تہذیبوں کا تصادم اورکشمیریت

آئیے آج بات کرتے ہیں اس قوم کی جس کا ہم حصہ ہیں ۔لیکن کیسے کریں ۔ ہمیں پہلے یہ پتہ لگانا ہوگا کہ قوم کیا ہے ۔ ہم مسلمان ہیں ،اس لئے امت مسلمہ کا حصہ ہیں ۔ ہم کشمیری ہیں، اس لئے کشمیری قوم کا حصہ ہیں ۔ ایک ساتھ ہم دونوں قومیتوں کا جزو نہیں ہوسکتے، نہ ہم دونوں میں سے ایک کو الگ کرکے ایک ہی قومیت کا حصہ بن کر رہ سکتے ہیں ۔یہ ہمارا ہی نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ اوراس کی پوری تاریخ کا انتہائی گھمبیر مسئلہ رہا ہے اور اسی مسئلے کی وجہ سے ایسے تضادات نے جنم لیا ہے جن کی وجہ سے مسلمانوں کی نسلی ، علاقائی ، لسانی، تہذیبی اور گروہی شناخت امت مسلمہ کی روحانی اور نظریاتی اساس کے سماتھ یا تو خلط ملط ہوکر ایک ابدی کنفیوژن کا باعث بنی یاایک دوسرے سے ٹکرا کر فساد اور شر پیدا کرتی رہی ۔آج ہر جگہ ہر مسلمان کی شخصیت کے اندر قومیت کا ٹکرائو موجود ہے ۔چودہ سو سال کی تاریخ میں مسلم عالموں نے اس مسئلے کی کوئ

خُود کشی ایک بُزدلانہ فعل

گزشتہ دنوںفجر کی نماز پڑھ کر معمول  کے مطابق سیروتفریح کے بعد گھر کے باغیچہ میں بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا کہ اچانک میری نظر ایک ایسی خبر پر پڑی جسے دیکھ کر میں دھنگ رہ گیا۔ خبر یہ تھی کہ ہندوستان کے مشہور اداکار سشانت سنگھ راجپوت نے خودکشی کرلی اور اپنی زندگی کو اپنے ہاتھوں سے تمام کرلیا ۔افسوس اس بات کا نہیں تھاکہ ایک اداکار کی موت واقع ہوئی ہے۔ بس میں اس سوچ میں الجھ گیا تھا کہ آخر جن وجوہات کی بنا پر ایک غریب شخص خودکشی کا شکار ہوتا ہے ،وہ سارے وسائل تو مہیا تھے ۔جو چیزیں اس دار فانی میں انسان چاہتا ہے وہ تمام تر وسائل موجود تھے ۔آخر کن باتوں پر ایسے لوگ اپنی جان لیتے ہیں۔ آخر خودکشی کیا ہے؟لوگ کیوں خودکشی کرتے ہیں؟تمام تر مذاہب خودکشی کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ اسلام نے اسے بزدلانہ عمل کیوں قرار دیا ہے؟۔ اس جیسے کئی سوالات میرے ذہن میں گردش کرنے لگے۔آخر کار تسکین قلب کی خ

گوشہ اطفال|19 ستمبر 2020

 روزانہ ایک گھنٹہ ورزش بچوں کی ذہنی نشونما کیلئے اہم   فکرِ اطفال   لیاقت علی   جہاں ایک طرف جدید سائنس نے انسان کے لیے کئی آسائشیں پیدا کردی ہیں تو وہیں دورِ جدید کی تیز رفتار زندگی نے انسان کو فطرت سے بھی دور کردیا ہے۔ آج کے زمانے میں انسان ’’اِن ڈور‘‘ ہوکر رہ گیا ہے۔ ہم اپنے اِرد گِرد بھی اگر ایک نظر دوڑا کر دیکھ لیں تو اندازہ ہوگا کہ ہم میں سے زیادہ تر لوگ گھر میں اور کام کی جگہ پر بھی ایک چھت تلے اپنا زیادہ تر وقت گزارتے ہیں۔  دورانِ سفر بھی زیادہ تر لوگ ایک طرح سے ’’اِن ڈور‘‘ ہی رہتے ہیں۔ ہمارا یہ ’’لائف اسٹائل‘‘ دیکھنے میں تو ہمیں بہت ہی سہل اور پْرآسائش معلوم ہوتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کی وجہ سے ہم سست ہورہے ہیں اور ہماری صحت بھی متاثر ہوتی جار

