تازہ ترین

سیکولر پارٹیاں، موہوم اُمیدیں اورہندوستانی مسلمان

      مسلمانوں کے خلاف ہندو منافر تنظیموںکی موشگافیاں تو آزادی کے قبل ہی شروع ہو چکی تھیں اور مسلمانوں کا ایک حلقہ آزاد ہندوستان میں اپنے مستقبل کو لیکر اندیشوں میں مبتلا ہوتا جا رہا تھا ۔مسلم لیگ نے اس صورتِ حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک کی تقسیم کی مانگ شروع کی اور آزاد ہندوستان میں مسلمانوں کے مستقبل کو غیر یقینی بتانے میں  مصروف رہے۔ کچھ مسلمانوں نے مسلم لیگ کی حمایت کی اور تقسیم ِہندکے بعد پاکستان ہجرت کر گئے۔ لیکن مسلمانوں کی اکثریت نے اپنے وطن عزیز کی مٹی سے جدا ہونا گوارہ نہ کیا۔وہ صدیوں سے ایک ساتھ رہتے آئے تھے،بھلے ہی عبادت کے طریقے الگ ہوں لیکن انکی تہذیب مشترک تھی۔ زبان، لباس اور رسومات میں یکسانیت تھی۔خوشیوںاور غموں میں ایک ساتھ تھے ۔لیکن آزادی کے بعد بتدریج بدلتے حالات نے ثابت کیا کہ تقسیم کی بنیادکے اندیشے بالکل ہی بے بنیاد نہ تھے۔ اگرچہ ہندوستان

محکمۂ بجلی کے عارضی ملازمین

       ہم سب اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ موسم سرما شروع ہوتے ہی جموں و کشمیر بالخصوص وادی کے لوگوں کو گونا گوں مشکلات سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ جن میں ایک اہم مشکل بجلی کی عدم فراہمی ہے۔ظاہر ہے جونہی وادی کے اطراف واکناف میں باری برفباری ہوجاتی ہے تو جہاں مختلف علاقوں کے لئے عبور و مرور کا سلسلہ مسدود ہوکر رہ جاتا ہے تو وہیںبرف باری سے مختلف دور درا ز اور دشوار گزار علاقوں میں بجلی کے کھنبے گرنے ،ترسیلی لائنیںٹوٹنےاور نصب شدہ بجلی ٹرانسفارمرز خراب ہوجانے سے بجلی سپلائی کا نظام درہم برہم ہوجاتا ہےاور صارفین بجلی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ موجودہ اکیسویں صدی میں بجلی انسانی زندگی کی سب سے بڑی ضرورت بن کر رہ گئی ہے اور اس کے بغیر زندگی کا نظام ٹھپ ہوکر رہ جاتا ہے۔چنانچہ اس صورت ِ حال کو پیش ِ نظر محکمہ بجلی، صارفین کے لئے بجلی سپلائی بحال رکھنے میں ہمہ جہت کام میں ل

دعا ہی سبیل ِ واحد | دعا۔درحقیقت ترک ِ گناہ کا نام ہے

سابق اقوام بھی جب غیر اللہ کو پُکارنے کی روش اختیار کرنے لگے اور آخرت کے حوالے سے شفاعت کا غلط تصور لئے ہوئے ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھنے لگے تو اللہ تعالیٰ کا تازیانہ حرکت میں آنے لگا اور ان کی جڑ کاٹ دی گئی۔کائنات میں جو بھی چیز قائم کردہ حدود کو پھلانگتے ہوئے تجاوز اختیار کر لیتی ہے تو عین وقت اسے تباہی و بربادی سے کوئی بچا بھی نہیں پاتا اور بالآخر اُسے چوٹ کھانی ہی پڑتی ہے۔قرآنِ پاک میں ذیل کی آیتِ مبارکہ سے پہلے اللہ تعالیٰ مختلف ظالم قوموں کا تذکرہ کرتے ہیں تاکہ آنے والے لوگ عبرت پکڑ کر اپنی نجات کا راستہ لیں۔وہ معبودانِ باطل پر بھروسہ کر کے اپنا سارا وجود اور اپنے سارے معاملات ان کے حوالے کر چکے تھے لیکن بحکمِ خدا جب عذاب اپنی اصلی شکل میں رونما ہوا تو یہ خود ساختہ معبود ان کے کچھ کام نہ آسکیں بلکہ انہوں نے ان کی بربادی میں مزید اضافہ کر دیا۔اللہ تعالیٰ اس حقیقت کی نشاندہی ان

