تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 سوال:۔ قرآن کریم کے حقوق کیا کیا ہیں اور کیا ہم مسلمان اُن حقوق کو ادا کررہے ہیں یا نہیں ۔تفصیلی جواب ، اُمید ہے کہ ،بیداری اور بصیرت کا ذریعہ ہوگا اور اپنی کوتاہی کا احساس بیدار کرنے کا سبب بنے گا۔ محمد فاروق،سرینگر مسلمان پر قرآنِ کریم کے حقوق جواب:۔ قرآن کریم کے کچھ حقوق تو فکری و ایمانی ہیں اور کچھ حقوق عملی ہیں۔ ایمانی حقوق مختصراً یہ ہیں: اس پر ایمان لانا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اوراس پر یقین رکھنا کہ مکمل طور پر محفوظ ہے۔ اس کی عظمت دل میں رکھنا۔ اس پر یقین رکھنا کہ یہ حضرت محمد ﷺ  پر حضرت جبرائیل ؑکے ذریعہ نازل ہوئی ہے۔ یہ یقین رکھنا اب انسانیت کے لئے صرف یہی ایک صحیفۂ ہدایت ہے اور قرآن کریم کے عملی حقوق یہ ہیں ۔ اس کی تعلیم حاصل کرنا ،یعنی اس کو اس کے عربی میں پڑھنے کی صلاحیت پیدا کرنا۔ یہ پڑھنے کی صلاحیت چاہئے صحیفۂ مبارک ہاتھ میں لے کر ا

عید کی نماز اپنے گھروں کے بڑےہال، صحن یا پارک میں ادا کرسکتے ہیں

نماز جمعہ کی طرح تمام احتیاطی تدابیر اور طبی ہدایات کے مطابق محدود تعداد کے ساتھ نماز عید الفطر بھی ادا کی جائے۔ جن مقامات میں شرائط کے مطابق جمعہ پڑھا جا رہا ہے وہاں پر بڑی مساجد کے علاوہ چھوٹی مساجد، گھروں ، ان کے صحن یا پارکوں اور ھالوں میں یہ نماز پڑھی جا سکتی ہے۔ مساجد کے منتظمین اور با اثر مدبر حضرات مشورہ کر کے بنکوں، گیس ایجنسیوں اور راشن اسٹوروں وغیرہ میں حکومت کی طرف سے دی گئی ہدایات کے مطابق قائم سماجی فاصلہ (سوشل ڈسٹنس) کے نمونہ پر نمازیوں کے درمیان فاصلہ بنائیں۔ اس سے صحت کی حفاظت بھی ہوگی اور شرعی حکم کی بجا آوری بھی۔ ایک مسجد، ھال، گھر کے صحن یا پارک میں ہجوم سے بچنے کے لئے تھوڑے تھوڑے افراد وقفہ وقفہ سے ایک سے زائد مرتبہ بھی نماز عید ادا کر سکتے ہیں۔ لیکن ہر مرتبہ کا امام الگ الگ ہونا چاہیے۔ کیونکہ وقت کافی دستیاب ہے۔  نماز عید کا وقت اشراق (آج کل پون

قبلہ اول کی بازیابی | ملت مرحومہ کی بے کسی روح فرسا

 تاریخ گواہ ہے کہ آج سے تقریبا تہتر سال پہلے اس سرزمین پر اسرائیل نامی صیہونی ریاست کا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ پہلی جنگ عظیم سے قبل مٹھی بھریہودی ارض فلسطین پر آباد توتھے۔ یہ اپنے ازلی حریف عیسائیوں کے شر سے محفوظ رہنے کے لیے سینکڑوں سال تک مسلمانوں کے زیر سایہ اپنی زندگی بسر کررہے تھے اور مسلمانوں کے ہوتے ہوئے بنا کسی خوف و خطرکے اپنے مذہبی امور انجام دیتے تھے۔ صیہونی دہشتگردی نامی کتابچہ کے مطابق 1800 ء سے قبل صرف چھ ہزار سات سو یہودی فلسطین میں آباد تھے۔ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت دنیا بھر سے یہودیوں کو اکھٹا کرکے فلسطین کی سرزمین پر بٹھایا گیا اور 1915 ء میں فلسطین میںیہودیوں کا تعداد ستاسی ہزار پانچ سوتک پہنچ گئی اور یہ تعداد بتدریج بڑھتی چلی گئی۔ 1947 ء تک فلسطین کی سرزمین پر چھ لاکھ تیس ہزار یہودیوں کو بسایا گیاجس کا نتیجہ یہ نکلا کہ1948 ء میںامریکہ اور برطانیہ کی ناجائز

