تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

وکالتاََ قربانی کرانے کا نظام شرعاََ درست اداروں پر امانت اور دیانت لازم سوال: قربانی کے سلسلے میں ہمارے کشمیر میں چند سال سے کچھ ادارے ، کچھ مدارس اور کچھ رفاہی و سماجی فورم اجتماعی قربانی کرتے ہیں۔ یہ لوگ مختلف ضرورت مند افراد سے قربانی کی مناسب قیمت لیتے ہیں، پھر ان کی طرف سے قربانی کرتے ہیں۔ اس میں ان کو بہت محنت و مشکلات کا سامنا بھی رہتا ہے۔ بہرحال اس طرح کی قربانی سے بہت سارے افراد کو بڑی سہولت مل جاتی ہے۔ لیکن اس طرح قربانی پر بہت سارے ہمارے بھائیوں کو تحفظات اور اشکالات بھی ہیں۔ اس لئے برائے مہربانی اس قربانی کے متعلق صاف واضح بیان تحریر فرمادیں۔ ۔۔فقط  شبیر احمد رعناواری سرینگر جواب: قربانی خود کرنا یقیناً افضل ہے مگر دوسرے کے ذریعہ قربانی کرانا بھی شرعا درست ہے۔ خود حضرت نبی کریم علیہ السلام نے حجۃ الوداع میں سو اونٹ قربان کئے، جن میں تریسٹھ (63 )اپن

حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت اسماعیل ؑ کی بے مثال اور یادگار قربانی

’’ابراہیم نے کہا’’ میں اپنے رب کی طرف جاتا ہوں، وہی میری رہنمائی کر ے گا ۔ اے پروردگار، مجھے ایک بیٹا عطا کر جو صالحین میں سے ہو۔‘‘ ( اس دعا کے جواب میں) ہم نے اس کو ایک حلیم (بُردبار) لڑکے کی بشارت دی۔ وہ لڑکا جب اس کے دوڑ دھوپ کرنے کی عمر کو پہنچ گیاتو (ایک روز) ابراہیم نے اس سے کہا ’’بیٹا! میں خواب دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کررہا ہوں، اب تو بتا، تیرا کیا خیال ہے؟‘‘  اس نے کہا ’’اباجان، جو کچھ آپ کو حکم دیاجا رہا ہے اسے کر ڈالیے، آپ ان شاء اللہ مجھے صابروں میں سے پائیں گے‘‘۔ (سورہ الصفٰت 99-102) ’’سعی‘‘ سے مراد یہاں دوڑنے پھرنے کی عمر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ فرزند عزیز جب باپ کے ساتھ دوڑنے پھرنے کی عمر کو پہنچا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب میں دیکھا کہ ان کو الل

قربانی اللہ تعالی کو پسند ہے؟

کیا قربانی اللہ تعالی کو پسند ہے؟جی ہاں! قربانی اللہ تعالی کو پسند ہے۔ کیسے؟ آئیے اس پر دینی اور دنیاوی دونوں جہت سے نظر ڈالتے ہیں۔مذہبی نکتۂ نظر:  اللہ نے اپنےبندوں کو سمجھ بوجھ دی، پھر بندوں کے دل میں اپنی محبت کو پختہ کرنے کے لئے کئی امتحان اور آزمائشیں بھی رکھیں تاکہ یہ واضح ہو جائے کہ سارے انسان ایک ہی نوع کے نہیں ہوتے ، اس نے اپنے ایک بندے (حضرت ابراہیم علیہ السلام) سے کہا کہ میرے لیے اپنے بیٹے کے گلے پر چھری پھیر دو، یہ بہت بڑا امتحان تھا لیکن وہ بندہ تیار ہو گیا اور چھری چلا دی، بر وقت اللہ تعالی نے ایک دُنبہ بھیجا اور اس بچے کو ہٹا لیا،اللہ تعالی کو اپنے بندے کا یہ جذبہ اتنا پسند آیا کہ اسے ہمیشہ کے لیے یادگار بنا دیا۔  قربانی کا سب سے اچھا طریقہ یہی ہے کہ پالتو جانور ذبح کیا جائے تاکہ یہ ظاہر ہو جائے کہ بندہ اللہ کے لیے اپنی پیاری چیزوں کو بھی چھوڑ سکتا ہے۔۔

