تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

قضائے عمری ، جواز وطریقہ  سوال:-میں 20سالہ نوجوان ہوں ۔ میں انجینئرنگ کالج میں طالب علم ہوں ۔ میں نے 19سال کی عمر میں نمازیں پابندی سے ادا کرنی شروع کی۔میں اس سے پہلے بھی پڑھا کرتا تھا لیکن پابندی سے نہیں ۔اب الحمد للہ نمازوں کو میں پابندی سے اداکرتاہوں ۔ مسلمان پر شرعی حکم کے تحت نماز زندگی کے کس مرحلے میں فرض ہوجاتی ہے ۔بعض علماء کہتے ہیںکہ7سال اور بعض کہتے ہیں 10اور کئی 18سال فے فرض قراردیتے ہیں ۔ اگر نمازیں اس عمر میں چھوٹی ہوئیں ہوں تو کیا وہ ادا کرنا لازمی ہے اور اگر یہ نمازیں ادا کرنا لازمی ہے تو ان نمازوں کے ادا کرنے کا طریقہ بتائیے۔ ہر نماز کایعنی فجر سے لے کر عشاء تک بیان کیجئے کہ کس وقت میں نماز قضائے عمر پڑھی جائے ۔ اس کا مسنون طریقہ بیان کیجئے ۔ محمد اقبال شاہ ،بڈگام جواب:-نمازوں کی ادائیگی کا اہتمام ایمان کی علامت اور قضاء شدہ نمازوں کو ادا کرنے کی فکر مو

سیرتِ رسول ؐ کے چند پہلو

’’اے نبی ، کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے ، اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے عزیز و اقارب اور تمہارے وہ مال جو تم نے کمائے ہیں ، اور تمہارے وہ کاروبار جن کے ماند پڑ جانے کا تم کو خوف ہے اور تمہارے وہ گھر جو تم کو پسند ہیں ، تم کو اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد سے عزیز تر ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ تمہارے سامنے لے آئے ، اور اللہ فاسق لوگوں کی رہنمائی نہیں کیا کرتا‘‘ ۔ (التوبہ24) مذکورہ بالا آیت نے محبت کی ساری اقسام کو جمع کیا اور یہ فرض قرار دیا کہ اللہ اور اللہ کے رسولؐ کی محبت ہر چیز پر غالب ہونی چاہیے انسان اگر دنیا کی ہر چیز سے زیادہ محبوب اللہ اور ا للہ کے رسولؐ کو رکھے مگر اپنی ذات کی محبت درمیان میں حائل ہو تب بھی ایمان ناقص اور نا مکمل ہوگا۔امام بخاری نے عبداللہ بن ھشام کی ایک روایت نقل کی ہے کہ

سیرت النبی ؐ کا ابدی پیغام

ماہ ربیع الاول پوری امت مسلمہ کے لئے موسم بہار کی حیثیت رکھتا ہے چونکہ اس مہینہ نبی آخر الزمان محمد ؐبن عبداللہ کی ولادت با سعادت کا شرف حاصل ہے ۔فرحت و مسرت کا مظہر کھلائے جانے والے اس مہینہ کو اسلامی تاریخ میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ یہ وہ مبارک مہینہ ہے، جس میں اللہ عزوجل نے سرور کائنات فخر موجودات، دانائے سبل، ختم الرسل، جیسے القاب دیکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مدعو کیا اور تمام انسانوں کے لئے محسن انسانیت اور ملت کا غم گسار بناکر اس کرۂ ارض پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو امام الانبیا، سیدالمرسلین، تاجدار ِمدینہ، احمدمجتبیٰ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمتہ للعالمین بناکر مبعوث فرمایا ۔آپ کا ظہور پوری انسانیت کے لئے ایسا ہمہ گیر اور انمول تحفہ تھا، جس نے صحرائے عرب میں ایسا انقلاب برپا کیاکہ جس سے کفروشرک، ضلالت و گمراہی کے بادل چھٹنے لگے، عرب کے صحرانشینوں پر روحانیت کے ب

