میں ہم تک پہنچی ہے۔ یہ خصوصیت ایک ایسی ناقابل تردید صداقت ہے جس میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں ہ

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

والدین کی نافرمانی کبیرہ گناہ مگر وراثت سے محرومی کا سبب نہیں سوال:-ایک شخص ، جس نے اپنی اولاد کو ہررنگ میں آباد کیا ، انہیں مکانات تعمیر کرکے دیئے ،بڑھاپے میں سبھی اولاد کے ہاتھوں دغا کا شکار ہو جاتا ہے۔بالآخر اپنے داماد کے گھر میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوتاہے۔جہاں بیماری کی حالت میں کوئی بیٹا اس کے علاج معالجہ اور دیکھ ریکھ نہیں کرتا۔ رحلت کرنے پر اُسے کسی غیر کے قبرستان میں سپردِ خاک کیا جاتاہے ۔ کیا ایسی اولاد والد کی وراثت کی حقدار ہوتی ہے۔ عبدالرحمان … بتہ مالو ،سرینگر جواب :-والدین کے حقوق قرآن وحدیث سے تفصیل وتاکید کے ساتھ ثابت ہیں اور نافرمانی کوحرام اور گناہ کبیرہ قرار دیا ہے ۔ چنانچہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا گناہ کبیرہ میں سب سے بڑا شرک ہے والدین کی نافرمانی ہے ۔ ایک حدیث میں فرمایا کہ اللہ کی رضا والدین کی رضا میں ہے او راللہ ک

نکاح ۔شَر سےبچانے والی رحمت ہے

نکاح ایک ایسی عبادت ہے جو تقریباً تمام انبیا و رسولان عظام کی سنت رہی ہے۔ اور اسے آدھا دین قرار دیا گیا ہے۔ یہ نگاہوں کو نیچی کرتا ہے اور گناہوں سے دور رکھتا ہے۔ زوجین کو سکون بخشتا ہے اور افزائش نسل کا سبب بنتا ہے۔ جب اللہ تبارک وتعالی نے اپنے خلیفہ ابو البشر حضرت آدم علیہ الصلاۃ والسلام کو پیدا فرمایا تو آپ جنت میں ساری آسائشیں ہونے کے باوجود گھبراتے تھے اور تنہائی سے کوفت محسوس کرتے تھے تب اللہ تعالی نے آپ کی اُس تنہائی کو دور کرنے کے لیے آپ کی بائیں پسلی سے حضرت حوا علیہا السلام کو پیدا فرمایا پھر آپ دونوں کے درمیان رشتہء ازدواج قائم فرمایا تاکہ آپ دونوں ایک دوسرے کے لیے حلال ہوجائیں اور سکون حاصل کر سکیں جیسا کہ ارشاد باری تبارک وتعالی ہے: ’’وہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی میں سے اس کا جوڑا بنایا کہ اس سے چین پائے‘‘۔(الأعراف 7/آیت 1

خُلع اور فَسخِ نکاح کا حق کس کو ہے؟

اسلام سے قبل زمانۂ جاہلیت میں زوجین کے مابین ناچاقی اور کشیدگی پیداہونے کی صورت میں عورت کےلیےاپنے خاوند سے علاحیدگی کی کوئی صورت نہيں تھی، شادی کے بعد وہ  زندگی بھر کیلئےمرد کی غلام بن جاتی۔ خواہ شوہر جیسا بھی ہو یا جتنا بھی ظالم ہو ،وہ زندگی بھر اسکے ظلم و ستم اور پنجۂ ستم سے نجات پانے اور آزادی حاصل نہیں کرسکتی تھی۔  قربان جائیے دین اسلام اور شریعت محمدی پرکہ اسلام نے یہ نظامِ قانون بنایا کہ جس طرح نکاح ایک اجنبی مرد و عورت کو حلال کر دیتاہے ، اُسی طرح خُلح وفسخ بھی حلال میاں بیوی کو جدا کر دیتا ہے، یعنی جس طرح نکاح کے ذریعہ ایک میاں بیوی ازدواجی زندگی سے منسلک (داخل )ہوجاتےہیں، اُسی طرح سے خلع اور فسخ کے ذریعہ سے بھی دونوں نکاح سے(خارج) باہرہوجاتےہیں۔گویانکاح دخول کا ذریعہ اور راستہ ہے اور خلع وفسخ خروج کا ذریعہ اور راستہ ہے۔ یہ قانون اسلام نے عطا کیاہے۔ 