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

پانی مخلوقاتِ عالم کا مدارِ حیات اس کو آلودہ کرنے پر لعنت کی وعید سوال :-کشمیر میںجہاںدیکھیں جھیلیں ،ندی نالے،چشمے اور دریاموجود ہیںاوران سے وافر مقدار میں پانی برآمد ہوتا ہے ،جو زندگی کی رفتار کو آگے بڑھانے کا ایک بنیادی ذریعہ ہے ،لیکن برسہا برس سے پانی کے ان ذرائع اور ذخائر کے ساتھ ہم نے کیا کچھ کیا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔آج بھی اس حوالے سے ہمارا رویہ کیسا ،وہ عیاں و بیاں ہے۔ تقریباً پورا کشمیر پاک و صاف اور بہترین پانی کے ذخیروں کے خزانوں سے بھر پور ہے مگر اس پانی کے ساتھ ہمارا رویہ کیسا ہے ۔اس کی تفصیل بتایئے اور اس رویہ کی خرابیاں اور اُس کے نتایج بھی بتایئے اوراس بارے میں اسلام کا حکم بھی بتایئے ۔میں ایک سوشل ادارے سے وابستہ ہوں اور بہت درد مندی سے یہ سوال کررہا ہوں۔ فہیم احمد خان ۔سرینگر جواب :-پانی اللہ کی وہ نعمت جس کی بنیاد پر ہر مخلوق کی زندگی قائم ہے ،کیڑ

ذوالحجہ کے پہلے عشرہ کی فضیلت

ہر قسم کی عبادت کا اجتماع : ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں کی سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ یہی وہ ایام ہیں جن میں ہر قسم کی عبادات جمع ہیں۔ اِن دس دنوں کی خاص بات یہ ہے کہ اِن دنوں میں ہر عبادت کو کیا جاسکتا ہے یعنی ہر عبادت کا اجتماع ہے۔اِن دس دنوں میں مسلمان ہر نیک عمل کے ساتھ ساتھ قربانی اور حج بھی کرسکتا ہے جو سال کے بقیہ دنوں میں نہیں کئے جاسکتے ہیں۔سال کے بقیہ دنوں میں مسلمان نہ تو حج کرسکتا ہے اور نہ ہی قربانی کرسکتا ہے۔ان دنوں میں کلمہ شہادت کے اقرار، تجدید ایمان اور کلمہ کے تقاضوں کی تکمیل کا بھر پور موقع ہے۔ ان دنوں میں صلاۃ پنجگانہ اور دیگر نفلی صلوات بھی ہیں، ان دنوں میں صدقہ و زکوٰۃ کی ادائیگی کا موقع بھی ہے۔ ان دنوں میں صوم(روزہ) کی عبادت بھی ادا کی جاسکتی ہے۔یہ ذکر و دعا اور تلبیہ پکارنے کے بھی یہ ایام ہیں۔ہر قسم کی عبادت کا ان دنوں میں اکٹھا ہو جانا یہ وہ شرف و اعزاز ہے جو

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

موبائل اپلیکیشن پر لاٹری اور جوا، انعام میں حاصل شدہ رقم حرام سوال:آج کل موبایل فون پر کئی سارے ایپلیکیشن چل رہے ہیں،جن میں کھیلنے پر پیسہ ملتا ہے۔ان ایپلیکشن میں پیسہ کمانے کاسسٹم یہ ہے کہ کسی بھی کھیل کے مختلف مقابلے لگتے ہیں جن کی کچھ فیس ہوتی ہے اور اس مقابلہ میں بہت سارے لوگ شامل ہوتے ہیں ،جس میں ہرکسی کی اپنی ایک ٹیم ہوتی ہے پھر جس کی ٹیم کے کھیلنے والے زیادہ اچھا کھیلتے ہیں اُس کو زیادہ Pointsملتے ہیںاور اس حساب سے ان کو پوزیشن Positionsملتی ہے ،پہلی اور دوسری ۔اور اس طرح ہر پوزیشن کا انعام طے ہوتا ہے۔کچھ لوگ پوائنٹس کم لینے کی وجہ سے کوئی پوزیشن حاصل نہیں کرتے ،انہیں کوئی پیسہ نہیں ملتا بلکہ ان کی فیس کی رقم چلی جاتی ہے۔تو کیا اس طرح کی ایپلیکیشن Applications )) سے پیسہ کمانا جائز ہوگا یا نہیں۔جو پیسہ انعام کے طور پر دیا جاتا ہے وہ لوگوں سے ہی لیا ہوا پیسہ ہوتا ہے اور چونک

