تازہ ترین

مشرق ومغرب میں سائنسی تحقیق کا معیار | مذہب اور سائنس کا آپسی معرکہ

مادی کائنات کی گہرائیوں و وسعتوں کے بیچوں بیچ سائنس کی حیرت انگیز ترقی و ترفع اور اقبال و بلندی کے پس منظر میں انسان کا آج کی تاریخ میں بعض مسائل کے متعلق اپنی کم علمی اور نااہلی کا اعتراف کرنا ایک عام واقعہ نہیں ہے کہ جس کو نظر انداز کیا جائے۔بلکہ یہ ایک ایسا واقعہ ہے کہ جس کا اثر مستقبل میں تحقیق و تدقیق کے ہر پہلو میں نظر آئے گااور جس سے سائنس اور مذہب کے درمیان پیدا کی گئی خلیج رفتہ رفتہ کم ہوتی جائے گی۔سائنس کے اس اعتراف سے مذہب کے تئیں اس کے رویے میں مثبت تبدیلی کا اندازہ بآسانی لگایا جا سکتا ہے۔اس حوالے سے دور جدید میں سائنس اور مذہبی کتب (خصوصی طور پر قرآن) کے تقابلی جائزے کی کوششوں کا اہم رول ہے۔دور جدید میں سائنس کو قرآنی آیات کی روشنی میں جانچنے کی جو دلچسپی غیر مسلم محققین میں پیدا ہوئی ہے وہ نہایت اہمیت کی حامل ہے۔اگرچہ بائبل کا بھی موازنہ سائنس سے کیا گیا لیکن اس سے

ایڈس … اسلام سے دوری کا نتیجہ

یکم دسمبر کے موقع پر ہر سال پورے عالم میں ’’ عالمی یوم ایڈس‘‘ منایا جاتا ہے جس دوران مختلف ممالک میں محکمہ صحت کے علاوہ قائم انسداد ایڈس کے ادارے جانکاری فراہم کرتے ہیں۔ اس سال کے ایڈس کا نعرہ " ایڈس کے وباء کا خاتمہ…لچک اور اثر" ہے جس کے ذریعے اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ عالمی سطح سے اس وباء کے تیز پھیلاؤ کو روکنے کا سدباب کیا جائے - لیکن عملی طور پر کس حد تک لوگوں کو اس مہلک بیماری سے بچایا جاتا ہیں اس کی تصویر تمام ترقی پزیر ممالک بہت ہی خوب انداز میں پیش کرتے ہیں۔  ایڈس یعنی (Acquired Immuno Deficiency Syndrome) پھیلنے کی کئی وجوہات سائنسدانوں نے بیان کیں ہیں۔ایک رائے کے مطابق یہ بیماری افریقہ کے جنگلوں میں پائے جانے والے سبز بندروں میں وائرس کے موجود ہونے سے پھیلی ہے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ فرانسیوں نے یہ وائرس حیاتیاتی جنگ (Warfare

جسمانی صحت ہی نہیں، ذہنی صحت بھی اہم ہے

یہ یقینا ً اچھی بات ہے کہ آج کے دور میں دماغی صحت کو بھی اتنی ہی اہمیت دی جاتی ہے جتنی جسمانی صحت کو، ورنہ ایک زمانہ تھا کہ انسان اپنی دماغی صحت کے بارے میں بے خبر تھا اور دماغی مسائل جیسے اسٹریس اور ڈپریشن کو ’مرض‘ تسلیم نہیں کیا جاتا تھا۔خوشی اور غمی زندگی کا حصہ ہیں۔ کسی وقت ہم خوش ہوتے ہیں تو کبھی افسردہ۔ اور جب انسان افسردہ یا پریشان ہوتا ہے تو یہ پریشانی اس کے معمولات زندگی پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ڈپریشن انسان کے احساسات پر اثر ڈالنے کے ساتھ ساتھ اس کے پورے جسم پر بھی منفی اثر ڈالتا ہے اور زیادہ ڈپریشن انسان کی ہنستی مسکراتی زندگی کو اجیرن کرکے رکھ دیتا ہے۔ ذہنی صحت کے مسائل کے باعث متاثرہ شخص کوعام جذباتی درد بھی بہت زیادہ گہرے محسوس ہوتے ہیں جو کسی کوبھی آسانی سے سمجھ نہیں آتے کیونکہ انھیں اس کاتجربہ نہیں ہوتا۔ ذہنی صحت کے کچھ عام مسائل مندرجہ ذیل ہیں، جوکسی بھی فر