کشمیریوں کو بجلی کےبحران سے نجات ملے گی؟

ہم بچپن سے یہ بات سُنتے آرہے ہیں کہ انسان کوزندگی گزارنے کے لئے روٹی ،کپڑا اور مکان کی ضرورت ہوتی ہےمگر جُوں جُوں ہماری عمر بڑھتی گئی اور جوانی میں قدم رکھا، توآہستہ آہستہ اُ ن باتوں کا احساس ہونے لگا کہ روٹی ،کپڑے اور مکان کے علاوہ بھی بہت ساری ایسی چیزیں ہیں جوزندگی گذارنے کے لئے ضروری ہیں ،جن کے بغیر انسانی زندگی ناپائیدار ہے۔خاص طور پر موجودہ جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کے دور میںکیا محض اُنہی چیزوں پر زندگی گذاری جاسکتی ہے جن کا نام ہم بچپن سے سُنتے چلے آرہے ہیں۔قطع نظر اس کے کہ ہم اس مضمون میں ضروریات زندگی کی اُن تمام چیزوں پر بات کرسکیں،جو انسانی  زندگی میں اہمیت کی حامل ہیں۔ہم یہاں صرف موجودہ دور میں درکار دو اہم چیزوں پر ہی بات کرلیں تو بخوبی اندازہ ہوجائے گا کہ کیا واقعی روٹی کپڑے اور مکان کی موجودگی میں ہماری زندگی کا گزر بسر ہوسکتا ہے؟ جبکہ زندگی کا نظام چلانے کے لئے

سبزیوں کی کاشت کیجئے | اپنی آمدنی کو بڑھاوا دیجئے

آجکل کشمیر کے سیب مالکان، تاجر اور کاشت کار پریشان ہیں کہ بھارت کی میوہ منڈیوں میں ایرانی سیبوں کی وافر مقدار میں در آمد سے کشمیری سیبوں کا مستقبل اب خطرے میں پڑگیا ہے۔ یہاں کے سیب مالکان اور کولڈ اسٹور مالکان کہہ رہے ہیں کہ انہیں یا تو قیمت کم مل رہی ہے یا پھر مانگ ہی نہیں ہے۔ابھی صرف ایک ملک کے سیب نے یہاں کی میوہ صنعت کو ہلا دیا، اگر دیکھا جائے گزشتہ ایک دہائی سے میوہ صنعت میں کوئی نہ کوئی پریشانی ہوتی آرہی ہے۔ ناشپاتی، چری، خوبانی میں ہر سال بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے، ایسے میں ضرورت ہے کہ کشمیر سے وابستہ کسان کچھ دوسرے اوپشنز(متبادلات) پر غور کریں۔ ایک بہترین اوپشن میوہ سے سبزی کی طرف رخ کرنے کی ضرورت ہے۔ سبزی کا لوکل(مقامی) مارکیٹ کافی وسیع ہے اورسبزیاں دیگر ریاستوں میں بھی بیچی جا سکتی ہیں۔ سبزیاں ہر گھر کی ضرورت ہے اور ہر گھر میں استعمال ہوتی ہیں، اس کے برعکس میوہ ہر گھر م

کچھ توذہنی سکون کا بھی خیال کریں

ہم انسانوں کو غار میں رہنے والے اپنے اُن آباو اجداد پر ترس آتا ہے جن کے پاس سمارٹ فون تھا نہ لیپ ٹاپ۔ ایک دوسرے کے ساتھ کوئی رابطہ ہی نہ تھا۔بندے شکار کرنے نکلتے ،واپسی میں کوئی گم ہی ہوجاتا، پتہ ہی نہیں چلتا کہ کس گڑھے میں گر کے مر گیا ہے۔ آج کا انسان ...Connectedہے،مطلب ہر وقت رابطے میں رہتا ہے ،ٹیکنالوجی کی مدد سے۔ پہلے زمانے میں لوگ ایک دوسرے کو خط لکھا کرتے تھے۔ محبت کرنے والے جب دوردراز کے شہروں میں اپنے شریکِ حیات کو خط لکھتے ،تو سسرال کی تلخ باتوں کو پی جایا کرتے۔ وقت گزرنے کے ساتھ تار والے فون آئے، پھر دنیا کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک انٹرنیٹ کی تار بچھا دی گئی۔سٹیلائٹ کے ذریعے لوگ ہر لمحہ رابطے میں رہنے لگےاور پھرموبائل فون آیا ، واٹس ایپ آئی اور فیس بک، گویا دنیا ہی بدل گئی۔ اب شوہر دفتر میں کام کر رہا ہوتاہے کہ بیوی کا پیغام ملتا ہے:میں تمہاری ماں کے ساتھ گزارا