معاشرتی بے راہ روی سے دوچار مسلم سماج

اللہ تعالیٰ نے دنیا کو ایک خاص نظام کے تحت پیدا کیاہے۔ساری مخلوق اسی نظام اورخداکی اسی بناوٹ کے تحت قائم ودائم ہے۔جب کوئی مخلوق اس فطری نظام سے منحرف ہوتی ہے یاکوئی اورشخص اس نظام سے چھیڑ چھاڑ کرتاہے تودنیا میں فساد،بگاڑ اورتباہی آتی ہے۔غورکریں جب سے دنیا بنی اورآسمان پر سورج اورچاندکا نظام قائم ہوا،اللہ تعالیٰ کی یہ دونوں بڑی مخلوق بھی اسی نظام قدرت کی پابندی کرتی چلی آرہی ہے۔سورج پورب سے نکل کر پچھم کو ڈوبتاہے،سورج کے اس نظام میں کبھی کسی طرح کی تبدیلی نہیں آئی، اگر سورج اس فطری نظام سے ہٹ کر پچھم سے طلوع ہوکر پورب کی سمت ڈوبنے لگے تودنیا تباہی اوربربادی کی شکار ہوجائے۔اسی کو حدیث پاک میں قیامت یعنی دنیا کے اختتام کی بڑی علامت قرار دیاگیا ہے۔پھر غور کریں سورج جب سے بنا اپنی شعاع سے دنیا کو منور کرتا آرہاہے،جب کبھی سورج اپنا نور حکم خداوندی سے تھوڑی دیر کے لئے روک لیتاہے جسے ہم س

شرم وحیاانسانیت کا بہترین لباس

 انسان کوجو صفت دوسری مخلوقات سے ممتاز وممیز کرتی ہے، ان میں نمایاں صفت اس کی شرم وحیا کی حِس اور جذبۂ عفّت ہے۔حیا مرد اور عورت دونوں کا یکساں اخلاقی وصف ہے۔ یہ وصف ہمیں پوری آب و تاب کے ساتھ قصۂ آدم و حوا میں نظر آتا ہے۔ جب دونوں میاں بیوی نے ابلیس کے دھوکے میں آکر شجر ِممنوعہ کا پھل کھالیا تو ان کا جنت کا لباس اُتروا لیا گیا تھا۔ دونوں کو اپنی برہنگی کا احساس ہوا اور اس حالت میں انہیں اور کچھ نہ سوجھا تو انہوں نے فوراً جنت کے درختوں کے پتوں سے اپنی شرم گاہیں ڈھانپنے کی کوشش کی۔ زندگی کے جس شعبے سے بھی حیا رخصت ہو جائے وہاں بے اصولی ، بے ضمیری ، بے شرمی اور بے حیائی غالب آجاتی ہے۔ جھوٹ اور مکر و فریب کو فروغ ملتا ہے۔ خودغرضی ، نفس پرستی اور مادہ پرستی کا چلن عام ہو جاتا ہے۔ حرص و ہوس غالب آتی ہے۔ دل و دماغ پر خدا پرستی کے بجائے مادہ پرستی چھا جاتی ہے۔  خوشی ا

امارات ،بحرین اور اسرائیل معاہدہ

پوری دنیا کو معلوم ہے کہ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے جو اپنا وجود فلسطینیوں کے مسلسل خون چوسنے کے سبب قائم کئے ہوئے ہے۔اسرائیل کے لئے ہر دن فلسطینیوں کے خون کی ہولی کا تہوار ہوتا ہے۔اسرائیل کی تاریخ ظلم و بربریت سے عبارت ہے۔چند مثالوں سے اس کو بآسانی واضح کیا جا سکتا ہے:کنگ ڈیوڈ قتل عام جس میں92 لوگ قتل کئے گئے، ڈیرہ یاسین قتلِ عام جس میں 254 مفلس دیہاتیوں کو بے دردی سے قتل کیا گیا، قبیا قتل عام جس میں 96لوگ قتل کر دئے گئے، کفر قاسم قتل عام ،خان یونس قتل عام، مسجد ابراھیم قتل عام، سابرہ و شاتیلا قتل عام جس میں 3000فلسطینیوں کو لبنان کے رفیوجی کیمپ میں قتل کیا گیا اور تاہنوز فلسطین میں ایک بہیمانہ نسل کشی جاری ہے۔اس پورے تناظر میں عرب ممالک کا اسرائیل کے ساتھ کسی بھی سطح پر کسی بھی نوع کی بات چیت کرنا انہیں انصاف کی عدالت میں ایک مجرم کی حیثیت سے کٹہرے میں کھڑا کرتا ہے۔اسرائیل سے بات چ

