تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

وحی،الہام اور کشف کی تصریح۔قرآن و حدیث کی روشنی میں  سوال  :وحی کیا ہوتی ہے؟ اس کے کیا طریقے تھے؟ الہام کیا ہوتا ہے، کس کو ہوتا ہے؟ اور کشف کسے کہتے ہیں؟ یہ اگرچہ علمی سوالات ہیں مگر بہرحال دین کا حصہ ہیں کہ جن کا تعلق عوام اور خواص دونوں کے ساتھ ہے۔ اس لئےان کی مختصر مگر واضح تشریح فرمائیں۔ عبد الکبیر قاسمی سرینگر جواب: وحی وہ خاص ذریعہ علم ہے جو صرف کسی نبی یا رسول کو ہوتا ہے ۔جس وقت یہ وحی آتی ہے اُس وقت وہ شخصیت جس پر وحی کا نزول ہوتا ہے، اوصاف بشری سے بالاتر ہو کر صفات ملکویت سے آراستہ ہوتی ہے یعنی اُس وقت وہ ملائکہ کے اوصاف سے متصف ہوتا ہے۔ جب نزول وحی کی کیفیت اختتام کو پہونچتی ہے تو وہ نبی اپنی انسانی صفات کی حالت میں واپس آجاتا ہے۔ چنانچہ احادیث میں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی کے نزول کے وقت کی کیفیات منقول ہیں کہ سخت سردی کے وقت پسینہ

نیک کام میں دیر کیسی؟

انسان اس دنیا میں جب آتا ہے تو فطرت لے کر آتا ہے،جسے قرآن حکیم ’’فطرت اللہ‘‘ قرار دیتا ہے،ازروئے الفاظِ قرآنی:’’قائم ہوجائیں اس فطرت پر جس پر اللہ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے‘‘(الروم۔۳۰) یہی حقیقت حدیثِ پاک میں بایں الفاظ میں بیان کی گئی ہے:  ’’(نسل انسانی کا) ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے،لیکن یہ اس کے والدین ہیں جو اسے یہودی،نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں‘‘(بخاری) اس فطرت کے اندر اللہ تعالیٰ کی معرفت اور محبت بدرجہ اتم موجود ہوتی ہے لیکن اندھا دھند دنیوی محبت میں مبتلا ہوکر اس فطرت میں کجی آکر بالآخر یہ بے راہ روی(Perversion) کا شکار ہوجاتی ہے۔زنگ آلود ہونے کی وجہ سے اس کی صلاحیتیں مفقود ہو جاتی ہیں اور انسان ایک حیوان نما جانور کی شکل اختیار کر کے اپنے دن رات کاٹنے میں ہی مصروف رہتا