ملک کے فیصلہ ساز اداروں میں مسلم نمائندگی

شہریت ترمیمی قانون اور قومی آبادیاتی رجسٹر معاملہ پر شدید تنقید کی زد میں آنے کے بعد موجودہ مرکزی حکومت مسلسل یہ کہہ رہی ہے کہ اس ملک میں سبھی طبقوں و فرقوں کو یکساں حقوق حاصل ہیں اور کسی کے حقوق غصب نہیں کئے جائیں گے ۔گزشتہ دنوں ہی پارلیمنٹ میں ایک بیان میں وزارت داخلہ نے پھر ایک بار یقین دلایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی سربراہی والی بی جے پی حکومت سب کا ساتھ ،سب کا وکاس کے اصول پر کاربند ہے اور مذہب کے نام پر کسی کے ساتھ امتیاز نہیں کیاجائے گا بلکہ اقلیتوں کو بھی مکمل تحفظ فراہم کرنے کے علاوہ انہیں ترقی کے سفر میں یکساں مواقع فراہم کئے جائیں گے تاہم حکومتی دعوئوں اور دلائل سے قطع نظر ملک کی اقلیتوں کی جو صورتحال ابھر کر سامنے آرہی ہے ،وہ قطعی حوصلہ افزاء نہیں ہے بلکہ اگر یوں کہیں کہ وہ صورتحال مایوس کن اور پریشان کن ہے تو بیجا نہ ہوگا۔ مذہب اور مسلم اقلیت کے نام پر سیاست کرکے

اقوام متحدہ کے 75سال

اقوا م متحدہ جنرل اسمبلی کا 75و اں اجلاس 15 ستمبر سے شرو ع ہوچکا ہے تاہم اس مرتبہ یہ اجلاس کئی معنوں میں سابقہ اجلاس سے مختلف اور اہم ہے۔کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کے باعث اس سال بیشتر عالمی رہنما ذاتی طورپر خصوصی اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے اور اس کی میٹنگ ورچوول ہوگی ، لیکن اس کا یہ قطعی مطلب نہیں ہے کہ عالمی سفارت کاری اور پائیدار ترقی کا پہیہ اپنے معمول کی رفتارسے نہیں گھومے گا۔ اقوام متحدہ کا قیام 1945میں عمل میں آیا تھا اور یہ اپنی 75ویں سالگرہ منا رہا ہے۔اقوا م متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیرس نے اس موقع پر ایک وسیع تر ’عوامی بحث‘ کی اپیل کی ہے جس میں ہمیں اپنے مطلوبہ مستقبل کی تعمیر سے متعلق اب تک کے سب سے جامع،  بامعنی اور پرمغز تبادلہ خیال کرسکیں۔ اقو ام متحدہ کی 75ویں سالگرہ کی مناسبت سے 21ستمبر کو ایک آن لائن تقریب کا انعقاد کیا جائے گا ، جس کا

حکومت کا اقتصادی پیکیج

جموں و کشمیر کی خستہ حال اور روبہ زوال مالی حالت کوبہتر خطوط پر استوار کرانے کے سلسلے میں جموں و کشمیر کے لیفٹینٹ گورنر منہوج سنہا نے ایک پریس کانفرنس کے دوران1350 کروڑ روپے پر مشتمل ایک پیکیج کا اعلان کیا جس پرتجارتی انجمنوں اور ماہرین اقتصادیات نے ملا جلا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر میں گزشتہ 14 مہینوں کے نا مساعد حالات کی وجہ سے معیشت وینٹی لیٹر پر ہے۔ کاروباری ادارے ہوں یا ٹرانسپورٹر، ٹورزم ہو یاعام مزدور غرض ہر فردِبشر حالات کی ناسازگاری اور کورونا کی مہا ماری سے بے حد متاثر ہوچکاہے ۔حد یہ ہے کہ خوشحال اور فارغ البال لوگوں کی نیندیں حرام ہوچکی ہیں اور مفلوک الحال لوگوں کا خدا ہی حافظ۔قریہ قریہ اور گلی گلی میں یاس اور قنوطیت نے اپنا ڈھیرہ ڈالا ہوا ہے۔بھوک اور افلاس کے تھپیڑوںکی وجہ سے آئے روز خود کشی  کے بے شمارمعاملات واقع ہورہے ہیں۔چنا نچہ ایک قیامت صغریٰ ہے جہ