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

کورونا سے فوتیدہ افراد ۔غسل کا شرعی حکم سوال: کووِڈ وائرس میں فوت ہونے والے افراد کو غسل دے سکتے ہیں یا بغیر غسل کے ہی دفن کیا جاسکتا ہے جبکہ کئی ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جب میتوں کو بغیر غسل کے دفن کیا گیا ۔ عبدالکبیر ۔عید گاہ سرینگر جواب:میت کو غسل دینا ضروری ہے ۔کرونا میں مبتلا شخص کے علاج معالجہ کے دوران جن احتیاطی تدابیر کے ساتھ سارا عمل کیا جاتا ہے، علاج ،خبر گیری ،تیمار داری ،کھلانے پلانے وغیرہ میں جو عمل اختیار کیا جاتا ہے، انہی تدابیر کے ساتھ اُس کا غسل اور کفن دفن بھی کرنا ممکن ہے بلکہ اس پر مقامی سطح پر بھی اور دوسرے مقامات پر بھی عمل ہوتا رہتا ہے ۔لہٰذا اگر اس حکم ِ شرعی کو انجام دینے میںوہ مخصوص لباس جو P.P.Eکہلاتا ہے استعمال کیا جائے، واٹر پروف گلاوز بھی پہن لئے جائیں اور پھر میت کا منہ اور ناک اچھی طرح بند کیا جائے۔اسی طرح جسم سے جہاں جہاں سے کوئی داخلی رطو

خانہ کعبہ اور مسجدِ اقصیٰ اسلام کے دو مراکز:کچھ مشترکہ پہلو

روئے زمین پر وجود انسانی کے ابتدائی زمانہ سے ہی مسجد حرام اور مسجد اقصیٰ اسلام کے دو اہم مرکز رہے۔ ان دونوں کا مختلف انبیاء، ان کی زندگی، ان کی تعلیمات، دعوت و تبلیغ اور تاریخ سے بڑا گہرا ربط رہا۔ اسی طرح دونوں کا تقدس واحترام اور مسلمانوں کا ان سے دینی اعتبار سے جذباتی لگاؤ بھی ہمیشہ برقرار رہا۔ تو آئیے ان دونوں مساجد و مراکز کے چند مشترکہ امتیازی پہلؤوں کا جائزہ لیں۔ 1-  سب سے پہلے تعمیر کردہ مراکز:  یہ دونوں مراکز روئے زمین پر اللہ کی عبادت کے لئے تعمیر کی گئی سب سے پہلی دو عبادت گاہیں ہیں۔ بخاری شریف میں حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ زمین پر سب سے پہلی تعمیر کردہ مسجد، مسجد حرام ہے، اس کے چالیس سال بعد مسجد اقصی کی تعمیر ہوئی اسی حدیث میں اس میں نماز پڑھنا افضل  بتایا گیا ہے۔ 2-  دونوں مساجد اور حضرت آدم:  مسجد حرام اور مسجد اقصیٰ

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

لُقہ اور اُسکے احکام کوئی چیز اُٹھائی جائے تو اُٹھانے والے کی کیا ذمہ داریاں ہیں؟ سوال:اگر کوئی آدمی کچھ رقم یا کوئی چیز اٹھائے اس کے متعلق شریعت کا کیا حکم ہے۔راقم نے پڑھا ہے کہ اگر اس کا مالک نہ ملے تو اس کو اصلی مالک کے نام صدقہ دے۔اگر اس کا مالک معلوم نہ ہو تو یہ بھی ممکن ہے کہ اس کا مالک غیر مسلم بھی ہو سکتا ہے ۔کیا ایسے مالک کو صدقہ کا کچھ فایدہ ہوگا۔ اگر نہیں تو ایسی رقم یا چیز کا مصرف کیا ہے؟ ابو عقیل ۔دار پورہ ،زینہ گیر سوپور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جواب:جب کوئی شخص کسی جگہ سے کوئی گِری پڑی چیز اُٹھائے یا کوئی رقم پالے تو شریعت میں اس چیز کو لُقطہ کہتے ہیں۔اس لُقطہ کا حکم یہ ہے کہ اُٹھاتے وقت مالک تک پہنچانے کی نیت سے اٹھائے ۔اگر اُس نے خوش ہوکر اپنے استعمال کی نیت سے اُسے اٹھالیا تو اس نیت کی وجہ سے وہ گنہگار ہوگا،اور پھر وہ شخص اس چیز کا ضامن بن جائے گا ،پھر ضمان کے