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

بازار ِحصص میں خریداری ، چند اہم مسائل سوال : آج کل بہت سارے لوگ Stock Exchange میںسرمایہ کاری کی غرض سےشیئر share خریدتے ہیں ۔پھر جب ان شیئرزکی قیمت بڑھ جاتی ہے تو اُن کو فروخت کرتے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ (۱) یہ شیئرخریدنا جائز ہے(۲) ان کے خریدنے میں کوئی شرط تو نہیںہے(۳) جب ان  شیئرزکو فروخت کیا جائےتو جو اضافی رقم آئے وہ سود( Interest)کے زمرے میں تو نہیں آئے گی؟ تفصیلی جواب کی درخواست ہے۔ مدثر احمد میر۔بمنہ سرینگر جواب : شیئر مارکیٹ جس کو بازارِ حصص کہا جاتا ہے ِاُس میں سرمایہ کاری کرنے کی چار شرطیں ہیں۔ ۱۔ جس کمپنی کے شیئر خریدے جارہے ہیں ،وہ کسی حرام کاروبار کی کمپنی نہ ہو۔ایسی کمپنی یا سودی اداروںکے شیئر خریدنا جائز نہیں۔ ۲۔جس کمپنی کے شیئر خریدے جارہے ہوں،اُس کے اثاثے اور املاک سب کے سب صرف نقد رقوم تک ہی محدود نہ ہوںبلکہ کچھ جامد اثاثے بھی کمپنی حاصل ک

سخت سردیوں میں تیمّم

اﷲ تبارک و تعالیٰ قادرِ مطلق ہے ۔ موسم کا تغیر اس کی قدرت کے ایک نشانی ہے ۔ وہ خالق ہے اور اس کے سوا سب مخلوق۔ وہ جب چاہتا ہے ، جسے چاہتا ہے ، جس طرح چاہتا ہے ، پھیر دیتا ہے ۔ اس نے انسان کو تمام مخلوقات پر شرف و بزرگی عطا کی اور دیگر تمام مخلوقات کو انسان کی خدمت پر مامور فرمایا۔ موسم آتے جاتے رہتے ہیں۔ کبھی گرمی ہوتی ہے ، جس سے بہت سے کام نکلنے ہیں،لیکن جب انسان اس سے سخت تکلیف محسوس کرتا ہے تو ربِ کائنات اپنی قدرت سے موسم کو تبدیل کر دیتا ہے اور بادلوں سے مینہ برساتا ہے، جس سے جلتی ہوئی دھرتی سکون پاتی ہے، فصلیں لہلہانے لگتی ہیں اور پانی کا ذخیرہ جمع ہو تا ہے۔ کبھی وہ قادرِ مطلق ٹھنڈی ہوائیں چلاتا اور موسم میں خنکی پیدا کر دیتا ہے، جس سے مخلوق فرحت و انبساط محسوس کرتے ہیں۔لیکن کبھی بعض علاقوں میں ٹھنڈی اس قدر شدید ہو جاتی ہے کہ وضو اور غسل کرنا، جو کہ بدن کی صفائی کے ساتھ ساتھ اس پ

دُروِد شریف ۔۔۔

ارشاد ِ ربانی ہے :’’بے شک ، اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے پیغمبر ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  پر درود اور سلام بھیجا کرو‘‘۔ (سورۃ الاحزاب،56)یہ عمل حضوراکرم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس سے محبت کی دلیل ہے، لہٰذا اُمتی پرتو کہیں زیادہ لازم ہے کہ وہ اپنے رب کے حکم کی تعمیل اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی ذاتِ گرامی سے محبت میں دُرود وسلام کا تحفہ بھیجتا رہے۔ یہ عمل دنیا وآخرت دونوں کے لئے موجب اَجروباعث ثواب ہے۔ اس عمل کے ذریعے آفات وبلیات کا خاتمہ ہوتا اورمصائب ومشکلات سے نجات ملتی ہے۔ ایک حدیث مبارکہ میں ہے کہ حضور اکرم ؐ نے ارشاد فرمایا کہ میرے پاس حضرت جبرائیلؑ تشریف لائے اور کہاکہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کیا آپ اس بات پر راضی نہیں ہیں کہ آ

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

حاملہ اور زچہ پر آنے والے  اخراجات کس کی ذمہ داری سوال:۱- حاملہ خاتون کی خبرگیری،اُس پر دورانِ حمل آنے والے اخراجات،وضع حمل یا سرجری (Surgery) کا خرچہ کس کے ذمہ ہے ۔ سسرال والوں کے ذمہ یا میکے والوں کے ؟ سوال:۲-کشمیر میں یہ رواج ہے کہ وضع حمل کے بعد بچہ جننے والی خاتون ایک طویل عرصہ ، جو مہینوں پر اور بعض اوقات ایک سال پر مشتمل ہوتاہے ، میکے میں گزارتی ہے۔ شوہر چاہتاہے کہ اس کی بیوی اور بچہ گھرآئیں مگر میکے والے نہیں مانتے ۔ کبھی زوجہ بھی چاہتی ہے کہ وہ اپنے سسرال جائے مگر اُس کے والدین ہمدردی کے جذبہ میں اُس کے جذبات واحساسات کی پروا نہیں کرتے اوربعض صورتوں میں میکے والے زچہ بچہ کو اپنی سسرال بھیجنے کے لئے آمادہ ہوتے ہیں مگر سسرال والے ٹس سے مس نہیں ہوتے اور وہ خوش اور مطمئن ہوتے ہیں کہ ان کی بہو اور بچہ مفت میں پل رہا ہے ۔ اس صورتحال میں اسلام کا نظام  ک