شادی بیاہ کی سادہ تقریبات

وادیٔ کشمیر میں ایک عرصے سے شادی بیاہ کی تقریبات میں رسوماتِ بد کی برمار عروج پر ہے جس نے لاکھوں غریب لڑکیوں کے لئے نت نئی مصیبتیں لا کھڑی کر دیں ہیں۔ان بے جا رسوم و رواج کی وجہ سے اب یہاں خاص و عام کا مزاج بھی بگڑ چکا ہے۔جس کا نتیجہ شادی میں تاخیر کی صورت میں سامنے آرہا ہے۔ نت نئے خرافات سے معتدد پیچیدہ معاشرتی مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔جہاں عام اور سادہ لوح لوگ ان رسوماتِ بد سے بے خبر ہیں وہیں منافع خور طبقہ بھی ان کو بہ آسانی اسراف و تبذیر کی چیزیں فراہم کرنے میں مصروف عمل ہے۔ منافع خوری کے چکر میں وہ اس چیز کو یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں کہ جن اشیائے تبزیر کی وہ بڑے شد و مد کے ساتھ خرید و فروخت کی سفارش بلکہ تشہیر و تاکید کر رہے ہیں، ان کی وجہ سے کتنے بسے بسائے گھر ویران ہو چکے ہیں۔ دراصل ہر سماجی پہلو کی طرح یہاں بھی افردِ سماج کی وہی خود غرضی اور خود خواہی اس مقدس عمل یعنی شادی

عوامی خدمات کی مختصر تاریخ

 اٹھارویں صدی کی بعد کی دنیا کو عمومی طور پر جدید دنیا کے لقب سے نوازا جاتا ہے۔ تادمِ اِیں دنیا کے حالات و واقعات کے حوالے سے حیرت انگیز تبدیلیاں ظہور پذیر ہو چکی ہیں۔ سیاست ہو یا معیشت، سماج ہو یا تعلیم، مشینری ہو یا ٹیکنالوجی، میڈیا ہو یا رسل و رسائل ، ایسے بے شمار شعبے ہیں جن کے اندر نِت نئے انقلابات آئے روز رونما ہوتے ہیں۔ وہیں آج اکیسویں صدی کے بیسویں سال، ہم ایک ایسے عہد میں جی رہے ہیں جہاں ایک منٹ پہلے والی بریکنگ نیوز پرانی لگتی ہے۔ حالات و واقعات کے پھیر بدل اس طرح پیش آرہے ہیں کہ انسان ششدررہ جاتا ہے۔ ان معنوں میں موجودہ دور کو بعض لوگ ما بعد جدید دنیا کے لقب تک سے نوازتے ہیں۔  اس عرصے میں ملکوں کے نظاموں میں بھی خاصی تبدیلیاں وقوع پذیر ہو گئیں۔ بہت سارے نظام ہائے زندگیاں انسانیت نے آزمائے۔لوگوں کو راحت پہنچانے کے لیے مختلف النوع ذیلی منصوبے بنائے گئے۔ حکام

معاشرتی زوال و انحطاط

 افراد سے ہی معاشرہ بنتا سنورتا ہے اور بگڑتا بھی ہے ۔ افراد صالح اور نیک طینت ہوں تو صالح معاشرہ کا وجود میں آنا طے ہے ۔ ینز انہی کی کج روی اس کو تباہی کے دلدل میں دھنساتی ہے۔ یعنی سماجی امراض کے باعث افراد ہی ہیں اور انہی کے پاس بیمار سماج کے واسطے دوا بھی پائی جاتی ہے ۔جہاں کہیں سماج میں خرابی پیدا ہو جائے تو جان لینا چا ہئے کہ اس خرابی کا اصل ماخذ وہ دل و دماغ ہیں جن میں برائی پنپ کریہ برائی معاشرتی عفریت کا روپ دھار لیتی ہے۔ یوں ہی رفاہی معاشرہ (welfare society)کسی معجزے کے بدولت تشکیل پاتا ہے نہ اس کے قیام کی خاطر عالمِ ملکوت سے فرشتے نازل ہوتے ہیں بلکہ رفاہی معاشرے کا وجود بزبانِ حال اس میں رہ رہے فرشتہ صفت انسانو ں کی نشاندہی کرتا ہے ۔ اس دلیل کی روشنی میں اگر ہم اپنے معاشرے کی ابتری کی وجوہات دریافت کرنا چاہیں تو ہمیں سب سے پہلے اپنے گریباں میں جھانک کر دیکھنا ہو گا کہ کہ