بیت المقدس تاریخ کے آئینے میں!

گذشتہ دنوں ماہ رمضان المبارک میں غزہ اور فلسطین میں اسرائیل کے انسانیت سوز مظالم کے بعد قبلۂ اول بیت المقدس اور فلسطین ایک مرتبہ پھر دنیا بھر کی نظروں کے سامنے آگئے۔ بیت المقدس کی آزادی کے خواب سجائے ہوئے اہل فلسطین کی داستان تقریباً ایک صدی پر پھیلی ہوئی ہے۔ جس سے آج ہماری نئی نسل بالکل ناواقف ہے۔ اہل فلسطین کی کہانی روشنائی سے نہیں بلکہ انکے خون سے لکھی گئی ہے۔ فلسطین کے ہر چپہ چپہ پر قربانیوں کی ایسی لازوال داستانیں نقش ہیں جس سے وہاں کے باشندوں کی جرأت، ہمت، غیرت اور استقامت کا پتہ چلتا ہے۔ فلسطین کے معصوم بچے، مائیں، بہنیں، جوان اور بوڑھے سب ہی جس ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں اس کے بارے میں اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو بزبان حال یہی کہ سکتے ہیں: تم شہرِ اماں کے رہنے والے! درد ہمارا کیا جانو! ساحل کی ہوا تم موج صبا طوفان کا دھارا کیا جانو! اس میں کوئی شک نہیں کہ فلسطین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

مساجد میں بجلی کا استعمال اور فیس کی ادائیگی س:۱- آج کل گرمی کی وجہ سے مسجدوں میں ائرکنڈیشنز لگائے جارہے ہیں۔ التماس ہے کہ اگرمحکمہ بجلی کو فیس ادانہ کی جائے تو ایسی مسجدوں میں نمازوں کا کیا حال ہوگا ؟ غلام مصطفی علوی …سرینگر جواب:-مسجد میں ائرکنڈیشن کا انتظام دُرست ہے لیکن جیسے روشنی کے انتظام کے لئے بجلی فیس اداکرنا ضروری ہے ۔ اسی طرح ائرکنڈیشن میں صرف ہونے والی بجلی ادا کرنا بھی ضروری ہے ۔ اگرخدانخواستہ بجلی فیس ادا نہ کی جائے تو نماز تو پھر بھی ادا ہوجاتی ہے مگر بجلی کی فیس ادا نہ کرنے کا گناہ برقرار رہے گا ۔ بجلی کی فیس ادا کرنے کا سب سے بہتر اورمحتاط طریقہ میٹر لگانا ہے تاکہ روشنی ، پنکھوں اور ائرکنڈیشن میں جتنی بجلی خرچ ہو میٹر کے ذ ریعہ اُس کی پوری مقدار سامنے آئے اور پھر اتنی ہی فیس ادا کریں ۔ یہ بات ایمانی غیرت کے خلاف ہے کہ مسلمان اللہ کے گھر میں

آہ !مفتی فیض الوحید قاسمی رحمہ اللہ!