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

تسبیح ہاتھ میں لینا عملِ تعامل س:۱-یہاں بزرگوں کے ساتھ ساتھ اب نوجوان بھی اپنے ہاتھ تسبیح لئے پھرتے ہیں ۔بظاہر وہ ذکر واذکار کا شمار کرنے کے لئے ایسا کرتے ہیں۔سعودی عرب اس کی سب سے بڑی منڈی ہے ۔ یہاں کے بازاروں میں قدم قدم پر مختلف اقسام کی تسبیحاں ملتی ہیں ۔دُنیا بھر سے حاجی حضرات یہاں سے کافی تعداد میں ہر سال تسبیحاں لاکر اپنے عزیز واقارب او راحباب میں تبرکاً  پیش کرتے ہیں ۔ اس طرح سال بہ سال اس میں اضافہ ہوتارہتاہے ۔ کچھ لوگوں کا کہناہے کہ تسبیح کا استعمال قرآن وسنت سے ثابت نہیں ہے ۔ اگر ایسا ہے تو پھر سعودی عرب میں اس کا کاروبار کیوں کیا جاتاہے ؟ اصل کیا ہے ،رہنمائی کرکے شکرگزارفرمائیں۔ س:۲-بھیڑ، بکری اور دوسرے حلال جانوروں کی طرح مچھلی بھی ایک جاندار ہے ۔جب باقی جانداروں کا ذبیح کرنا لازمی ہے تو مچھلی کے سلسلے میں کیا حکم ہے ؟ احمد اللہ نثار ، پلوامہ (کشمیر)

رحمتہ للعالمینﷺ کی آمد

ارشاد باری تعالیٰ ہے:اور نہیں بھیجا ہے ہم نے تم کو اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مگر رحمت بناکر جہاں والوں کے لیے۔(سورۃ الانبیاء) آیت میں مذکور لفظ’’عالمین ‘‘، عالَم کی جمع ہے ،جس میں ساری مخلوقات بشمول انسان، فرشتے،جنات، حیوانات، نباتات، جمادات سب ہی داخل ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان سب چیزوں کے لیے رحمت اس طور پر ہیں کہ دنیا میں قیامت تک اللہ تعالیٰ کا ذکر وتسبیح اور اس کی عبادت وبندگی آپ ﷺ کے دم سے قائم اور آپ ؐکی تعلیمات کی برکت سے جاری و ساری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب زمین پر کوئی بھی اللہ اللہ کہنے والا نہیں رہے گا تو قیامت آجائے گی۔ تفسیر ابن کثیر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا گیا ہے کہ’’میں اللہ کی بھیجی ہوئی رحمت ہوں‘‘۔باقی انسانوں کے لیے رحمت ہونا اس طور پر ہے کہ آپﷺ نے لوگوں کو سیدھا راستہ دکھلایا،

اخلاقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم

ارشادِ ربانی ہے:ترجمہ: بے شک ،تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی بہتر ہے۔(سورۂ احزاب)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ پاک اور آپؐ کا مثالی اسوۂ حسنہ امّت کے لیے رشد و ہدایت اور مشعلِ راہ ہے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ سرکارِ دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت اپنی زبان کی حفاظت فرماتے اور صرف کام ہی کی بات کرتے ۔آنے والوں کو محبت دیتے، ایسی کوئی بات یاکام نہ کرتے جس سے نفرت پیدا ہو ۔ قوم کے معزز فرد کالحاظ فرماتے اور اُسے قوم کا سردار مقرر فرما دیتے ۔ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے خوف کی تلقین فرماتے ۔  صحابہ کرام ؓکی خبر گیری فرماتے ۔ لوگوں کی اچھی باتوں کی اچھائی بیان کرتے اور اس کی تقویت فرماتے،بری چیز کو بری بتاتے اور اُس پر عمل سے روکتے ،ہر معاملے میں اِعتدال (یعنی میانہ روی)سے کام لیتے ۔ لوگوں کی اِصلاح سے کبھی بھی غفلت نہ فرماتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھتے بیٹھتے