وادیٔ منشیات؟

 پولیس نے 18ستمبر کو دعویٰ کیا کہ انہوں نے شمالی ضلع بارہمولہ میں کروڑوں روپے مالیت کی منشیات(کوکین) ضبط کرکے 4 افراد کو گرفتار کرلیا ۔پولیس کے مطابق اُنہیں منشیات فروشوں کے بارے میں ایک خفیہ اطلاع ملی تھی جس کے بعد ایک ناکہ کارروائی کے دوران منشیات کی مذکورہ کھیپ بر آمدکی گئی۔اس سے قبل بھی ایسی متعدد کارروائیوں میں پولیس نے ایسے ہی دعویٰ کئے بلکہ پولیس کم و بیش ہر روز منشیات کے کاروبار اور اس کے استعمال کے الزام میں گرفتاریاں عمل میں لاتی رہتی ہے۔ پولیس کے روزانہ بیانات کو ملحوظ رکھتے ہوئے خطہ کشمیر ’وادیٔ منشیات‘ لگ رہی ہے جہاں کے لوگوں کی ایک اچھی خاصی تعداد عالم بے خودی کا سہارا لیکر معلوم اور نامعلوم غم کو غلط کرنے کی سعی لاحاصل کرتے ہیں۔   حکام نے گذشتہ برس کراس ایل او سی تجارت بند کرنے کے وقت یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس تجارت کی آڑ میں وادی کشمیر میں

اُردو کے تابوت میں آخری کیل

جب سے بھارتیہ جنتا پارٹی قیادت والی این ڈی اے حکومت نے نئی دہلی میں اقتدار سنبھالا ہے، تب سے عوام کے اصلی مسائل و مشکلات اور مطالبات کو حل کرنے کی بجائے ان سے عوامی توجہ ہٹانے کے لئے حربے استعمال کئے گئے اور جموں و کشمیر کو بطور خاص’تجربہ گاہ‘کے طور استعمال کیاگیا۔یوں تو جموں وکشمیر پچھلے سات دہائیوں سے زائد عرصہ سے ’سیاسی تجربہ گاہ‘ہی ہے لیکن پچھلے چند برس کے دوران کئی بڑے تجربے کر کے پورے ملک کی عوام میں یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کی گئی جیسے ہم نے خلاء میں ناقابل ِ تسخیر کامیابی حاصل کر کے وہاں نئی دنیا قائم کر لی ہو۔لکھن پور سے لیکر کرگل تک سابق ریاست جموں وکشمیر کی عوام گونا گوں مشکلات کا شکار ہے ، خصوصی درجہ کی تنسیخ کے بعد تعمیر وترقی کا انقلاب بپا کرنے اور دودھ کی نہریں چلانے کے خواب دکھا کر سب کچھ لٹ لیاگیا۔ مشکلات کو حل کرنے کی بجائے یہاں پر مختلف طریقو

جرنلزم و ماس کمیو نی کیشن

 جرنلزم اور میڈیا کی اہمیت سے موجودہ دور میں نہ انکار ممکن ہے اور نہ ہی فرار۔ میڈیا کو جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے۔ ٹیلی ویژن، اخبارات، میگزین روزانہ کے واقعات اور اہم خبریں ناظرین اور قارئین تک پہنچاتے ہیں۔ اس شعبہ میں محنتی اور ایماندار افراد کی کمی ہمیشہ سے رہی ہے ۔ ایسے نوجوان جو خبروں کے تجزیے، قومی و بین الاقوامی سیاسی و معاشی معاملات میں دلچسپی رکھتے ہوں اور مطالعہ کا بھی شوق ہو وہ پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا میں اپنا کرئیر بنا سکتے ہیں۔  جرنلزم اور ماس میڈیا کا مفہوم و فرق : خبروں کی ترسیل کے تمام ذرائع چاہے وہ اخبارات، میگزین ، ٹی وی چینلس اور آن لائن ویب پورٹل سے متعلق ہوں وہ تمام جرنلزم کی تعریف میں شامل ہیں یعنی یہ کہا جا سکتا ہے خبروں کی رپورٹنگ کسی بھی ذریعے سے کرنا جرنلزم کہلاتا ہے جبکہ ماس میڈیا یا ماس کمیونکیشن میڈیا کے مختلف ذرائع سے عوام تک پیغام پہ