کووڈ19کی دوسری لہر نے پورے ملک میں کہرام مچا رکھا ہے۔ ہر دن کسی نہ کسی بڑی شخصیت کے انتقال سے دل ودماغ مغموم و محزون ہے۔ واٹس ایپ اور اخبار کھولتے ہوئے ایک ڈرسا لگا رہتا ہے کہ پتہ نہیں کیا خبر آئے گی اور کس کی موت کی خبر چھپی ہوگی،بالخصوص آج کل ہمارے اکابر ین کا اس تیزی کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوجاناہم سب کے لیے بہت ہی صدمہ کی بات ہے۔ آخر ہم پر یہ کیسا زمانہ آگیا کہ ہم ایک حادثہ ابھی بھول نہیں پاتے کہ دوسرا حادثہ پیش آجاتاہے ، ایک زخم مندمل نہیں ہوپاتا کہ دوسرا زخم لگ جاتا ہے۔ اپنے بزرگوں ،دوستوں اور عزیزوں کی فرقت پراتنا زیادہ رونا دھوناہوچکا ہے کہ اب آنکھیں بھی خشک ہو چکی ہیں۔ اتنے صدمے جھیلے جاچکے ہیں کہ اب دلوں میں مزید سکت باقی نہیں ہے۔ملک بھر میں اورجموں وکشمیر میں ہورہے سلسلہ اموات کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے یہ عام الحزن ، اور عام الاموات تو نہیں۔ یا اللہ!ہم کمزوردلوں اورکم ہمتو

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

بُرے خیالات: شیطان وہیں حملہ کرتاہے جہاں ایمان کی دولت ہو سوال:۱-بہت سارے نوجوانوں کی حالت یہ ہے کہ اُنہیں بہت بُرے بُرے خیالات آتے ہیں ۔ میرا حال بھی ایسا ہی ہے۔ یہ خیالات اللہ کی ذات کے بارے میں ،حضرت نبی علیہ السلام کے متعلق ، ازواج مطہراتؓ کے متعلق ،قرآن کے متعلق ہوتے ہیں۔اُن خیالات کوزبان پر لانا بھی مشکل ہے ،اُن خیالات کو دفع کرنے کے جتنی بھی کوشش کرتے ہیں اتنا ہی وہ دل میں ،دماغ میں مسلط ہوتے ہیں ۔اب کیا یا جائے ؟ کامران شوکت … سرینگر جواب:۱-بُرے خیالات آنا دراصل شیطان کا حملہ ہے۔حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک صحابیؒ نے یہی صورتحال عرض کرکے کہاکہ یا رسول اللہ ؐ میرے دل میں ایسے خیالات آتے ہیں کہ اگر میں اُن کو ظاہر کروں تو آپؐ ہم کو کافر یا منافق قرار دیں گے ۔ اس پر حضرت ؐ نے ارشاد فرمایا کہ واقعتاً تمہارے دل میں ایسے خیالات آت

مولانافیض الوحید کا’فیض‘

  وہ ابھی محض 55 برس کے تھے۔ لیکن چلے گئے تو سب کو رْلا گئے۔ "تعلق"گوجر برادری سے تھا لیکن "تعارف" انسانوں سے ۔مذہب و ملت کے لحاظ کے بغیر "انسانی برادری" آپ کا احترام کرتی۔ آپ سے ملاقات کرتی، آپ سے مشورے لیتی، آپ کو عزیز رکھتی۔   مولانامفتی فیض الوحید صوبہ جموں کے ضلع راجوری میں پیدا ہوئے تھے۔ لیکن آپ نے اپنی زندگی کا اکثر حصہ جموں شہر میں گزارا۔ بٹھنڈی کے مدرسہ "مرکز المعارف" کا یہ معلم ِ حق نونہالوں کو دنیا کی حقیقت سے آشنا کرتا تھا۔ سْنا تھا مدرسہ کے محدود احاطہ کے باہر دنیا کے وسیع احاطے میں بھی آپ کے کئی متعلم آپ سے "فیض" حاصل کرتے تھے۔ چنانچہ راقم کئی ایسے لوگوں کو جانتا ہے جو مرحوم مفتی فیض الوحید کے ساتھ براہِ راست رابطے میں تھے اور آپ کو استاد اور مربی تصور کرتے تھے۔  ہر سال ماہِ رمضان م

