تازہ ترین

انسان کی خوشی قناعت میں پوشیدہ

آج کل کے مادی دور میں انسان کی خواہشات بڑھتی چلی جا رہی ہے جسکی وجہ سے اکثر لوگ اپنی زندگی کے ساتھ مطمئن نہیں ہے۔ کہتے ہیں کہ انسان کی ضرورتوں کی حد ممکن ہے لیکن اُسکی خواہشوں کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ انسان جتنی اپنی خواہشات پوری کرتا ہے اتنی ہی اُسکی لالچ بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ لہٰذا جو انسان اپنے رب کی عطا کردہ نعمتوں کے ساتھ مطمئن ہونے کے بجائے اپنی خواہشات کو پورا کرنے کو ہی اپنی زندگی کا مقصد سمجھتا ہے، وہ انسان کبھی بھی اپنی زندگی میں مطمئن نہیں رہتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ اپنی زندگی سے ناخوش ہیں۔ زیادہ سے زیادہ کی چاہ میں رہنا انسان کی ایک بنیادی خصلت ہے۔ اگر ہمارے پاس ضرورت کے مطابق ایک گاڑی ہوتی ہے تو ہماری یہ خصلت ہمیں اُس سے بھی اچھی گاڑی خریدنے پر مجبور کرتی ہے۔ اگر ہمارے پاس رہنے کے لیے ایک عام سا مکان ہے تو ہم چاہتےہیں کہ ہمیں رہنے کے لئےاس سے بھی بہتر اور خو

اداریہ نگاری کیا ہوتی ہے؟

اخبار میں خبروں کے علاوہ اور بھی مواد شامل ہوتا ہے۔ جس میں اداریہ کی اہمیت اور افادیت مسلم ہے۔ اداریہ ’ مدیر‘ یا ’ اداریہ نویس ‘ کے اظہار خیال کو کہتے ہیں۔ یہ وہ صحافتی مقالہ ہے جس سے اخبار کی پالیسی ظاہر ہوتی ہے۔ اسے انگریزی میں Editorial یا Lead Editorial کہا جاتا ہے ۔اداریہ کو مقالہ افتتاحیہ بھی کہتے ہیں۔ جس صفحہ پر اداریہ شائع ہوتا ہے اسے ادارتی صفحہ کہا جاتا ہے۔ صحافتی اصطلاح میں اداریہ سے مراد وہ مضمون ہے جو اخبار یا رسالے کے ادارتی صفحہ پر اخبار کے نام کی تختی کے نیچے چھپتا ہے۔ اداریہ اس مضمون کو کہتے ہیں جو کسی ہنگامی موضوع پر لکھا گیا ہو اور جس میں قاری کی ایسی راہ پر ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے جو مضمون نگار کے خیال میں صحیح راہ ہے۔ اداریہ نویس قاری کو اپنے نقطہ نظر سے متفق کرنے کی کوشش کرتا ہے اور ایسی باتیں لکھتا ہے، جس سے قاری قائل ہوجائے اور موافق

ہمارےمعاشرے کا اجتماعی شعور؟

وحی یا الہام یا القاء یا کوئی بھی شعوری یا قلبی واردات ایک ایسا الٰہی ہتھیار ہے جو اذہان اور قلوب پہ ضرب لگاتا ہے۔ جسمانی نشو و نما اور تزئین کی طرف کم یا بالکل دھیان نہیں دیتی۔ بلکہ اس کے برعکس اپنی جھولی میں ایسے ایسے ترکش یا ایمونیشن رکھتے ہیں جن سے اجسام پر مجاہدوں اور ریاضت سے قدقن لگائی جاتی ہے۔ اور صوم و صبر اور قلتِ طعام و منام و کلام کی شدید ضربوں سے اجسام اور انسانی وجود میں ودیت حیوانی نفس کو نکیل دی جاتی ہے۔ یہ ایک اٹل بات ہے اور ہماری مذہبی روایت اور تہذیب کا حصہ رہی ہے۔ اللہ کے بر گزیدہ بندوں کے علاوہ بھی قرونِ اولیٰ میں عام انسانوں نے اپنے اجسام سےزیادہ اپنے وجود و شعور اور روح کا سامان کرنے کی فکر کی ہے۔ اور وہ اسی کم مائیگی اور کم نفسی کو آزادی سے تعبیر کرتے تھے۔  ہمارے دور کا ایک بڑا المیہ ذہنی یا شعوری غلامی ہے۔ جو خارج میں جسمانی قدغن سے زیادہ خطرناک ہے او

ہمیں کیا کرنا ہے اور ہم کیا کررہے ہیں؟

 ہم ظاہری آرائش و زیبائش پر حد سے زیادہ فوقیت دیتے ہیں ،جس کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی مطلوب ہے ۔زندگی کو سنوارنے کے لیے کیا کرنا ہوتا ہے یہ بہت کم خواتین جانتی ہیں۔ یہ بات اچھی طرح سے سمجھ لینا چاہئے کہ ہم  نہ صرف گھر اور معاشرہ کے ہر معاملے میں نہایت کار آمد ثابت ہوسکتی ہیںاور معاشرہ کےہر فرد کی مدد کرسکتی ہیں  بلکہ تاریخ بھی رقم کر سکتی ہیںتواسی لیے کہا گیا ہے :وجود زن سےہے تصویر کائنات میں رنگ ۔اگر نہیںتومیرے نزدیک یہ صنف نسواں کی توہین ہے۔ کیا ہم نے کبھی غور کیاہے کہ ہم جس صنف کو فقط حسن کی علامت سمجھ رہے ہیں اور دل رُبائی اور ستائشی القابات کے نا زیبا القابات سے نواز رہے ہیں تو کیا یہ عورت آپ کے لئے فقط ایک عورت ہی ہے؟ نہیں! یہ فقط عورت نہیں بلکہ اس کے ساتھ سے جڑے کئی مقدس رشتےہیں جو پاکیزگی کی مثال ہیں ۔عورت، اگر ماں ہے تو جنت، بیوی کے روپ میں راحت، بہن کی

تازہ ترین