تازہ ترین

علما، معاشرے کو اپنا دماغ تصور کرتے ہیں؟ | افراد کا مجموعہ بغیر دماغ کے کام نہیں کرسکتا

اگر علما معاشرے کا کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں توسب سے پہلےوہ خود کو معاشرے کا دماغ تصور کریں۔ ذرا غور کریں کہ سات براعظموں میں سے ایک بر اعظم کے ایک ملک کے ایک چھوٹے سے صحرائی شہر میں بیٹھا ایک غریب یتیم غیر حاکم شخص وسائل و طاقت کی عدم فراہمی کی باوجود یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں پوری دنیا کے لیے رحمت ہوں، بالفاظِ دیگر وہ پوری دنیا میں خیر پھیلانے اور برائی کو مٹانے کی ذمہ داری اپنے سر لے کر اس کی انجام دہی کے لیے متفکر اور تگ و دَو میں مصروف ہے، کون ہے وہ؟ احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم۔ اسی عظیم شخصیت نے العلماء ورثۃ الانبیاء کہہ کر اپنے بعد اسےمعاشرے کا دماغ بنایا ہے تو پھر ہم کیوں نہیں ان کی طرح سوچ سکتے؟ ہمیں ہر حال میں سوچنا ہوگا کیوں کہ جتنا غافل یہ دماغ ہوتا جائے گا اتنا ہی معاشرہ خراب ہوتا چلا جائے گا۔ غور کرنے کی بات ہے کہ نبیؐ نے اسے اپنا وارث بنایا، ہزاروں لاکھ

دُعا ہی سبیلِ واحد

   دعا،عاجزی،انکساری اور بے چارگی کے اظہار کو کہتے ہیں۔عبادت کی اصل روح اللہ تعالیٰ کے سامنے اس کی قدرت و اطاعت اور اپنی کم مائیگی و ذلت کا اظہار کرنا ہے۔انسان رحمِ مادر میں جب نطفہ کی شکل میں قرار پاتا ہے تو اس وقت سے ہی وہ حاجتوں اور ضرورتوں کا غلام بن جاتا ہے اور اس کی حاجتوں اور ضرورتوں کا یہ سلسلہ زندگی کے آخری سانس تک ختم نہیں ہوتا۔دنیا میں اگرچہ انسان کو اپنے ہی جیسے انسانوں سے سابقہ پڑ کر ان کی مدد کی ضرورت پڑتی ہے لیکن دنیا میں انسان کو سب سے بڑھ کر ضرورت اپنے خالقِ حقیقی کی ہوتی ہے،جو انسان کا سب سے زیادہ مشفق اور خیرخواہ ہوتا ہے۔جو ذات رگِ جان سے بھی زیادہ قریب ہو، اُسے چھوڑ کر کسی اور کے در کا فقیر بننا دانشمندی کا کام نہیں ہو سکتا۔انسان کبھی کبھار مسائل کے بھنور میں اس طرح پھنس جاتا ہے کہ اسے کوئی امید باقی نہیں رہتی،سب سہارے ٹوٹ جاتے ہیں،سارے وسائل جواب دیتے ہی

کامیابی کےلئے ہمت و حوصلہ اور ایمانداری کی ضرورت!

یہ ایک اہم اور توجہ طلب مسئلہ ہے کہ جہاں آج کل ہمارے نوجوان روز بروز کسی نہ کسی امتحان میں حصہ لیتے رہتے ہیںوہیں انہیں کہیں نہ کہیں انٹرویوز بھی دینے پڑتے ہیںاور بعض اوقات ان امتحانات یا انٹرویو میں ناکام ہونے کے بعد زبردست مایوسی کے شکار ہوجاتے ہیں ۔ میں انہیں سے مشورہ دیتا ہوں کہ مایوس نہ ہوجائیں بلکہ حوصلہ رکھیں کیونکہ مایوس ہونے سے یہ نوجوانیا تو کوئی انتہائی قدم اٹھاتے رہتے ہیںیا کسی نشہ کے استعمال کی طرف مائل ہوجاتے ہیں،جس سے ان نوجوانوں کاحوصلہ دن بہ دن کمزور ہوتا ہے اور وہ غلط کاموں میں لگ جاتے ہیںاور اس طرح ان کی زندگیاں بگڑ کر تباہ ہو جاتی ہیں۔جبکہ یہ بات اٹل ہےکہ ہمت ،عزم اور استقلال برقار رکھنے سے ہی کامیابی پیر چوم لیتی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو یہ زندگی امتحان ہی ہے، اس میں گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ نوجوانوںکی کسی امتحان یا کسی انٹرویومیں ناکامی کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے

وہ شمع کیا بجُھے جسے روشن خدا کرے

کسی بھی مذہب کے ماننے والوں کے لیے اس مذہب سے جڑی ہر ایک بات بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ بھارت ایک سکیولر ملک ہے، جہاں ہر ایک مذہب یکساں اہمیت کا حامل ہے اور یہی سبب ہے کہ سبھی مذہبوں کے ماننے والے لوگ اتحاد و اتفاق سے صدیوں سے رہتے آئے ہیں لیکن بات تب بگڑتی ہے ،جب کوئی شر پسند اور ذلیل انسان کسی مذہب کے تئیں نازیبا الفاظ یا حرکت عمل میں لاتا ہے ،جس سے اس مذہب کے ماننے والوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں اور کبھی کبھی خدا نخواستہ امن وامان میں بھی خلل آ جاتا ہے ۔یہ بات قابل مذمت ہے ،چاہئے کسی بھی مذہب کو نشانہ کیوں نہ بنایا جائے ۔اسلام کی بات کریں تو اس کے ماننے والوں کے لیے اللہ رب العزت، اللہ کے پیارے اور آخری رسول حضرت محمد صلی الله عليه وسلم، قرآنِ کریم، صحابہ غرض اسلام سے جڑی ہر کوئی شخصیت اور شے معتبر اور مقدس ہے ۔لیکن بے حد افسوس اور شرم ناک بات ہے کہ آج تک چند اسلام دشمن او

بہترین اُمیدوار کا انتخاب کیسے کیا جائے!

اپنے نئے کاروبار میں خالی اسامیوں کو پُر کرنے کے لیے قابل لوگوں کی تلاش مشکل ہوسکتی ہے اور آپ صرف بہترین کے خواہاں ہوتے ہیں۔ یہ یقیناً ایک اہم مرحلہ ہوتا ہے کیونکہ کسی بھی کام کو کرنے کے لیے اگر درست شخص کا انتخاب ہوجائے تو کاروبار کو اس کا فائدہ ہوتا ہے۔ مختلف کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو آفیسرز اس حوالے سے کچھ مشورے دیتے ہیں کیونکہ وہ ملازمت کے لیے ان گنت امیدواروں کے انٹرویوز کرنے کے باعث مختلف طریقے سیکھ چکے ہوتے ہیں کہ امیدواروں کو کیسے جانچا جائے اور وہ ٹیم کے ساتھ کس طرح کام کریں گے۔ زیادہ تخلیقی اور مؤثر امیدوار کی خدمات حاصل کرنے کے لیے ان حکمت عملیوں کو جانیں جو بہتر امیدوار کی تلاش میں مدد کریں۔ عام انٹرویو سے گریز کریں :  ملازمت کے لیے ایک عام انٹرویو میں پوچھے جانے والے معمول کے سوالات عموماً ہر انٹرویو میں کیے جاتے ہیں جیسے کہ آپ اگلے 5سال میں خود کو کہاں دیکھ

کیا ہم چوتھے صنعتی انقلاب کیلئے تیار ہیں ؟

گزشتہ صدی کے اوائل میں زندگی بہت سادہ تھی۔ اس وقت کے جدید اور خوش حال گھرانوں میں مرفی یا فلپس کا گراموفون ہوا کرتا تھا، جس پر ماسٹرز وائس (ایچ ایم وی) کے ریکارڈ سُنے جاتے تھے۔ بھاپ کے انجن سے چلنے والی ٹرینیں سفر کا عام ذریعہ ہوا کرتی تھیں۔ بستیاں بجلی سے محروم تھیں۔ نصف صدی قبل تک سڑکوں پر اِکّا دُکّا کاریں اور موٹر سائیکلیں نظر آتی تھیں۔ تار، تیز ترین ذریعۂ پیغام رسانی ہوا کرتا تھا۔ 21ویں صدی شروع ہوتے ہی ٹیکنالوجی میں تیزی سے ترقی دیکھنے میں آئی۔ کمپیوٹر نے دنیا بھر میں دھوم مچا دی اور انسانی زندگی کے ہر شعبے پر چھا گیا۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس وقت ہم ٹیکنالوجی کے ایک نئے انقلاب کے دہانے پر کھڑے ہیں، جو ہمارے معیارِ زندگی، تصورِ خودی، ثقافت، معیشت اور سیاست سمیت زندگی کے ہر پہلو کو بدل رہا ہے۔ معیشت کی زبان میں ہم چوتھے صنعتی انقلاب میں داخل ہوچکے ہیں۔ پہلا صنعتی ان

تازہ ترین