آہ !مفتی فیض الوحید صاحب

مفتی فیض الوحید صاحب اسلامک دنیا کی جانی مانی شخصیت ہیں۔ جو دودشن بالا میں 1966 کو پیدا ہوئے۔ مفتی فیض بچپن سے ہی کافی ذہین تھے۔ انھوں نے قرآن مجید کو 1982 میں مکمل حفظ کیا۔ صرف اتنا ہی نہیں مفتی صاحب نے تجوید کے فن کو بھی سیکھ لیا۔ مفتی فیض صاحب جموں وکشمیر کے راجوری سے تعلق رکھتے تھے۔ انھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم مدرسہ کاشف العلوم تھنہ منڈی اور مدرسہ تعلیم القرآن مظفر نگر سے حاصل کی۔ اسکے بعد انھوں نے دو سال تک درس نظامی مدرسہ خادمل السلام ہاے پور میں پڑھا۔ اور اپنی گریجویشن دارالعلوم دیوبند میں 1911 میں مکمل کی۔ مفتی فیض صاحب نے اپنی ایم-اے اردو کی ڈگری ڈاکٹر بیم راؤ امبیدکر یونورسٹی میں حاصل کی۔ مفتی فیض الوحید صاحب نے پڑھانے کی شروعات مدرسہ اشرف العلوم جموں سے کی۔ اسکے بعد انھوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر جامعہ معارفِ القرآن کو شروع کیا اور 5 اکتوبر1990 کو وہ وہی چلے گئے

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

ساس بہو کا رشتہ : محبت پانے کیلئے محبت کا روّیہ اپنانے کی ضرورت خاندان کا تصور…ادائیگی حقوق اور اجتنابِ ظلم مُقدم  سوال:۱-بہو اور ساس کے درمیان کون سا رشتہ ہے۔ اگر بہو ساس کی خدمت نہ کرے تو کیا وہ گنہگار ہوگی ۔ شریعت کی رو سے تفصیلی رہنمائی فرمائیں۔ بہو اور سسر میں کون سا رشتہ ہے۔ اگر بہو سسر کی خدمت نہ کرے تو کیا گنہگار ہوگی او راگر ساس اور سسر بہوکوہروقت کام کے لئے ڈانٹیں او ربُرا بھلا کہیں کیا وہ گناہ گار ہوں گے۔ بہو پر ساس سسر کی خدمت فرض ہے یا نہیں ؟ ساس بہو کو طعنے دے ،بُرابھلا کہے۔ لوگوں میں اسے ذلیل کرے جبکہ اپنی بیٹی ، جب وہ سسرال آئے ،کے ساتھ اچھا سلوک کرے  اور جب بہو اپنے باپ کے گھرجائے تو اس کو اچھی طرح رخصت نہ دے اور نہ ہی اس سے خندہ پیشانی سے بات کرے۔ قرآن وحدیث کی رو سے اس دہرے معیار کے لئے ایسی عورت کیا واقعی اللہ کے حضورجوابدہ

قبلہ اول کی بازیابی عالم اسلام کا اصل امتحان

بیت المقدس مسلمانوں کا قبلہ اول ہے۔ یہ امت مسلمہ کی ملکیت ہے، اس پر کسی دوسری قوم کا کسی بھی لحاظ سے حق نہیں، نہ ہی مذہبی، نہ ہی قومی، نہ ہی سیاسی۔ مسجد اقصیٰ امت مسلمہ کی عزت و عظمت کی علامت ہے، ہمارا ایمان ہے۔ مسجد اقصیٰ دنیا کی دوسری سب سے قدیم مسجد ہے،جس طرف حدیث اشارہ کرتی ہے"حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم روئے زمین پر سب سے پہلی مسجد کون سی ہے؟ آپؐ نے فرمایا مسجد حرام۔وہ کہتے ہیں کہ پھر میں نے دریافت کیا اس کے بعد؟ آپؐ نے فرمایا مسجد اقصیٰ،تو میں نے پوچھا کہ دونوں کے درمیان کتنی مدت کا فاصلہ ہے؟آپ نے ارشاد فرمایا چالیس سال کا"۔(صحیح مسلم)  مسجد اقصیٰ کا اطلاق دراصل اس پوری مسجد پر ہوتا ہے جس کے اردگرد دیواریں ہیں، جس میں دروازے ہیں اور وسیع میدان ہے، جس میں المصل