ملک کے تعلیمی نظام پر بھگوا چھاپ

آزادی کے بعدبھارت کا تعلیمی نظام مختلف ادوار میں جدید طرز پر نافذ کیا جاتا رہا ہے۔ جس میں زیادہ ترمغربی دنیا کے نظام تعلیم کی ہمیشہ نقل ہوتی رہی ہے ۔ مختلف ایجوکیشن کمیشنز بنتے رہے جیسے کتھاری کمیشن، ایجوکیشن کمیشن، وغیرہ وغیرہ ۔ان کی رپورٹس آتی رہیں۔پھر ہندوستان کے چوٹی کے ماہر تعلیم، ٹیکنوکریٹس اور سائنسدان اس پر بحث کرکے اس کمیشن یا تعلیمی پالیسی کو حتمی شکل دینے سے قبل ملک میںحالات کے مطابق اپنے ملک گیر سماجی، اقتصادی،مذہبی ،علاقائی تناظر اور تعلیمی معیار کو سامنے رکھ کر عملی جامعہ پہناتے رہے ہیں۔ جس میں تمام مذاہب ہندو،مسلم، سکھ، عیسائی،بودھ ،جین ، پارسی اور جن کا کوئی مذہب نہیں ان کو مد نظر رکھا جاتا رہا ہے جو کہ ایک جمہوری ملک کا نسب العین ہوتا ہے۔ملک بھر کی تمام اہم بولی جانے والی زبانوں: ہندی، اردو، بنگالی، تیلگو، تامل،پنجابی،کشمیری ، مراٹھی، بھوجپوری ،اڑیا،آسامی،کنڑوغیرہ ک

اصلی مُجرم کون ؟

ربّ ِ کائنات کی طرف سے انسان کو سب سے بڑی نعمت زندگی کی شکل میں دی گئی ہے او ر زندگی صرف ایک بار ملتی ہے ،اس لئے اس کی جتنی قدر کی جائے کم ہے۔ایسی بیش بہا زندگی سے لطف اندوز ہونا اور اُسے خوشگوار طریقے سے گزارنا انسان کی ذمہ داری ہے ،لیکن آج کل دُنیاوی اُلجھنوں اور مسائل کے شکنجوں میں اپنے آپ کو پھنساکر بیشتر لوگ اپنی زندگیاں عذاب بنائے ہوئے ہیں۔ہر طرف جنگل کا قانون ہے اور ہر سمت چیر پھاڑ کرنے والے درندے اپنے تیز اور نوکیلے دانتوں سے جامۂ انسانیت نوچنے میں ہمہ وقت مشغول دکھائی دیتے ہیں ۔ہر سُو خدا طلبی کے بجائے دنیا طلبی کا دور دورہ ہے۔غرض پوری بستی کے لوگ آج خواہش پرستی کی ادنیٰ سطح پر گِر کر درندوں اور چوپایوں کی زندگی جی کر زمانۂ جاہلیت کی یاد تازہ کرنے میں مصروف ہیں۔ اس بستی کے ہم لوگ جس دین کے پیرو کار ہیں اُس دین کی پہلی خصوصیت یہ ہے کہ یہ دین دینِ فطرت ہے کیونکہ زندگی ک

