تازہ ترین

غوروفکر۔معر فت ِ الٰہی کا بہترین ذریعہ!

علم ،تجربہ اور مشاہدہ کے ذریعے کسی چیز کی پہچان’’معرفۃ‘‘کہلاتی ہے۔جس کے دو درجے ہیں،ایک یہ کہ آپ کسی چیز پر غور وفکر کرکے اُس چیز کے مختلف پہلو(Dimensions)معلوم کریںاور دوسرے یہ کہ غوروفکر کے ذریعے کسی چیز کے خالق کو پہچانا جائے۔ اول الذکر فلسفہ‘علم الکلام اور سائنس کا کام ہے جبکہ ثانی الذکر کا تعلق ایمان بالغیب سے ہے۔سورہ ذٰریٰت میں اللہ کا ارشاد ہے [وفی انفسکم افلاتبصرون۱؎] یعنی خود تمہارے نفسوں کے اندر بھی نشانیاں ہیں(جواللہ کی معرفت کا ذریعہ ہیں) کیا تم غور نہیں کرتے۔امام بخاری ؒ کہتے ہیں[تاکل وتشرب فی مدخل واحدٍ ویخرج من موضعین]کھاناپینا ایک راستے سے داخلِ جسم ہوتا ہے اور دوسرے راستے سے فضلہ کی شکل میں خارج ہوتا ہے۔انسان کی اس عجیب وغریب تخلیق پر غوروفکر معرفتِ الٰہی کا بہترین ذریعہ ہے۔ابنِ کثیرؒ نے قتادہؒ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ جو شخص اپنی پیدائش پ

احساس مر جائے تو معاشرہ مر جاتا ہے

ادب اور آداب میں امت مرحومہ کی صاف گوئی اور بے باکی تباہ ہوگئی۔آج ہر شخص زبانی ریا کاری میں محو ہو کردینی حقیقت سے کوسوں دور ہو چکا ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:مومن مومن کاآئینہ ہے ۔ یہ حدیث بڑی ہی مختصر مگربہت ہی جامع ہے،اَللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِس حدیث میں ایک مؤمن کو دوسرے مؤمن کے لیے آئینہ کے مانند قرار دیاہے۔ ایک شخص جب آئینے کے سامنے کھڑاہوتاہے اوراپنے چہرے پرکوئی گندگی دیکھتا ہے، تووہ قطعاََگوارانہیں کرتاکہ وہ اپنے چہرے پرپلیدگی باقی رکھے بلکہ وہ اُسے فوراً زائل کرتا ہے۔ ایک مومن کوبھی چاہیے کہ جب وہ کسی مؤمن کے اندرکوئی کمی دیکھے تواسے اپنا آئینہ سمجھتے ہوئے اس کی کمی کواپنی کمی سمجھے اوراسے زائل کرنے کی فوراًکوشش کرے۔آئینہ کے سامنے ایک فقیر کھڑاہویابادشاہِ وقت،وہ کسی سے نہیں ڈرتا

حضرت شاہ غفورؒ۔ایک درخشندہ صوفی شاعر

ضلع بڈگام زمانہ قدیم سے ہی ایسے درجنوں جلیل القدر اور مقتدر صوفی شعراء کا مسکن رہا ہے جواپنے روحانی اور آفاقی کلام سے اب تک لاکھوں اذہان و قلوب کو روشن کرنے میں کامیاب ہوچکے ہیں اور آئندہ بھی لاکھوں انسان ان حضرات کے الہامی کلام کے فیض وبرکت سے منور ہوتے رہیں گے۔ان حضرات کے کلام میں علم و عرفان کے ایسے بیش بہا دریا رواں دواں ہیں ،جن سے اُجڑے چمن سرسبز و شاداب گلستانوں کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔صوفی شاعروں کے اس جُرمٹ میں حضرت شیخ نورالدین ولی  ؒ ایک تابناک ستارے کی مانند اپنا جلوہ اطراف و اکناف میں بکھیر رہے ہیں۔ حضرت شمس فقیر  ؒ ، حضرت عبدالصمد میرؒ اور حضرت شاہ غفورؒ موتیوں کی اس خوبصورت مالا میں لالِ بیباک کی طرح چمک رہے ہیں اور انکی چمک دھمک سے ہماری وادی کا نام اور مقام ہمیشہ روشن رہے گا۔ آج کے مضمون میں راقم حضرت شاہ غفور ؒ کی زندگی اور آپ کی شاعری پر مختصر الفا

دبستان کشمیر کے درخشاں ستارے

جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں کے افراد اردو زبان و ادب سے محبت کرتے ہیں۔بھدرواہ کا  خوبصورت علاقہ بھی اس محبت میں پیچھے نہیں ہے ۔اس زرخیز زمین سے بھی ایسے محبان اردو اٹھے ہیں جنہوں نے اردو کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا ہے۔ ان میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جن کا اصل شعبہ اور ذریعہ معاش کچھ اور تھا لیکن اردو زبان سے محبت کے بنا پر اسی زبان کے ہوکر رہ گئے ہیں۔اس زبان کو نہ صرف اپنے احساسات و جذبات اور سوچ و فکر کا ترجمان بنایا بلکہ جنون کی حد تک اس سے محبت کی۔ایسا ہی ایک نام ڈاکٹر عبدالمجید بھدرواہی کا ہے جو پیشے سے ڈاکٹر تھے لیکن اردو کی محبت دل میں کیا رچ بس گئی کہ اسی کے ہوکے رہے۔ ڈاکٹر عبد المجید 3 مئی 1942 ء میں بھدرواہ میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام خواجہ عبد الکریم تھا۔ڈاکٹر عبد المجید نے میڈیکل کالج پٹیالہ سے ایم بی بی ایس کی ٹریننگ کی ہے۔مختلف اضلاع میں مریضوں کو صحت جیسی نعمت سے

اعجاز اسدؔ۔ برف زاروں کا غزل خواں

    ناول ’’مٹی کے صنم‘‘ میں کرشن چندر پونچھ کے بارے میں لکھتے  ہیں:’’پونچھ کے دن میرے لئے بہتے پانی کے دن تھے اور سورج مکھی کے پھولوں کی طرح آفتاب کے گرد طواف کرنے کے دن تھے۔میں ایک زمین،ایک دھرتی،ایک شہر،ایک سیارہ تھا۔جو مسرت کے گرد چکر لگاتا تھا۔میرے وہ دن کھلے نیلے آسمانوں میں سفید بادلوں کی طرح گزر گئے۔ وہ گھڑیاں آج بھی یاد کے کسی اونچے بھورے ٹیلے پر لمحوں کی لمبی لمبی ڈنڈیاں پر نرگسی پھولوں کی طرح جھکی ہوئے مجھے تکتی ہیں۔‘‘           پونچھ کے انھیں کوہساروں،مرغزاروں،آبشاروں ،لالہ زاروں اور برف زاروں کی خوبصورتی کو اعجاز اسد ؔ نے انپے شعری مجموعہ’’برف زار‘‘میں بڑی فنکارنہ مہارت سے ادبی دنیامیں معتارف کروایا کیونکہ شاعر کا تعلق بھی پو نچھ سے ہیں۔’’برف ز