بیت المقدس کے تئیں امت ِ مسلمہ کی ذمہ داری

قبلۂ اول کا تقدس اس کے نام سے ہی عیاں ہے اور اس کی تقدیم و تقدس کیلئے یہ امر کافی ہے کہ اسے مسلمانان عالم کے قبلہ اول ہونے کا شرف حاصل ہے۔ خدا کے اس مقدس گھر کی جانب رخ کرکے اولین و سابقین مومنوں نے امام المرسلین ؐ کی پیشوائی میں نماز ادا کی۔ خداوند قدّوس نے اپنے محبوب کو معراج پر لے جانے کیلئے روئے زمین پر اسی مقدس مقام کا انتخاب کیا۔ جب سے اس کی بنیاد پڑی ہے خاصان خدا بالخصوص پیغمبروں نے اس کی زیارت کو باعث افتخار جانا ہے۔ بیت المقدس بارگاہ خداوندی کے ان اولین سجدہ گزاروں اور توحید پرستوں کا مرکز اول ہے جن کے سجدوں نے انسانیت کوہزارہاسجدوں سے نجات دلادی۔  لیکن افسوس صد افسوس کہ جو بیت المقدس مدت مدید سے خداجو افراد کے واسطے خدا نما ثابت ہوا، جس نے پریشان فکروںکو مجتمع کر کے مسلمانوں کو مختلف الجہتی اور پراگندگی سے بچایا، جس نے فرزندان ِ تو حید کی قوت ِ بندگی کو مرتکز (Conce

خلیفہ چہارم حضرت علی ؓ

 تاریخ اسلام پر فکری لحاظ سے سب سے زیادہ اثرات حضرت علی ؓ نے چھوڑے ہیں۔ ان کے بارے میں مسلمانوں میں کئی فرقے افراط وتفریط میں پڑ گئے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ انہیں بلاکر ارشاد فرمایا تھا کہ’ تیری مثال حضرت عیسیٰ ؑ جیسی ہے ۔ یہود کو ان سے اتنی نفرت تھی کہ ان کی ولادت تک کوناجائز بتایا اور نصاریٰ نے ان سے اس قدر محبت کی کہ انہیں ایسے درجے پر پہنچایا جس کے وہ مستحق نہ تھے۔ ‘ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حضرت علی ؓنے شہادت کے بعد تاریخ کو جس پیمانے پر متاثر کیا ہے، اس کی نظیرنہیں ملتی مگر ان کی شخصیت کے بارے میں مسلمانوںکے دو بڑے گروہوں میں یہ بات مسلّم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی ذات میں تمام صفات حسنہ جمع کئے تھے۔ ان کے جو فضائل اور مکارم اخلاق حدیث و سیرت کی کتابوں میں بیان ہوئے ہیں ان پر ایک مستقل تصنیف تیار ہوسکتی ہے ۔ یہاں ان کی عظیم شخصیت کے ایک پہلو کا سرسری تذک

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال :رمضان المبارک کے آخری عشرے میں جو اعتکاف ہوتا ہے،کیا یہ اعتکاف آج گھروں میں ہوسکتا ہے یعنی جیسے جمعہ گھروں میں ہورہا ہے اسی طرح اعتکاف کرنے کی اجازت ہوگی یا نہیں ۔یاد رہے کہ کچھ علماء نے جمعہ و جماعت کی طرح گھروں میں بھی اعتکاف کی اجازت دی ہے ،اس کا جواب ضرور لکھا جائے کہ کیا یہ اعتکاف مسنون ہوگا اور کیا اس عبادت کا کوئی اجر ہوگا یا نہیں اور اس میں کوئی فایدہ ہے یا یہ ضیاع ہے؟ محمد معروف بٹ۔باغات کنی پورہ سرینگر اعتکاف مسجد میں لازمی موجودہ حالات میں ایک شخص معتکف ہوسکتا ہے جواب  :رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف سنت موکدہ ہے ۔مردوں کے اعتکاف کے لئے مسجد ہونا شرط ہے اور خواتین گھروں میں اعتکاف کریں گی ۔مردوں کے اعتکاف کے لئے چونکہ مسجد ہونا شرط ہے اور جب اس شرط کے ساتھ یہ اعتکاف ہوگا تو یہ سنت علی الکفایہ کی وجہ سے سب کی طرف سے ادا ہوجائے گا ۔اس لئے ج