یوم جمہوریہ اور مقام ِتفکر

   لمبے عرصے تک ہم گوروں سے بر سر پیکار رہے، پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ برادران وطن بھی ساتھ آتے گئے اور قافلہ بڑھتا گیا۔ پھر کیا ہونا تھا ،جب انگریزوں نے ہمارے اتفاق کو دیکھا تو انہوں نے بہ خوبی سمجھ لیا کہ اب ہمیں بھارت کو چھوڑ نا ہوگا، اور اگر راج برقرار رکھنا ہے تو ان ہندوستانیوں کے مابین دھرم اور مذہب کی بنیاد پر پھوٹ ڈالنا ہوگا۔ بعد ازاں انگریزوں نے پھوٹ ڈالنے کی بہت کوششیں کیں، کچھ ہم وطن لوگ اس دام فریب میں پھنس کر عام لوگوں کو برانگیختہ کرنے کی کوشش کرنے لگے لیکن ہاتھ کیا لگا، بدنامی، غداری، ایمان فروشی اور گوروں کا چاپلوسی اور بھی اسی طرح کے بہت سے الفاظ جمیلہ ،جو ان جیسے لوگوں کے اوصاف قبیحہ کو واضح اور ظاہر کرتے ہیں۔ جب انگریزوں نے اچھی طرح بھانپ لیا کہ یہ فریب کے جال میں پڑنے والے نہیں ہیں تو ایک دوسرا شوشہ چھوڑا کہ دو مختلف قومیں ایک ساتھ گذر بسر نہیں کر سکتی ہ

سوشل میڈیا کا بے جا استعمال | خدا گنجے کو ناخُن نہ دے !

  بنی آدم کے ارتقائی سفر میں جن بیش بہا نعمتوں نے ترقی کی رفتار کو تیز کر دیا ان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی قابلِ ذکر ہے۔ موجودہ دور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے عروج کا دور ہے جس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا ہی عمل دخل لگ بھگ ہر شعبے میں ملتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دورِ رفتہ میں کسی شخص کے تعلیم یافتہ ہونے کی دلیل اُس کی تعلیمی اسناد کے ساتھ ساتھ اس کی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی سوجھ بوجھ میں مضمر مانی جاتی ہے۔ عام الفاظ میں کہیں تو کمپیوٹر کی جانکاری کے بغیر اونچی تعلیم حاصل کرنے والا شخص بھی انپڑ ھ تصور کیا جاتا ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی یا اطلاعاتی تکنالوجی میں ہر وہ چیز شامل ہے جس کے ذریعے ایک انسان  مختلف طرز کی معلومات  یعنی عکسِ ساکن ( تصویر)، عکسِ متحرک (ویڈیو) ، یا معلوماتِ تحریری کی تخلیق، تبادلہ ، نقل یا زخیرہ گری کر سکتا ہے ۔ انفارمیشن ٹکنالوجی اصطلاح کا استعمال سب سے پہلے 1958

