مقبول ویرے ۔۔۔ شخصیت اور شاعری

افلاطون نے اپنی مثالی ریاست سے شعراء کا جِلا وطن کیا جانا لازمی سمجھا تھا کیونکہ اُن کی نظر میں شعر گوئی کی بنیاد ہی جذباتیت اور حد سے تجاوز کرنے والے تخیل پر ہوا کرتی ہے حالانکہ وہ ’’مقدس دیوانگی‘‘ کے شکار ان لوگوں کو کبھی بھی بُرا سمجھتے اور کہتے نہیں تھے کیونکہ وہ خود بھی طبعاً ایک بیحد خوش بیان اور خوش مزاج انسان تھے۔ اُنکی نگارشات میں شعراء کے خلاف فتویٰ کے باوجود ایک زبردست ادبی چاشنی بھی ملتی ہے جبکہ شعراء کی جلا وطنی کے خلاف دلائل دینے والے ارسطو کی نگارشات میں نمایاں طور پر ایک خشکی سی نظر آتی ہے۔ لیکن ہر شاعر تو بہرحال حقیقی زندگی کی ترجمانی کے بجائے فرضی اور تخیلاتی باتوں کو ہی پیش نہیں کرتا بلکہ اپنے اسلوبِ بیان کو پُرتا ثیر بنانے کی حد تک ہی کسی قدر راست بیانی سے انحراف کرتا ہے۔ہمارے مرحوم مقبول ویرےؔ بھی کچھ اسی قسم کے شاعر تھے جو طلسماتی دُنیا می

تازہ ترین