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

نماز کی ادائیگی کے دوران غلبۂ نسیان رکعتوں اور ارکان نمازمیں کمی بیشی کے سہو کا شرعی حل سوال : میرا اور میری طرح میرے ہم عمر بہت سارے معمر حضرات کا سوال یہ ہےکہ بڑھاپے میں جسمانی اور ذہنی قوتوں میں کمزوری کا سابقہ ایک فطری حقیقت ہے ۔اس لئے بڑھاپے میں ایک اہم مسئلہ یہ درپیش رہتا ہے کہ نسیان اور بھولنے کی وجہ سے پریشانیاں لاحق ہوتی ہیں۔مثلاً نماز میں یاد ہی نہیں رہتا کہ کتنی رکعتیں پڑھی اور کتنی باقی ہیں ۔رکوع، سجدہ کیا ہے یا چھوٹ گیا ہے۔قیام میںکیا پڑھا یا پڑھنا تھا مگر نہیں پڑھا ۔اس بھولنے کے باعث نمازوں میں بڑا خلجان رہتا ہے ۔اس بارے میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے۔ ایک معمر و معزز شہری۔سرینگر جواب  : نسیان اور بھولنے کا مرض ایک عمومی مرض ہے اور عمر بڑھنے کے ساتھ یہ بھی بڑھتا رہتا ہے۔چنانچہ بڑھاپے میں بھولنے کے نتیجے میں عجیب عجیب واقعات ہوتے ہیں ،حتیٰ کہ کبھی اپنا نام

خوار از مہجورے قرآں شدی

 قرآن کے ’’من جانب اللہ‘‘ہونے کی دو حیثیتیں ہیں۔ایک یہ کہ قرآن ’’کتاب اللہ ‘‘ہے یعنی اللہ کی کتاب ‘اور دوسرے یہ کہ قرآن ’’کلام اللہ‘‘ہے یعنی اللہ کا کلام۔آپ قراان کو کلام اللہ کی حیثیت سے پڑھتے ہیں تو گویا اللہ تعالیٰ سے ہمکلام ہوجاتے ہیں۔آپ پر معر فتِ الٰہی کے حصول کی راہیں کھل جاتی ہیں۔آپ پر اُن حقیقتوں کا انکشافات ہوجاتاہے ‘جن سے عام لوگ کبھی واقف نہیں ہو پاتے۔اور پھر آپ قرآن کو کبھی رسمی زاوِیہ نگاہ (Traditional belief)سے نہیں پڑھتے ‘بلکہ آپ کے دل میں قرآن کے حقیقتِ متعلقہ ہونے کا راسخ یقین بیٹھ جاتاہے اور آپ ہر شعبہ ہائے زندگی میں قرآن کو رہنما بناتے ہیں۔گویا کہ یہ قرآن آپ کے وجود میں سرایت کرجاتا ہے اور قرآن کے متعلق آپ کے محسوسات یکسر تبدیل ہوجاتے ہیں۔بقول شاعر’&r