مسلم اتحاد کا نعرہ الیکشن پر ہی کیوں ؟ | اُمّت کے رہبروںکی ناکار ہ سوچ کا نتیجہ

اترپردیش میں انتخابی ماحول ہے صبح سے شام تک خوب تبصروں کی ہوا چلتی ہے اور اسی بیچ مسلمانوں کی زبان پر یہ لفظ بار بار آتا ہے کہ ہمارا کوئی قائد نہیں ہے، ہمارا کوئی سیاسی لیڈر نہیں ہے مگر کبھی بھی اس پہلو پر غور نہیں کیا جاتا ہے کہ کیا ہم کسی کو لیڈر تسلیم کرنے کے لئے تیار ہیں۔ جب بھی انتخابات آتے ہیں تو پسماندہ طبقات کو نظر انداز کیا جاتا ہے اور پسماندہ مسلمانوں کی شناخت کو چھپانے کی پوری پوری کوشش کی جاتی ہے اور مسلمانوں کے نام پر اتحاد کا نعرہ لگایا جاتا ہے جو ہوا ہوائی ثابت ہوتاہے اور مسلم قیادت منہ کے بل گرجاتی ہے۔ پھر پانچ سال تک رونا رویا جاتا ہے مگر پھر بھی ذہن میں یہ بات نہیں بٹھائی جاتی کہ حقیقت کو تسلیم کرلیا جائے اور یہ نعرہ لگایا جائے کہ دلت پچھڑے ایک سمان چاہے ہندو ہوں یا مسلمان۔ جس طرح ہندؤں میں برادریاں ہیں، اسی طرح مسلمانوں میں بھی برادریاں ہیں۔ فرق یہ ہے کہ ہندو

آف لائن تعلیم یا آن لائن تعلیم

تبدیلی ایک فِطری عمل ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ ہر ایک چيز میں بدلاؤ ایک قدرتی قانون ہے۔ زندگی کے سفر میں ہم کبھی اپنی مرضی سے اپنے عادات و اطوار بدلتے ہے تو کبھی زندگی کے حالات ہمیں اپنا طرزِ زندگی بدلنے پر مجبور کرتے ہیں۔ لہٰذا کامیاب شخص وہی ہے جو بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ خود کو اِن تبدیلیوں کے ساتھ آراستہ کرے۔ جيسا کہ ہم سب جانتے ہیں پچھلے دو ڈھائی سالوں سے کورونا وبا کا قہر ساری دنیا پر چھایا ہوا ہے، جس کا ہماری زندگی پر بہت گہرا اثر پڑا ہے اور ہماری زندگی کا ہر ایک پہلو اس وبا کی وجہ سے  بہت بُری طرح متاثر ہوا ہے۔ دیگر شعبہ جات کے ساتھ ساتھ اس وبا کی وجہ سے ہمارے سارے تعلیمی ادارے بند پڑے ہیں اور ہمارے طلباء گھروں میں بیٹھے ہیں۔ بد قسمتی کی بات تو یہ ہے کہ جیسے ہی اس مرض میں مبتلا مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگتا ہے تو ہماری وادی میں سب سے پہلے تعلیمی ادارے بند کئے جاتے ہیں۔

جان ہے تو جہاں ہے! | اومیکرون،علائم، احتیاط اور علاج

جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ کووڈ کے بعد ایک اور بیماری نے دنیا بھر میں ہلچل مچائی ہے جس کی وجہ سے تمام ممالک خوفزدہ ہیں اس بیماری کا نام ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے اومیکرون رکھا ہے چوبیس نومبر 2021میں اس وئیرینٹ کی پہچان ساوتھ افریقہ میں ہوئی اس بیماری میں بہت ساری تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں اور دنیا بھر میں اس بیماری کے مختلف موارد ہیں ۔کووڈ کی طرح بھی اس بیماری کےلئے ابھی ادویات دستیاب نہیں اور دنیا بھر کے سائنسدان اس بیماری کے وجوہات اور علائم کے بارے میں جانکاری حاصل کرنے کے خواہاں ہیں۔یہاں یہ امر قابل ِ ذکر ہےکہ اس بیماری سے بچنے کیلئے ہمیں عقل اور شعور سے کام لینا  ضروری ہے تاکہ کووِڈ کی طرح اس بیماری سے انسانی جانیں ضائع نہ ہوجائیں ،ہمیں بے شعور اور من گھڑت قصہ کہانیوں سے بھی دور رہنا چاہیے کیونکہ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ لوگ کووڈ کی طرح اس بیماری کو بھی مزاق سمجھتے ہیں ۔ایک

