تازہ ترین

انسانی عمل اور طمع کے خوفناک نتائج

امریکی خلائی سائنسی ادارے ناسا کے ایک حالیہ جائزہ کے مطابق دنیا میں پینے کے صاف پانی کے ذخائر میں نمایاں کمی آتی جا رہی ہے۔ دنیا میں جہاں جہاں برفانی پہاڑ اور گلیشئرز ہیں وہاں برف کے پگھلنے کا عمل تیز ہوتا جا رہا ہے۔ شمال بحراوقیانوس میں واقع دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ جو غیر آباد ہے گرین لینڈ اس عظیم جزیرے پر موجود برف کی دبیز تہیں مسلسل سکڑتی ٹوٹتی جا رہی ہیں۔ قطب شمالی کا بھی یہی حال بتایا جاتا ہے۔ مگر قطب جنوبی میں انٹارکٹیگا کے عظیم برفانی ذخائر بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں ابھی حال ہی میں قطب جنوبی میں عظیم برفانی جزیرہ کی بہت بڑی پٹی میں کئی کلو میٹر طویل شگاف پڑ چکا ہے اور لگتا ہے یہ جزیرہ کا کئی کلو میٹر برفانی خطہ بہہ کر سمندروں میں شامل ہو جائے گا۔ جس سے سمندروں کی سطح میں نمایاں بلندی عدد کر آئے گی یوں بھی سمندروں کی سطح بتدریج بڑھ رہی ہے اور ماہرین کا دعویٰ ہے کہ آئندہ پچاس

دُعا ہی سبیل ِ واحد

قلب انسانی کے اندر یہ ربانی احساس،اس کے دریچے کھول دیتا ہے۔اس کے سامنے ایک نئی دنیا نمودار ہوجاتی ہے۔یہ دنیا اس محدود دنیا سے بالکل مختلف ہے جسے ہماری آنکھیں دیکھ رہی ہیں۔اس کی نظروں کے سامنے کچھ دوسرے عوامل بھی آجاتے ہیں جو اس کائنات کی گہرائیوں میں کام کررہے ہوتے ہیں،جو معاملات کی کایا پلٹ دیتے ہیں،جو نتائج کی اس ترتیب کو الٹ دیتے ہیں جن میں انسان کو تمنا ہوتی ہے یا وہ ان کی توقع کئے ہوئے ہوتا ہے۔جب قلب مومن تن بہ تقدیر اس ربانی احساس کے تابع ہوجاتا ہے،تو پھر وہ پُرامید ہوکر کام کرتا ہے۔اسے امید بھی ہوتی ہے اور اللہ کا ڈر بھی،لیکن وہ تمام نتائج برضا ورغبت دست قدرت کے سپرد کردیتا ہے، جو حکیم ہے اور علیم ہے۔جس کا علم سب کو گھیرے ہوئے ہے،یہ ہے دراصل سلامتی کے کھلے دروازے کا داخلہ۔نفس انسانی کو اسلام کا صحیح شعور اس وقت تک نصیب نہیں ہوسکتا،جب تک اس میں یہ یقین پیدا نہ ہوجائے کہ خیر اسی