کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

نکاح سے قبل طے شدہ رشتہ ٹوٹنے پر تحائف کی واپسی کا مسئلہ  سوال:- کبھی اختلاف کی وجہ سے نکاح سے قبل طے شدہ رشتہ پہلے ہی مرحلے پر ٹوٹ جاتاہے اس کے بعد اختلاف اس پر ہوتے ہیں کہ جو تحفے تحائف لئے دیئے ہوئے ہیں اُن کا حکم کیا ہے ۔بعض دفعہ ایک فریق دوسرے سے جرمانے کا مطالبہ کرتاہے اور جو تحفے زیورات وغیرہ ہوتے ہیں ان کے بارے میں بھی شدید نزاعات ہوتے ہیں ۔اسی طرح کھلانے پلانے کا جو خرچہ ہوا ہوتاہے اس کے لئے بھی مطالبہ ہوتاہے کہ اس کی رقم بصورت معاوضہ ادا کیا جائے ۔اس بارے میں شرعی اصول کیا ہے؟ محمد یونس…شوپیان  جواب :-نکاح سے پہلے جو تحائف دئے جاتے ہیں۔ اُن کی حیثیت شریعت میں ہبہ باشرط یا ہبہ بالعوض کی ہے ۔ یعنی یہ تحائف اس شرط کی بناء پر دئے جاتے ہیں کہ آئندہ رشتہ ہوگا ۔ اب اگر آگے نکاح ہونے سے پہلے ہی رشتہ کا انکار ہوگیا تو جس غرض کی بناء پر تحفے دیئے

مہمان نوازی اُسوہ نبویؐ کا امتیازی پہلو

ارشادِ نبویؐ ہے:جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ وہ مہمان کی خاطر تواضع کرے۔(صحیح بخاری) مہمانوں کی خاطر و مدارات کرنا انبیاءؑ کی سنت ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاءؑ کا جامع اور افضل الرسل فرمایا ہے۔ آپؐ کی پاکیزہ سیرت میں مہمان نوازی کی صفت اتنی اعلیٰ تھی کہ اس کی مثال نہیں ملتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات مبارکہ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے،جن میں آپؐ نے مہمان نوازی کے اعلیٰ ترین معیار کا نمونہ قائم فرمایا۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے، وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے، جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لاتا ہے، تو وہ اپنے پڑوسی کی عزت کرے اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لاتا ہے، وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے۔ (صحیح مسلم) ایک موقع پر آپﷺ نے حضرت عبداللہ بن عمروؓ

نکاح میں سرپرستوں کی رائے کی اہمیت

 شریعتِ مطہرہ نے عاقلہ بالغہ لڑکی کو اس بات کی اجازت دی ہے کہ وہ اپنے نکاح کے سلسلے میں رائے قائم کرے اور سرپرست کو اس پر جبر اور زبردستی کرنے کی اجازت نہیں دی ہے، یہی وجہ ہے کہ اگر عاقلہ بالغہ لڑکی کی اجازت کے بغیر نکاح کردیا جائے تو اس کا نکاح اس کی اجازت پر موقوف ہوتا ہے، لیکن اس کے لیے یہ بہتر قرار دیا کہ وہ اپنے نکاح کے تمام معاملات ولی کے ذریعے یا ان کے مشورے سے انجام دے، کیوں کہ یہی مہذب گھرانوں کی لڑکیوں کی عادت اور دستور ہے۔ولی سے مشورے کی ضرورت اس لیے بھی ہے کہ انسان دنیاوی کمالات یا اختیارات کے اعلیٰ سے اعلیٰ مقام پر فائز ہوجانے یا عمر کے آخری حصے میں پہنچ جانے کے باوجود بھی مشورے کا محتاج رہتاہے، جہاں دیدہ، فہمیدہ، عمر رسیدہ حکم ران کو بھی مشورے کا پابند رکھا جاتا ہے، انفرادی رائے اور فیصلوں پر مبنی طرزِ حکومت کو پسند نہیں کیا جاتا، خواہ اس کے نتیجے میں ظاہری خوش حالی

دُعا۔ فضیلت اہمیت اور آداب

سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ دعا مومن کا ہتھیار ہے۔(حاکم)یعنی دعا ایسا مضبوط ہتھیار ہے کہ جس کے ذریعے بندہ اپنے رب کی نصرت و تائید حاصل کر کے فتح یاب و کامران ہو سکتا ہے۔ جیساکہ سرورِ عالمؐ کی سیرت مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ ہر موقع پر اپنے رب سے رجوع فرماتے، یقیناً اللہ تعالیٰ نے سرورِ کائناتؐ کو مستجاب الدعوات بنایا تھا، اسی طرح دیگر انبیائے کرام ؑصدیقین صالحین اور مظلومین ایسے ہیں، جن کی دعا ردنہیں ہوتی، البتہ اللہ ہی کو اختیار ہے جس کی دعا قبول فرمائے یا رد فرمائے ۔ دعا کی طلب و مقبولیت کے کچھ آداب و شروط بیان کئے گئے ہیں۔ اگر ان کا لحاظ و اہتمام کر لیا جائے تو امید واثق ہے کہ مانگی ہوئی دعائیں ضروراللہ کی بارگاہ میں منظور و مقبول ہو جائیں گی۔دعا مانگنے اور درجہ قبولیت کے حصول کے لئے لازم ہے کہ بندہ کسب حلال اختیار کرے۔ شریعت کی پابندی کرے۔ دعا کے لئے دو ز

تازہ ترین