دست ہر نا اہل بیمار ت کُند

گزشتہ دنوں شمالی کشمیر کے سرحدی ضلع کپوارہ میںایک جعلی معالج کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا اور اسکے بعد سوشل میڈیا پر ایک بحث چھڑگئی اور تادمِ تحریر یہ سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔ جعلی ڈا کٹرمبینہ طور گزشتہ کئی برسوں سے مسلسل انسانی جانوں کے ساتھ کھیل کر عوام کو دو دو ہاتھوں سے لوٹ رہا تھا اور اس پر طُرہ یہ کہ کوئی پُرسانِ حال نہیں۔الزام ہے کہ سرکاری ملازمت کے ہوتے ہوئے بھی مذکورہ شخص نے نقلی ڈاکٹر کا روپ دھار کراپنی ایک الگ دوکان کھول دی ۔ سوال یہ ہے کہ ابھی تک اس جعلی ڈاکٹر کی وجہ سے کتنی انسانی جانیں ضائع ہوچکی ہوں گی۔مریضوں کو غیر معیاری ادویات دیکر کتنے لوگ دائمی مریض بن چکے ہونگے اور کتنا پیسہ لوگوں سے ہڑپ کیا گیا ہوگا اور اس دل ِ بے رحم پر ذرا بھی ترس نہیں آیا۔ مکرو فریب ،چالبازی اور بد دیانتی کی عمر زیا دہ طویل نہیں ہوتی ہے اور آخر کار مصنوعی چالاکی کے قلعے دھڑام سے گرجاتے ہیں۔خیر

اسرائیل کے معاہدات اورعربوں کے سراب

اسرائیل کے پہلے وزیر اعظم ڈیوڈ بن گورین نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ اسرائیلی عزائم اور ا ہداف کو اپنے ان الفاظ میں منعکس کیا تھا ۔ ’’مستقبل قریب میں واحد عالمی تنظیم(ورلڈ آرڈر )وجود میں آئے گا جو یروشلم کی سربراہی میں ہوگا ، ایک واحد فوج ہوگی اور یروشلم میں اصلی اور حقیقی اقوام متحدہ کا ادارہ ہوگا ‘‘۔یہ سمجھنا کوئی مشکل نہیں کہ اسرائیلی منصوبہ وہی (دجالی ) منصوبہ ہے جس کی پیش گوئیاں احادیث میں شامل ہیں اور بن گورین کا یہ بیان اس جملے کا عکس ہے ،’’ مسیحااسرائیل میں ایک حکومت قائم کرے گا جو تمام دنیا کی حکومتوں کا مرکز ہوگی اور تمام غیر یہودی اقوام اس کے ماتحت اور غلام ہوں گے (ایسیاہ ۔۲۔ ۱۲ )۔اب  بن گورین کے بیان کو حالیہ اس بیان کے ساتھ ملاکر دیکھئے جو یروشلم میں امریکی سفارتخانہ کی منتقلی کی افتتاحی تقریب پر ٹرمپ کے سفیر پادری جان ہیکی نے دیا تھا

ماضی کے دریچوں سے

بیسویں صدی کی تیسری اور چوتھی دہائی میں دنیا پرایک نام خوف کی طرح چھایا رہا تھااور وہ نام تھا ہٹلر۔بہت کم لوگ یہ جانتے ہے کہ ہٹلرکون تھا،کہاں پیداہواہے۔پہلی بار یہ باتیں اُس وقت منظر عام پرآئی جب والٹر سی لینگر ایک امریکی ماہرنفسیات کی ہٹلرکی نفسیات پر مبنی تصنیف 1972منظر عام پر آئی۔اگر چہ اس کتاب کو شائع ہوئے اب چند دہائیا گزری ہیں،لیکن درحقیقت اس کا مسودہ سب سے پہلے دوسری جنگ عظیم کے دوران 1943تیارکیاگیاتھا۔ مصنف نے ہٹلر کے زمانہ عروج میں متعدد قابل اعتمادذرائع اورٹھوس شہادتوں کی مدد سے بیسویں صدی کے سب سے بڑے ڈکٹیٹر اورنازی فلسفہ کے بانی کی آمرانہ ذہنیت اور نفسیات کاانتہائی ماہرانہ اورفاضلانہ تجزیہ کیا ہے ۔اس کے بچپن اور اوائل شباب سے قبل اوربعدمیں اس کے طرزعمل میں کارفرماعوامل کی نشاندہی کی ہے۔سروالٹر سی لینگر کاکہنا ہے کہ1936میں رائن لینڈکے دوبارہ قبضے کے موقع پرہٹلرنے اپنے طرز