حقوق اللہ اور حقوق العباد

 عالمِ انسانیت آج بے قراری کے دور سے گزررہی ہے۔ لوگ سخت ترین حالات سے دوچار ہیں،بے بس اور لاچار ہوچکے ہیں۔ وبائی قہر نے دل مغموم اور رنجیدہ کردئیے ہیں۔زندگی کی گاڑی کا پہیہ جام ہوچکا ہے۔ سارا نظام درہم برہم ہوکر رہ گیا ہے۔ کورونا وائرس نامی اس مہلک مرض نے بھائی کو بھائی سے اور ماں کو بیٹے سے دور کردیا ہے۔پوری دنیا جس تیز رفتاری سے زندگی کی بھاگ دوڑمیں آگے بڑھ رہی تھی اور پیچھے سارے حقوق جو خالق و مخلوق سے منسلک ہیں ،پامال ہو رہے تھے شائد اسی حق تلفی کا خمیازہ آج ہم بھگت رہے ہیں۔ موقع کو غنیمت جان کراب یہ عہد کرلیں کہ زندگی کے جو اصول و ضوابط حیاتِ مستعارکی طرف راہ نمائی کرتے ہے، اسی راہ پر گامزن ہوکر کامیابی و کامرانی حاصل کرنا ہے۔یقینا یہ فلاح و کامرانی صرف اور صرف دینِ اسلام میں ہی کامل و مکمل طور پر پائی جاسکتی ہے۔اسلامی تعلیمات کو ملحوظ رکھ کر ہمارے ایک دوسرے کے اوپر کیا کی

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

موجودہ و بائی صورتحال ۔۔۔ مستحقین کی امداد و اعانت کا عمل  زکواۃ و صدقات کی شرعی حقیقت اور مصارف میں احتیاط لازم سوال: موجودہ لاک ڈاون کی وجہ سے جو مسائل پیدا ہوئے ہیں اُن میں ایک اہم مسئلہ اُن لوگوں کا ہے جو آمدنی نہ ہونے کی وجہ سے فقر و فاقہ کا شکارہوگئے ہیں ۔اس صورت حال میں ہمارے کچھ جذبہ خیر رکھنے والے بھائی ،کچھ خیراتی ادارے اور کچھ سماجی فورم ایسے لوگوں تک ریلیف پہنچانے کا کام کررہے ہیں ۔اس لئے اس سلسلے میں خرچ کرنے والوں ،تقسیم کرنے والوں اور ریلیف لینے والوں کے لئے شرعی ہدایات کیا ہیں ؟ اس پر تفصیل سے روشنی ڈالیں ۔                                                                 ( وسیم حسین ،محمد فی

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

س: -روزے کے متعلق جوعمومی مسائل کثیر الوقوع ہیں ، براہ کرم اپنے مفیدکالم میں خود ہی انتخاب کرکے ضرور شائع کریں ۔  اس لئے اہم مسائل ضرور لکھیں ۔  اعجاز احمد خان…بانڈی پورہ روزے کے اہم مسائل  ج: -روزہ ہرمسلمان مرد عورت پر فرض ہے، بشرطیکہ وہ بالغ ہو ۔ روزہ کو فرض تسلیم کرنااور اس کو خدا کا اس کے نبی کا لازم کردہ حکم اعتقاد رکھنا ضروری ہے۔ اس لئے جو شخص رمضان کی یا روزے کی توہین کرے ، تو وہ شخص ایمان سے محروم ہوسکتاہے ۔ مثلاً کوئی یہ کہے ،ہم کو بھوکا پیاسا رکھنے سے اللہ کو کیا ملے گا ، یا روزہ اس وقت فرض تھا جب لوگوں کے پاس کھانے پینے کو کچھ نہ تھا،اس طرح کے جملے بول دینے سے مسلمان کا ایمان ختم ہوجاتاہے۔روزہ کے فرض ہونے کا عقیدہ رکھنا اور پھر اس کو ادا کرنا دونوں لازم ہیں۔یعنی عقیدہ عمل دو الگ الگ امور ہیں اور دونوں ضروری ہیں صرف ایک خاص صورت میں روزہ رکھن