مثبت فکر کےمثبت نتائج ! | رازِ حیات جاننے کے لئے بااخلاق بن جائیں

امن کے مقابلہ میں جارحانہ فکر ایک منفی سوچ کے تحت ردعمل کا نتيجہ ہوتا ہے ۔جارحانہ سوچ انفرادی ہو یا اجتماعی اپنے آپ میں ایک قلیل ذہن کی مثال ہے۔ اسلام میں جارحانہ سوچ کی کوئی جگہ نہیں ،تمام دوسرے ممکنات و امکانات کو نظر انداز کرنے کا دوسرا اور آخری نام جارحانہ اقدام ہے۔ اگر آپ کے پاس علمی و قلمی صلاحيت نہیں تو آپ کا آخری ہتھيار یا تو جاہلانہ الفاظ ہے یا من مانی قسم کی دھاندلی۔ایک صاحب نے گفتگو کے دوران راقم الحروف سے کہا :اللہ تعالی کافروں کو نیست و نابود کریں ۔ میں نے مختصر الفاظ میں اس صاحب کو اعتراض جتایا کہ آپ جاہلانہ بولی بول رہے ہیں نہ کہ عالمانہ۔ میں نے کہا اگر ہم اپنی شجرہ نسب دیکھیں تو کچھ صدیوں پہلے ہمارےآباو اجداد کافر ہی تو تھے، یہ ہمارے اوپر اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہے کہ ہم تبليغ کے ذریعہ مسلمان ہوئے۔اُس وقت کے داعی اگر ہم جیسے مدعو کے بارے میں یہی رائے رکھتے کہ

بیٹیوں کے ہاتھ پیلے نہیں ہوجاتے ! | مسئلہ پیچیدہ کیوں ہوتا جارہا ہے ؟

ہمارے معاشرے کے بگاڑ کے بہت سارے اسباب ہیں، ان میں سے ایک اہم وجہ یہ ہے کہ دین کو ہم نے مسجدومدرسہ تک محدود کر دیا ہے،باقی زندگی کے سارے معاملات رسم و رواج کے بھینٹ چڑ گئے ہیں، پھر اس کے بعد اچھے نتائج کی توقع کرنا فضول اور عبث ہے۔جب کسی انسان کے آگے روشنی ہوتی ہے تو اسکا سایہ پیچھے ہوتا ہے اور جب روشنی پیچھے ہوتی ہے تو اسکا سایہ آگے ہوتا ہے۔دین روشنی اور دنیا سایہ ہے۔دین کو آگے ,رکھو گے تو دنیا خود بخود پیچھے آئے گی اور دین کو پیچھے رکھو گے تو دنیا آپ سے آگے بھاگے گی۔شادیاں نہ ہونا کتنا بڑا ایشو اور غور طلب مسئلہ ہے ،اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ اسی وقت ہماری ریاست کے ہر چوتھے گھر میں ایک لڑکی تیس سال کی ہوچکی ہے شادی کے انتظار میں اور ان کے بالوں میں سفیدی لگی ہے۔ جن کی تعداد لگ بھگ پچاس ہزار بنتی ہے۔ ایک اوسط اندازے کے مطابق اس وقت ریاست میں ایک لاکھ لڑکیاں شادی

ملک کاسیاسی مستقبل تعین کرنے والےیو پی کے اسمبلی انتخابات !

     اُتر پردیش سمیت پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کے اعلان کے ساتھ ہی ملک کی مختلف سیاسی پارٹیاں اپنی اپنی سیاسی حکمتِ عملی کے مطابق انتخابی مہم چلانے میں مصروف ہو گئی ہیں۔ کوویڈ کی قہر سامانی کی وجہ سے الیکشن کمیشن نے انتخابی ریلیوں ، جلسوں اور جلوسوں پر وقتی طور پر پابندی لگا دی ہے۔ سیاسی پارٹیوں کو عوامی رابطہ کے لئے ورچول کانفرنسوں پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔ لیکن اس کے باوجود الیکشن کمیشن کی ہدایات کو نظر انداز کرنے کی بھی اطلاعات ہیں۔ خاص طور پر یوپی میں یوگی آدتیہ ناتھ کے ہاتھوں میں اس وقت ریاست کی زمامِ کار ہے، اس لئے وہ اپنے اقتدار کا استعمال کر تے ہوئے یوپی کے رائے دہندوں کو رجھانے میں لگے ہوئے ہیں۔ گز شتہ پانچ سال کے دوران انہوں نے عوام کے بنیادی مسائل کو سننے اور اسے حل کرنے میں کوئی قابل ِ ذکر دلچسپی نہیں دکھائی ہے ، اب جبکہ الیکشن سَر پر آ گئے ہیں تو اپ

