جہاںعدل و انصاف | وہاں سکون و عافیت

یہ حقیقت ہے کہ ہمارا ملک ہندوستان صدیوں سے امن و اتحا داورفرقہ وارانہ ہم آہنگی کا گہوارہ رہا ہے، صوفی سنتوں کی آماجگاہ رہا ہے اور گنگا جمنی تہذیب کا سنگم رہا ہے ۔جہاں مختلف مذ اہب کے ماننے والے ساتھ ساتھ رہتے تو وہیں ایک دوسرے کے خوشی و غم میں برابر کے شریک ہوتے آئے ہیں مگر افسوس کہ نفرت اور ایک دوسرے کو برداشت نہ کرنے کی خطرناک و افسوسناک روش نے سب کچھ بدل کررکھ دیا ہے۔ چنانچہ اب پچھلے کچھ عرصہ سے ملک بھرمیں کبھی مذہب کی بنیادپر موب لنچگ ہوتی ہے تو کبھی نعروں کی تکرار ہوتی ہے ،جب نفرت میں اندھے ہوکرجھنڈ کی شکل میں کچھ لوگ کسی نہتے اوربے گناہ انسان کو پکڑ لیتے ہیں تو اسے مختلف طریقوں سے مجبور کرتے ہیں اور ایسا بھی مرحلہ آیا ہے کہ اسے پیٹ پیٹ کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے، اس طرح کے واقعات ہندوستان کے ماتھے پر کلنک اور بدنما داغ ہیں ۔ایسا لگتا ہے کہ سرکاری مشینری نہ صرف اسے شہہ دے

ماسک۔۔۔

کیا زمانہ تھا وہ جب لوگ مفلس تھے لیکن مخلص تھے ۔ اگر چہ وسائل کم‌ اور کچے تھے پر لوگ من کے سچے تھے۔ماحول صاف ستھرا اور پاک تھا ۔نہ دل میں بغض تھا اور نہ ہی دماغ میں شیطانی طرز کا ادراک ۔لوگ خود ایک دوسرے کے خیرخواہ تھے اور قدرت ان پر مہربان ۔میں گھر میں اکثر اپنے والدین کے ساتھ بیٹھ کر ان کے زمانے کی باتیں سنتا رہتا ہوں ۔وہ سننے میں عجیب لگتی ہیں پر اچھی لگتی ہیں ۔ایک دن کووڈ کے خطرات کو مدنظر رکھ کر میں نے والد سے کہا :’’اباجان ماسک لگا کر باہر جایا کرو ‘‘کووڈ نے نہ جانے کتنی قیمتی جانیں تلف کی ہیں ؟ اباجان نے تلخ انداز میں کہا : ’’میں نے ایسا کوئی گناہ نہیں کیا ہے،نہ کسی کی عزت و عفت پر ہاتھ مارا ہے اور نہ ہی کوئی چوری کی ہے،نہ میرے منہ سے شراب کی بدبو آتی ہے اور نہ ہی میں نے کسی کا حق مارا ہےجو میں منہ چھپا کے چلوں ۔‘‘ می

حقوق انسانی کا عالمی منشور | اسلام کے عطا کردہ بنیادی حقوق

انسانی حقوق کا متفقہ منشور (United Declaration of Human Rights) اقوام امتحدہ کی تصدیق شدہ دستاویز اورقرارداد ہے جو 10دسمبر1948ء کو پیرس کے مقام پر منظور کی گئی۔ اس قرار داد کے دنیا بھر میںتقریباً 375 زبانوں اور لہجوں میںتراجم شائع کئے جاچکے ہیں جس کی بنیاد پر اس دستاویز کو دنیا بھر میں سب سے زیادہ تراجم کی حامل دستاویز کا اعزاز حاصل ہے۔ یہ قرار داد دوسری عالی جنگ عظیم کے فوراً بعد منظر عام پر آیا جس کی رو سے دنیا بھر میں پہلی بار ان تمام انسانی حقوق کے بارے میں اتفاق رائے پیدا کیا گیا جو ہر انسان کا بنیادی حق ہے اور بلا امتیاز ہر انسان کو فراہم کئے جانے چاہئے۔ اس قرار داد میں کل30 شقیں شامل کی گئی ہیں جو تمام بین الاقوامی معاہدوں ، علاقائی انسانی حقوق کے علاوہ  قومی دستوروں اورقوانین سے اخذ کی گئی ہیں۔  محترم قائین! راقم کی تحریر کے دو حصہ ہیں۔ پہلا ’’حقوق ان