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

پختہ دینی فکر کے لئے حصولِ علم کی ضرورت سوال:-ہم بہت سارے دوست عمومی تعلیم سے وابستہ ہیں او رساتھ ہی دینی علوم کا بھی شوق رکھتے ہیں۔ آپ ہمیں بتائیں کہ ہم کن کتابوں کا مطالعہ کریں تاکہ ہماری دینی فکر درست بھی اور پختہ بھی ہو ۔  ڈاکٹر ند یم  ---  جموں  جواب:-دینی علم دراصل بہت سارے علوم کا مجموعہ ہے اور جب تک باقاعدہ اُن تمام علوم کو کسی مستند ادارے میں حاصل نہ کیا جائے اُس وقت تک مکمل رسوخ واعتماد حاصل نہیں ہوپاتا ۔تاہم دینی فکر کو پختہ کرنے اور اسے تمام طرح کے افراط وتفریط سے محفوظ رکھ کر مضبوط بنانے کے لئے ایسے افراد جو عصری علوم سے وابستہ ہو ، درج ذیل کتابیں یک گونہ ضرور فائدہ ہوں گی ۔ تفسیر میں آسان ترجمہ قرآن اُردو وانگریزی از مولانا محمد تقی عثمانی ۔ پھر تفسیر معارف القرآن از مولانا مفتی محمد شفیع ؒ (اردو انگریزی علوم القرآن از مولانا تقی ع

کتاب و سنت کے حوالے سےمسائل کا حل

اعتکاف مسجد میں لازمی موجودہ حالات میں ایک شخص معتکف ہوسکتا ہے سوال :رمضان المبارک کے آخری عشرے میں جو اعتکاف ہوتا ہے،کیا یہ اعتکاف آج گھروں میں ہوسکتا ہے یعنی جیسے جمعہ گھروں میں ہورہا ہے اسی طرح اعتکاف کرنے کی اجازت ہوگی یا نہیں ۔یاد رہے کہ کچھ علماء نے جمعہ و جماعت کی طرح گھروں میں بھی اعتکاف کی اجازت دی ہے ،اس کا جواب ضرور لکھا جائے کہ کیا یہ اعتکاف مسنون ہوگا اور کیا اس عبادت کا کوئی اجر ہوگا یا نہیں اور اس میں کوئی فایدہ ہے یا یہ ضیاع ہے؟ محمد معروف بٹ جواب  :رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف سنت موکدہ ہے ۔مردوں کے اعتکاف کے لئے مسجد ہونا شرط ہے اور خواتین گھروں میں اعتکاف کریں گی ۔مردوں کے اعتکاف کے لئے چونکہ مسجد ہونا شرط ہے اور جب اس شرط کے ساتھ یہ اعتکاف ہوگا تو یہ سنت علی الکفایہ کی وجہ سے سب کی طرف سے ادا ہوجائے گا ۔اس لئے جیسے مساجد میں اذان اور

اســـــــلامی نظامِ زکوٰۃ | موجودہ معاشی بحران کا واحد حل

انسان نہ صرف روح کا نام ہے نہ فقط جسم کابلکہ دونوں کے مجموعے کو انسان کہا جاتا ہے، اسی لئے نوعِ انسانی کا عالمگیر اور ابدی دین وہی ہو سکتا ہے جو روح اور جسم دونوں کے تقاضوں کو پورا کرے، جو دونوں کی نشو نما و بالیدگی کا ضامن ہو۔ دونوں میں باہمی کشمکش اور محاز آرائی کو ختم کرنے اور ان میں ایسی ہم آہنگی پیدا کردے کہ دونوں ایک ہی راہ پر ایک ہی منزل کی طرف رواں دواں رہیں۔مذہب کے نام پر جو نظامہائے حیات اس وقت موجود ہیں وہ مادی نظامہائے فکر سے مات کھا چکے ہیں اور اپنے ماننے والوں سے یہ تقاضانہیں کر سکتے کہ وہ بے را ہ روی کو چھوڑ دیں، ان کا مطالبہ صرف اتنا ہے کہ اس مذہب کا لیبل اپنے اوپر  چسپاں کئے رکھیں اسکے بعد جو جی میں آئے کریں، شراب پئیں، جوا کھیلیں،شبینہ کلبوں میں دادِ عیش دیں، ننگے ناچ ناچیں، سودی کاروبار کریں، جس طرح جی میں آئے غرباء ، مساکین و دیگر ضرورت مندوں کا خون چوستے ر

تازہ ترین