روس کی امریکہ اور ناٹو کو جنگجویانہ دھمکی

روس نے ایک مرتبہ پھر یوروپ میں نئے سکیورٹی نظام کو قائم کرنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کردیں اور ایک طریقے سے امریکہ اور ناٹو کو دھمکی بھی دے دی ہے کہ اگر اس کے مطالبات پورے نہیں کئے جاتے تو پھر ایک نئی جنگ کی شروعات ہوسکتی ہے۔ دفاعی اور خارجی امور کے ماہرین یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ صدر پوتن کے اصل مقاصد کیا ہیں۔روسی وزارتِ خارجہ نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یوروپ سے اپنے جوہری نگہداشت اور حملے کرنے کے نظام کو یکسر ختم کردے ۔ اپنے مطالبات کو روس نے کسی غیر سفارتی طریقے سے پچھلے مہینے دسمبرکی 17 تاریخ کو روسی وزارت خارجہ نے یکطرفہ طور پر دو نئے معاہدوں کا مسودہ شائع کیا تھا ، ایک مسودہ امریکہ کے لیے تھا اور دوسرا ناٹو کے لیے۔بظاہر کوئی بھی معاہدہ دو ملکوں کے درمیان باہمی بات چیت کے بعد عمل میں آتا ہےاور کوئی ملک کسی معاہدے کا اعلان کرکے اسے حتمی شکل دینے کا یکطرفہ اختیار نہیں رکھتا ہے

پانی۔۔۔زندگی کی بنیاد اور ایک ہمہ گیر محلل

کرّۂ اَرض پر موجود تمام قدرتی وسائل میں ’’پانی‘‘ کو ایک بنیادی حیثیت حاصل ہے اور اس کی اہمیت اس وقت دوچند ہو جاتی ہے جب یہ زمین پر موجود مختلف اطرافی ماحول میں اپنی تخلیقی جوہری اور سالماتی ساخت کی بقاء کی خاطر کئی پہلوئوں میں تبدیل ہوتا رہتا ہے اور اس کا ہر پہلو اپنی جگہ ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔  اس بات کا اندازہ سب سے پہلے اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ حیات کا وجود توانائی کےحصول سے منسلک ہے جو خوراک میں موجود غذا اور غذائیت سے پیوستہ ہے۔ لیکن ایک متوازن خوراک جو زندگی کی نشو و نما کے لئے اہم ہے۔ بغیر ’’مائع پانی‘‘ کے ممکن ہی نہیں ہے، کیونکہ خوراک کے بغیر کوئی بھی جانداز چند ہفتے تو گزار سکتا ہے لیکن ’’مائع پانی‘‘ کی غیرموجودگی میں چند ایام گزارنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔  یہی وجہ ہے کہ انسانی

خام خلیات کے ذریعے علاج!

آج کے تیز رفتار دور میں جہاں انسان نئی تخلیقی تحقیق میں آگے بڑھتا جا رہا ہے،ا س کے ساتھ ساتھ اُس تحقیق کا بڑا حصہ طب نے اپنی طرف متوجہ کیا ہوا ہے ۔نت نئی طریقے جس سے انسان اپنے اندر پیدا ہونے والی بیماریوں کا علاج کر سکے۔ اس شعبے میں پودوں، جانداروں اور کیمیائی دوا کا استعمال کیا جاتا رہا ہے لیکن اب اس جدید دور میں اور دیگر طریقے علاج کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ ان میں سے ایک طریقہ ا سٹیم سیل کے ذریعے علاج کا ہے۔  خام یا غیر متشکل خلیہ وہ خلیہ ہوتا ہے جو جسم کے کسی بھی مخصوص خلیہ کو تشکیل دے سکتا ہے۔ خام خلیہ کو پانچ مختلف قسم کے خلیوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ سب سے پہلا خلیہ (زائگوٹ) جس سے کسی بھی جاندار کی زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔ ایک کامل تفرقی خام خلیہ ہوتا ہے۔ یہ خلیہ کثیر تفرقی خلیہ بناتا ہے جو متعدد تفرقی خام خلیوں میں تقسیم ہوتے ہیں۔ یہ خلیہ محدود تفرقی خام خلیہ بنات