آمدِ حضورِ پُر نو‘ر ﷺ

دنیائے انسانیت پریشانی کے عالم میں جکڑی ہوئی تھی ۔ چین و سکون کی راہیں مسدود تھی ۔ افراتفری کی گھٹائیں چار سو پھیلی ہوئی تھی ۔ہواؤں میں تازگی باقی نہ تھی۔یمین و یسار میں کہرام بپا تھا ۔ شرم و حیا کا دامن تار تار ،  جبر و اسبتداد کی زنجیریں زور پکڑ چکی تھی ، عدل و انصاف کی میزان ریزہ ریزہ ، اُداسیوں کی بہتات اور فرحت کا کہیں پر نام و نشان نہ تھا۔ گھروں میں عجیب و غریب نوعیت کی ہنگامہ آرائیاں تھی۔ طاقتورں نے کمزوروں کی دُرگت بنائی ہوئی تھی۔ ظلم اپنی انتہا کو پنہچ چکا تھا۔ خباثت کا دور دورہ تھا۔ ظلمت کے سائے ہر سو پھیلے ہوئے تھے۔بحر و بر میں فساد بپا تھا۔انسان اپنے آپنی ذات سے غیر واقف ہوچکا تھا اور اپنے خالق کو بھول بیٹھا تھا۔ ایسے میں وادئے فاراں کی بخت آور خاتون حضرتِ آمنہ سے محبوبِ دوجہاں ؐ تشریف آور ہوئے۔ بحر و بر کی وسعتوں میں ایک  بے نظیر انقلاب بپا ہوا ۔ تا

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

خاندانی نظام میں حُسن سلوک او رباہمی راحت رسانی اہم، حقوق وفرائض کی رسہ کشی ثانوی سوال:۱-کیا شادی کے بعد سسرال والوں کی خدمت کرنا بہوکا فرض ہے یا سنت ؟ میرے شوہر مجھے اپنے گھر والوں کی خدمت کرنے کے لئے مجبور کرتے ہیں ۔کہتے ہیں اگر تم نہیں کروگی تو پھر کون کرے گا؟ میں والدین کے لئے خدمت گار رکھنا گناہ سمجھتاہوں ۔قرآن وسنت کی روشنی میں جواب چاہئے ؟ سوال:۲-میرے شوہر مجھے میرے ایک چھوٹے بچے کے ساتھ کرایہ کے ایک مکان میں اکیلے چھوڑ کر ہفتے میں دو تین دن رات کے لئے والدین اور بھائی بہن کے پاس گائوں چلے جاتے ہیں ، جو کرایہ کے اس مکان سے 40کلو میٹر کی دوری پر ہے ،اور کہتے ہیں کہ میں ٹھیک کررہاہوں ۔ کبھی کبھار اپنے جوان بھائی کو میرے پاس رکھ کر چلے جاتے ہیں ۔کیا یہ سب کچھ کرکے وہ ثواب کماتے ہیں ؟ سوال:۳-میرے شوہر مجھے اپنی پندرہ ہزار ماہانہ کی آمدنی سے کوئی خرچہ نہیں دیتے ہیں ۔کہت

حضرت سلطان العارفین شیخ حمزہ مخدومؒ

خدا ئے برتر کا لاکھ لاکھ شکر و احسان ہے کہ جہاںہماری وادی ٔ کشمیر کوقدرتی حسن سے مالا مال کردیا ہے وہیں اس سرزمین پر جلیل القدر بزرگوں ،ریشیوں اور اولیا ئے کاملین کو جنم دے کرایک خصوصی مرتبہ عطا کیا ہے۔جس کے سبب اس وادیٔ گلپوش کو دنیا بھر میں ریشی واری یا پیرہ واری کے دلکش نام سے پُکارا جاتا ہے ۔حضرت سلطان العارفین ؒ بھی صفِ اول کے بزرگوں میں شمار ہوتے ہیں۔چنانچہ چندرینیؔ خاندان میں سے ایک شخص، جس کا نام مُلچند ر تھا کشمیر آیا اور یہاں پر وہ وزارتِ عظمیٰ کے اعلیٰ منصب پر فائض ہوا۔اُس خاندان میں بڑی بڑی ہستیاں پیدا ہوئیں ،جن کے نمایاں کارناموں سے کشمیر کی تاریخ میں ایک عظیم اور سنہری باب کھل گیا ۔ملچندؔر کی اولاد وں میں سے ایک فردراون چندؔر بھی تھا۔یہ وہ پہلاشخص تھا جسے حکومتِ وقت نے خاندانی وجاہت اور نمایاں قومی خدمات سر انجام دینے کے سبب ’’رینہ ‘‘ کا خطاب بخشا