رحمتِ الٰہی کی وسعت اور بخشش و مغفرت کی اُمید

  حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتوں کو نیکیاں اور برائیاں لکھنے کا حکم دیا،اس طرح کہ جو شخص نیکی کا ارادہ کرے اور اس پر عمل نہ کرسکے تو اللہ تعالیٰ اسے ایک پوری نیکی شمار کرلیتا ہے اور جو شخص نیکی کا ارادہ کر کے اس پر عمل کرے، اس کے حساب میں ایک نیکی کے بدلے دس نیکیاں بلکہ سات سو نیکیاں اور اس سے بھی زیادہ لکھی جاتی ہیں اور جو شخص برائی کا ارادہ کرے اور برائی کو عمل میں نہ لاسکے (اللہ کے خوف سے یا کسی اور وجہ سے) تو خدا وند تعالیٰ اپنے ہاں اس کے حساب میں ایک پوری نیکی لکھ لیتا ہے اور جو شخص برائی کا ارادہ کر کے اسے عمل میں بھی لائے تو صرف ایک برائی اس کے نامۂ اعمال میں لکھی جاتی ہے۔‘‘ (بخاری و مسلم) اللہ تعالیٰ جس طرح اپنی ذات میں بے مثل اور بے مثال ہے، اسی طرح اس کی ہر صفت ،ازلی و ابدی اور لام

قلوب و اذہان کی ترجمان ’زبان‘ کی حفاظت

ارشاد ربانی ہے: ’’اور بےشک، ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور ہم ان وسوسوں کو (بھی) جانتے ہیں جو اس کا نفس (اس کے دل و دماغ میں) ڈالتا ہے اور ہم اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں، جب دو لینے والے (فرشتے اس کے ہر قول و فعل کو تحریر میں) لے لیتے ہیں (جو) دائیں طرف اور بائیں طرف بیٹھے ہوئے ہیں، وہ منہ سے کوئی بات نہیں کہنے پاتا ،مگر اس کے پاس ایک نگہبان (لکھنے کے لئے) تیار رہتا ہے۔ (سورۂ ق ) فرمان الٰہی ہے : ’’ کیا ہم نے اس کے لئے دو آنکھیں اور ایک زبان اور دو ہونٹ نہیں بنائے۔‘‘(سورۃالبلد) اللہ تعالیٰ نے انسان کو جن بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے، ان میں سے زبان ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ زبان قلوب و اذہان کی ترجمان ہے۔ جیسی انسان کی سوچ ہوگی ،ویسا ہی زبان بولے گی۔ زبان کا صحیح استعمال، ذریعہ حصول ِثواب ہے اور غلط استعمال وعیدِعذاب ہے۔ یہ انسانی جسم کا ا

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

بار بار گیس وپیشاب کے قطرات کا اخراج اور وضوکا مسئلہ  سوال :میرا وضو نہیںٹھہرتا ہے۔ کبھی کبھی ایک کے لیے مجھے، 3، 4، 5 بار بھی وضو بنانا پڑتا ہے اور پھر بھی وضو نہیں ٹھہرتا ہے۔ پھر میں ہوا کو خارج ہونے سے روکتا ہوں اور نماز ادا کرتا ہوں۔ ہوا  خارج ہونے سےروکنے پر کافی تکلیف اُٹھانی پڑتی ہے۔ پتہ نہیں ایسا کرنے سے میری نماز ادا ہوتی ہے کہ نہیں۔ قرآن پاک کی تلاوت نہیں کرپاتا۔ کبھی کبھاروضو اگرٹھہرےتو اُس وقت نماز سکون سے ادا کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ کافی علاج کیا ،کوئی افاقہ نہ ہوا۔ اس لئے برائے کرم میری مدلل رہنمائی فرمائیں۔ آپکا مشکور رہونگا۔     عبدالحمید، بمنہ سرینگر جواب :   وہ شخص جس کو اتنی دیر وضو نہ ٹھہرتا ہو کہ وہ وضو کرنے سے لے کر نماز ختم ہونے تک اپنا وضو برقرار رکھ سکے ،وہ شخص شریعت کی نظر میں معذور کہلاتا ہے۔مثلاًکسی شخص کو

تازہ ترین