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال: رمضان المبارک کی آمد آمد ہے اس مقدس مہینے میں اہل ایمان نمازوں اور روزوں کا جو خصوصی اہتمام کرتے ہیں وہ سب پر واضح ہے یہی وجہ ہے کہ عموماً رمضان میں مساجد زیادہ آباد ہوتی ہیں۔ اور روزوں کی وجہ سے پورے ماحول میں جو خوشگوار نورانی اثرات پیدا ہوتے ہیں وہ بھی مشاہدہ ہے۔مساجد یوں تو پورے رمضان کی ہر نماز میں نسبتاًمعمور ہوتی ہیں لیکن صبح اور شام میں مساجد میں عبادات کی رونق دوبالا ہوتی ہے لیکن موجودہ وبائی بیماری کی وجہ سے جو بندشیں ہیں اس کی بناء پر بہت سارے سوالات پیدا ہوگئے ہیں۔ اس لئے اختصار کے ساتھ عرض یہ ہے کہ اگلے ہفتے میں شروع ہونے والے رمضان المبارک کے مہینے کا نظام کیا ہوگا؟ نمازوں کی ادائیگی کیسے ہوگی؟ جماعت کی نماز کے مسائل کیا ہونگے؟ تراویح کے ادائیگی کے لئے کیا ترتیب قائم کی جائے گی؟ سحری اور افطاری کے متعلق کیا احکامات ہونگے؟ یاد رہے کہ طبی صورتحال کی بناء پر احتیاطی

کورونا کا قہر اور خدمت ِ خلق

عصر حاضر میں معاشرتی فلاح وبہبود ایک عام اصطلاح ہے جس کا مطلب اجتماعی مسائل اور کوششوں کو اس طرح بروئے کار لانا ہے کہ کسی ایک انسان کی زندگی بنیادی ضرورتوں سے محروم نہ رہے۔ کوئی بے خانہ وبے خانماں نہ رہے اور کسی کو بلاوجہ علم وعرفان کی شمع سے محروم نہ رہنے دیا جائے۔خدمت خلق کا مروجہ تصور انیسویں صدی عیسوی کے بدلتے ہوئے حالات کی پیداوار ہے۔ یہی تصور آج کے بیشتر ترقی یافتہ ممالک میں مختلف صورتوں میں اور مختلف ضابطوں کی صورت میں نظر آتا ہے بلکہ خدمت خلق کا تصور تعلیمی سطح پر ایک با قاعدہ سائنس (سوشل سائنس)کا درجہ اختیار کر چکا ہے۔ جدید جمہوری ریاستیں اپنے لئے رفاہی اور فلاحی ریاست کا جو تصور پیش کرتی ہیں، ان میں نبی نوع انسان کی خدمت اور فاہِ عامہ کی سرگرمیوں کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ آج کی دنیا انسان سے گہری ہمدردی کا اظہار کرتی ہے اور اس سلسلے میںلاتعدادفلاح و بہبود پروگرامات وضع

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال: کورونا وائرس نے زندگی کے پورے نظام کو مفلوج بنا دیا ہے۔ تمام سرگرمیاں معطل، دنیوی چلت پھرت کے ساتھ احکام دین پر عمل کرنے میں بھی شدید اختلال پیدا ہوا ہے۔ چنانچہ جمعہ کی نماز کیسے ادا کی جائے اس میں بھی بہت انتشار اور خلفشار ہے۔ اس لئے گذارش ہے کہ جمعہ کے متعلق واضح طور پر بیان فرمایا جائے کہ جبکہ مسجدوں میں اجتماع کو انتظامی اور طبی دونوں اعتبار سے روک دیا گیا ہے۔ تو تمام مسلمانوں کے لئے کیا حکم ہے؟ حافظ عبد الرشید خان کشتواڑ طبی اور قانونی مجبوری کے بہ سبب نمازِ جمعہ ادا نہ کرنے والے تارک جمعہ نہیں جواب:جمعہ دین اسلام کا اہم ترین شعار ہے۔ اس کی ادائیگی کا حکم قرآن کریم میںموجود ہے اور حدیثوںمیں ترک جمعہ پر سخت وعیدیں ہیں۔ کرونا وائرس کی بیماری کے نتیجے میں جمعہ کے متعلق یہ احکام ہیں: ۱۔جن دیہاتوں چھوٹے گاؤں میں شرائط جمعہ نہ ہونے کی وجہ سے جمعہ کی نماز ادا نہ ہ