طلبا میں کون سی خصوصیات ہونی چاہئے؟

حصولِ تعلیم کے دوران اچھا پڑھنے کے ساتھ ساتھ مختلف تکنیک سیکھنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے، اسی لیے اساتذہ کرام کو چاہیے کہ اپنے طلبا کو ایسی بنیادی صلاحیتیں بھی سکھائیں جن کا انھیں پیشہ ورانہ زندگی میں فائدہ ہو۔ دیکھا جائے تو ہمارا بنیادی طرزِ تدریس ابھی بھی پرائمری سطح پر طالب علموں کے توجہ دینے اور یاد رکھنے کی مہارت پر منحصر ہے۔  تاہم، مستقبل میں ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو روایتی صلاحیتوں کے حامل ہونے کے ساتھ ساتھ اختراعی ، موافقت پذیر، فوری سیکھنے والے اور اپنی راہ خود تلاش کرنے والے ہوں۔ آج کے طلباکو اپنے اساتذہ سے بہت زیادہ توقعات ہیں۔ بطور استاد اگر آپ اپنے طلبا کو مستقبل کے لیے تیار کرنا چاہتے ہیں تو کچھ مہارتیں ایسی ہیں جو اس حوالے سے معاون ہیں۔ کمیونیکیشن یا ابلاغ :ہمارے پاس وسیع پیمانے پر ابلاغ کے ذرائع موجودہیں۔ ایک ذاتی خط لکھنے سے لےکر ذاتی بیان لکھنے یا پھر سوشل

آج بھی علم کی ضرورت ہے!

 زندگی میں ہر جگہ علم کی ضرورت ہے۔ کوئی بھی کام ہو، علم کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ہے۔ دنیا کی مذہبی اور غیر مذہبی کتب میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ عالم ایک اعلیٰ پایہ کا انسان ہوتا ہے۔ علم کی بہت سارے تاویلات ہیں، مگر بنیادی طور پر علم کا مطلب جاننے کے ہیں۔ اسلام میں بھی علم کی فضیلت پر زور دیا ہے ۔ انبیاء کرام میراث میں مال اور دولت چھوڑ نہیں چھوڑتے ہیں بلکہ وہ علم لوگوں کے لئے  چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ ایک عالم کی فضیلت ایک عابد پر بہت زیادہ ہے۔ شہید کا خون اور ایک عالم کی قلم کی سیاحی قیامت کے دن برابر ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ علم کتناضروری ہے۔         مگر آج کے زمانے میں زیادہ تر لوگ علم کے نام پر جہالت سیکھتے ہیں۔ جیسا کہ پہلے کہا گیا کہ علم کا بنیادی مقصد ہے کہ لوگ اپنے آپ کو پہچانیںاور جس سماج میں وہ رہتے ہیں اس کو بھی جانیں۔

تربیت ِ اولاد کی اہمیت اور ہماری ذمہ داری

اسلام دنیا کا ایسا واحد مذہب ہے جو اپنے ماننے والوں کو ایک دقیقہ کے لیے بھی تنہا نہیں چھوڑتا ، اسلام مسلمانوں کو جہاں ایک طرف فرائض و واجبات اور سنن و مستحبات کی ادائیگی پر ابھارتا ہے تو وہیں نوع بنی آدم کے ہر شعبہ حیات میں بھی مکمل طور سے رہنمائی کرتا ہوا نظر آتا ہے، اگر ہم اولاد کی بات کریں تو ہر انسان کی اللہ تبارک و تعالی کی بارگاہ میں یہی دعا ہوتی ہے کہ اللہ تعالی اسے نیک صالح اولاد عطا فرمائے جو کہ زوجین کی زندگیوں کو خوشیوں سے بھر دے اور مستقبل میں ان کے بڑھاپے کا سہارا بنے، بلاشبہ ہر والدین اپنے بچوں کو اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں ، خود تو فاقہ کشی کی صعوبتیں جھیل لیتے ہیں ، خود تو پھٹے پرانے کپڑوں پر اکتفا کر لیتے ہیں، لیکن اپنے لعل کے لیے اچھے سے اچھا کھانا اور مناسب کپڑوں کا انتظام کرتے ہیں اور پوری دنیا کے والدین کا یہی حال ہے گویا کہ یہ ایک فطری چیز ہے جسے من جانب ا

عوام کب تک پیاس سے نڈھال رہے ؟

جموںو کشمیر کے سرحدی ضلع پونچھ کے سب ڈویژن مینڈھر میں سرکار کے کروڑوں روپے کی لاگت سے تکمیل کیئے گئے محکمہ جل شکتی کی زیرِ نگرانی لگائے گئے پروجیکٹوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے ۔جن میں سے انتظامیہ کی نظروں کے سامنے والی لفٹ اسکیمیں ضرور کام کر رہی ہیں لیکن آنکھوں اور پہاڑ سے اوجھل دور دراز دیہاتی علاقوں میں کئی اسکیمیں فعال نہیں ہیں۔ سب ڈویژن مینڈھر میں محکمہ جل شکتی کی ناقص کاکردگی کی وجہ سے پسماندہ اور سرحدی علاقوں کی عوام صاف پینے کے پانی کی سہولیات سے محروم ہیں جس کی وجہ سے علاقہ کی عوام کو عالمی وبائی مرض کویڈ۔19 کے دوران بھی کئی کلو میٹر دور کا سفر طے کرکے چشموں سے پانی لانا پڑتا ہے۔واضح رہے اس سرحدی اور پسماندہ علاقہ کے اندرصاف پانی کے چشمے کم تعداد میں موجود ہیںاور ان کے علاوہ علاقہ جات کے اندر ہینڈ پمپ کی سہولیات بھی انتظامیہ کی جانب سے مہیانہیں کروائی گئی ہیں ۔تاحال جہاں ہینڈ پ

تازہ ترین