جھوٹ،دھوکہ دہی اور فریب کاری

موبائیل فون کے وجود میں آنے سے جہاں انسان پوری دنیا میں رابطے میں رہا تو وہیں اس کے ذریعے پورا دن جھوٹ بولتا ہوا تھکتا نہیں ہے۔ بعض لوگوں کو تو عادت ہی پڑ گئی ہے کہ کئی جھوٹ ایسے بولے جاتے ہیں جو محض گناہِ بے لذت و بے فائدہ ہوتے ہیں۔ انہیں یہ امتیاز ہی نہیں رہتا کہ ہم نے فلاں کلمہ جھوٹ بولا ہے۔ انہیں اس کی پرواہ ہے نہ شرمندگی۔ کئی کلومیٹر دور ہوتے ہوئے بھی قریب بتاتے ہیں۔ اسی طرح ہم اپنے بچوں کو دھوکہ، جھوٹ اور فریب سکھا کر انہیں اپنے قریب بلاتے ہیں۔ واقعی ہم اْن سے محبت کرتے ہے لیکن جھوٹ بول کر نہیں۔ یعنی معمولی بات بچوں کو بہلانے کے لیے بھی گناہ ہے جو بے لذت و بے فائدہ ہے۔ سرکاری و نیم سرکاری اور پرائیویٹ محکموں کے ساتھ ساتھ کئی مزدور انجمنیں بھی اپنی حاضری ممکن بنانے کے لیے رجسٹر میں قلم زنی کرتی ہیں اور خلاف واقعہ لکھ کر گناہ کا مرتکب بن جاتی ہیں۔ آج کل لوگ ایسے کئی گناہوں می

مشکل میں صبر اور خوشی میں شُکر

اللہ تعالیٰ کی حکمت کو کون جانتا ہے۔اسکے فیصلے حکمت پر مبنی ہوتے ہیں۔وہ اپنا فیصلہ سنانے میں کسی کا محتاج نہیں۔وہ جب جو چاہے کر سکتا ہے۔اسکے فیصلے حتمی ہوتے ہیں۔کسی کی مجال ہی نہیں کہ وہ اسکے کسی بھی حکم کے خلاف احتجاج کرے۔اسکے حکم کے آگے ہر کوئی سر خم ہو جاتا ہے۔انسان کی فطرت ہے کہ وہ جلد اپنے حاجات کو پورا ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہے۔جب اسکی خواہشات پوری ہوتی ہیں تو وہ خوشی سے پھولے نہیں سماتا ہے اور جب وہ پوری نہیں ہوتی ہیں تو غمگین ہو جاتا ہے،فکرمند ہوتا ہے اور پریشانی کے عالم میں چلا جاتا ہے۔انسان کی فطرت کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان جلد باز ہے یعنی وہ ہر کام کو جلد پورا ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہے۔کچھ ایسے بھی افراد ہیں جو صبر کا دامن تھامے رکھتے ہیں۔انہی لوگوں کے خوشگوار انجام کو دیکھ کر یہ الفاظ زبان پر بے ساختہ نکل آتے ہیں کہ'صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے'۔وہ لو