قیمتوں میں اعتدال کا مسئلہ ،عملدرآمد کا نظام کہاں ہے؟ | ناقص حکمتِ عملی اور کمزور پالیسی سے کچھ بدلنے والانہیں

یہ حقیقت اٹل ہے کہ یاس و قنوط میں مبتلا کسی بھی قوم یا معاشرے میں جب مایوسی غالب آتی ہے تو اْس قوم یا معاشرے کی زندگی جہنم ِ زار بن جاتی ہے۔اُس کاسکون و اطمینان غارت ہوجاتا ہے اوروہ ٹینشن ،ڈپریشن و ذہنی تنائو کی زد میں آکر مرغِ نیم کشتہ کی سی زندگی گزارتا ہے جبکہ مایوسی کے ان جاں گسل حالات میںاکثر و بیشتر قنوطیت زدہ معاشرہ کازیادہ تر حصہ غلط ،ناجائز اور حرام کام کا ارتکاب کرلیتا ہے۔جس سے نہ اُسے دنیا ملتی ہے اور نہ آخرت۔سچ تو یہ بھی ہے کہ جو قوم اپنی تہذیب و روایات کو بھول جاتی ہے ،وہ یا تو صفحہ ٔ ہستی سے مِٹ جاتی ہے یا پھر مسلسل افراتفری اور بے چینی کی فضا میں سانس لینا اُس کا مقدر بن جاتا ہے، ایسی قوم کے بے اصول اور بے ترتیب معاشرے میں جھوٹ،چوری ،رشوت ،ناانصافی ،مہنگائی ،بے روز گاری ،مفاد پرستی اور دوسری کئی قسم کی بْرائیاں و خرابیاں پروان چڑھتی ہیںاورپورا معاشرہ نفسا نفسی کے عالم

عالمی معیشت اور کورونا: جی۔20اجلاس کے اہم موضوعات

ریاض میں منعقدہ جی۔20ورچول چوٹی کانفرنس سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان (ایم وی ایس) کی راست نگرانی میں منعقد کیا گیا جس کا مقصد عالمی اسٹیج پر سعودی عرب کی قائدانہ صلاحیتوں کو پیش کرنا تھا۔ توقع کے مطابق دو روزہ کانفرنس کے ایجنڈے میں کورونا وائرس کی وبا چھائی رہی۔ دنیا کی 20بڑی معیشتوں نے کورونا ویکسین کی دنیا بھر میں کفایتی اور مساویانہ رسائی کو یقینی بنانے اور مستقبل میں صحت کے بحران سے نمٹنے کے لیے تیاری کا عہد کیا۔ بین الاقوامی وبائی معاہدہ: چارلس مائیکل صدر نشین یوروپین کونسل نے مستقبل میں وباؤں کو پھیلنے سے روکنے کے لیے ایک بین الاقوامی معاہدے کی تجویز پیش کی۔ مائیکل نے کہا : ’’تمام ممالک، اقوام متحدہ کے تمام اداروں اور تنظیموں کے درمیان خاص طور سے عالمی صحت تنظیم کے ساتھ مذاکرات ہونے چاہئیں۔ ڈبلیو ایچ او کو صحت سے متعلق ہنگامی حالات میں عالمی تعاو

تازہ ترین