کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال :(۱) اسلام میں تجارت کی اہمیت اور حیثیت کیا ہے ؟ایک تاجر کو کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے اور کن باتوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔ہمارے بزنس کرنے والے حضرات میں اچھے سے اچھے بھی ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں جو دھوکہ ،فریب ،ملاوٹ ،بددیانتی اور خریداروں کو لوٹنے کی ایس ایسی حرکتیں کرتے ہیں کہ لگتا ہے ان کو نہ مرنے کا ڈر ہے اورنہ خدا کی پکڑ کا کوئی خوف ۔اس لئے مختصراً تجارت کے کچھ اصول و آداب سے روشنا س فرماویں۔ سوال (۲)ہم نے ہمیشہ سے سُنا کہ شوال کے چھ روزے رکھنے ہوتے ہیں مگر آج کل ایک ہم عصر عالم ،جو ہمارے پڑوسی خطہ میں ہیں ،کا ویڈیو وائرل ہورہا ہے کہ شوال کے چھ روزوں کی کوئی حیثیت نہیں ۔اس کے متعلق آپ جواب تحریر فرمائیں،نیز یہ بھی فرمائیں کہ یہ روزے کس طرح رکھے جا سکتے ہیں ۔تسلسل کے ساتھ یا درمیان میں کچھ دنوں کا فاصلہ بھی کرسکتے ہیں؟ شیخ عمران۔نوگام سرینگر تجارت میں دیانت جنت

نماز مومن کی معراج

 نماز دین اسلام کا ایک ایسا عظیم رُکن ہے جسکی فرضیت کا اعلان زمین پر نہیں بلکہ ساتوں آسمانوں کے اوپر بلند واعلیٰ مقام پر معراج کی رات ہوا، نیز اس کا حکم حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ذریعہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم تک نہیں پہنچا بلکہ اللہ تعالیٰ نے فرضیت ِ نماز کا تحفہ بذاتِ خود اپنے حبیب محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو عطا فرمایا۔ نماز، ایمان کے بعد اسلام کا اہم ترین رُکن ہے۔ قرآن مجید فرقان حمید اور احادیث مبارکہ صلی اللہ علیہ و سلم میں نماز کی مسلمہ اہمیت وفضیلت کو کثرت سے ذکر کیا گیا ہے۔ صرف قرآنِ پاک میں تقریباًسات سو مرتبہ کہیں اشارتاً اور کہیں صراحا ً مختلف عنوانات سے نماز کا ذکر ملتا ہے۔جن میں نماز کو قائم کرنے پر بڑے بڑے وعدے اور ضائع کرنے پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔ نماز کی ادائیگی کے بارے میں قرآن کریم کر سورۃ العنکبوت کی آیت نمبر ۵۴ میں اللہ ربّ العزت فرماتے

انسانیت کا مرکز و محور ذات ِمصطفیٰ ؐ

 انسانی تاریخ کے محققین لکھتے ہیں کہ چھٹی صدی عیسوی میں انسانیت کی تباہ کاریوں کی وجہ صرف خالق و مالک کی وحدانیت کا انکار تھا۔ یہی وجہ تھی کہ کائنات کے گوشہ گوشہ میں اخلاقی، معاشرتی، معاشی اور سیاسی فسادات نمودار ہوئے ساری انسانیت پر لرزہ طاری تھا۔ در اصل انسان اپنی حقیقت کو بھول چکا تھا کہ کس طرح اللہ تبارک وتعالی نے حضرت آدم علیہ السلام کے مجسمہ خاکی کو تیار فرماکر اپنی مخلوق کو سجدہ کرنے کا حکم دیا تھا اور اشرف المخلوقات کے انعام سے نوازا۔ یہ لاشعور مخلوق اپنی گمراہیوں کی وجہ سے اللہ تبارک و تعالی کو بھول چکی تھی ۔یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ گمراہی کسی ایک ملک، ریاست، قبیلہ، فرد میں نہیں تھی بلکہ عالم انسانیت اس کا شکار تھی ۔یہ کہنا مناسب ہوگا کہ انسانیت کا کوئی پہلو ایسا نہیں تھا جس سے فساد و عناد کی بو نہ آتی ہو۔ مگر اس رحیم و کریم ذات نے کبھی بھی انسان کو اپنے احسانات و

تازہ ترین