تازہ ترین

زرعی قوانین منسوخ لیکن کسان غیر مطمئن

         مرکز ی حکومت نے گزشتہ سال ستمبر میں جس طرح جلدبازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں تین زرعی قوانین کو منظور کیا تھا، اب اَس سال اُسی طرح ان زرعی قوانین سے دستبرداری کا بِل پارلیمنٹ میں پیش کرتے ہوئے منظور کرلیا۔ وزیراعظم نریندرمودی نے گرونانک جینتی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے اس بات کا اعلان کیا تھا کہ ان کی حکومت تین زرعی قوانین کو واپس لینے کا اعلان کرتی ہے۔ انہوں نے اپنی تقریر میں ملک کے کسانوں سے معذرت خواہی کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حکومت ان قوانین کے مثبت پہلوؤں کو کسانوں کے سامنے واضح کرنے میں ناکام ہو گئی ۔ اس لئے کسانوں کے مطالبہ کو قبول کرتے ہوئے ان قوانین کو بہت جلد منسوخ کردیا جائے گا۔ وزیراعظم کی اس یقین دہانی سے ملک کے کسانوں نے خوشی تو ظاہر کی کیا لیکن تا حال اطمینان کا اظہار نہیں کیا  ہے، جب کہ پارلیمنٹ میں بھی ان متنازعہ قوانین کی تن

پاکستان۔کیا پھر حکومت تبدیل ہوگی؟

پاکستان کے حالیہ حالات اس بات کی جانب اشارہ کررہے ہیں کہ وہاں جلد ہی حکومت تبدیل ہوسکتی ہے اور ایک مرتبہ پھر یا تو فوج یا پھر اس کا کوئی معتبر فرد پاکستان حکومت کی کمان سنبھال سکتا ہے۔ حالیہ عرصے میں پاکستان میں دو ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں جن کا اثر پاکستانی سیاست اور جمہوریت پر کافی دور رس ہوسکتا ہے۔ گزشتہ ہفتے ایک پاکستانی نیوز ویب سائٹ فیکٹ فوکس نے ایک آڈیو کلپ اپنی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیا جس میں پاکستان کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار احتساب بیورو کے ایک جج سے یہ کہہ رہے تھے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم کو جیل میں بند رہنے دیا جائے۔ دوسرا واقعہ بھی تقریباً دس -پندرہ دن پرانا ہے اور اس میں پاکستانی حکومت نے ایک نوٹیفیکشن کے ذریعہ ممنوعہ مذہبی تنظیم تحریک لبیک پاکستان یعنی TLPکو ممنوع تنظیموں کی فہرست سے ہٹا دیا ہے۔ پہلے بات کرتے ہیں نواز شریف کی۔ گزشتہ ایک دو

زمین کی اتھاہ گہرائی میں کیا ہے؟ | آ گ ہی آ گ یا گرم آبی محلول !

زمین اپنی جز ترکیبی کے حوا لے سے اوپر سے نیچے تک ایک جیسی نہیں ہے اور نہ ہی نیچے سے اوپر تک یہ ایک ہی کرہ (Sphere) یا تہہ (Layer) پر مشتمل ہے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ زمین کئی کروں پر مشتمل ہے پھر یہ کہ زمین کا سینٹر ’’مرکز‘‘ مائع تا نیم مائع حالت میں تبدیل ہوتا رہتا ہے۔  اس اہم سائنسی حقیقت تک پہنچنے و الا ’’اٹلی‘‘ کا رہنے و الا دنیا کا ایک عظیم سائنس دان ’’حکیم میثاغورث‘‘ تھا ،جس نے پہلی مرتبہ سائنسی شاہوں اور شواہد سے اس پوشیدہ حقیقت کا اظہار اس وقت کیا جب اس نے اٹلی کی سرزمین پر نپلز (Naples) کے نزدیک ویسوئیس (Vesuvius) نامی آتش فشاں کے ذریعہ زمین کے اندر سے آنے والے محاصل (Products) کا بغور مشاہدہ اور تجزیہ کیا اور ساتھ ہی فلک سے گرنے والے ’’شہاب ثاقب‘‘ سے پیدا ہونے والے گڑھوں

کورونا کی نئی قسم۔ اومیکرون ! | کیا کورونا سے زیادہ متعدی ہے؟

جنوبی افریقہ کے سائنسدانوں کی جانب سے جاری تحقیق میں بتایا گیا کہ ڈیٹا سے عندیہ ملتا ہے کہ کورونا کی یہ نئی قسم بیماری کے خلاف جسم میں پیدا ہونے والی مدافعت کے خلاف کسی حد تک حملہ آور ہوسکتی ہے۔درحقیقت محققین نے جنوبی افریقہ میں ایسے افراد کی تعداد میں اضافے کو دیکھا ہے جو دوسری یا اس سے زیادہ بار کووڈ 19 سے متاثر ہوئے ہیں۔یہ ایک ابتدائی تجزیہ ہے اور حتمی نہیں، مگر اومیکرون کے اسپائیک پروٹین میں ہونے والی میوٹیشنز کے حوالے سے پائے جانے والے خدشات سے مطابقت رکھتا ہے۔ ابھی یہ بھی واضح نہیں کہ ویکسینز سے کووڈ 19 سے ملنے والے تحفظ کے حوالے سے یہ ڈیٹا کس حد تک کارآمد ہے۔ جنوبی افریقہ نے ہی کورونا کی اس نئی قسم کو سب سے پہلے رپورٹ کیا تھا اور دنیا بھر کے ماہرین اس کے حقیقی خطرے کو سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں۔اب اومیکرون کے حوالے سے پہلی تحقیق کے نتائج سامنے آئے ہیں جس کے مطابق جو افر

بڑی عمر کے افراداور ورزش کی اہمیت

اکثر اوقات صرف نوجوان افراد ہی جم جانے کو ضروری سمجھتے ہیں اور جیسے ہی لوگ بڑی عمر کے ہونے لگتے ہیں انھیں اپنی فٹنس کی فکر ختم ہوجاتی ہے اور وہ ورزش ترک کردیتے ہیں۔ حالاں کہ حقیقت یہی ہے کہ60سال کی عمر میں بھی ورزش کرنے سے بہت فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ ایک بین الاقوامی جامعہ کے تحقیقی معالعہ سے معلوم ہوا ہے کہ بڑھاپے میں بھی جِم جا کر مسلز بنائے جاسکتے ہیں۔ اس سوچ کو صحیح ثابت کرنے کے لیے یونیورسٹی کی ایک ٹیم نے مردوں کے مسلز بنانے کی صلاحیت کا موازنہ کیا۔ انھوں نے 60 سال سے زائد عمر کےافراد کو دو گروپوں میں تقسیم کیا۔ ایک گروپ میں 60سال سے زائد عمر کے وہ افرادتھے جو20سال سے مستقل ہفتے میں کم سے کم دو بار ورزش کرتے تھے اور دوسرے گروپ میں وہ لوگ شامل تھے جو ورزش کرنے کا مستقل کوئی معمول نہیں رکھتے تھے۔ ورزش اور خصوصاً ویٹ لفٹنگ (وزن اٹھانا) کا تربیتی سیشن کروانے سے 48گھنٹے قبل شرک

تازہ ترین