عیاری اور مکاری کے پر ستار لوگ | دنیاوی فوائد ہی کو سمیٹنے کی کوششوں میں مصروفِ

جموں و کشمیر کو انڈین ٹریٹری میں تبدیل کرنے کے ایک سال گزرنے کے بعد وادیٔ کشمیر میں جو گوناگوں صورت حال چلی آرہی ہے وہ سابقہ حکومتوں سے بھی کئی گنابدتر نظر آرہی ہے۔عوام کو عرصہ دراز سے درپیش مصائب و مشکلات سے نجات دلانے اور ہر معاملے میں راحت دلانے کے جو خوش کُن وعدے کئے گئے تھے ،وہ تاحال سراب ہی ثابت ہورہے ہیں۔جبکہ کڑوا سچ یہ ہے کہ جموں و کشمیر کے سرکاری انتظامی شعبوں کے اعلیٰ سے ادنیٰ ملازمین کی زیادہ تر تعداد سابقہ حکومتوں کے ادوار میں جس طرح بدنظمی ، بے راہ روی ،خود غرضی اور چاپلوسی کے تحت اپنے منصبی فرائض کی انجام دہی میں مصروف کار تھی آج کے اس گورنرراج میں بھی وہ اُسی روایتی پالیسی کے مطابق اپنی ملازمت کے فرائض منصبی انجام دے رہی ہے اور بدستور وہی کچھ کررہی ہے جس سے لوگوںکے مشکلات و مصائب میںمزید اضافہ ہورہا ہے ۔ بلا شبہ کسی بھی حکومت کے مستحکم ،مضبوط اور کامیاب ہونے کی وا

مُردے کہاں جائیں؟ | سرکاری تدفین اتھارٹی کے قیام کی ضرورت

مشہور یونانی فلسفی ڈائجینیس نے اپنے اقربا کو وصیت کی تھی کہ جب وہ مرجائے تو اْس کی میت کو شہر کی بڑی دیوار کے اوپر سے گرا دیا جائے تاکہ لاش کو جنگلی جانور نوچ کھائیں۔ بعد میں افلاطون نے ڈائجینیس کے بارے میں کہا کہ وہ ‘‘پاگل ہوچکا سقراط’’ تھا۔ مہذب دْنیا میں ڈائجینیس کے بارے میں افلاطون کا خیال صحیح ثابت ہوچکا ہے، کیونکہ دس ہزار سال سے لوگوں نے بلالحاظ رنگ و نسل ، مذہب و ملت مْردوں کو بڑی تکریم کے ساتھ سپرد خاک یا سپرد نار کیا ہے۔ مْردوں کے ساتھ مختلف معاشروں کے رویوں پر تھامس لاقویر نے اپنی کتاب ‘‘دا ورک اوف دا ڈیڈ: کلچرل ہسٹری اوف مارٹل رِمینز’’ میں تفصیل کے ساتھ بحث کی ہے۔ کورنا وائرس کی وبا کے بیچ بڑی تعداد میں لاشوں کو ٹھکانے کا عمل جس بے مروتی کے ساتھ جاری ہے، کبھی کبھار یہ لگتا ہے کہ اکیسویں صدی کے بیدار عہد میں بھی ہم ڈائجینیس

علاج و معالجہ کے مراکزمیں نظم و ضبط کا فقدان | ہسپتال خود بیمار،مریضوں کاعلاج کہاں ہوگا؟

سسٹم اور ادارے قواعدوضوابط کے تحت چلا کرتے ہیں۔اگر ان کی فعالیت ضابطے کو درکنار کر کے کسی شخص یا چند شخصیات کی اپنی مرضی ومنشاء کے تابع ہوجائے تو نظام درہم برہم ہوجاتاہے۔اِس کا مشاہدہ جموں وکشمیر یوٹی میں یکم نومبر 2019کے بعد ایگزیکٹیو سطح پر کیا گیا۔ راج بھون، چیف سیکریٹری اور پولیس ہیڈکوارٹر کے مابین آپسی چپقلش، کھینچا تانی، رسہ کشی کی اطلاعات میڈیا کے ذریعے منظر عام پر آئیں، حالانکہ جتنا تھا اُس سے بہت کم سننے ، پڑھنے کو ملا ، بہت کم ہی اِس سے آشنا ہیں۔ہم نے دیکھا کہ ایگزیکٹیو میں اہم عہدوں پر براجمان نوکرشاہ کے الگ الگ آقاہیں۔کسی کا ریموٹ کنٹرول نئی دہلی کا ساؤتھ بلاک ہے تو کسی کے سرپر ناگپور کا آشیرواد ہے۔ملکی سطح پر برسرِ اقتدارجماعت میں طاقتورلابی ازم کا رحجان بھی دیکھاگیا ہے اور اِس کا عمل دخل جموں وکشمیر یوٹی کی انتظامیہ پر واضح دکھائی دیا۔نتیجہ کے طور پر نظام پٹری سے اُ