کاروبار میں کامیابی کے 10 اصول

وَرجن گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر رچرڈ برنسن کا شمار دنیا کے کامیاب ترین انٹرپرینیورز میں ہوتا ہے۔ وہ گاہے بگاہے، نئے انٹرپرینیورز کو کاروبار میں کامیابی کے مشورے بھی دیتے رہتے ہیں۔ ان ہی میں سے کچھ ذیل میں بتائے جارہے ہیں۔ خوابوں کا پیچھا کریں  اگر آپ اپنے خوابوں کا پیچھا کریں گے اور وہی کریں گے، جس سے آپ کو تسکین اور خوشی ملتی ہے تو یقین جانیں آپ بہت اچھی زندگی گزاریں گے۔ آپ دنیا کے کامیاب ترین لوگوں کی زندگیوں پر نظر ڈالیں، آپ کو نظر آئے گا کہ وہ اپنی زندگی سے اس لیے لطف اندوز ہوتے ہیں کیونکہ وہ وہی کرتے ہیں، جو ان کا شوق ہوتا ہے اور وہ اپنے خوابوں کا پیچھا کررہے ہوتے ہیں۔ آپ انٹرپرینیور بنیں یا پھر نوکری کریں، کام وہی کریں جس میں آپ کی دلچسپی ہو، اس کے بعد آپ کو کبھی بھی کام نہیں کرنا پڑے گا۔ دوسروں کیلئے اچھا کریں ایک سادہ سی بات ہے، اگر آپ اپنے کام

جاب مارکیٹ کے بدلتے رحجانات

جس تیزی سے وقت گزر رہا ہے، اتنی ہی تیزی سے جاب مارکیٹ بھی اپنے رنگ بدل رہی ہے۔ لہٰذا نوجوانو ں کو اپنی نظر مارکیٹ پر رکھنی ہوگی اور بدلتی صورتحال کے مطابق اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مارکیٹ میں اپنی جگہ بنانی ہوگی۔ اس کے لیے آج کی نسل کو یہ جاننا ضروری ہے کہ جاب مارکیٹ کو اس سے کیا توقعات ہیں اور مقابلے کی فضا میں وہ کس طرح خود کو ممتاز و ممیّز رکھتے ہوئے توقعات کو پورا کرسکتے ہیں۔ ساتھ ہی کمپنیوں کو بھی مختلف جابز کے لیے ملازمین کو سہولتیں فراہم کرنا ہوں گی۔ کمپنی کا مستقبل جاب مارکیٹ میں سخت مقابلہ ہے لیکن یہ مقابلہ صرف جاب ڈھونڈنے والوں کے درمیان ہی نہیں ہے بلکہ اب کمپنیوں کو بھی نئے ملازمین رکھنے کیلئے ایک قدم آگے جانا پڑتاہے اور بہترین ٹیلنٹ حاصل کرنے کیلئے لائق امیدواروں کو ترغیبی پیکج دینے کے بارے میں سوچنا ہوتاہے۔ کسی بھی اسامی کیلئے موزوں امیدوارسے کیے گئے ا

تین نیوکلیائی طاقتوں کا جنکشن

گذشتہ تین دہائیوں سے جموں کشمیر کو تقسیم کرنے والی کنٹرول لائن پر ہند۔پاک افواج کی آپسی گولہ باری معمول ہے اور اب اس کے نتیجے میں ہونے والی فورسز و شہری ہلاکتیں بھی نارملائز ہوئی ہیں۔یہاں تک کہ شمالی کشمیر سے جموں خطے تک کی اس طویل متنازع سرحدی لکیر پردونوں ممالک کی کشیدگی کو خاطر میں بھی نہیں لایا جارہا ہے ،حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ سرحدوں کی کشیدگی ہی خوفناک جنگوں کی وجہ بنتی ہے۔کنٹرول لائن کے قریب رہنے والے لوگ بھی دو ممالک کے تنازع کو ایک ہی بار حل کرنے کے بجائے زیر زمین بنکروں کی تعمیر کا مطالبہ کرتے آرہے ہیں جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وہ بھی ہند۔پاک سرحدی کشیدگی کو غیر شعوری طور ہی سہی ’معمول‘ کے طور تسلیم کرچکے ہیں۔    اس کے برعکس بھارت اور چین کے مابین متنازع سرحد ،جسے حقیقی کنٹرول لائن کہا جاتا ہے، پر موجودہ کشیدگی نے عالمی برادری کو چوکنا کر رکھا ہے