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

کورونا وائرس سے فوتیدہ مسلمان غسل، کفن، جنازہ اور تدفین کے مسائل اور انکا شرعی حل سوال: کورونا وائرس کی اس خطرناک وبائی بیماری کے نتیجے میں جو طرح طرح مسائل ہمارے سامنے ہیں ان میں ایک اہم ترین مسئلہ یہ ہے کہ اس مرض کا شکار کوئی شخص اگر فوت ہوجائے تو اس کے غسل سے لیکر کر دفن کے مسائل کے متعلق شرعی احکام کیا ہونگے یاد رہے کشمیر میں اس طرح کا حادثہ پیش آچکا ہے کہ ایک دین دار مسلمان اس مرض کا شکار تھا اور وہ اللہ کو پیارا ہوگیا۔ اب اس سلسلے میں سوالات یہ ہیں: ۱۔ اگر اس مرض کا شکار فرد فوت ہو جائے تو اس کا غسل کیسے دیا جائے اگر ڈاکٹروں کی رائے میں غسل دینے کی کوئی شکل نہ ہو تو کیا تیمم کرا سکتے ہیں یا نہیں؟ ۲۔ یہ کہ اس کو کس طرح کا کفن پہنایا جائے اگر طبی طور پر اس کو کسی پلاسٹک کے مضبوط کور میں لپیٹ دیا گیا ہو اور اس کور کے کھولنے کی اجازت بالکل نہ ہو تو کیا اس پلاسٹک کور

فلسفۂ معراج

حضورنبی کریم ﷺ کے معراج شریف کا واقعہ نہایت مشہور و معروف ہے ۔اسے علمائے دین اور مورخین نے نہایت تفصیلاً تحریر فرمایا ہے اور اکثر واقعہ تفسیر ِ قرآن کریم اور صحیح احادیث نبویہ ؐ میں موجود ہے۔اس سارے واقعہ سے دورِ حاضر کے مسلمانوں کو کیا سبق ملتا ہے ؟اس تاریخ سازواقعہ کو مدنظر رکھ کر آئندہ مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے ؟ یہ وہ سوالات ہیں جو نظر اندازنہیں کئے جا سکتے ہیں ۔ واقعہ ٔ معراج کب پیش آیا ،اس میں علمائے سیر کا اختلاف ہے ۔اس بارے میں علماء کے 10 اقوال ہیں ، حافظ ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک واقعہ معراج سفر طائف کے بعد پیش آیا (زاد المعاد)۔    محقق عالم دین ،محدث ومفسر قرآن حضرت مولانا محمد ادریس کاندہلوی ؒ فرماتے ہیں :    ’’ راجح قول یہ ہے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد اور بیعت ِ عقبہ سے پہلے معراج ہوئی ۔۔۔یہ امر روایات سے ث

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:کرونا وائرس کی وجہ سے سبھی لوگوں کو Senitizerاستعمال کرنے کی بہت تاکید کی جاتی ہے ۔ حالانکہ اس میں الکحل کی بہت مقدار ہوتی ہے جبکہ الکحل کے بارے میں سنا گیا ہے کہ وہ ناپاک ہوتا ہے تو اب سوال یہ ہے کہ Senitizer استعمال کرنے کے بعد ہاتھ پاک رہتے ہیں یا ناپاک اور کیا پانی استعمال کئے بغیر نماز پڑھ سکتے ہیں، یا پانی کا استعمال ضروری ہے۔ اگر کپڑوں میں لگ جائے تو اس کا کیا حکم ہے۔ عبدالعزیز زرگر،رعناواری، سرینگر   کرونا وائرس سینی ٹائزر کے استعمال میں کوئی شرعی ممانعت نہیں   جواب:صفائی اور جراثیم کو ختم کرنے کیلئے Senitizer ایک ایسا مائع Liquidہے جس میں الکحل بھی ہوتا ہے۔ الکحل مختلف چیزوں سے تیار ہوتا ہے۔ ان چیزوں میں انگور اور کھجور بھی ہے۔ان دو سے جو الکحل تیار ہوتا ہے وہ حرام بھی ہے اور نجس بھی۔ یہ الکحل مہنگی شرابوں اور بہت قیمتی دوائوں میں استعمال ہے جبکہ پ