مشرق و مغرب میں سائنسی تحقیق کا معیار | پسماندگی کا اصل سبب

  اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ مغربی سائنسی انقلاب اسلامی علوم اور عربی مسلمانوں کی انتھک محنت و مشقت کا مرہون منّت ہے جن کی علمی و تحقیقی بنیادوں پر دور جدید اپنی آن اور شان کے ساتھ قائم ہے۔ماضی میں مسلمانوں کے مشاہدات و تحقیقات اور تلاش و ایجادات کی وجہ سے ہی انسان کی سائنسی و تکنیکی ترقی آج حیرت انگیز عروج پر پہنچنے کے قابل ہو سکی ہے جس پر خود انسان بھی متحیر و مستعجب ہے۔ اس بات کا اعتراف نہ کرنا حقائق سے چشم پوشی ہے کہ یورپ نے حکمت و فلسفہ اور سائنس میں ترقی کرکے اس کو کہیں سے کہیں پہنچا دیا۔اسی طرح اس حقیقت کا اعتراف مغرب کو بھی بغیر کسی ادنی اعتراض کے کرنا پڑا ہے کہ یورپ کی پوری زندگی اور اس کا تمدن اسلام سے متاثر ہوا ہے۔رابرٹ بریفالٹ Brifault Robert  اپنی کتاب میں لکھتا ہے:"یورپ کی ترقی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جس میں اسلامی تمدن کا دخل نہ ہو۔۔۔۔"۔کیتھ

کمپیوٹر کے بنیادی حصے سائینس و ٹیکنالوجی

4 )نیو میرک ’’کی پیڈ‘‘  Numeric Hey Pad :  ہمارے ’’کی بورڈ‘‘ پر دائیں جانب ’’نیو میرک کی پیڈ‘‘ ہوتا ہے۔جس میں ’’کلکولیٹر‘‘ جیسی بٹن ہوتی ہیں۔ اِن میں سے کچھ بٹن کے دو کام ہوتے ہیں ۔ مثلاً 7 نمبر والی بٹن پر Home بھی لکھا ہوتا ہے اِس طرح یہ بٹن دو کام کرسکتی ہے ۔ہمارے ’’کی بورڈ‘‘ میں دائیں طرف جو کی پیڈ بنا ہوا ہے اُس کے اوپر بائیں جانب کونے والی بٹن پر NumLock لکھا ہوا ہے۔ دو کاموں کو کرنے والی بٹن کا سوئچ آن NumLock سے ہوتا ہے۔ جب NumLock کی بٹن ہم دبائیں گے تو وہ آن ہوجائے گا اور ہمارے ’’کی بورڈ‘‘ دائیں طرف ’’کی پیڈ‘‘ کے اوپر تین لائیٹس ہیں جو جلتی بجھتی ہیں ۔ جب ہم NumLock آن کرتے ہیں تو اُس لائیٹ کے

تہذیبوں کا تصادم اورکشمیریت

آئیے آج بات کرتے ہیں اس قوم کی جس کا ہم حصہ ہیں ۔لیکن کیسے کریں ۔ ہمیں پہلے یہ پتہ لگانا ہوگا کہ قوم کیا ہے ۔ ہم مسلمان ہیں ،اس لئے امت مسلمہ کا حصہ ہیں ۔ ہم کشمیری ہیں، اس لئے کشمیری قوم کا حصہ ہیں ۔ ایک ساتھ ہم دونوں قومیتوں کا جزو نہیں ہوسکتے، نہ ہم دونوں میں سے ایک کو الگ کرکے ایک ہی قومیت کا حصہ بن کر رہ سکتے ہیں ۔یہ ہمارا ہی نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ اوراس کی پوری تاریخ کا انتہائی گھمبیر مسئلہ رہا ہے اور اسی مسئلے کی وجہ سے ایسے تضادات نے جنم لیا ہے جن کی وجہ سے مسلمانوں کی نسلی ، علاقائی ، لسانی، تہذیبی اور گروہی شناخت امت مسلمہ کی روحانی اور نظریاتی اساس کے سماتھ یا تو خلط ملط ہوکر ایک ابدی کنفیوژن کا باعث بنی یاایک دوسرے سے ٹکرا کر فساد اور شر پیدا کرتی رہی ۔آج ہر جگہ ہر مسلمان کی شخصیت کے اندر قومیت کا ٹکرائو موجود ہے ۔چودہ سو سال کی تاریخ میں مسلم عالموں نے اس مسئلے کی کوئ