ملک کوجُڑواں آفات کا سامنا

کچھ ہی دنوں میں وبائی مرض اور معیشت سے متعلق دو پیشرفت ہوئیں جو تشویش ناک ہیں۔ برازیل کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ہندوستان دنیا میں دوسرے نمبر پر کوویڈ 19 کیسوں کا ملک بن گیا۔ اس سے پہلے یہ خبر آئی تھی کہ پہلی سہ ماہی (اپریل تا جون) میں جی ڈی پی میں 24 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ دنیا کی 25 بڑی معیشتوں میں یہ بدترین زوال ہے۔  وبائی بیماری بہت بڑھ رہی ہے اور یہ چھوٹے چھوٹے شہروں اور دیہات میں پھیل گئی ہے۔ انفیکشن کی تعداد میں روزانہ اضافے میں ہندوستان نے تمام ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اس میں اموات کے سب سے زیادہ واقعات بھی ریکارڈ کیے جارہے ہیں۔ ماہرین صحت کے مطابق اس شرح پر ہندوستان اکتوبر کے دوسرے ہفتے تک چارٹ میں سبقت لے گا اور امریکہ سے آگے نکل جائے گا۔  لیکن ایسا لگتا ہے کہ ان دونوں آفات نے وزیر اعظم اور حکومت کو خوف زدہ نہیں کیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ مودی سرکار نے فیصلہ کر

کشمیری زبان وادب

زبان قوم کی شناخت کے طور پر اقوامِ عالم میں شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے۔کسی قوم کی بقا اس قوم کی زبان کی قوت اور وسعت پر مبنی ہوتی ہے لہٰذا جس قوم کی زبان جتنی قوی اور وسیع ہوگی ،اْس قوم کی جڑیں بھی اْتنی ہی مضبوط ہوں گی۔اللہ تعالی نے آدم علیہ سلام کو کم و بیش چار لاکھ زبانوں کیساتھ دنیا میں بھیجا جو اس بات کی دلیل ہے کہ ہر زبان الہامی (Divine) ہے اور اپنی اپنی زبان کو دوام بخشنے کے لئے کوشاں رہنا نہ صرف ہمارا قومی بلکہ فطری فریضہ ہے۔ جس خطہ عرض پر ہم رہتے ہیں، یہ اپنی خوبصورتی کے سبب مقبول تریں جگہ ہے ۔یہاں بہت ساری علاقائی زبانیں بولی جاتی ہے جن میں پہاڑی، پشتو ،گوجری اور کہیں کہیں پر پنجابی بھی بولی جاتی ہے مگر جو مقام کشمیری زبان کو حاصل ہے وہ شاید کسی اور زبان کو حاصل نہیں۔ کشمیر کی یہ میٹھی زبان اپنے اندر ایک گہری تاریخ رکھتی ہے ۔لسانی تغیر کے باوجود دن بہ دن اس کی قوت اور وسعت میں

شعبۂ انسانی علوم کیریئرکا بحر ِ بیکراں

عام طور پر ہمارے وہ طلبا جنہیں اپنے اسکولی دنوں میں تاریخ، جغرافیہ، شہریت ، سماجیات ، پولیٹیکل سائنس ان مضامین میں زیادہ دلچسپی ہوتی ہے بہ نسبت ریاضی اور سائنس کے اور اس کے باوجود بھی اگر ان کے مارکس زیادہ ہوں فیصد اچھا ہو تو وہ سائنس یا کامرس کے کورسز میں داخلہ لیتے ہیں اور شاید ان کے گھر والے بھی یہ مانتے ہیں کہ اگر بچے کا فیصداچھا ہے تو اسے بالخصوص سائنس یا کامرس میں داخلہ لینا چاہیے لیکن درحقیقت ایسا نہیں ہے ۔ سائنس اور کامرس کے علاوہ بھی کئی شعبے ایسے ہیں جن میں آپ اپنی دلچسپی اور تعلیمی رجحان کے ذریعے ایک کامیاب کیرئیر بنا سکتے ہیں۔ ان میں سے ایک شعبہ علومِ انسانی( Humanities) ہے۔ اس شعبے میں بھی کئی مضامین میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے آپ مختلف کیرئیر کا انتخاب کرسکتے ہیں۔ آئیے ان میں سے چند ایک کا ہم جائزہ لیں۔  (۱)  علم نفسیات میں کیریئر کے مواقع  علم نفس