اختلاف رائے میں کوئی حرج نہیں،اعتدال برقرار رکھیں

آج کی دنیا میں اظہار رائے اورا ختلا ف رائے بنیادی انسانی حقوق تصور کئے جاتے ہیں اور ان حقوق پر کسی طرح کا قدغن انسانی حقوق کی خلاف ورزی تصور کیا جاتا ہے لیکن یہ حق شروع سے ہی نزاع کا سبب بنا ہوا ہے۔ کسی معاشرے میں اختلاف رائے کا ہونا اس معاشرے میں زندہ انسانوں کے وجود کا ثبوت ہے۔ اختلاف رائے انسانی ذہن کے دریچوں کو کھولتا ہے اور اندازِفکر میں وسعت پیدا کرتا ہے۔ تاہم جہاں اختلاف رائے معاشرے کیلئے سود مند ہے وہیں آج کل کے معاشروں میں اختلاف رائے بگاڑ بھی پیدا کر رہا ہے اور اس کی سیدھی وجہ وہ رویے ہیں جو کسی صورت میں بھی کسی دوسری رائے کو سننا پسند نہیں کرتے اور اپنی بات کی صداقت کو ثابت کرنے میں انتہاء پسندی کی حد تک چلے جاتے ہیں جو معاشرے کی اخلاقی فضا کو آلودہ کرتی ہے۔ دنیا کا ہرانسان ایک ہی طرح کے افکار ونظریات کا حامل نہیں ہوسکتا۔ یہاں مختلف افکار، نظریات اور تخیلات رکھنے والے

معیارِ تکریم کیا ہے؟

اللہ تعالیٰ نے روئے زمین پر اٹھارہ ہزار سے زائد مخلوق کو پیدا کیا، ان سب میں انسانوں کو دوسری تمام مخلوق پر فضیلت و برتری عظمت و رفعت اور شرافت و عزت بخشی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مقدس میں بیان فرمایا ہے ’’ ولقد كرمنا بني آدم وحملناهم في البر والبحر ‘‘ ہم نے عزت دی ہے آدم کی اولاد کو اور سواری دی، ان کو جنگل اور دریا میں!( سوره اسراء، آيت 70 ) اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو قوموں اور نسلوں میں باہم تعارف کے لئے تقسیم کیا ہے نہ کہ آپس میں فخر کرنے کے لئے۔ لیکن معاشرہ میں لوگ قوموں، ملکوں، خاندانوں اور مال وزر کو معیار تکریم بنا کر فخر کرتے ہیں جو کہ سراسر اسلامی نقطہء نظر سے غلط ہے ۔  اس بات کو اللہ تعالیٰ نے اپنی مقدس کتاب میں یوں بیان فرمایا ہے ’’يا اَيها الناس اِنا خلقناكم من ذكر وانثى وجعلناكم شعوباً وقبائل لتعارفوا، اِن ا

اقلیت کا تحفظ اکثریت کی ذمہ داری ہے

اے پی جے عبد الکلام سے کون واقف نہیں ہوگا۔ میزائل مین اور People's President کے نام سے دنیا بھر میں اپنی شہرت رکھتے ہیں۔پچھلے دنوں بندہ ان کی کتاب Wings Of Fire کا مطالعہ کررہا تھا، اس کتاب میں انہوں نے مذہب کی بنیاد پر اپنے ساتھ ہونے والی ایک زیادتی کا واقعہ بیان کیا ہے۔ وہ رقمطراز ہیں: میں پانچویں کلاس کا طالب علم تھا، درجہ میں پہلی صف میں ہمیشہ بیٹھا کرتا تھا اور میرے ساتھ میرا بہت پرانا دوست بھی بیٹھتا تھا، وہ دوست ہمارے گاؤں کے ہیڈ پجاری کا بیٹا تھا اور ہم دونوں کی دوستی بہت گہری تھی۔ ایک دن کلاس میں ایک نئے ٹیچر آئے اور انہوں نے جب مجھے ایک ہندو لڑکے کے ساتھ پہلی صف میں بیٹھے دیکھا اور انہیں جب یہ معلوم ہوا کہ میں مسلمان ہوں اور ہیڈ پجاری کے بیٹے کے ساتھ بیٹھتا ہوں تو انہوں نے مجھے سب سے پچھلی صف میں بیٹھنے کا حکم دیا۔ میں بادِل ناخواستہ پچھلی صف میں چلا تو گیا لیکن پیچھ

تازہ ترین