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

دینی معلومات کیلئے علمی  مقابلے منعقد کرانامفید سوال:-آج کل قسم قسم کے مقابلے ہوتے ہیں۔ جن میںسیرت کوئز بھی شامل ہے ،منعقد ہوتے ہیں ۔اس میں سیرت رسولؐ کے بارے میں کچھ اچھوتے سوالات پوچھے جاتے ہیں ۔ اسی طرح قرآن کے متعلق بھی مختلف سوالات کئے جاتے ہیں جن میں بعض سوالات انوکھے ہوتے ہیں۔ان مقابلوں کا بالعموم مقصد اسلام، قرآن اورسیرت پاک ؐکے بارے میں طلبہ میں دلچسپی کو جگانا ہوتاہے ۔ہم خود ایک اسکول چلاتے ہیں اور سیرت کوئز منعقد کرتے ہیں ۔ یہ سلسلہ کیساہے؟ ملک سجاد احمد جواب:-دینی معلومات کے لئے اس طرح کے علمی مقابلے یقیناً دُرست ہیں ۔ خود حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی حضرات صحابہؓ سے سوالات فرماتے تھے کہ وہ اپنے علم وفہم سے جواب دیں۔ چنانچہ ایک مرتبہ آپ نے پوچھا : درختوں میں سے ایک درخت ایسا ہے جو مومن کے مشابہ ہے ،بتائو وہ کون سا درخت ہے ؟ صحابہ سوچتے رہے

اتحادِ اُمت مگر کیسے ؟

’’اللہ اور اللہ کے رسولؐ کی اطاعت کرو اور آپس میں اختلاف نہ کرو کہ تم پست ہمت ہو جاوٴاور تمہاری ہوا اکھڑ جائے اور ثابت قدم رہو ، بے شک اللہ ثابت قدموں کے ساتھ ہے۔‘‘  (انفال۴٦)’’تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو بھلائی کی طرف بلائے اور نیک کاموں کا حکم کرے اور برے کاموں سے روکے ، اور یہی لوگ فلاح و نجات پانے والے ہیں ‘‘۔( ﴿آل عمران ١۰۴) قوموں کا عروج و زوال اس دنیا کا دستور ہے ۔ انسانی تاریخ نے ہمیں بے شمار انقلابوں سے روشناس کرایا، ہر دور میں انسان نئے انقلاب برپا کرنے کی کوشش میں رہا ہے جب کہ دسیوں انقلاب روئے زمین پر بسنے والے انسانوں نے دیکھ لئے، ان میں سے کچھ ایسے انقلاب تھے جنہوں نے زمین کے اکثر حصے کو اپنی لپیٹ میں لیا ،ان میں سے سیکولرزم ،کمیونزم ، کپیٹل ازم قابلِ ذکر ہیں۔مگر انسانی تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ روئےزم