خُود کشی ایک بُزدلانہ فعل

گزشتہ دنوںفجر کی نماز پڑھ کر معمول  کے مطابق سیروتفریح کے بعد گھر کے باغیچہ میں بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا کہ اچانک میری نظر ایک ایسی خبر پر پڑی جسے دیکھ کر میں دھنگ رہ گیا۔ خبر یہ تھی کہ ہندوستان کے مشہور اداکار سشانت سنگھ راجپوت نے خودکشی کرلی اور اپنی زندگی کو اپنے ہاتھوں سے تمام کرلیا ۔افسوس اس بات کا نہیں تھاکہ ایک اداکار کی موت واقع ہوئی ہے۔ بس میں اس سوچ میں الجھ گیا تھا کہ آخر جن وجوہات کی بنا پر ایک غریب شخص خودکشی کا شکار ہوتا ہے ،وہ سارے وسائل تو مہیا تھے ۔جو چیزیں اس دار فانی میں انسان چاہتا ہے وہ تمام تر وسائل موجود تھے ۔آخر کن باتوں پر ایسے لوگ اپنی جان لیتے ہیں۔ آخر خودکشی کیا ہے؟لوگ کیوں خودکشی کرتے ہیں؟تمام تر مذاہب خودکشی کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ اسلام نے اسے بزدلانہ عمل کیوں قرار دیا ہے؟۔ اس جیسے کئی سوالات میرے ذہن میں گردش کرنے لگے۔آخر کار تسکین قلب کی خ

گوشہ اطفال|19 ستمبر 2020

 روزانہ ایک گھنٹہ ورزش بچوں کی ذہنی نشونما کیلئے اہم   فکرِ اطفال   لیاقت علی   جہاں ایک طرف جدید سائنس نے انسان کے لیے کئی آسائشیں پیدا کردی ہیں تو وہیں دورِ جدید کی تیز رفتار زندگی نے انسان کو فطرت سے بھی دور کردیا ہے۔ آج کے زمانے میں انسان ’’اِن ڈور‘‘ ہوکر رہ گیا ہے۔ ہم اپنے اِرد گِرد بھی اگر ایک نظر دوڑا کر دیکھ لیں تو اندازہ ہوگا کہ ہم میں سے زیادہ تر لوگ گھر میں اور کام کی جگہ پر بھی ایک چھت تلے اپنا زیادہ تر وقت گزارتے ہیں۔  دورانِ سفر بھی زیادہ تر لوگ ایک طرح سے ’’اِن ڈور‘‘ ہی رہتے ہیں۔ ہمارا یہ ’’لائف اسٹائل‘‘ دیکھنے میں تو ہمیں بہت ہی سہل اور پْرآسائش معلوم ہوتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کی وجہ سے ہم سست ہورہے ہیں اور ہماری صحت بھی متاثر ہوتی جار

معاشرتی بے راہ روی سے دوچار مسلم سماج

اللہ تعالیٰ نے دنیا کو ایک خاص نظام کے تحت پیدا کیاہے۔ساری مخلوق اسی نظام اورخداکی اسی بناوٹ کے تحت قائم ودائم ہے۔جب کوئی مخلوق اس فطری نظام سے منحرف ہوتی ہے یاکوئی اورشخص اس نظام سے چھیڑ چھاڑ کرتاہے تودنیا میں فساد،بگاڑ اورتباہی آتی ہے۔غورکریں جب سے دنیا بنی اورآسمان پر سورج اورچاندکا نظام قائم ہوا،اللہ تعالیٰ کی یہ دونوں بڑی مخلوق بھی اسی نظام قدرت کی پابندی کرتی چلی آرہی ہے۔سورج پورب سے نکل کر پچھم کو ڈوبتاہے،سورج کے اس نظام میں کبھی کسی طرح کی تبدیلی نہیں آئی، اگر سورج اس فطری نظام سے ہٹ کر پچھم سے طلوع ہوکر پورب کی سمت ڈوبنے لگے تودنیا تباہی اوربربادی کی شکار ہوجائے۔اسی کو حدیث پاک میں قیامت یعنی دنیا کے اختتام کی بڑی علامت قرار دیاگیا ہے۔پھر غور کریں سورج جب سے بنا اپنی شعاع سے دنیا کو منور کرتا آرہاہے،جب کبھی سورج اپنا نور حکم خداوندی سے تھوڑی دیر کے لئے روک لیتاہے جسے ہم س

تازہ ترین