انٹرن شپ کو بامقصد بنانے کے چنداصول

آج کے دور میں گریجویٹ کرنے والے ہر طالب علم کے لیے انٹرن شپ کرنا لازمی ہوگیا ہے۔ پیشہ ورانہ زندگی میں داخل ہونے سے پہلے انٹرن شپ کے ذریعے طلبا کو کام کرنے کا عملی تجربہ حاصل ہوتا ہے۔ طلبا انٹرن شپ کو پیشہ ورانہ زندگی جاننے کا بہترین ذریعہ کیسے بناسکتے ہیں، اس حوالے سے گیلپ انٹرنیشنل نے ایک بین الاقوامی تعلیمی ادارے کے ساتھ مل کر سروے کیا تھا۔ طلبا انٹرن شپ کے موقع کو کس طرح اپنے بہترین مفاد میں استعمال کرسکتے ہیں اور اس حوالے سے سروے کے نتائج کیا بتاتے ہیں، آئیے جانتے ہیں۔ دوسرے انٹرنز سے روابط ہر ادارے کا اپنا طریقہ کار ہوتا ہے۔ زیادہ تر اداروں میںہر محکمہ کی ضرورت کے مطابق ایک یا دو انٹرنز دیے جاتے ہیں جب کہ کچھ ادارے انٹرنز کے لیے ایک الگ سیکشن بناتے ہیں، جہاں تمام انٹرنز ایک ہی جگہ کام کرنے کا تجربہ حاصل کرتے ہیں۔ چونکہ اکثر اوقات ایک انٹرن کو اکیلے ہی کسی ایک محکمہ میں ر

معاشی بحران تباہی کا پیش خیمہ | رواداری کی فضا مستحکم کرنے کی ضرورت

بلا شبہ فطرت ِ انسانی کا سامنا جنبشِ قلم سے پہلے جنبشِ لَب سے ہوتا ہے،کیونکہ دنیا میں آتے ہی جنبش کی ابتدا آواز سے ہوتی ہے۔ آواز کا لَبوں سے نکلنا اور سب کی توجہ اپنی طرف مبذول کروانے کے پیچھے ایک مقصد ہوتا ہے کہ کوئی ہے جو آیا ہے۔تاریخ انسانی کے اس اہم واقعہ سے یہ بات تو بالکل صاف ہے کہ تہذیب کے ارتقا میں الفاظ کا کلیدی رول رہا ہے۔تاریخ یہ بات فراموش نہیں کرسکتی کہ الفاظ کی طاقت تلوار کی جھنکار سے کہیں بڑھ کر ہے۔الفاظ کے زیروبم نے ہی انسانی دِلوں کی دنیا بدل ڈالی ہے ، حق اور ناحق سمجھایا ہے،اچھائیوں اور بْرائیوں میںفرق دکھائی ہے۔ الفاظ کی سحر انگیزی سے عوام اورحکمران کے تعلق کا سلسلہ شروع ہوا ہے اور الفاظ کی جادو گری سے حکمرانی آتی اور جاتی رہتی ہے۔ یہاں یہ سب باتیں اْن لوگوں کی یاد دہانی کے لئے ہیں جو اس وقت حکمران بنے بیٹھے ہیں اور لبوں کے زنبِش سے اپنی موجودگی ظاہر کررہے ہیں۔ا

چین کی عالمی معاشی جارحیت

 اس وقت ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پور ی دنیا مغرب کے بجائے مشرق کے اشاروں پر چل رہی ہے یا اس سے متاثر ہے۔اور ایسا بھی محسوس ہورہا ہے کہ چینی ڈریگن ، جو برسوں سے اس دنیا پر حکمرانی کرنے کی تیاریاں کررہا تھا اب بڑی خاموشی سے سرگرم ہوگیا ہے اور جلد ہی پوری دنیا پر چھا جائے گا۔ چین کی اس پیش قدمی میں کورونا وائرس نے بھی بڑی مدد کی ہے۔ بعض امریکی سیاست دانوں نے اس وائرس کو اور اسے دنیا بھر میں پھیلانے کے لیے چین کو مورد الزام بھی ٹھہرایا ہے۔ لیکن اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ چین آج جس مقام پر پہنچ چکا ہے ، وہ رواں دہائی میں اپنی جی ڈی پی اور آمدنی کو دوگنا کرلے گااور عالمی اقتصادی نظام میں سب سے آگے آگے ہوگا۔ چین کی جی ڈی پی 13.1 ٹریلین ڈالر ہے ۔وہ اس وقت دنیا میں دوسرے نمبر پر پہنچ چکا ہے اور امریکا سے ذرا سا ہی پیچھے ہے۔ ماہرین اقتصادیات کو توقع ہے کہ 2020میں اس کی ترقی