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

ساس بہو کا رشتہ : محبت پانے کیلئے محبت کا روّیہ اپنانے کی ضرورت خاندان کا تصور…ادائیگی حقوق اور اجتنابِ ظلم مُقدم  سوال:۱-بہو اور ساس کے درمیان کون سا رشتہ ہے۔ اگر بہو ساس کی خدمت نہ کرے تو کیا وہ گنہگار ہوگی ۔ شریعت کی رو سے تفصیلی رہنمائی فرمائیں۔ بہو اور سسر میں کون سا رشتہ ہے۔ اگر بہو سسر کی خدمت نہ کرے تو کیا گنہگار ہوگی او راگر ساس اور سسر بہوکوہروقت کام کے لئے ڈانٹیں او ربُرا بھلا کہیں کیا وہ گناہ گار ہوں گے۔ بہو پر ساس سسر کی خدمت فرض ہے یا نہیں ؟ ساس بہو کو طعنے دے ،بُرابھلا کہے۔ لوگوں میں اسے ذلیل کرے جبکہ اپنی بیٹی ، جب وہ سسرال آئے ،کے ساتھ اچھا سلوک کرے  اور جب بہو اپنے باپ کے گھرجائے تو اس کو اچھی طرح رخصت نہ دے اور نہ ہی اس سے خندہ پیشانی سے بات کرے۔ قرآن وحدیث کی رو سے اس دہرے معیار کے لئے ایسی عورت کیا واقعی اللہ کے حضورجوابدہ

علِم ۔دعوتِ الی اللہ کی بنیادی شرط

دعوتِ الی اللہ علم سے عبارت اور منسلک ہے۔بلکہ علم دعوتِ الی اللہ کی بنیادی شرائط میں سے ہے‘جس کی دلیل سورہ بنی اسرائیل کی یہ آیت ہے{وَلَاتَقْفُ مَالَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ اِنَّ السَّمْعَ والْبَصَرَ وَالْفُئَوادَکُلُّ اُولٰئِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْئُولًا } یعنی اُس بات کے پیچھے مت پڑو جس کا تمہیں علم نہیں بے شک کان اور آنکھ اور دل ان سب سے سوال ہوگا[بنی اسرائیل؍36] اس آیت میں اُن افراد کے لئے شدید وعید بیان ہوئی ہے جو بغیر ِ علم لوگوں پر بہتان بازی اور فتویٰ بازی کرتے پھرتے ہیں‘اسی ضمن میں یہ بات بھی آتی ہے کہہ بغیر علم دعوت و تبلیغ کا کام کیا جائے گویا یہ بھی بہتان بازی ہی کی ایک قسم ہوئی ۔کیوں کہ لاعلم شخص کبھی اللہ پر غلط بیانی کرتا ہے اور کبھی بنی کی طرف جھوٹ منسوب کرتا ہے ۔ ’’قَفَایَقْفُو‘‘کا مطلب ہے پیچھے پڑنا یا پیچھے لگنا‘گویا ’&r

نیند ۔اللہ کی نعمت و رحمت ہے

اللہ رب العزت ساری کائنات کاپیدا فر مانے والا ہے۔ اپنی تمام مخلوق کو اُن کی ضرورتوں کے اعتبار سے نعمتیں عطا فر مائی ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اور اس نے تمہیں ہر وہ چیز عطا فرما دی جو تم نے اس سے مانگی اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو (تو) پورا شمار نہ کر سکو گے، بیشک انسان بڑا ہی ظالم بڑا ہی ناشکرگزار ہے‘‘۔ ( القرآن،سورہ اِبرا ہیم :14آیت34)   اللہ کی دی ہوئی بے شمار نعمتوں میں"  نیند " بھی اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔یقیناً "  نیند" اللہ کے فضل ورحمت کی کھلی نشا نیوں میں ہے۔صحت مند زندگی گزار نے کے لیے اچھی خوراک کے ساتھ ساتھ مناسب مقدار میں "  نیند"  بھی ضروری ہے۔ " نیند "پوری ہو نے سے انسان تازہ دم ہوجاتا ہے، اگر " نیند "پوری نہیں ہوتی تو دماغ صحیح کام نہیں کرتا نہ