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 مندرجہ ذیل چند سوالات عرض ہیں، بمہربانی مختصر وضاحت فرمائیں؟؟ (۱) ایک مسلمان کے لئے لباس کے بارے میں کیا شرعی حکم ہے؟ (۲) مردے کےہاتھ باندھ کے رکھنے اور غسل کے بعد کفن باندھنے اور پھر چہارم کی رسم کے بارے میں کیا احکامات ہیں؟ (۳) قرض کے لین دین ، جسکا سود ایک اہم حصہ ہوتا ہے ، کے بارے میں شریعت کیا کہتی ہے؟ (۴) لڑکے اور لڑکی کے درمیان رشتہ طے کرنے سے پہلے یہ شرط رکھی جائے کہ دونوں پہلے ایک دوسرے سے مل لیں، پھر فیصلہ کرینگے، کیا ایسا کرنا جائزہے؟ عبدالرحمان ملک فاروق احمد ملک  لباس کے بارے میں شرعی ہدایت جواب:۔ لباس کے متعلق شرعی اصول یہ ہے کہ ہر وہ لباس جو انسان کے ستر کو پوری طرح نہ چھپائے وہ غیر شرعی لباس ہے لہٰذا جو لباس بدن پر اس طرح تنگ اور چست ہو کہ جسم کے اعضائے مستورہ کا حجم اور نشیب وفراز نمایاں ہو جائےوہ لباس غیر شرعی ہوگا ۔لہٰذاچست

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:اگر کوئی آدمی کہیں پر پڑی ہوئی کوئی رقم یا کوئی چیز اٹھائے،اس کے متعلق شریعت کا کیا حکم ہے؟راقم نے پڑھا ہے کہ اگر اس کا مالک نہ ملے تو اس کو اصلی مالک کے نام پر صدقہ دے۔مالک معلوم نہ ہو تو یہ بھی ممکن ہے کہ اس کا مالک غیر مسلم بھی ہو سکتا ہے ۔کیا ایسے مالک کو صدقہ کا کچھ فایدہ ہوگا ،اگر نہیں تو ایسے رقم یا چیز کا مصرف کیا ہے؟ ابو عقیل ۔دارہ پورہ ،زینہ گیر سرینگر کوئی رقم یا چیز اٹھائی جائے تو کیا کیا جائے؟   جواب:جب کوئی شخص کسی جگہ سے کوئی گری پڑی چیز اٹھائے یا کوئی رقم اٹھائے تو شریعت میں اس چیز کو لقطہ کہتے ہیں۔اس لُقطہ کا حکم یہ ہے کہ اٹھاتے وقت مالک تک پہنچانے کی نیت سے اٹھائے ،اگر اُس نے خوش ہوکر اپنے استعمال کی نیت سے اُسے اٹھالیا تو اس نیت کی وجہ سے وہ گنہ گار ہوگا اور پھر وہ شخص اس چیز کا ضامن بن جائے گا پھر ضمان کے احکام اس پر جاری ہوں گے جو الگ سے

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 سوال:-برائے کرم کشمیرعظمیٰ کے ان صفحات میں حج کا مکمل طریقہ بہت اختصار کے ساتھ درج فرمائیں تاکہ سفر حج میں جانے والے ایک مختصر اور مستند گائڈ پیپر ساتھ رکھیں۔ ارشاد احمد - ---- ،سرینگر حج کا مختصر طریقہ منیٰ: 8ذی الحج کو حج کا احرام باندھ کر سارے حاجیوں کومنیٰ روانگی نیت حج کریں ۔یہاں سے کثرت سے تلبیہ پڑھنا شروع ہوگا۔ منیٰ کا فاصلہ مکہ معظمہ سے تین چارکلومیٹر ہے اور پیدل جانا افصل ہے ، اگلی صبح تک منیٰ میں ٹھہرنا ہی عبادت ہے 8سے  9ذی الحج صبح تک نمازیں پڑھنا اورعبادتیں کرنا ہے ۔ عرفات:9ذی الحج کی صبح کو تمام حاجیوں کی منیٰ سے عرفات روانگی ،عرفات میں زوال کے بعد سے غروب آفتا ب تک کا وقت نہایت اہم اور قیمتی ہے ۔ روئیں ، گڑگڑائیں ،اُٹھتے بیٹھتے اور کھڑے ہوکر شام تک دعائیں ہی مانگتے رہیں۔شام میں ضرور جبل رحمت پر جاکر دعائیں مانگیں کیونکہ اسی پہاڑ پر رسول اکرم صل