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

وحی،الہام اور کشف کی تصریح۔قرآن و حدیث کی روشنی میں  سوال  :وحی کیا ہوتی ہے؟ اس کے کیا طریقے تھے؟ الہام کیا ہوتا ہے، کس کو ہوتا ہے؟ اور کشف کسے کہتے ہیں؟ یہ اگرچہ علمی سوالات ہیں مگر بہرحال دین کا حصہ ہیں کہ جن کا تعلق عوام اور خواص دونوں کے ساتھ ہے۔ اس لئےان کی مختصر مگر واضح تشریح فرمائیں۔ عبد الکبیر قاسمی سرینگر جواب: وحی وہ خاص ذریعہ علم ہے جو صرف کسی نبی یا رسول کو ہوتا ہے ۔جس وقت یہ وحی آتی ہے اُس وقت وہ شخصیت جس پر وحی کا نزول ہوتا ہے، اوصاف بشری سے بالاتر ہو کر صفات ملکویت سے آراستہ ہوتی ہے یعنی اُس وقت وہ ملائکہ کے اوصاف سے متصف ہوتا ہے۔ جب نزول وحی کی کیفیت اختتام کو پہونچتی ہے تو وہ نبی اپنی انسانی صفات کی حالت میں واپس آجاتا ہے۔ چنانچہ احادیث میں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی کے نزول کے وقت کی کیفیات منقول ہیں کہ سخت سردی کے وقت پسینہ

نیک کام میں دیر کیسی؟

انسان اس دنیا میں جب آتا ہے تو فطرت لے کر آتا ہے،جسے قرآن حکیم ’’فطرت اللہ‘‘ قرار دیتا ہے،ازروئے الفاظِ قرآنی:’’قائم ہوجائیں اس فطرت پر جس پر اللہ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے‘‘(الروم۔۳۰) یہی حقیقت حدیثِ پاک میں بایں الفاظ میں بیان کی گئی ہے:  ’’(نسل انسانی کا) ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے،لیکن یہ اس کے والدین ہیں جو اسے یہودی،نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں‘‘(بخاری) اس فطرت کے اندر اللہ تعالیٰ کی معرفت اور محبت بدرجہ اتم موجود ہوتی ہے لیکن اندھا دھند دنیوی محبت میں مبتلا ہوکر اس فطرت میں کجی آکر بالآخر یہ بے راہ روی(Perversion) کا شکار ہوجاتی ہے۔زنگ آلود ہونے کی وجہ سے اس کی صلاحیتیں مفقود ہو جاتی ہیں اور انسان ایک حیوان نما جانور کی شکل اختیار کر کے اپنے دن رات کاٹنے میں ہی مصروف رہتا

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

گری پڑی رقم کا صحیح استعمال  ج:تقریباً چھ ماہ پہلے میں نے ایک سڑک پر سے ایک بڑی رقم اٹھائی ۔ چند دنوں کے انتظار کے بعد جب کوئی بھی مالک نہ نکلا تو میںنے  مسجدوں میں اعلان کرایا ،اس پر  بھی کوئی مالک سامنے نہ آیا تو اخبار میں مشتہر کروایا لیکن آج تک کوئی بھی مالک نہیں نکلا۔اب بہت سی فلاحی تنظیمیں جو کہ بیوائوں، یتیموں وغیرہ کی مدد کرتے ہیں ، مجھے یہ رقم انہیں دینے کی ترغیب دے رہے ہیں لیکن مجھے کچھ نہیں سوجھتا کہ میں کس طرح یہ رقم صرف کروں ۔ یہ رقم اپنے پاس رکھنے میں خیر نہیں سمجھتاہوں ۔ آپ سے التماس ہے کہ مجھے تفصیل سے بتائیں کہ یہ رقم کس طرح میں خرچ کروں ۔    جی ایچ بٹ …کپوارہ  پ:اس رقم کو شریعت میں لُفطہ کہتے ہیں یعنی جس کا مالک معلوم نہ ہو وہ رقم لفطہ کہلاتی ہے ۔ لفطہ کا حکم یہ ہے کہ اگر اصل مالک نہ ملے تو غریبوں میں یہ رقم صدقہ کی

درس و تدریس ۔پاکیزہ پیشہ

درس و تدریس ایک عظیم مقدس  ہے۔اس پیشہ سے منسلک لوگ جو نونہالانِ قوم و ملت کے بچے اور بچیوں کو عصری تعلیمات کو فروغ دینے میں پیش پیش ہیں نیز سماج و معاشرہ کے طلباء و طالبات جس درس گاہ، جس تدریسی مرکز سے وابستہ ہیں، خصوصاً زیر تعلیم ہیں، اُن کے منتظمین اور تدریسی عملے کی یہ اہم ذمہ داری ہے کہ وہزیر تعلیم بچوں و بچیوںکی اخلاقی تربیت بھی کریں۔کیونکہ زیر تعلیم بچوںکی زندگی بنانے اور سنوارنے کی بے لوث خدمت ایک معلم ہی کرسکتا ہے۔ایک معلم جہاں اپنی اخلاقی و ملّی فریضہ کے تحت ایمان دارانہ طریقے سے درس و تدریس کے فرائض انجام دینے سے ہی اس جہاں میں ایک مثالی معلم کی حیثیت رکھتا ہے۔ معلم اپنی صلاحیت کا اگر طلباء و طالبات پر صحیح استعمال کرتا ہے تو انھیں واقعی معلم صاحبان کی محنتوں کا ثمرہ ملتا ہے ۔جو والدین اپنے بچے اور بچیاں یعنی اپنی اولاد کو کسی درس گاہ یا کسی معلم کے حوالہ کرتے ہیں کہ اُن

حضرت سید سکندر اندرابیؒ

سرزمین کشمیر صدیوں سے ریشیت اور تصوف کی سرزمین رہی ہے۔ عظیم ریشیوں، صوفیا اور راہ حق کے طلبگاروں نے قدرت کی اس عظیم اور حسین شاہکار کو اپنا مسکن بنایا ہے۔ یہاں کے ہر علاقے اور بستی میں کسی نہ کسی ولی اللہ کا مزار،زیارت گاہ یا خانقاہ نظر آتا ہے، جہاں عقیدت مندوں کا آنا جانا رہتا ہے۔ ایسی ہی ایک بستی ضلع پلوامہ کا ترچھل گائوں ہے ،جہاں ایک ولی اللہ حضرت سید محمد سکندر اندرابی رحمتہ اللہ علیہ کا آستانہ ہر خاص و عام کا مرجع بنا ہوا ہے   حضرت سید محمد سکندر اندرابی رحمتہ اللہ علیہ کی ولادت باسعادت پلوامہ ضلع کے ہی پوچھل گائوں میں لگ بھگ انیسوی صدی کے آخری عشرے کے (1897کے آس پاس)میں ہوئی?۔حضرت  سید سکندر اندرابی ?کا شجرہ حضرت میر میرک اندرابی رحمتہ اللہ علیہ سے جا ملتا ہے ۔کہا جاتا ہے کہ آخرالذکر کے ایک بیٹے میرسید احمد قاسم اندرابی ?پوچھل میں ہی مدفن ہیں ۔انکے تین بی

اسوۂ نبوی کے مطابق نکاح آسان بنایئے

دین اسلام زندگی کے تمام شعبوں میں ہماری رہنمائی کرتا ہے، اس لیے مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ ہر شعبہ میں حلال و حرام کی حد بندیوں کاخیال رکھیں ، بطور خاص اپنے معاملات کودرست رکھیں، ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی کا اہتمام کریں اور اپنے معاشرتی امور کو شریعت کے مطابق انجام دیں، خصوصاً اسوۂ نبوی کے مطابق نکاح کا انعقاد کریں۔ ان نصیحت آمیز جملوں کا اظہار حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی صاحب نے کل ہند مشاورتی اجلاس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کیا،جواصلاح ِمعاشرہ کمیٹی آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کے زیر اہتمام ۷؍ستمبر کو منعقدہوا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ مسلمانوں نے دین کو عبادات کی حد تک محدود کر دیاہے اور معاشرتی امور میں غفلت برتی جارہی ہے، شادیوں میں جہیز کا لین دین ہورہا ہے اور اسراف سے کام لیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں اسلام اور اسلامی شریعت کی بدنامی ہو رہی ہے، مسلمانوںک

تازہ ترین